• #1402
    طالب ہاشمی

    1 تذکار صحابیات

    طالب الہاشمی صاحب ایک صاحب طرز ادیب ہیں انہوں نے اپنی ادبی صلاحیتوں کو اسلام کی برگزیدہ اوردرخشندہ ہستیوں یعنی صحابہ کرام اور صحابیات کی زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کرنے اورنامور فرمانرواؤں کے کارناموں کوحیات نو بخشنے کے لیے وقف کرد یا ہے۔ پیش نظر کتاب میں بھی جیسا کہ نام ظاہر ہے انہوں نے صحابیات کی پاکیزہ زندگی کوموضوع بحث بنایا ہے اور ڈھائی سو سے زائد صحابیات کے روشن کارناموں کو قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ صحابہ کرام اور صحابیات مطہرات سے جذبہ عقیدت مندی ہر صاحب ایمان کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ ان نفوس قدسیہ کے حالات زندگی سے زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کی جائے اس جذبے کی بہت حد تک تسکین زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے ہو جائے گی۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #3788
    عبد المجید عزیز الزندانی

    2 جادہ ایماں

    نام نہاد فکری  سور ماؤں نے انسانی زندگی کو مسائل اور پیچیدگیوں سے پاک اور امن وسکون کا گہوارہ بنانے کی جتنی کوششیں کی ہیں۔ان میں انہیں شکست فاش کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے مسائل کو سلجھانے کی جتنی تدبیریں کیں، ان تدبیروں نے مسائل کو نہ صرف مزید الجھا دیا بلکہ ان میں کئی گنا اضافہ بھی کر دیاہے۔اس ناکامی کا بدیہی سبب یہ ہے کہ یہ حضرات بالعموم اپنی کوششوں کی بنیاد اسی الحاد اور مادہ پرستی پر رکھتے ہیں جو سارے بگار کی اصل جڑ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کو موجودہ فکری بحران، سماجی انتشار اور اخلاقی پستی سے نجات دلانا مقصود ہے تو پھر سب سے پہلے اس کفر والحاد پر کاری ضرب لگانی ہو گی جس کی بنیاد پر موجودہ تہذیب کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔اسلام ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر عمل کرنے انسانیت اپنے مسائل حل کر سکتی  ہے، اور دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" جادہ ایماں " محترم جناب عبد المجید عزیز الزندانی صاحب کی عربی تصنیف"طریق الایمان" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت  محترم محمد عبد الحی فلاحی صاحب نے حاصل کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3655
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    3 الفقہ الاسلامی وادلتہ جلد سوم (حصہ ششم)

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3665
    حافظ عبد السلام بن محمد

    4 تفسیر القرآن الکریم (عبد السلام بن محمد) جلد۔4

    قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے   معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔اور مختلف ائمہ نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں۔ جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم بھی ہوچکے ہیں ۔اور ماضی قریب میں برصغیرِ پاک وہند کے   تمام مکتب فکر کےعلماء نے قرآن مجید کی اردو تفاسیر لکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ان میں علماء اہل حدیث کی بھی تفسیری خدمات نمایاں ہیں۔ زیر تبصرہ  ’’تفسیر القرآن الکریم ‘‘جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ،مرید کے ،شیخورہ کے شیخ الحدیث والتفسیر محترم جناب الشیخ حافظ عبد السلام بھٹوی ﷾ کی چار جلدوں پرمشتمل تفسیر ہے۔ اس تفسیر میں انہوں نے احادیث صحیحہ، آثار ِصحابہ اورمنہج سلف کی روشنی میں تفسیر بالماثور کاعمدہ نمونہ پیش کیاہےاور عام مفسرین کے برعکس انبیائے کرام اور سابقہ امتوں کےحالات وواقعات کی تفصیل بیان کرنے میں اسرائیلیات اور غیر مستند روایات سے مکمل اجتناب کیاہے۔ اوران کےحالات وواقعات کے بیان میں ثقاہت اورحقائق کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔اس کےعلاوہ انہوں نے قرآن کے مشکل اور تفصیل طلب اہم مقامات کی بڑی عمدہ اور مفید تشریح کی ہے جو متلاشیانِ حق وصداقت کےلیے متاعِ گمشدہ ہے۔ مزید برآں بعض مقامات پر قرآن کےمشکل الفاظ کےمعانی کی لغوی او رنحوی وضاحت بھی کی ہے۔مذکورہ بالا نمایاں اورامتیازی خصوصیات کی حامل یہ تفسیر حافظ صاحب کی 45 سال سے زائد عرصہ پر محیط تعلیمی خدمات ،تدریسی تجربے اور دقیق مطالعہ کا خلاصہ ہے۔ اس تفسیر کی نمایاں اور قابلِ ذکر خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں ترجمۂ قرآن بھی محترم حافظ صاحب ہی کا ہے۔ جو لفظی اور بامحاورہ ترجمے کا حسین امتراج ہے جس میں انہوں نے عام فہم اسلوبِ نگارش اختیار کرتے ہوئےالفاظ کے معانی کےلیے اختصار اور جامعیت کو پیش ِنظررکھا ہے۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت بخشے اور اسے قارئین کے لیے اصلاحِ عقائد،ترغیب اعمال صالحہ، تزکیۂ نفس اور تطہیر قلوب واذہان کا ذریعہ بنائے۔ آمین (م۔ا)

  • #3536
    حافظ صلاح الدین یوسف

    5 زکوٰۃ، عشر اور صدقۃ الفطر (فضائل، احکام و مسائل)

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ زکٰوۃ، عشر اور صدقۃ الفطر فضائل واحکام ‘‘ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے زکاۃ کے تمام ضروری مسائل کی وضاحت قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کرنےکی کوشش کی ہے ۔ کیونکہ اس تعبدی حیثیت کا تقاضا ہے کہ اس کی ادائیگی میں اللہ ورسول کے احکام وہدایات کوملحوظ رکھا جائے۔ تو دوسری طرف اس کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیاگیا ہے جن کےذریعے سےزکوٰۃ کے معاشی ومعاشرتی فوائد سامنے آسکیں او رمعاشرے کے ضرورت مند افراد کی فلاح وبہود کےلیےاس زیاد ہ سے زیادہ کام لیاجا سکے ۔اس کےعلاوہ اس کتاب میں ان تمام پہلوؤں کو بھی اجاگر کیاگیا ہے جو علماء کےلیے بھی قابل غور وفکر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

  • #3300
    حافظ زبیر علی زئی

    6 تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ"جماعت اہل حدیث کے نامور محقق اور معروف عالم دین محترم حافظ زبیر علی زئی صاحب  ﷫کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے ساتھ گیارہ رکعات  تراویح مع وتر کو ثابت کیا ہے،اور بعض لوگوں کی طرف سے پیدا کئے گئے مغالطات کا دلائل کے ساتھ رد کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3199
    ابن قیم الجوزیہ

    7 کتاب الصلوٰۃ ( ابن قیم)

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" کتاب الصلوۃ " تاریخ اسلامی کے معروف عالم دین محقق امام ابن قیم الجوزی﷫ کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ اور حواشی وتخریج کا کام محترم مولانا عبد الرشید حنیف صاحب نےکیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے بے نماز کے انجام اور عقاب کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

  • #3117
    عبد الخالق محمد صادق

    8 آداب الدعاء والد واء

    دعاء  کا مؤمن کاہتھیار ہے  جس طرح  ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے  دشمن  سےاپنادفاع کرتا ہے  اسی طرح مؤمن کوجب  کسی پریشانی  مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے  تووہ  فوراً اللہ  کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے  دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے  کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس  دنیا کی  زندگی  میں  جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے  وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے  بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی  کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالی  ہے  ان بیماریوں کے لیے  جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے   دعائیں بھی  بڑی مؤثر ہیں۔بہت سارے  اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی  کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے  فائدہ  اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔اللہ کے دربار میں اپنی معروضات پیش کرتے وقت دربار عالیشان کے آداب کو  ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ زیرنظر کتاب ’’آداب  الدعا ءوالدواء‘‘جناب عبد الخالق محمد  صادق صاحب   نے اسی غرض سے مرتب کیا  ہے تاکہ  ہم  دعا کرنے کےوہ آداب وطریقے جو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں  وہ  معلوم کر سکیں اور ان کے مطابق اللہ کی بارگاہ میں اپنی درخواستیں پیش  کریں۔صاحب کتاب نے صحاح وحسان  احادیث ہی درج   کی ہیں اور حتی  لمقدور کوشش کی ہے کہ کوئی ساقط عن الاعتبار روایت نقل نہ کی جائے  اور اس سلسلے میں عصر حاضر کے محققین محدثین کرام کی تصحیح وتحسین پراعتماد کیا ہے۔محقق العصر  مولانا ارشاد الحق  اثری ﷾  کی نظرثانی  سےاس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اور اپنےبندوں کو اس سے استفادہ کی توفیق بخشے۔ (آمین) (م۔ا)

  • #3030
    ارشد محمود

    9 بچوں کے اسلامی نام

    اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو چیز بھی پیدا کی ہے  خواہ وہ انسان ہو جاندار، بے جان ۔غرض ہر چیز کی پہچان اس  کے نام سے ہوتی ہے ۔ اور نام انسان کی شناخت کاسب سے اہم ذریعہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے  حضرت آدم  کو بھی سب سے پہلے ناموں کی تعلیم دی تھی جب  بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مرحلہ نام رکھنے کا ہوتاہے خاندان کا بڑا بزرگ یا خاندان کے افراد مل کر بچے کا پسندیدہ نام رکھتے ہیں۔  اور  بعض لوگ اپنے بچوں کے نام رکھتے  وقت  الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور اکثر سنے سنائے ایسے نام رکھ دیتے ہیں   جو سراسر شر ک پر مبنی ہوتے ہیں۔ اور  نام رکھنےوالوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ  جو  نام رکھا اس کامطب معانی کیا  ہے اور یہ  کس زبان سے  ہے   حالانکہ اولاد کے اچھے اچھے نام ر کھنے کی شریعت میں بہت تاکید کی گئی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : َلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (سورہ  الحجرات:11) زیر نظر کتاب’’بچوں کے اسلامی نام ‘‘ محترم ارشد محمود صاحب  کی مرتب شدہ  ہے ۔  جس میں انہوں نے  زیادہ  سے زیادہ اسلامی نام  جمع  کرنے کی کوشش کی ہے اور  ان کے  معانی  بھی لکھ  دئیے ہیں  اور ہر نام کے معانی بتانے  کےساتھ ساتھ  ہر نام کے آگے  مختلف حروف تہجی مثلاً ا،ع،ہا،ف وغیرہ  سے یہ بھی  واضح کردیا ہے کہ یہ  نام کس زبان سے   ہے۔اس  کتاب کے مطالعے سے  مسلمان بھائی نام  رکھتے  وقت اس کا معانی اور مطلب  پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔اس سلسلے میں  دارالسلام کی مطبوعہ کتاب ’’ناموں کی ڈکشنری ،اور  مولانا محمد فاروق رفیع﷾  کی نومولود کے احکام ومسائل اور اسلامی نام  بھی  قابل مطالعہ ہیں۔یہ دونوں کتابیں بھی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ اللہ  تعالیٰ ان کتب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

  • #2965
    سیموئل سٹرینڈ برگ

    10 ٹیپو سلطان (شیرِ میسور)

    ٹیپوسلطان برصغیرِ کا وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہے جس نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت ِفکر، آزادی وطن اور دینِ اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی، ٹیپوسلطان نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا۔ ٹیپوسلطان 1750 میں بنگلور کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوا ۔ٹیپوسلطان کا نام جنوبی ہندوستان کے ایک مشہور بزرگ حضرت ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا، ٹیپوسلطان کے آباؤ اجداد کا تعلق مکہ معظمہ کے ایک معزز قبیلے قریش سے تھا جو کہ ٹیپوسلطان کی پیدائش سے اندازاً ایک صدی قبل ہجرت کرکے ہندوستان میں براستہ پنجاب، دہلی آکر آباد ہوگیا تھا۔ٹیپوسلطان کے والد نواب حیدر علی بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے حامل شخص تھے جو ذاتی لیاقت کے بے مثال جواں مردی اور ماہرانہ حکمت عملی کے سبب ایک ادنیٰ افسر ’’نائیک‘‘ سے ترقی کرتے ہوئے ڈنڈیگل کے گورنر بنے اور بعد ازاں میسور کی سلطنت کے سلطان بن کر متعدد جنگی معرکوں کے بعد خود مختار بنے اور یوں 1762 میں باقاعدہ ’’سلطنت خداداد میسور‘‘ (موجودہ کرناٹک) قائم کی۔ 20 سال تک بے مثال حکمرانی کے بعد نواب حیدر علی 1782 میں انتقال کرگئے اور یوں حیدر علی کے ہونہار جواں سال اور باہمت فرزند ٹیپوسلطان نے 1783 میں ریاست کا نظم و نسق سنبھالا۔دنیا کے نقشے میں ہندوستان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور ہندوستان میں ریاست میسور ایک نقطے کے مساوی ہے اور اس نقطے برابر ریاست میں سولہ سال کی حکمرانی یا بادشاہت اس وسیع وعریض لامتناہی کائنات میں کوئی حیثیت و اہمیت نہیں رکھتی، مگر اسی چھوٹی اور کم عمر ریاست کے حکمران ٹیپوسلطان نے اپنے جذبے اور جرأت سے ایسی تاریخ رقم کی جو تاقیامت سنہری حروف کی طرح تابندہ و پایندہ رہے گی۔ ٹیپو کا یہ مختصر دور حکومت جنگ و جدل، انتظام و انصرام اور متعدد اصلاحی و تعمیری امور کی نذر ہوگیا لیکن اس کے باوجود جو وقت اور مہلت اسے ملی اس سے ٹیپو نے خوب خوب استفادہ کیا۔ٹیپوسلطان کو ورثے میں جنگیں، سازشیں، مسائل، داخلی دباؤ اور انگریزوں کا بے جا جبر و سلوک ملا تھا، جسے اس نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور اعلیٰ حوصلے سے قلیل عرصے میں نمٹالیا، اس نے امور سیاست و ریاست میں مختلف النوع تعمیری اور مثبت اصلاحات نافذ کیں۔ صنعتی، تعمیراتی، معاشرتی، زرعی، سماجی اور سیاسی شعبوں میں اپنی ریاست کو خودکفیل بنادیا۔ فوجی انتظام و استحکام پر اس نے بھرپور توجہ دی۔ فوج کو منظم کیا، نئے فوجی قوانین اور ضابطے رائج کیے، اسلحہ سازی کے کارخانے قائم کیے، جن میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے تحت اسلحہ اور پہلی بار راکٹ بھی تیار کیے گئے۔اور اس نے بحریہ کے قیام اور اس کے فروغ پر زور دیا، نئے بحری اڈے قائم کیے، بحری چوکیاں بنائیں، بحری جہازوں کی تیاری کے مراکز قائم کیے، فرانسیسیوں کی مدد سے اپنی فوج کو جدید خطوط پر آراستہ کیا، سمندری راستے سے تجارت کو فروغ بھی اس کے عہد میں ملا۔ ٹیپوسلطان جانتا تھا کہ بیرونی دنیا سے رابطہ ازبس ضروری ہے اسی لیے اس نے فرانس کے نپولین بوناپارٹ کے علاوہ عرب ممالک، مسقط، افغانستان، ایران اور ترکی وغیرہ سے رابطہ قائم کیا۔ٹیپو نے امن و امان کی برقراری، قانون کی بالادستی اور احترام کا نظام نہ صرف روشناس کرایا بلکہ سختی سے اس پرعملدرآمد بھی کروایا، جس سے رعایا کو چین و سکون اور ریاست کے استحکام میں مدد ملی۔ٹیپوسلطان کا یہ قول کہ ’’گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے‘‘ غیرت مند اور حمیت پسندوں کے لیے قیامت تک مشعل راہ بنا رہے گا۔ٹیپو سلطان اوائل عمر سے بہادر، حوصلہ مند اور جنگجویانہ صلاحیتوں کا حامل بہترین شہ سوار اور شمشیر زن تھا۔ علمی، ادبی صلاحیت، مذہب سے لگاؤ، ذہانت، حکمت عملی اور دور اندیشی کی خصوصیات نے اس کی شخصیت میں چار چاند لگادیے تھے، وہ ایک نیک، سچا، مخلص اور مہربان طبیعت ایسا مسلمان بادشاہ تھا جو محلوں اور ایوانوں کے بجائے رزم گاہ میں زیادہ نظر آتا تھا۔ وہ عالموں، شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کی قدر ومنزلت کرتا تھا، مطالعے اور اچھی کتابوں کا شوقین تھا، اس کی ذاتی لائبریری میں لا تعداد نایاب کتابیں موجود تھیں، ٹیپوسلطان وہ پہلا مسلمان حکمران ہے جس نے اردو زبان کو باقاعدہ فروغ دیا اور دنیا کا سب سے پہلا اور فوجی اخبار جاری کیا تھا۔اس کے عہد میں اہم موضوعات پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ زیر نظرکتاب ’’ ٹیپو سلطان (شیر میسور)‘‘ ایک انگریز مصنف سیموئیل سٹرینڈبرگ کی تصنیف ہے ۔جسے انگریزی سے اردو زبان میں محمد زاہد ملک نے ڈھالا ہے ۔اس کتاب میں ہندوستانی شہزادے ٹیپوسلطان کے تذکرہ پیش کیا گیا ہے۔ جس نے انگریزوں کے خلاف گراں قدر مزاحمت سرانجام دی۔ اس کی شدید مزاحمت سے انگریز بوکھلا گئے تھے ۔اللہ تعالیٰ موجود ہ حکمرانوں میں ٹیپو سلطان جیسی بہادر ی او رجذبۂ جہاد   پیدا فرمائے ۔آمین( م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39777023

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں