الفلاح پبلیکیشنز لاہور

الفلاح پبلیکیشنز لاہور
لاہور
8 کل کتب
دکھائیں

  • 1 شمائل محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم (اتوار 13 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2269

    دینِ اسلام کاابلاغ او راس کی نشر واشاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہذا اس انعام الٰہی کی وجہ سےایک عام مسلمان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اصلاحِ انسانیت کےلیے  اللہ تعالیٰ نےامت مسلمہ کو ہی منتخب فرمایا ۔اور ہر دور میں مسلمانوں نےاپنی ذمہ داریوں کومحسوس کیا اور دین کی نشر واشاعت میں گرانقدر  خدمات انجام دیں۔دور  حاضر میں  ہر محاذ پر ملت  کفر  مسلمانوں پر حملہ آور ہے  او راسلام اور مسلمانوں  کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئےہیں او ر  آئے دن نعوذ باللہ  پیغمبر اسلام کی ذات  کوہدف تنقید کا نشانہ بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کے  ذریعے  اس کی  خوب تشہیر کی جاتی ہے۔  تو یقینا ایسی صورت حال میں  رحمت کائناتﷺ کےاخلاقِ عالیہ اور آپﷺ کےپاکیزہ کردار اور سیرت کے روشن ،چمکتے اور دمکتے  واقعات کو دنیا میں عام  کرنے کی شدید ضرورت ہے  تاکہ  اسے پڑھ کر  امت مسلمہ اپنے پیارے  نبیﷺ کے خلاق  حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے  آگا ہ ہوسکے  اور آپ کی سیرت وکردارکوروشنی میں اپنی آنے والی نسل کی تربیت کر سکے ۔زیر نظر کتاب’’شمائل محمدیہ‘‘ سعودی عرب کے  معروف عالم  شیخ محمدبن جمیل زینو﷾ کی تصنیف کاترجمہ ہے ۔جس  میں نبی کریم ﷺ کی سیرت وکردار کوبہت ہی خوبصورت اسلوب میں مرتب کیاگیا ہے اوررسول اللہﷺ کی زندگی کاتقریبا ہر پہلو  موضوع بحث بنایاگیا۔ترجمہ کی سعادت  معروف عالم دین مترجم ومصنف کتب کثیر...

  • 2 اللٰہم (اتوار 10 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2625

    اللہ رب العزت نے  روح کو  انسان  کے جسم  کا حصہ بنایا ہے  ۔انسان اپنے جسم کی  غذا کا بندوبست  کرنے کے لیے  صبح وشام سرگرداں رہتا ہے  لیکن اپنی روح کی غذا کی کوئی فکر نہیں کرتا درحقیقت اگر جسم کو غذا نہ ملے  یا ناقص غذا ملے تو جسم بیمار ہوجاتاہے اور اس کے علاج معالجے  کے لیے  دنیا میں ڈاکٹر اور حکیم موجود ہیں ۔بالکل اسی طرح  اگر روح کو غذا نہ  ملے یا ناقص  ملے تو یہ بھی بیمار ہوجاتی  ہے اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو دنیا بھی برباد ہوجاتی ہے او ر آخرت بھی۔ اور روح کی غذا اور اس کا علاج صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکرنا ہے اسی عظیم بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب او ر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ  بیان کرتی ہیں:«كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ» کہ رسول اللہ ﷺ ہروقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیاکرتے تھے ۔اذکار نبوی ﷺ کے  حوالے  سے کئی کتب  موجود ہیں  ۔زیر نظر کتاب’’اللهم ‘‘  محترم  مولانا محمد اکرم محمدی ﷾ (مدیر  الفلاح  پبلی کیشنز ،لاہور) کی  مرتب شدہ ہےجس  میں  فاضل مرتب نے  رسول اللہ ﷺ کے شب وروز کے اذکار ووظائف  کو  صحیح اسناد کے  ساتھ جمع کرنے  کے ساتھ ساتھ ہر دعا  کاپس منظر اور پیش منظر بھی نقل کیا ہے  تاکہ قا...

  • 3 فوٹو گرافی کا جواز (بدھ 08 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2121

    عصر حاضر کے جدید مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ فوٹو گرافی یا عکسی تصاویر کا بھی ہے، جسے عربی زبان میں صورۃ شمسیہ  کہا جاتا ہے، جو دور حاضر میں انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔آج کوئی بھی شخص جو فوٹو گرافی کو جائز سمجھتا ہو یا ناجائز سمجھتا ہو ،بہر حال اپنی معاشی ،معاشرتی اور سماجی تقاضوں کے باعث فوٹو بنوانے پر مجبور ہے۔اس مسئلہ میں اگر افراد کے اذہان ورجحانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دو متضاد انتہاؤں پر پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر قسم کی تصاویر ،عکسی تصاویر اور مجسموں کو سجاوٹ اور (مذہبی اور غیر مذہبی)جذباتی وابستگی کے ساتھ رکھنے اور آویزاں کرنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔ان میں عام طور پر وہ لوگ شامل ہیں جن کا دین سے کوئی بھی تعلق برائے نام ہی ہے۔جبکہ دوسری انتہاء پر وہ لوگ پائے جاتے ہیں ،جو ہر قسم کی تصاویرخواہ وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا مشین اور کیمرے کے ذریعے سے،انہیں مطلقا حرام سمجھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ ،کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا فارم اور بعض دیگر امور کے لئے بھی عکسی تصاویر بنواتے اور رکھتے ہیں۔ زیر تبصرہ مضمون " فوٹو گرافی کا جواز "مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی راہنما محترم رانا محمد شفیق خان پسروری صاحب  کی کاوش ہے جس میں انہوں تصویر سازی سے متعلق ایک شاندار بحث کی ہے  اور اس موضوع کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ان کے مطابق بعض تصاویر حرام ،بعض مکروہ اور بعض مباح یعنی جائز ہیں ۔اور پھر ہر قسم پر قرآن وحدیث سے...

  • 4 سواد اعظم اور اہل حدیث (منگل 08 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1868

    1977ء کی تحریک نفاذ اسلام ایک قومی تحریک  تھی جس میں تمام مکاتب فکر  کے افراد نے حصہ لیا تھا ور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کےلیے قربانیاں دی تھیں۔مگر نوارانی میاں اور ا ن کے ساتھیوں نے   اُس  وقت اس تحریک سے علیحدگی  اختیار کر کے  اور  سواد اعظم کانعرہ لگا کر ملک میں فرقہ واریت  کو ہوادی اور قومی یکجہتی  کو پارہ پارہ کردیا۔اس تحریک کی کامیابی کے فوراً بعد  نورانی میاں اور ان کے ساتھیوں  نے قومی اتحاد کوچھوڑ کر ’’سواداعظم ‘‘ ہونے کا اعلان کیا اور جلسوں، جلوسوں اوراخبارات میں ایک طوفان بیان بازی برپا کردیا کہ ہم سواد اعظم  ہیں اور پاکستان  میں سواد اعظم  کی مرضی نافذ ہوگئی۔تو اس وقت جناب رانا شفیق خاں پسروری﷾  نے سواد اعظم کے حقیقی مفہوم کو واضح کرنے کے لیے  ایک مفصل مضمون لکھا تھا جو مختلف جرائد ورسائل میں شائع  ہوا اورقارئین نے   اسے  بڑا پسند کیا۔ کتابچہ ہذا’’ سواد اعظم اوراہل حدیث‘‘ اسی مضمون کی  کتابی صورت  ہے۔(م۔ا)

  • 5 مضامین شفیق پسروری (جمعرات 31 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1487

    رانا شفیق خاں پسروری﷾(فاضل جامعہ ستاریہ  اسلامیہ ،کراچی )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ممتاز عالم دین، معروف خطیب ، منجھے ہوئے تاریخ  دان او رایک بے مثال مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔کئی سال سے   مسلسل لاہورکی سب سے قدیمی مسجد  چینیانوالی رنگ محل   میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہیں ۔اسی مسجد میں کبھی  سید داؤد غزنوی ﷫اورشہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدجمعۃ المبارک کےخطبات میں علم کے موتی بکھیرا کرتے تھے ۔راناصاحب خطابت کےساتھ ساتھ علمی رسائل وجرائد اور اخبارات میں مضامین بھی لکھتے رہے ہیں اور کئی سال  سے مستقل روزنامہ پاکستان کے کالم نگار ہیں ۔روزنامہ پاکستان میں ’’آج کی ترایح میں پڑھے جانے والے قرآن پاک کی تفہیم ‘‘ کے نام سے تراویح میں پڑھےجانے والےپارہ کا خلاصہ بھی شائع ہوتا رہا ہے ۔ زیرتبصرہ   کتاب   جناب رانا شفیق خان پسروری ﷾کے ان مضامین کی کتابی صورت ہے جو انہوں نے پاکستان کے مختلف موقر ہفت روزہ وپندرہ روزہ رسائل وجرائد اورماہناموں کے ساتھ ساتھ روزناموں میں مختلف اوقات میں مختلف عنوانات کے تحت لکھے ہیں۔رانا صاحب کے یہ تمام مضامین بہترین اسلوب، اصلاحی انداز میں موثر کن اور ایک بہت بڑا دبی وعلمی خزانہ ہے۔جن میں سے بعض مضامین پر تو رانا صاحب داد وتحسین کے ساتھ ساتھ انعامات بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ان مضامین کی اہمیت وافادیت کے   پیش نظر  جناب احمد ساقی چھتوی صاحب نے ان کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 6 ایمان کے درجات اور شاخیں (ہفتہ 21 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2015

    اس دنیا میں سب سے قیمتی دولت ایمان ہے ۔ اس کی حفاظت کے لیے ہجرت تک کو مشروع قرار دیا گیا ہے ۔ یعنی اگر گھر بار ، جائیداد ، رشتہ داری ، دوست واحباب، کاروبار، بیوی ، بچے سب کچھ چھوڑنا پڑے تو چھوڑدیا جائے مگر ایمان کو نہ چھوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔اور جس طرح قرآن مجید پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح حدیث رسول ﷺ پر بھی ایمان لانا فرض ہے کیونکہ حدیث رسول ﷺ کے بغیر ہم قرآن کو بھی کما حقہ نہیں سمجھ سکتے۔ اور اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مومن کا ایمان کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ خود صحابہ کا بیان ہے کہ جب ہم رسول اکرم ﷺ کی مبارک محفل میں ہوتے تو ایمان میں اضافہ ہوتا جبکہ بیوی بچوں کے درمیان وہ کیفیت نہ ہوتی ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ایمان کے درجات او رشاخیں‘‘ نوجوان عالم دین مولانا ابو عکاشہ عبداللطیف حلیم کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے لفظ ایمان کی تفصیل اور تشریح حدیث رسول ﷺ کی روشنی میں کی ہے اور ایمان کے تمام شعبہ جات کو بڑے اختصار اورانتہائی جامع انداز میں نہایت احسن انداز میں بیان کرتے ہوئے ایک قاری پر رموز اور عقد کو کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔اورایمان پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے بھی بڑے مدلل اور مسکت جوابات دیے ہیں ۔فاضل مؤلف کی یہ کاوش انتہائی قابل تحسین ہے ۔اللہ تعال...

  • 7 پہلی وحی کا پیغام (منگل 25 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1551

    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی اور جو خواب دیکھتے وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتا پھر آپ نے گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کی۔ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے توشہ لے کر غار میں چلے جاتے اور کئی کئی راتیں وہی عبادت میں گذاراکرتے پھر آتے اور توشہ لے کر چلے جاتے یہاں تک کہ ایک مرتبہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل آمین کے ذریعے آپ پر وحی کا نزول ہوا۔پہلی وحی میں سورۂ علق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئی تھیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پہلی وحی کا پیغام ‘‘محترم جناب مولانا عبداللطیف حلیم ﷾کی پہلی تحریر ی کاوش ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک منفرد انداز میں پہلی وحی میں ناز ل ہونےوالی آیات کی تشریح وتوضیح کو آسان فہم انداز میں بیان کرتےہوئے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی توحید کا اثبات کیا اور شرک کی تردید کی ہے ۔(م۔ا)

  • 8 کالمیات شفیق پسروری (جمعرات 07 مارچ 2019ء)

    مشاہدات:631

    رانا شفیق خاں پسروری﷾(فاضل جامعہ ستاریہ  اسلامیہ ،کراچی )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ممتاز عالم دین، معروف خطیب ، منجھے ہوئے تاریخ  دان او رایک بے مثال مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔کئی سال سے   مسلسل لاہورکی سب سے قدیمی مسجد  چینیانوالی رنگ محل   میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہیں ۔اسی مسجد میں کبھی  سید داؤد غزنوی ﷫اورشہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدجمعۃ المبارک کےخطبات میں علم کے موتی بکھیرا کرتے تھے ۔راناصاحب خطابت کےساتھ ساتھ علمی رسائل وجرائد اور اخبارات میں مضامین بھی لکھتے رہے ہیں اور کئی سال  سے مستقل روزنامہ پاکستان کے کالم نگار ہیں ۔روزنامہ پاکستان میں ’’آج کی ترایح میں پڑھے جانے والے قرآن پاک کی تفہیم ‘‘ کے نام سے تراویح میں پڑھےجانے والےپارہ کا خلاصہ بھی شائع ہوتا رہا ہے ۔زیرتبصرہ   کتاب ’’ کالمیات شفیق پسروری ‘‘  جناب رانا شفیق خان پسروری ﷾کے ان کالموں کا مجموعہ ہے  جو انہوں نے  مختلف اوقات میں مختلف رسائل وجرائد میں مختلف واقعات ، مختلف بیانات اور مختلف موضوعات پر لکھے۔رانا صاحب کےاس  مجموعہ میں  شامل  اکثر  کالم 1987ء-1986ء کے تحریر کردہ ہیں اور  ان میں کئی کالم ایسے  بھی جن پر شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ نے  پسروری صاحب کو انعام سے نوازا تھا  اللہ تعالیٰ رانا صاحب کی جہود کو قبول فرمائے ۔  رانا صاحب کے ان کالموں کو  ج...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1939
  • اس ہفتے کے قارئین: 8470
  • اس ماہ کے قارئین: 27763
  • کل قارئین : 47747761

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں