کل کتب 40

دکھائیں
کتب
  • 1 #5071

    مصنف : ام عثمان

    مشاہدات : 2505

    آخری سفر کی تیاری

    (جمعہ 13 جنوری 2017ء) ناشر : الہدیٰ پبلیکیشنزِ اسلام آباد

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔موت انسان کےاپنے اصل گھر کی طرف روانگی کی پہلی منزل ہے ۔ دنیا میں رہتے ایک اچھا مسلمان چاہتا کہ اس کاہر قول،عمل اور طرز زندگی اللہ کےحکم کےمطابق ہو اوررسول اللہ ﷺ کی سنت کےموافق ہو ۔ اسے کےچلے جانے کے بعد اس کےلواحقین کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ اس کی آخری رسومات بھی اسی طرح شرعی طریقے سے پوری کرنے کاحق ادا کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آخری سفر کی تیاری ‘‘ محترمہ ام عثمان صاحبہ کی کاوش ہے انہوں نے اس مختصر کتاب میں آسان فہم انداز میں احادیث کی روشنی میں وفات کےفوراً حاضرین کی ذمہ درایاں ،غسل میت کا طریقہ،کفن دینے کاطریقہ،غسل وکفن کے مراحل میں غیر مسنون افعال، جنازہ لے کر جانا، نماز جنازہ کاطریقہ ، میت کی مغفرت کے لیے مسنون دعائیں، تدفین، زیارت قبور، میت کو ثواب پہنچانے کے مسنون وغیر مسنون طریقوں کوبیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے لوگوں کےلیے نفع بخش بنائے اور تما م اہل اسلام کوخاتمہ بالایمان نصیب فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 2 #4792

    مصنف : سید بدیع الدین شاہ راشدی

    مشاہدات : 2255

    القضاء والجزاء بامر اللہ متی یشاء عذاب قبر کی حقیقت

    (منگل 11 اکتوبر 2016ء) ناشر : مکتبہ الدعوۃ السفیۃ مٹیاری سندھ

    عقیدہ عذاب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں لیکن اسلام کی خانہ زاد تشریح پیش کرنے والے بعض افراد قرآن وحدیث کی صریح نصوص سے سر مو انحراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’عذاب قبر کی حقیقت‘‘ شیخ العجم والعرب سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ کا عقیدہ عذاب کے متعلق شاندار رسالہ ہے یہ رسالہ انہوں نے ہندوستان کے شہر جودھپور کے ایک مولوی کا عذاب قبر کے متعلق تحریر کردہ رسالہ بنام ’’ الجزاء بعد القضاء ‘‘ کے جواب میں تحریر کیا ۔ الجزاء بد القضاء کے مصنف نے اپنے اس رسالہ میں عقیدہ عذاب قبر کےسلسلہ میں قرآن وسنت کے صریح نصوص کا انکار کیا تو سید بدیع الدین شاہ راشدی نے قرآن وسنت کےٹھوس دلائل کے روشنی میں زیر تبصرہ رسالہ ’’ القضاء والجزاء بامر اللہ متی یشاء‘‘ کے نام سے اس کے جواب میں تحریر کیا ہے اور اس میں جودھپوری صاحب کےتمام باطل نظریات واعتراضات کے تسلی بخش جوابات دیے اور خوب ان کا علمی پوسٹ مارٹم کیا ۔(م۔ا)

  • 3 #1893

    مصنف : محمد ارشد کمال

    مشاہدات : 7056

    المسند فی عذاب القبر

    (ہفتہ 07 دسمبر 2013ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    روح اور بدن کی جدائی کا نام  موت ہے۔ موت  عالم دنیا سے عالم آخرت میں داخلے کا ذریعہ ہے،جہاں سے انسان کی ابدی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ عالم آخرت کے دو مرحلے ہیں ایک عالم برزخ ،یعنی موت سے لے کر حساب وکتاب کےلیے دوبارہ اٹھائےجانے تک، اور دوسرا مرحلہ دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد یعنی عالم حشر سے شروع  ہوگا۔ عالم برزخ میں ملنے والی سزا کو عذاب قبر کہا جاتا ہے۔ عقیدہ عذاب قبر اس قدر اہم ہے کہ اس  پر بڑے بڑے محدثین اور آئمہ کرام رحمہم اللہ اجمعین نے باقاعدہ کتب تالیف فرمائی ہیں۔ جیسا کہ امام بیہقی  نے ’’ اثبات عذاب قبر‘‘ امام ابن ابی الدنیا نے ’’کتاب القبول اور کتاب الاہوال‘‘ امام قرطبی نے ’’التذکرہ‘‘ امام ابن رجب نے ’’اھوال القبور ‘‘ امام ابن قیم نے ’’ کتاب الروح‘‘ اورامام  جلال الدین سیوطی نے ’’ شرح الصدور‘‘ جیسی گراں قدر کتب تالیف فرمائیں۔ مگر عقلی گمراہیوں  میں مستغرق بعض  بے دین حضرات نے محض اس وجہ سے عذاب قبر کا انکارکردیا کہ یہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے،  اور ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ان کی یہ بات انتہائی جاہلانہ اور احمقانہ  ہے،  کیونکہ اس کائنات میں کتنی ہی ایسی اشیاء ہیں، جن کا وجود مسلم ہے، لیکن ہمیں وہ نظر نہیں آتی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ المسند فی عذاب القبر ‘‘ فاضل مؤلف محمد ارشد کمال  کاوش ہے۔اس میں انہوں نے  عذاب قبر کے اثبات پر ڈیڑھ سو کے قریب صحیح وصریح  مرفوع وموقوف احادیث جمع کر دی ہیں،اورعذاب قبر کےحوالے سے  پیدا ہونے والے بعض اہم مسائل پر  تسلی بخش اور مدلل بحث کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(ک،ح)
     

  • 4 #4919

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 4328

    انسانیت موت کے دروازے پر

    (ہفتہ 19 نومبر 2016ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    انسانی  زندگی کے آخری لمحات کوزندگی کے درد انگیز خلاصے سے تعبیر کیا جاتا ہے اس  وقت بچپن سےلے کر اس آخری لمحے کےتمام بھلے اور برے اعمال پردۂ سکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے نمودار ہونے لگتے ہیں ان اعمال کے مناظر کو دیکھ کر کبھی تو بے ساختہ انسان کی زبان سےدررد وعبرت کےچند جملے نکل جاتے ہیں اور کبھی یاس وحسرت کےچند آنسوں  آنکھ سےٹپک پڑتے ہیں ۔کتاب ہذا کے مصنف ابواکلام آزاد کا نام برصغیر کی تاریخ میں سیاست،مذہب اور ادب کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔وہ ایک بلند پایہ ادیب،زیرک سیاستدان اور باعمل مذہبی سکالر اور رہنما تھے۔ ان کے شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ زیر نظر کتاب’’انسانیت موت کےدروازے پر‘‘ میں انہوں نے انسانی زندگی کی فنا پذیری اور موت کو موضوع بنایا ہے۔انسانیت موت کی دہلیزپر میں انہوں نے انسانی تاریخ کی مشہور شخصیات کی کیفیات اور آخری کلمات بیان کیے ہیں جو انہوں نے مرتے وقت ادا کیے تھے۔موت سے کسی کو مفر نہیں اور قرآن کے مطابق ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔چنانچہ بحیثیت مسلمان ہم سب کو آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔یہ کتاب عالم فانی سےعالم بقاء کےسفر کی دلسوز کہانی اس قدر مؤثر ہے کہ شاید ہی کوئی سنگ دل ہو  جو اس کا مطالعہ کر ے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں نہ لگ جائیں۔(م۔ا)

  • 5 #7071

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 800

    انسانیت موت کے دروازے پر ( ادارہ اسلامیات )

    (اتوار 29 ستمبر 2019ء) ناشر : ادارہ اسلامیات لاہور۔کراچی

    زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی  ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ انسان زندگی کے  آخری لمحات کو زندگی کے درد انگیز خلاصے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اس وقت بچپن سے لے کر آخری لمحہ تک کےتمام بھلے اور برے اعمال پردۂ سکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے نمودار ہونے لگتے ہیں  ان اعمال کے مناظر کودیکھ کر کبھی توبے  ساختہ انسان کی زبان سے درد وعبرت کےچند جملے نکلتے ہیں  اور کبھی یاس وحسرت کےچند آنسو آنکھ سے  ٹپک پڑتے ہیں ۔موت کے وقت ایمان  پر ثابت  قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن  اس وقت موحد  ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان  اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے  برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے  اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں  دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان  اس کے وار سےبچتے ہیں جن  پر اللہ کریم  کے خاص رحمت ہو ۔دنیا کےاس پل  پر سے گزر کر عقبیٰ کی طرف ہر انسان  نےجانا ہے ۔ موت سے کسی کو مفر نہیں اور قرآن کے مطابق ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔چنانچہ بحیثیت مسلمان ہم سب کو آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ زیر نظر کتاب’’انسانیت موت کےدروازے پر‘‘  مولانا ابو الكلام ﷫ کی تصنیف ہے ۔اس  کتاب میں انہوں نے انسانی زندگی کی فنا پذیری اور موت کو موضوع بنایا ہےاور اس میں اسلامی  تاریخ کی مشہور شخصیات (  نبی کریم ﷺ،خلفاء اربعہ ،سیدنا حسین،عمروابن العاص،معاویہ بن ابی سفیان ، خبیب بن عدی ، عبد اللہ بن زبیر، عبد اللہ ذوالبجادین ، عمر بن  عبد العزیز ﷢، حجاج  بن یوسف، ) کی موت  کے وقت کی کیفیات اور ان کے آخری کلمات بیان کیے ہیں جو انہوں نے مرتے وقت ادا کیے تھے۔ یہ کتاب عالم فانی سےعالم بقاء کےسفر کی دلسوز کہانی اس قدر مؤثر ہے کہ شاید ہی کوئی سنگ دل ہو  جو اس کا مطالعہ کر ے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں نہ لگ جائیں۔(م۔ا)

  • 6 #5622

    مصنف : محمد عظیم حاصلپوری

    مشاہدات : 1228

    ایک باپ کا اپنے آخری لمحات میں اپنے بیٹے کے نام ’’وصیت نامہ‘‘

    (ہفتہ 15 جولائی 2017ء) ناشر : نا معلوم

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام کی انہی روشن تعلیمات میں سے ایک اہم مسئلہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے ورثاء کے لئے کوئی وصیت کرنا بھی ہے۔انبیاء کرام کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ اپنے لمحات میں اپنی اولاد کو نیکی اور اطاعت الہی کی وصیتیں کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب"ایک باپ کا اپنے آخری لمحات میں اپنے بیٹے کے نام وصیت نامہ "محترم محمد عظیم حاصل پوری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انبیاء کرام کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیتوں کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • 7 #1482

    مصنف : خالد بن عبد الرحمٰن الشایع

    مشاہدات : 19300

    برزخی زندگی اور قبر کے عذاب وآرام کے مسائل

    (منگل 17 جولائی 2012ء) ناشر : اسلامک دعوت سینٹر سلیل

    اللہ تعالیٰ نے کائنات کے نظام کو چلانے کے لیے اس کے انتہائی اہم کردار انسان کو وجود بخشا  حضرت انسان کو مٹی سے پیدا کیاگیا ہے ۔ انسان اپنی تخلیق کے مختلف مراحل سے گزر کر اپنے آخری منزل تک پہنچتا ہے۔انسان جب فقط روح کی شکل میں تھا تو عدم میں تھا روح کے اس مقام کو عالم ارواح کہتے ہیں او رجب اس روح کو وجود بخشا گیا اس کو دنیا میں بھیج دیا گیا  اس کے اس ٹھکانےکو عالم دنیا اور اسی طرح اس کے مرنے کے بعد قیامت تک کے لیے جس مقام پر اس کی روح کو ٹھہرایا جاتا ہے اسے عالم برزخ کہتے ہیں اس کے بعد قیامت قائم ہوگی اور لوگوں کو ان کی دائمی زندگی سے ہمکنار کیا جائے گا۔مرنے کے بعد کے حالات جو مابعد الطبیعات میں آتے ہیں کو اسلام نے بڑے واضح انداز میں پیش کردیا ہے۔ کہ مرنے کے بعد اس کا قیامت تک کے لیے مسکن قبر ہے اور برزخی زندگی میں قبر میں اس کے ساتھ کیا احوال پیش آتے ہیں۔ انسان کے اعمال کی جزا و سزا کا پہلا مقام قبر ہی ہے کہ جس میں وہ منکر نکیر کے سوالوں کے جواب دے کر اگلے مراحل سے گزرتا ہے۔زیر نظر کتاب میں کافر و مومن کی روح نکلنے سے لے کر قبر کے عذاب و عتاب کے تمام مراحل کو قرآن و حدیث سے واضح کردیا گیا ہے اور واعظانہ انداز میں انذرانہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کتاب میں برزخی احوال حدیثوں میں مذکور عبرتناک  واقعات و امثال سے مزین کر دیا گیا ہے۔ جنت کی امید اور جہنم سے بچنے کی تڑپ رکھنے والے ہرانسان کو  اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔(ک۔ط)
     

  • بیت الحمد تک عبد اللہ کے ساتھ میرا سفر

    (جمعہ 01 جون 2018ء) ناشر : نا معلوم

    اللہ رب العزت نے انسانیت کو پیدا کرنے کا مقصد بیان کیا ہے کہ وہ آزمائے کہ ان میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ اس لیے کوئی دنیا میں آ رہا ہے اور کوئی جا رہا ہے کیونکہ یہ فطری عمل ہے جسے بدلنے کی انسانی کوشش ناکام ونامراد ہے۔ اللہ رب العزت نے دنیا میں جو بھی نعمت دی ہے اس کے بارے میں کل قیامت کو سوال بھی کیا جانا ہے اور کبھی نعمت دینے کے بعد دنیا میں ہی واپس لے لی جاتی ہے جیسے کہ اولاد ہے لیکن اگر اولاد کے فوت ہو جانے کے بعد اس پر صبر کرنے اور اللہ کی تعریف کرنے  سے جنت میں ایک ایسا گھر بنا دیا جاتا ہے جسے بیت الحمد کا نام دیا جاتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی مصنف کے ان ایام کا تذکرہ ہے جس میں ان کا بیٹا بیمار تھا اور اس کے بعد اللہ سے جا ملا ان کی یہ کتاب مریض‘ اس کے گھر والے اور ساتھ رہنے والے‘ بیماری کا علاج کرنے والے‘ اپنے بیٹوں اور چہیتوں کی وفات کا غم برداشت کرنے والے‘ علاج کے لیے دوسرے ممالک کا سفر کرنے والے اور صحت مند وہ افراد جو اپنے پیاروں کی وفات کا غم اور اس کے احکام جاننا چاہتے ہیں کے لیے مفید ہے۔اس کتاب میں مرض‘ علاج اور وفات سے متعلقہ مفید معلومات دی گئی ہیں اور غافل حضرات کو آگاہ کرنے اور جاہل کو راستہ بتلانے اور عمل کرنے والے کے لیے ہمت کا سامان ہے۔ اس کتاب میں ماضی اور دور حاضر دونوں کی جھلک موجود ہے اور جدید فوائد اور اچھی حکمتوں کو جمع کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ بیت الحمد تک ‘‘ڈاکٹر عبد المحسن عبد اللہ الجار اللہ الخرافی  کی تصنیف کردہ ہے جس کا ترجمہ عبید اللہ مظفر الحسن نے کیا ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 9 #6090

    مصنف : ڈاکٹر عبید الرحمن محسن

    مشاہدات : 2331

    حسن خاتمہ

    (جمعرات 14 دسمبر 2017ء) ناشر : جامعہ کمالیہ راجووال

    اس زندگی میں ہر شخص اپنے فائدے کےلیے تگ و دو کرتا ہے، اپنے معاملات سنوارنے اور ذرائع معاش کے لیے کوشش کرتا ہے، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دین اور دنیا دونوں کو سنوارتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے دنیا میں خیر سے نوازا اور آخرت میں بھی ان کیلیے خیر و بھلائی ہے، نیز انہیں آگ کے عذاب سے بھی تحفظ دیا ۔جبکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو دنیا کیلیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں لیکن آخرت کو بھول جاتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو گل چھرّے اڑاتے ہیں اور ڈنگروں کی طرح کھاتے ہیں ، ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔موت اس دھرتی پر تمام مخلوقات کا آخری انجام ہے، اس دنیا میں ہر ذی روح چیز کی انتہا موت ہے، اللہ تعالی نے موت فرشتوں پر بھی لکھ دی ہے چاہے وہ جبریل، میکائیل، اور اسرافیل علیہم السلام ہی کیوں نہ ہوں، حتی کہ ملک الموت بھی موت کے منہ میں چلے جائیں گے اور تمام فرشتے لقمۂ اجل بن جائیں گے،موت دنیاوی زندگی کی انتہا اور اخروی زندگی کی ابتدا ہے،موت کے ساتھ ہی دنیاوی آسائشیں ختم ہو جاتی ہیں اور میت مرنے کے بعد یا تو عظیم نعمتیں دیکھتی ہے یا پھر درد ناک عذاب ۔ زیر تبصرہ ’’حسن خاتمہ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمٰن محسن صاحب کی ہے۔جس میں حسن خاتمہ کا معنی و مفہوم ، اہمیت اور حسن خاتمہ کے پانچ اسباب کو اجاگر کیا گیا ہے مزیداس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہو گا کہ زندگی کا حسین خاتمہ کیوں ضروری ہے؟ اس کا حصول کیسے ممکن ہے؟ حسن خاتمہ کی علامات کیا ہیں؟ اور ان تمام سوالوں کے جامع اور مختصر جوابات بھی دئیے گے ہیں ۔اس کتاب کے آخر میں حسن خاتمہ کے متعلق مسنون دعائیں ذکر کی گئی ہیں۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

  • 10 #4018

    مصنف : ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی

    مشاہدات : 2571

    دعوت قرآن کے نام پر قرآن و حدیث سے انحراف

    (منگل 02 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ السنۃ الدار السلفیۃ لنشر التراث الاسلامی، کراچی

    اس پر فتن دور میں ہر آئے دن بے شمار  نئے نئے فرقے اور گروہ مذہب کے نام پر سامنے آرہے ہیں۔اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے چند مخصوص اور شاذ نظریات وعقائد سنبھال رکھے ہیں۔جو شخص ان کے نظریات سے متفق ہو،اور ان کے تعاون کرتا ہو، ان کے نزدیک وہ مومن اور اہل ایمان میں سے ہے ،اور جو ان  کے عقائد ونظریات کا مخالف ہو  اس پر وہ بلا سوچے سمجھے شرائط وموانع کا خیال رکھے بغیر کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں اور اس فتوی بازی یا کسی مسلمان کی تکفیر میں ذرا خیال نہیں رکھتے کہ وہ کوئی محترم شخصیت اور مخلص مسلمان کی ذات بھی ہو سکتی ہے۔اسی طرز عمل کے گروہوں میں سے ایک کراچی کا معروف عثمانی گروہ  ہے ،جو اپنے آپ کو کیپٹن مسعود الدین عثمانی کی طرف منسوب کرتاہے۔اس گروہ نے بھی بعض ایسے منفر د اور شاذ عقائد ونظریات اختیار کر رکھے ہیں ،جو امت کے اجماعی اور اتفاقی مسائل کے مخالف ہیں۔ان مسائل میں سے ایک مسئلہ عذاب قبر  کا ہے۔ عثمانی گروہ قبر کے عذاب کا منکر ہے، حالانکہ قرآن وحدیث سے عذاب قبر ثابت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"دعوت قرآن کے نام پر قرآن وحدیث سے انحراف"محترم جناب ابو جابر عبد اللہ دامانوی صاحب کی تالیف ہے ،جس میں انہوں عثمانی گروہ کے انہی غلط اور بے بنیاد عقائد ونظریات کا رد کرتے ہوئے قرآن وحدیث سے عذاب قبر کا اثبات کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

< 1 2 3 4 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 931
  • اس ہفتے کے قارئین 10616
  • اس ماہ کے قارئین 49010
  • کل قارئین49377896

موضوعاتی فہرست