دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

  • 1 نقش ممات (بدھ 23 جنوری 2019ء)

    مشاہدات:617

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقیناً ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے  کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا  نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی  کی ایسی ریٹائرمنٹ  ہےجس کےلیے  کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر  ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی  ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان  پر ثابت  قد...

  • 2 اصول حديث(مطالعہ حدیث کورس) (پیر 21 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:112250

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ مطالعہ حدیث کورس کا یہ پہلا یونٹ ہے، اس یونٹ میں علم حدیث کا تاریخی پس منظر، علوم حدیث کا تعارف، مقام حدیث، حجیت حدیث، تدوین حدیث، حدیث کی مشہور اصطلاحات، طبقات کتب حدیث اور حدیث کی مشہور کتابوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ کوئی بھی بات بغیر حوالہ کے نقل نہیں کی گئی، البتہ احادیث کے حوالہ جات دیتے ہوئے کتاب کا نام اور کتاب یا باب کا حوالہ دینے پر اکتفا کیا گیا ہے اگر رقم الحدیث بھی ساتھ درج کر دیا جاتا تو اصل مصادر تک پہنچنے میں مزید آسانی ہوتی۔ مکمل ک...

  • 3 ایمانیات۔الف(مطالعہ حدیث کورس) (منگل 22 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:66414

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم اور مسلم مستشرقین کے ذہن جن بنیادی مسائل کے حل میں مصروف رہے ان میں حدیث کی تاریخی اور تشریعی حیثیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مستشرقین کی جانب سے غلط فہمیوں اور بعض اوقات شعوری طور پر گمراہ کرنے کی کوششوں سے یہ نتیجہ نکالنا مقصود تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دیں کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اسی گمراہ کن طرز عمل کے نتیجہ میں بعض حضرات اپنے آپ کو اہل قرآن کہنے لگے۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے جن سے حدیث کے ضمن میں پائے جانے شکوک و شبہات رفع کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔ مطالعہ حدیث کورس کا یہ دوسرا یونٹ دین اسلام کے دو بنیادی عقائد ’توحید  و رسالت‘ کے بیا ن پر مشتمل ہے۔ توحید اور رسالت دین اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ کلمہ دین اسلام کی بنیاد ہے۔ اس کلمہ میں دین اسلام کے دونوں بنیادی عقائد (توحید و رسالت) کا ذکر ہے یہی کلمہ ایک مسلم کو کافر، مشرک اور دہریے سے الگ کرتا ہے۔ اس یونٹ کے دو حصے ہیں پیش نظر حصہ پہلا ہے جس میں توحید و شرک کی حقیقت، توحید  کے عملی زندگی پر اثرت، شرک کی اقسام اور اس کی قباحتوں  اور اس کی مختلف صورتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اختتام پر ایک خلاصہ ہے جس میں توحید اور شرک کے بارے میں ضروری اور اہم مباحث کو مختصراً بیان کیا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 4 ایمانیات۔ب(مطالعہ حدیث کورس) (بدھ 23 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:55995

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم اور مسلم مستشرقین کے ذہن جن بنیادی مسائل کے حل میں مصروف رہے ان میں حدیث کی تاریخی اور تشریعی حیثیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مستشرقین کی جانب سے غلط فہمیوں اور بعض اوقات شعوری طور پر گمراہ کرنے کی کوششوں سے یہ نتیجہ نکالنا مقصود تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دیں کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اسی گمراہ کن طرز عمل کے نتیجہ میں بعض حضرات اپنے آپ کو اہل قرآن کہنے لگے۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے جن سے حدیث کے ضمن میں پائے جانے شکوک و شبہات رفع کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔ مطالعہ حدیث کورس کا یہ دوسرا یونٹ دین اسلام کے دو بنیادی عقائد ’توحید  و رسالت‘ کے بیا ن پر مشتمل ہے۔ توحید اور رسالت دین اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ کلمہ دین اسلام کی بنیاد ہے۔ اس کلمہ میں دین اسلام کے دونوں بنیادی عقائد (توحید و رسالت) کا ذکر ہے یہی کلمہ ایک مسلم کو کافر، مشرک اور دہریے سے الگ کرتا ہے۔ اس یونٹ کے دو حصے ہیں پیش نظر حصہ دوسرا ہے جس میں رسالت کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور حضرت محمدﷺ کی رسالت و نبوت پر ایمان کے تقاضوں کا ذکر کیا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 5 آخرت(مطالعہ حدیث کورس) (جمعرات 24 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:62278

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا چوتھا یونٹ ہے جس میں عقیدہ آخرت پر ایمان، عقیدہ آخرت کی اہمیت، ضرورت اور عملی زندگی پر اس کے اثرات سے متعلق احادیث نبوی اور ان کا ترجمہ اور مفہوم پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مطالعہ کے بعد قارئین پر یہ بات واضح ہوگی کہ عقیدہ آخرت کا مطلب و مفہوم کیا ہے اور عملی زندگی پر اس عقیدہ کے کیا اثرات پڑتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 6 طہارت وپاکیزگی (مطالعہ حدیث کورس) (جمعہ 25 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:58969

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا پانچواں یونٹ ہے جس میں احادیث رسولﷺ کی روشنی میں طہارت کی اہمیت و ضرورت اور معاشرتی زندگی میں پیش آنے والے طہارت و پاکیزگی کے مسائل کے علاہ اسلام کا فلسفہ طہارت بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے یونٹ کے مطالعہ کے بعد قارئین طہارت و پاکیزگی کے اہم فقہی مسائل سے آگاہی کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی جان لیں گے کہ اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔(ع۔م)
     

  • 7 نماز(مطالعہ حدیث کورس) (ہفتہ 26 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:71754

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا چھٹا یونٹ ہے جس میں نماز کی اہمیت و فضیلت، نماز کے اوقات،مساجد اور ان کی عظمت و اہمیت، نماز باجماعت کی اہمیت اور اس کا شرعی حکم، امامت، نماز کے فوائد اور عملی زندگی پر اس کے اثرات اور نماز کی حقیقی روح کی وضاحت احادیث کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اس یونٹ کے مطالعہ سے آپ دین اسلام میں نماز کے مرتبہ و مقام سے آگاہ ہو سکیں گے اور آپ پر یہ حقیقت بھی واضح ہوگی کہ ایک مسلمان کی زندگی میں نماز کو کیا اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔(ع۔م...

  • 8 روزہ (مطالعہ حدیث کورس) (اتوار 27 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:57656

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا ساتواں یونٹ ہےجس میں روزہ کی اہمیت، فضیلت، فرضیت، روزہ کے احکام ماہ رمضان کے فضائل، اعتکاف کے احکام، نفلی روزے اور صدقہ فطر سے متعلق احادیث اور ان کا مفہوم پیش کیا گیا ہے۔ اس یونٹ کے مطالعہ کے بعد آپ دین اسلام کے بنیادی رکن روزہ اور اسلام کی ایک فرض عبادت کی حقیقت اور اہمیت سے آگاہی حاصل کر سکیں گے۔ (ع۔م)
     

  • 9 زکوٰۃ(مطالعہ حدیث کورس) (پیر 28 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:57734

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا آٹھواں یونٹ ہےجس میں اسلام کے تیسرےاہم رکن ’زکوٰۃ‘ کا بیان ہے۔ اس یونٹ میں زکوٰۃ کی اہمیت، فرضیت، نصاب زکوٰۃ، مستحقین زکوٰۃ، زکوٰۃ کےعلاوہ دیگر صدقات اور زکوٰۃ کے فوائد اور عملی زندگی پر اس کے اثرات پر احادیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔(ع۔م)

     

  • 10 حج وعمرہ(مطالعہ حدیث کورس) (منگل 29 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:58460

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کا نواں یونٹ ہے۔ اس یونٹ کاموضوع ’حج‘ ہے۔ اس یونٹ میں حج کی اہمیت، فرضیت، حج کے احکام، حج کی ادائیگی کا طریقہ، قربانی کی حقیقی روح اور حج کے فوائد و برکات پر احادیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 11 جہاد(مطالعہ حدیث کورس) (بدھ 30 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:56864

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا دسواں یونٹ ہے۔ اس یونٹ میں جہاد کا مفہوم، اقسام، اہمیت، ضرورت اور احکام و آداب پر احادیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ (ع۔م)
     

  • 12 دعوت دین(مطالعہ حدیث کورس) (جمعرات 31 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:57990

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا گیارہواں یونٹ ہے۔ جس کا موضوع ’دعوت دین‘ ہے۔ اس میں دعوت دین کا مفہوم، وسعت و جامعیت، وجوب و اہمیت، حدود و آداب، شرائط، ماننے والوں سے اس کے مطالبات، اس کی راہ میں کامیابی اور ناکامی کا مفہوم اور دعوت و تبلیغ کا حکیمانہ طریقہ جیسے اہم موضوعات پر احادیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 13 علم وعمل(مطالعہ حدیث کورس) (جمعہ 01 فروری 2013ء)

    مشاہدات:56479

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا بارہواں یونٹ ہے۔ اس یونٹ میں احادیث نبوی کی روشنی میں علم کی اہمیت، فضیلت، مقام و مرتبہ، حق اور سچائی کے چھپانے کا انجام، بے عمل عالم کا انجام، علم کے ساتھ عمل کی اہمیت، علم نافع اور غیر نافع اور احیائے سنت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 14 پسندیدہ اخلاق۔1(مطالعہ حدیث کورس) (ہفتہ 02 فروری 2013ء)

    مشاہدات:46011

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا تیرہواں یونٹ ہے۔ اس کا موضوع ’پسندیدہ اخلاق‘ ہے۔ جس میں اسلام کے بنیادی اخلاقیات، اسلام میں اخلاق کی اہمیت، اسوہ نبوی، ضبط نفس، سلیقہ و صفائی و مستقل مزاجی اور حسن سلوک کے عنوانات کے تحت احادیث جمع کی گئی ہیں اور اختصار کے ساتھ ان کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ (ع۔م)
     

  • 15 پسندیدہ اخلاق۔2(مطالعہ حدیث کورس) (اتوار 03 فروری 2013ء)

    مشاہدات:41843

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا چودھواں یونٹ ہے۔ جس کا موضوع پسندیدہ اخلاق ہے۔ اس میں احادیث کی روشنی میں وہ اجتماعی محاسن اور خوبیاں بیان کی گئی ہیں جو ایک مثالی اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ تعلیمات مسلمانوں کی ایک عالمگیر برادری قائم کرتی ہیں۔ یہ اس کی برکت ہے کہ کسی بھی دوسرے دین یا نظریہ کے پیروں سے بڑھ کر اخوت و محبت اور اجتماعیت مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔(ع۔م)
     

  • 16 ناپسندیدہ اخلاق۔1(مطالعہ حدیث کورس) (پیر 04 فروری 2013ء)

    مشاہدات:49046

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا پندرہواں حصہ ہے۔ جس کا موضوع ناپسندیدہ اخلاق ہے۔ اس یونٹ میں تکبر و غرور، جھوٹ، بخل، تنگ دلی، خود پسندی، شہرت پسندی، خود غرضی و تصنع اور اسراف و تعیش جیسی خرابیوں اور خطرناک انفرادی اخلاقی امراض کا بیان ہے۔(ع۔م)
     

  • 17 ناپسندیدہ اخلاق۔2(مطالعہ حدیث کورس) (منگل 05 فروری 2013ء)

    مشاہدات:45889

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا سولہواں حصہ ہے۔ اس یونٹ میں بہت سے رزائل (ناپسندیدہ اخلاق) سے متعلق احادیث نبوی اور ان کا مفہوم پیش کیا گیا ہے، مثلاً جھوٹ، عہد شکنی، خیانت، حق تلفی، غیبت، چغلی، حسد، جھوٹی شہادت، رشوت اور خیانت وغیرہ۔(ع۔م)
     

  • 18 خاندانی معاملات۔1(مطالعہ حدیث کورس) (بدھ 06 فروری 2013ء)

    مشاہدات:46411

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا سترہواں حصہ ہے۔ جس کا موضوع ’خاندانی معاملات‘ ہے۔ اس یونٹ کے مطالعہ سے آپ اس بات کا بھی اندازہ کر سکیں گے کہ اسلام صرف ذاتی نیکیوں ہی کے لیے تیار نہیں کرتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت نیکی کا نمونہ ہو، ان کےدل آپس میں جڑے ہوں۔(ع۔م)
     

  • 19 خاندانی معاملات۔2(مطالعہ حدیث کورس) (جمعرات 07 فروری 2013ء)

    مشاہدات:43951

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا اٹھارواں حصہ ہے۔ جس کا موضوع بھی’خاندانی معاملات‘ ہے۔ اس میں والدین کے حقوق و فرائض، صلہ رحمی، رشتہ داروں کے حقوق اور مہمانوں کے حقوق ذکر کیے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 20 معاشرتی معاملات(مطالعہ حدیث کورس) (جمعہ 08 فروری 2013ء)

    مشاہدات:47756

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا انیسواں حصہ ہے۔ جس کا موضوع ’معاشرتی معاملات‘ ہے۔ ایک گھر کی محدود ترین اجتماعیت سے باہر ایک وسیع اجتماعیت ہوتی ہے جسے معاشرہ کہا جاتا ہے، اس کے بارے میں اسلام کے بعض بنیادی تصورات ہیں جن سےاسلام کے معاشرتی نظام کو سمجھنے کے لیے آگاہ ہونا ضروری ہے۔(ع۔م)
     

  • 21 معاشرتی آداب(مطالعہ حدیث کورس) (ہفتہ 09 فروری 2013ء)

    مشاہدات:46925

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا انیسواں حصہ ہے۔ جس کا موضوع ’معاشرتی آداب‘ ہے۔ اس یونٹ میں آداب ملاقات، آداب مجلس، آداب طعام، آداب ملاقات، آداب مجلس، آداب لباس اور اٹھنے، بیٹھنے، لیٹنے اور سونے کے آداب یبان ہوئے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 22 معاشی معاملات۔1(مطالعہ حدیث کورس) (اتوار 10 فروری 2013ء)

    مشاہدات:43088

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا اکیسواں حصہ ہے، جس کا موضوع’معاشی معاملات‘ ہے۔ اس یونٹ میں رزقِ حلال کی اہمیت و فوائد، رزق حرام کے نقصانات، دیانتدارانہ تجارت کے اسلامی اصول، مشتبہ چیزوں سے پرہیز، کھیتی و باغبانی، مزدور کے حقوق، حرام ذرائع اور رشوت وغیرہ کی مذمت پر احادیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 23 معاشی معاملات۔2(مطالعہ حدیث کورس) (پیر 11 فروری 2013ء)

    مشاہدات:44201

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا بائیسواں حصہ ہے، اس کا موضوع بھی’معاشی معاملات‘ ہے۔ اس یونٹ میں خرید و فروخت سے متعلق رسول اکرمﷺ کی اہم ہدایات اور تعلیمات ذکر کی گئی ہیں اور سود و رشوت کی حرمت احادیث نبویﷺ کی روشنی میں واضح کی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 24 عدل وانصاف(مطالعہ حدیث کورس) (منگل 12 فروری 2013ء)

    مشاہدات:46933

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا تیئسواں حصہ ہے، جس کا موضوع عدل و انصاف ہے۔ اس یونٹ میں آپ عدل و انصاف کے اسلامی اصول، قاضیوں کے لیے رہنما اصول اور ہدایت، عادل اور غیر عادل قاضی، منصب قضا کی خواہش و طلب، جھوٹے دعویدار اور جھوٹی قسم کھانے والوں کا ٹھکانا اور عدالتی آداب کا مطالعہ فرمائیں گے۔(ع۔م)
     

  • 25 اجتماعی نظم ونسق(مطالعہ حدیث کورس) (بدھ 13 فروری 2013ء)

    مشاہدات:53424

    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا چوبیسواں اور آخری حصہ ہے، جس کا موضوع ’اجتماعی نظم و نسق‘ ہے۔ اس یونٹ میں اسلامی نظم مملکت، اسلامی ریاست کا مقصد وجود، حاکمیت الٰہی، تصور خلافت، مشاورت، خلیفۃ المسلمین اور اصول اطاعت، خلافت کے حقوق و فرائض  اور اجتماعیت کی دینی اہمیت پر بحث کی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 26 بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں (پیر 17 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19564

    دین اسلام میں بچوں کی تربیت اور نگہداشت کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور نبی کریمﷺ نے بچوں کو جنت کے پھول قرار دیا۔ بچے پر اثر انداز ہونے والے تین عوامل ہیں: گھر، مدرسہ اور معاشرہ۔ بچے کی زندگی پر سب سے زیادہ اثرات اس کے گھر کے ماحول کے ہوتے ہیں ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہے اس لیے ماں کی بچے کی تربیت میں خاصا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ زیر نظرکتاب میں مصنفہ ڈاکٹر ام کلثوم نے تربیت اولاد میں والدین کے کردار کواجاگر کیا ہے۔ انہوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ بچوں کی تربیت کے ذیل میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو بہت خوبصورت انداز میں جمع کر دیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 27 نافرمان بیٹا (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16048

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’نافرمان بیٹا‘ کہانی کے انداز میں لکھا جانے والا حضرت نوحؑ اور ان کے بدقسمت بیٹے کا وقوعہ ہے جو بچوں کے لیے بہت سبق آموز اور بے شمار درس لیے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اس مختصر سے کتابچہ میں ایک اور سبق آموز واقعہ بھی قلمبند کیا گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کتابچہ کو پڑھیں اور بچوں کو سنائیں۔ یا پھر یہ کتابچہ بچوں کو از خود پڑھنے کے لیے دیں۔(ع۔م)

  • 28 نجاشی کا دربار (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16474

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’نجاشی کا دربار‘ بھی بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا واقعہ مرقوم ہونے کے ساتھ ساتھ ’دنیا کی سخی خاتون‘ ’عدل و انصاف‘ اور ’ایثار‘ کے نام سے بھی بہت سبق آموز واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔(ع۔م)

  • 29 پتھر کا شہر پتھر کے لوگ (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16526

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’پتھر کے شہر پتھر کے لوگ‘ بھی بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس میں نبی کریمﷺ کا طائف میں تبلیغ کے لیے جانا اور اہل طائف کا آپﷺ کے ساتھ نہایت برے سلوک کا واقعہ قلمبند کیا گیا ہے اس کےساتھ ساتھ ’وہ مائیں وہ بیٹے‘اور ’سجدہ بندگی‘کے عنوانات سے بھی بہت سبق آموز واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 30 اسلام اور عالمگیریت (بدھ 20 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2666

    مسلمانوں کو عالمی سطح پر جو چیلنج درپیش ہے اس کا ایک پہلو عالمگیریت ہے۔عالمی ساہوکاروں اور گلوبل کیپیٹلزم کے منتظمین نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔دنیا کے معاشی وسائل پر کنٹرول اور انسانی معاشروں کو مغربی معاشرت واخلاق کے نمونہ پر ڈھالنا ان کا ہدف ہے۔عالمی میڈیا عالمگیریت کو خوبصورت بنا کر پیش کر رہا ہےاور انسانیت کو یہ یقین دلایا جا رہا ہےکہ اس کی فلاح وبہبود اسی میں مضمر ہے،حالانکہ یہ عالمی استعمار کا دوسرا نام ہے۔چہرے کو روشن کر کے پیش کیا جارہا ہے اور اندرونی تاریکی کو چھپایا جا رہا ہے۔مسلمان اہل علم اور اہل دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عالمگیریت کے اصلی چہرے کو بے نقاب کریں۔زیر تبصرہ کتاب (اسلام اور عالمگیریت)ڈاکٹر خالد علوی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے کوشش کی ہے کہ عالمگیریت کی حقیقت کو منکشف کیا جائے اور اس کے اسلامی معاشرے پر مرتب ہونے والے مضر اثرات کو سامنے لایا جائے۔انہوں نے داعیان اسلام کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ کفر کے دام ہمرنگ زمیں کا ادراک کریں اور نئی نئی اصطلاحات اور جدید اظہارات کی تہہ میں پوشیدہ مسلم مخالفت کو سمجھیں۔اللہ تعالی مولف﷫ کی اس گرانقدر خدمت کو قبول ومنظور فرمائے،اور اس کے ذریعے امت کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 31 اسباب زوال امت (اتوار 03 اگست 2014ء)

    مشاہدات:3646

    تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں  کہ جب قرون اولیٰ کے مسلمانوں  نے اسلامی اصولوں  کو اپنا شعاربنا کر عملی میدان میں  قدم رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو زیر نگین کرلیا۔مسلمان دانشوروں ، سکالروں  اور سائنسدانوں  نے علم و حکمت کے خزانوں  کو صرف اپنی قوم تک محدود نہیں  رکھابلکہ دنیا کی پسماندہ قوموں  کو بھی استفادہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ چنانچہ اس وقت کی پسماندہ قوموں  نے جن میں  یورپ قابل ذکر ہے مسلمان سکالروں  سے سائنس اورفلسفہ کے علوم بدرس حاصل کئے۔یورپ کے سائنسدانوں  نے اسلامی دانش گاہوں  سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرلی اور یورپ کو نئے علوم سے روشناس کیا۔حیرت کی بات ہے کہ وہی مسلم ملت جس نے دنیا کو ترقی اور عروج کا سبق پڑھایا آج انحطاط کا شکار ہے۔ جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں  کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ یہ اتنا بڑا تاریخی سانحہ ہے جس کے مضمرات کاجاننا امت مسلمہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔زیر تبصرہ کتاب(اسباب زوال امت) شام کے معروف سیاح،تجزیہ کار اور حالات پر نظر رکھنے والے امیر البیان علامہ امیر شکیب ارسلان ﷫کی کاوش ہے،جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر احسان بک سامی حقی﷫ نے کیا ہے۔مولف ﷫نے اس میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب بیان کئے ہیں،جو انہوں نے مختلف ممالک کی سیاحت کے دوران ملاحظہ فرمائے۔اس کتاب کو لکھنے کا ان کا مقصد غفلت کی نیند سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانا...

  • 32 اسلام دوراہے پر (جمعرات 21 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2276

    زیر تبصرہ کتاب "اسلام دو راہے پر"ایک نو مسلم شخصیت علامہ محمد اسد کی انگریزی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے،ترجمہ کرنے کی سعادت پروفیسر احسان الرحمن نے حاصل کی ہے۔مولف   کا آبائی وطن آسٹریا ہے اور ان کو بین البر اعظمی جریدوں کی نمائندگی کی غرض سے افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک کا سفر کرنے کا موقعہ ملا،اس سفر کے دوران انہوں نے مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کا گہرا مطالعہ کیا اور یہ محسوس کیا کہ مغرب کی مشینی زندگی کے مقابلے میں مشرق کی انسان دوست زندگی انتہائی پرسکون اور اطمینان بخش ہے۔ان کو اسلام کا انسان دوست رویہ بہت پسند آیا،اور اللہ کی توفیق سے مشرف باسلام ہو گئے۔لیکن مسلمانوں کا یہ طرز عمل دیکھ کر بہت پریشان ہوئے کہ آخر مسلمانوں نے اپنی عملی زندگی سے اسلام کو خارج کیوں کر دیا ہے؟انہوں نے یہ سوال متعدد لوگوں سے پوچھا لیکن انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔اس کتاب میں انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ کیوں مسلمان ہوا ؟،اور اسلام کے وہ کون کون سے محاسن ہیں جن سے وہ متاثر ہو کر مشرف باسلام ہوا ۔یہ کتاب مسلمانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ،اور انہیں جہالت اور سستی وکاہلی سے نکالنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں میں سچا مسلمان بنائے۔آمین(راسخ)

  • 33 اسلام سے وابستگی کے تقاضے (جمعہ 22 اگست 2014ء)

    مشاہدات:1872

    عام مشاہدہ یہ ہے کہ بہت سارے افراد اپنے آپ کو صرف اس بناء پر مسلمان کہتے ہیں کہ ان کے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ میں ان کا مذہب ،اسلام درج ہوتا ہےیا وہ اس لئے مسلمان کہلاتے ہیں کہ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہو گئے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہونے کا صحیح مطلب اور اس کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے ہیں۔حالانکہ صحیح معنوں میں مسلمان ہونے کے لئے اسلام کے تقاضوں کو سمجھنا اور ان کو پورا کرنا ضروری ہے۔اسی طریقے سے ہی کسی فرد کا مسلمان بننا اور اسلام کے ساتھ منسوب ہونا درست اور صحیح ہو سکتا ہے اور وہ پکا اور سچا مسلمان ہو سکتا ہے۔ایمان کے انہی تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر مسلمان اسلام کے لئے کام کرے اور کام کرنے والی قوتوں اور جماعتوں سے وابستہ ہو۔زیر تبصرہ کتاب (اسلام سے وابستگی کے تقاضے) ڈاکٹر فتحی یکن﷫ کی عربی کتاب "ما ذا یعنی انتمائی للاسلام"کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ کرنے کی سعادت ڈاکٹر محمد علی غوری ﷫نے حاصل کی ہے۔مولف نے اس کتاب میں اسلام کے انہی تقاضوں کو بیان کیا ہے جنہیں پورا کرنے کے بعد ہی کوئی فرد صحیح معنوں میں مسلمان کہلانے کا حقدار بنتا ہے۔انہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ امت مسلمہ کا اپنا علیحدہ تشخص اور اپنی خاص پہچان ہے۔اس کی اپنی بنیاد ہے ،جس کا ماخذ اسلام ہے۔وہ اسلام جو دین فطرت ہے۔اور اسی تشخص کی بناء پر یہ امت پوری دنیا کی فکری اور سیاسی قیادت کر سکتی ہے۔اللہ تعالی مولف﷫ کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 34 اسلامی تہذیب و ثقافت (ہفتہ 23 اگست 2014ء)

    مشاہدات:6622

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔زیر تبصرہ کتاب "اسلامی تہذیب وثقافت"ہندوستان کے معروف مؤرخ ،محقق اور عالم دین مولانا سید ابو الحسن ندوی ﷫کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 35 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر امن سلامتی (اتوار 24 اگست 2014ء)

    مشاہدات:1872

    اس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے "امن وسکون کی زندگی"اور نبی کریم اسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔زیر تبصرہ کتاب(رسول اکرم ﷺ پیغمبر امن وسلامتی) پاکستان کے مسلک دیو بند کے معروف عالم دین مولانا مفتی محمد شفیع کے ایک خطاب کی مطبوعہ شکل ہے۔جس میں انہوں نے پیغمبر اسلام کے اسی وصف اور امتیاز کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمالے۔آمین(راسخ)

  • 36 دعوت دین کی اہمیت اور تقاضے (بدھ 03 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:3746

    اللہ تعالیٰ  نے انسان  کی فطرت  کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی  کے اختیار کرنے  اور بدی  سے  بچنے کی خواہش وودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو  لوگوں  تک پہنچایا او ران کو شیطان  سے  بچنے اور رحمنٰ  کے راستے   پر چلنے کی دعوت  دی ۔دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پہنچانے  کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج  دعوت  اور اصول  دعوت  کے حوالے  سے   اہل  علم  عربی اور زبان  میں کئی کتب تصنیف کی  ہیں  ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی  کتب قابل ذکر ہیں  جوکہ آسان فہم  او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پید...

  • 37 اسلام اور دہشت گردی (اتوار 07 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:4288

    اسلام امن وسلامتی کا دین ہے ۔اسلام کے معنی  اطاعت اور امن وسلامتی کے  ہیں ۔یعنی  مسلمان جہاں اطاعت الٰہی کا نمونہ ہے  وہاں امن وسلامتی کا پیکر بھی  ہے ۔  اسلام فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے  ۔دنیا میں  اس وقت جو  فساد بپا ہے  اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور  نظریہ میں نہیں ۔ بد قسمتی سے  فسادیوں اور دہشت گردوں نے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے  اس مہم کا جواب  ضروی  ہے  ۔یہ جواب فکر ی بھی ہونا چاہیے  اورعملی بھی۔زیر نظر کتاب ’’ اسلام اور دہشت گردی‘‘ محترم ڈاکٹر خالد علوی  کی  تصنیف ہے    جس میں انہوں نے  اختصار کے ساتھ  یہ ثابت کرنے کی  کوشش کی  ہےکہ اسلام امن ہے اور کفر فساد ودہشت گردی  ہے ۔اللہ تعالی عالم ِاسلام  اور مسلمانوں کو  کفار کی سازشوں اور فتنوں سے  محفوظ فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 38 خدمت خلق قرآنی تعلیمات کی روشنی میں (پیر 08 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:3566

    انسان اپنی فطری  ،طبعی، جسمانی اور روحانی  ساخت کے لحاظ سے  سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما،تعلیم وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات  پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا  لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی  قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی  او رپیش آتی ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس لیے اس  نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام احکام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ اسلام  نے روزِ اول  سے انبیاء  کرام کے اہم فرائض میں اللہ  کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی  خدمت کی ذمہ داری  عائد کی ۔اس  ذمہ داری کو انہوں نے  نہایت عمدہ طریقہ سے  سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے  بھی مدینہ منورہ میں  رفاہی، اصلاحی اور عوامی  بہبود  کی ریاست کی قائم کی ۔زیر نظر کتابچہ ’’ خدمت خلق قرآنی  تعلیمات کی روشنی میں‘‘مولانا  امیر الدین مہر کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے  مختلف طبقات کے حقوق اوران کی ادائیگی  سے متعلق قرآنی احکام کونہایت عمدہ اسلوب میں بیان فرمایا ہے ۔اللہ تعالی مولانا کی اس کوشش کو  قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

  • 39 مسلمان طالب علم (بدھ 10 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1713

    یہ ایک حقیقت  ہے کہ  کسی  ملک  کے  طالب علم  ہی اس کا بہترین سرمایہ اور اس کے درخشاں مستقبل  کی ضمانت  ہوتے ہیں۔علم وجہِ فضیلت ِآدم ہے  علم ہی انسان کے فکری  ارتقاء کاذریعہ ہے ۔ علم ہی کے  ذریعے  سے ایک  نسل کے تجربات دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔سید الانام خیر البشر  حضرت محمد ﷺ  کو خالق کائنات نے بے شمار انعامات  وامتیازات سے سرفراز فرمایا تھا مگر جب علم کی دولت سے  سرفراز فرمانے کا ارشاد گرامی ہوا تو اسے ’’ فضلِ عظیم‘‘ قرار دیا  ارشاد ربانی ہے :وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا(النساء:113)اسلام حصول علم کےلیے جس راہ کو متعین کرتا ہے  وہ  تعلیم وتربیت کا  آمیزہ  ہے  فکر وعمل  کی راستگی  اسلام کا حقیقی مطلوب  ’’علم ‘‘ ہے زیر نظر  کتاب ’’ مسلمان طالب علم ‘‘ محترم  جناب محمد عاشق بھٹی   کی   قابلِ ستائش فکر ی کاوش ہے  ۔ جس میں انہوں نے ایک  مسلمان طالب علم کی  خصوصیات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دل نشیں انداز میں  وعظ  وتلقین بھی فرمائی ہے ۔اللہ تعالی ان کی کاوش کو قبول فرمائے  اور اسے افادۂ عام کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)
     

  • 40 قرآن مجید ایک تعارف (جمعرات 11 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2516

    قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔اسے  پڑھنے اور سمجھنے کا شعور اس  وقت تک  پیدار نہیں ہوتا جب تک اس  کی اہمیت کا احساس نہ ہو۔قرآن مجید کے تعارف اوراس کے  مضامین  کے سلسلے میں   مختلف اہل علم  نے كئی    کتب تصنیف کی   ہیں علامہ وحید الزمان   کی ’’تبویب  القرآن فی مضامین  الفرقان ‘‘ اور  شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ قابل  ذکر ہیں ۔زیر نظر  کتاب ’’ قرآن مجید  ایک تعارف‘‘ڈاکٹر محمود احمد غازی ٰ کے قرآن  پاک کے تعارف پر مشتمل  مضامین کا مجموعہ  ہے    جسے دعوۃ اکیڈمی نے   افادۂ عام کےلیے  کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔یہ مضامین قرآن  پاک کے تعارف کےسلسلے میں  انتہائی سہل انداز میں  مستند معلومات پر مبنی  ہیں۔...

  • 41 تعلیم اور جدید تہذیبی چیلنج (جمعرات 26 فروری 2015ء)

    مشاہدات:2176

    تعلیم حیات انسانی کا وہ تجربہ ہے جس پر اس کے وجود اور بقاء کا انحصار ہے۔تعلیم ہی وہ عمل ہے جو حیات انسانی کے قافلے کو رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔تعلیم ہی کے ذریعے سے ایک نسل کے تجربات دوسری نسل تک پہنچتے ہیں اور تعلیم ہی وہ اساس ہے جس پر حیات انسانی کی عمارت قائم ہے۔اسلامی تہذیب کی اساس اگرچہ ایمان پر قائم ہے مگر وہ تعقل سے صرف نظر نہیں کرتی ہے۔اسلامی تہذیب نے  محسوسات کا ادراک کیا ہے اور اس کی حقیقت کو تسلیم کیا ہےلیکن اسے ما بعد الطبیعات سے منسلک کیا ہے۔انسان اور کائنات کے بارے میں اسلامی تہذیب کا اساسی نقطہ یہ ہے کہ ان دونوں کی تخلیق میں ایک مقصدیت پائی جاتی ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے انسان کا وجود بے مقصد ہے اور نہ ہی کائنات کی تخلیق وتنظیم بے سبب۔ارشاد باری تعالی ہے۔ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ * فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ‏) (المؤمنون 115-116)"کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پید اکیا ہےاور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے۔پس بالا وبرتر ہے باشاہ حقیقی۔کوئی اس کے سوا معبود نہیں ،مالک ہے عرش عظیم کا۔جبکہ جدید تہذیب مادہ پرست،قوم پرسی اور خود غرضی کے اصولوں پر استوار ہے۔اس تہذیب کے متعدد ایسے پہلو ہیں جن کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تعلیم اور جدید تہذیبی چیلنج " دعوہ اکیڈمی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائرکٹر جنرل محترم ڈاکٹر خالد علوی صاحب کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے تعلی...

  • 42 وفا کی خوشبو (جمعہ 06 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:601

    اللہ تعالی اور نبی کریمﷺ نے ایک پاکیزہ مثالی معاشرہ قائم کرنے کے لئے اس کے جملہ خدوخال کو بیان فرمایا،ان خوبیوں کو بیان فرمایاجو کسی بھی کامیاب معاشرے کا حسن ہوتی ہیں اور ان مفاسد اور گمراہیوں کو بھی کھول کھول کر بیان فرمایا جو معاشرتی حسن کو دیمک کی طرح کاٹ لیتی ہیں اور پورا معاشرہ شکست و ریخت کا شکار ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید نے اوامر ونواہی کے ساتھ ساتھ جو ماضی کی اقوام وملل کے قصص بیان فرمائے ہیں ان کا مقصد محض واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ ان اقدار عالیہ اور اوصاف حمیدہ کو بیان کرنا مقصد ہے جنہیں اپنا کر مختلف اقوام کی تقدیر کا ستارہ کمال بلندی پر چمکا۔ دعوہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد اقدار اسلامیہ کو پروان چڑھانے اور اخلاقی برائیوں کے تدارک کے لئے جہاں مختلف ٹریننگ پروگرامز کا اہتمام کرتی ہے وہیں مختلف طبقات کے لئے آسان اور سلیس زبان میں قرآن وسنت کی روشنی میں ضخیم کتب کے ساتھ ساتھ کتابچہ جات کی طباعت کا بھی اہتمام کرتی رہتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" وفا کی خوشبو" بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں دعوہ اکیڈمی کی جانب سے شائع کئے جانے والے مجلے ماہنامہ "دعوۃ" کے مدیر جناب زبیر طارق نے سیرت نبویﷺ پر چند واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی  بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 43 اسلام اور نسلی امتیاز (پیر 09 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1029

    نسلی و قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ برتری صرف اس کے ہاں پائی جاتی ہے اور باقی سب کمتر ہیں۔ یہی تفاخر اور غرورآگے چل کر نفرتوں، چپقلشوں ، مقابلوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جن کے نتیجے میں دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔ زیادہ دور کیوں جائیے، ابھی پچاس سال پہلے ہی اسی نسلی غرور کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کو یاد کیجئے جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے تھے۔ صرف یہ خیال نہ کیجئے کہ یہ غرور صرف غیرمسلموں کے ہاں ہی پایا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بھی اس باطل تصور کا اتنا ہی شکار ہوئے ہیں جتنا کہ دوسری اقوام۔ ایسا کیوں ہے؟حالانکہ اسلام نے ان امتیازات کا خاتمہ کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مساوات کا درس دیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اپنے مشہور خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: ’’تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اے لوگو! سنو تمہارا رب ایک رب ہے، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کوئی کالا کسی گورے سے بہتر ہے اور نہ گورا کالے سے۔ فضیلت صرف اور صرف تقویٰ کے سبب ہے۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور نسلی امتیاز" پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی صاحب کی تصنیف ہے، جسے انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی دعوہ اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے نسلی امتیاز کو فروغ اسلام کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار...

  • 44 ایمان بالرسول اور اس کے تقاضے (جمعہ 20 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:869

    دین اسلام کے بنیادی  عقائد تین ہیں۔اللہ پر ایمان، رسول اللہ ﷺ پر ایمان اور آخرت پر ایمان۔اللہ اور آخرت پر ایمان بھی نبی کریم ﷺ کی وساطت سے ہی ممکن ہوا ہے۔اللہ تعالی کی ذات کیسی ہے؟ اس کی صفات کیا کیا ہیں؟ وہ کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور کن سے ناراض؟اس کو خالق ومالک اور حاکم ورازق مان لینے کے تقاضے کیا ہیں؟آخرت کیوں ہو گی؟ کیسے ہو گی؟ جزا وسزا کے پیمانے کیا ہوں گے؟جزا کے حقداروں کو کیا انعام ملیں گے؟ اور سزا کے مستحقین کو کس انجام سے دوچار ہونا پڑے گا؟ان سب سوالوں کے جواب نبی کریمﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کی تعلیمات ہی سے مل سکتا ہے۔ اسلام اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانے کا نام ہے اور اس ایمان کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبت ہو اللہ کی محبت ایسی محبت کہ اس کے ساتھ کوئی بڑ ے سے بڑ ا انسان بھی اس محبت میں شریک نہیں ہو سکتا۔اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" ایمان بالرسول اور اس کے تقاضے "محترم غلام سرور چٹھہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  نبی کریم ﷺ سے محبت کے تقاضے بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف   کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں  آپﷺ سے محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 45 اسلام میں اولاد کے حقوق (اتوار 15 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2235

    انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔ اس لیے اسے بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ان میں اولاد کی تربیت سب سے اہم فریضہ ہے۔اللہ رب العزت قیامت کےدن اولاد سےوالدین کے متعلق سوال کرنے سےپہلے والدین سےاولاد کےمتعلق سوال کرے گا۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اولاد کی اچھی تربیت میں کوتاہی کے بہت سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ شیر خوارگی سے لڑکپن اور جوانی کےمراحل میں اسے مکمل رہنمائی اور تربیت درکار ہوتی ہےاس تربیت کا آغاز والدین کی اپنی ذات سے ہوتاہے۔ اولادکے لیے پاک اور حلال غذا کی فراہمی والدین کے ذمے ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ رزقِ حلال کمائیں۔ والدین جھوٹ بولنے کےعادی ہیں تو بچہ بھی جھوٹ بولے گا۔ والدین کی خرابیاں نہ صرف ظاہری طور پر بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ باطنی طور پر یہ خرابیاں اس کے اندر رچ بس جاتی ہیں۔ والدین کےجسم میں گردش کرنے والےخون میں اگر حرام ،جھوٹ، فریب، حسد، اور دوسری خرابیوں کے جراثیم موجود ہیں تویہ جراثیم بچے کوبھی وراثت میں ملیں گے۔ بچوں کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کے حقوق میں...

  • 46 رزق حلال اور رشوت (پیر 06 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:886

    اسلام نے ہر اس ذریعہ اکتساب کو منع اور حرام قرار دیا ہے جس میں کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ کمایاجائے۔انہی حرام ذرائع میں سے ایک نہایت قبیح ذریعہ اکتساب رشوت ہے، جو شریعت کی نظر میں انتہائی جرم ہے اور یہ جرم آج ہمارے معاشرے میں ناسور کی مانند پھیل چکا ہے، جس کا سد باب مسلمان معاشرے کے لئے ضروری ہے۔رشوت انسانی سوسائٹی کا وہ بد ترین مہلک مرض ہے جو سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی طرح سرایت کر کے پورے نظام انسانیت کو کھوکلا اور تباہ کر دیتا ہے ۔ رشوت ظالم کو پناہ دیتی ہے ۔ اور مظلوم کو جبراً ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ رشوت کے ہی ذریعے گواہ ، وکیل اور حاکم سب حق کو ناحق اور ناحق کو حق ثابت کرتے ہیں ۔ رشوت قومی امانت میں سب سے بڑی خیانت ہے ۔اسلامی شریعت دنیا میں عدل و انصاف اور حق و رحمت کی داعی ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے ہی انسانی سماج کی اس مہلک بیماری کی جڑوں اور اس کے اندرونی اسباب پرسخت پابندی عائد کی ۔ اور اس کے انسداد کے لیے انتہائی مفید تدابیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ۔ جن کی وجہ سے دنیا ان مہلک امراض سے نجات پا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رزق حلال اور رشوت ‘‘ محترم جناب ڈاکٹر علی اصغر چشتی کی کاوش ہے اس مختصر کتاب میں انہوں نے اس بات کوواضح کیا ہےکہ انسان کےلیے ضروری ہے کہ وہ رزق حلال تلاش کرے کیونکہ رزق حلال حاصل کر نے کے بڑے فوائد اوربرکات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انبیاء ﷩ کو بھی اکل حلال کا حکم دیا ہے ۔نیز اس کتاب میں فاضل مصنف نے رشوت کی تعریف، رشوت کا دینوی انجام ، معاشرے کے اندر رشوت پھیل جانے کے اسباب...

  • 47 صحابہ کرام ؓ اور رفاہی کام (پیر 06 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1084

    کسی شخص کی ذاتی ضرورت کےوقت اس کاکام کردینا یا معاشرے کی اجتماعی ضرورتوں اور سہولتوں کو فراہم کرنے کی کوشش کرنا چاہے وہ کوشش مال کے ذریعے ہو۔ چاہے خدمت او رمحنت کےذریعے چاہے معاشرے کو اس کی ضرورتوں اوراس سہولتوں کےشعور کو عام کرنے کےلیے معلوماتی تحریریں فراہم کی جائیں، ان سب کا نام رفاہی کام ہے جسے خدمت خلق بھی کہا جاتاہے ۔اورانسان اپنی فطری ،طبعی، جسمانی اور روحانی ساخت کے لحاظ سے سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما،تعلیم وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی او رپیش آتی ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس لیے اس نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام احکام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے انبیاء کرام کے اہم فرائض میں اللہ کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی خدمت کی ذمہ داری عائد کی ۔اس ذمہ داری کو انہوں نے نہایت عمدہ طریقہ سے سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ میں رفاہی، اصلاحی اور عوامی بہبود کی ریاست کی قائم کی ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ صحابہ کرام اور رفاہی کام ‘‘ مولاناامیر الدین مہر کی کاوش ہے ۔ جو انہوں نے دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کےزیراہتمام کروائے جانےتربیتی کورس کے شرکاء کےلیے مرتب کیا گیا ہے ۔اس کتابچہ میں انہوں نے نہایت دلکش انداز میں بارہ جلیل القدر صحابہ کرام کے رفاہی کاموں کا تذکرہ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاو...

  • 48 علمائے کرام اور ان کی ذمہ داریاں (جمعرات 09 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1108

    امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء نے انجام دیا ہے او رہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی ڈوپتی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش کی ہے ، اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے جنہوں نے حالات کو سمجھا اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے اور ان کو صحیح رخ پر لانے کے لیے انہوں نے ہر طرح کی قربانیاں دی جو اسلامی تاریخ کا سنہرا باب ہے ۔اسلامی معاشرہ میں علمائے کرام کاکرداربڑی اہمیت رکھتا ہے ۔افراد کودینی تعلیم مہیا کرنا معاشرہ کواسلامی خطوط پر قائم رکھنا ،اجتماعی اقدار واخلاق کی تشکیل کے عمل میں حصہ لینا ، معاشرتی برائیوں کےخلاف جہاد ، معاشرہ کےباثر افراد کااحتساب اور محاسبہ ۔ یہ علماء کرام کی وہ ذمہ داریاں ہیں جو اگر صحیح صحیح طریقہ سےاداہوتی رہیں توبلا شبہ نتیجہ خیز بھی ہوتی ہیں اور معاشرہ بھی اسلامی اساس پر قائم رہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’علمائے کرام اوران کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانانجم الحسن تھانوی نے نے دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کےزیراہتمام کروائے جانےتربیتی کورس کے شرکاء کےلیےتحریرکیا ہے ۔جس کامقصد علماء کرام کو تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کےاصول کےتحت ان کی ذمہ درایوں کو یاد دلانا ہے اوران مسائل ومشکلات کی نشاندہی کرنا ہے جو دعوت وتبلیغ کے راستہ میں درپیش ہیں ۔(م۔ا)

  • 49 اسلام کی دس امتیازی خصوصیات (ہفتہ 11 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1376

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام  کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی  مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔اسلام ہر انسان کی فلاح وبہبود اور کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ہر انسان فطری اور طبعی طور پر کامیابی چاہتا ہے اور ناکامی سے دور بھاگتا ہے۔لیکن ایک عام انسان اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ آخر اسے یہ کامیابی ملے گی کہاں سے۔ہر انسان اپنی عقل وفکر  کے گھوڑے دوڑا کر کامیابی تک پہنچنا چاہتا ہے۔کوئی مال میں کامیابی تلاش کر رہا ہے تو کوئی دکان مکان میں اور کوئی سلطنت اور حکومت ،لیکن تاریخ انسانیت گواہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی چیز میں کامیابی نہیں ہے۔کامیابی صرف اور صرف اسلام کے مطابق زندگی گزارنے میں پنہاں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام کی دس امتیازی  خصوصیات"علامہ سید رشید رضا مصری ﷫کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے ا...

  • 50 مولانا جلال الدین رومی  (بدھ 05 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1150

    مولانا جلال الدین رومی 1207ء کو افغانستان کے صوبہ تاجکستان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاولدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید برہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علماء میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا ۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علماء میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کےہوئی۔دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دسترس حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے ۔وہ تقریباًَ 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔ آب مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز آپ کی معرف کتب ہے، آپ دنیا بھر میں اپنی تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، تقریباًَ 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ کو قونیہ (ترکی ) انتقال کرگئے۔ آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔اور آج بھی ان کے عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا جلال الدین رومی ‘‘ہندوستان کی معروف شخصیت ادیب ومؤرخ سید ابوالحسن ندوی ﷫ کی معروف کتاب تاریخ دعوت وعزیمت کی پ...

  • 51 سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاسی پہلو (بدھ 12 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1297

    دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ زیر نظر کتاب’’ سیرت رسول کا سیاسی پہلو ‘‘مولانا محمد طاسین صاحب کی کاوش ہے یہ کتابچہ دراصل دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کےزیراہتمام کروائے جانےتربیتی کورس کے شرکاء کےلیے مرتب کیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے سرورکائنات سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیات طیبہ کے سیاسی پہلو پر اختصار سے روشنی ڈالی ہے ابتدا میں لفظ سیاست کے معانی ومطالب سےمتعلق بھی مختصر بحث کی ہے ۔(م۔ا)

  • 52 امام غزالی  (اتوار 02 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2446

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک امام غزالی بھی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں امام غزالی کے حالات زندگی‘ ان کی خدمات اور تصانیف کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور ان کی مشہور ابحاث کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔اس میں حوالہ جات کا اہتمام بھی کیا گیا ہے اور اہم باتیں جو کہ رہ گئی ہوں انہیں فٹ

  • 53 اسلام میں دعوت و تبلیغ کے اصول (جمعرات 24 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1409

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے جس سلسلۂ نبوت کا آغاز حضرت آدم سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ کی ذات ِستودہ صفات پر کردیا گیا ہے۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے ۔ دعوت وتبلیع کی ذمہ داری ہر امتی پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر کی غیر مسلم حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام اسی طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام کرتے رہے ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل پیرا ہونے بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے عمل کی ضرورت ہوتی اور عمل سے پہلے علم کی ۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’ اسلام میں دعوت وتبلیغ کے اصول ‘‘مشہور دیوبندی عالم دین مولانا قاری محمد طیب کی دعوت وتبلیغ کے موضوع پر ایک عالمانہ تحریر ہے ۔ یہ کتابچہ نہ صرف عام فراد کے لیے دعوت وتبلیغ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے مفید ہے بلکہ اس کتابچہ سے دعوت وتبلیغ کے کام میں مصروف داعیان دین اور کارکنان دعوت وتبلیغ کو منہاج تب...

  • 54 تزکیہ نفس ( محمد سعید صدیقی ) (اتوار 14 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:752

    تزکیہ نفس ،تہذیب اخلاق اوراطمینان نفس ک کا سرچشمہ نبی کریم ﷺ کی ذات  اقدس ہے ۔شریعت اسلامیہ میں تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھے جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے  پاک صاف کرلینا اور  اسے  قرآن وسنت کی روشنی  میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات  وامور سے آراستہ رکھنا نفس کا تزکیہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے  انبیاء کرام  کو جن اہم امور کےلیے مبعوث  فرمایا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے۔  جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس  آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری  ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے  جن میں ترتیب مختلف ہے  لیکن ذمہ داریاں یہی دہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ بھی تزکیہ ہی ہے زیر نظر کتاب ’’تزکیہ نفس‘‘ جناب محمد سعد صدیقی  صاحب  کی کاو ش  ہے   اس میں انہوں نے لفظ...

  • 55 منشیات اور ان کا سدباب جلد 2 (منگل 11 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:896

    شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی کم وبیش اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی تاریخ یہ اندازہ لگانا تو بہت مشکل ہے کہ انسان نے ام الخبائث کا استعمال کب شروع کیا اوراس کی نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات اور دیگر منشیات اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل علم نے شراب اور نشہ اور اشیا ء پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔
    زیر تبصرہ کتابچہ ’’ منشیات اور ان کا سدِّ باب حصہ دوم ‘‘ مولانا امیر الدین مہر اور جناب مختار احمد کی مشترکہ تحریر ہے ۔یہ کتابچہ دو ابواب پر مشتمل ہے باب اول ادویات کا غلط استعمال اور منشیات کے استعمال کی وجوہات ،منشیات کے استعمال کی علامات کے متعلق ہے اور دوسرا باب منشیات کےسد باب اور نشہ میں مبتلا ہونے سے بچاؤ کی تدابیر کے متعلق ہے ۔یہ حصہ دوم ہے اگر کسی بھائی کے پاس اس کا حصہ اول ہو تو وہ ہ...



ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 712
  • اس ہفتے کے قارئین: 6150
  • اس ماہ کے قارئین: 31054
  • کل مشاہدات: 42908309

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں