• #6734
    یاسر جواد

    1 سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ماخوذ تاریخ طبری ، تاریخ ابن کثیر ( یاسر جواد )

    ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات  کا موضوع  گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے  شاعرِ اسلام  سیدنا حسان بن ثابت   سے لے کر آج تک پوری اسلامی  تاریخ  میں  آپ ﷺ کی سیرت  طیبہ کے جملہ گوشوں پر  مسلسل کہااور  لکھا گیا ہے اورمستقبل میں لکھا  جاتا  رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے  کہ اس  پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے  گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں  میں اس  ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔دنیا کی کئی  زبانوں میں  بالخصوص عربی اردو میں   بے شمار سیرت نگار وں نے   سیرت النبی ﷺ  پر کتب تالیف کی ہیں۔  اردو زبان میں  سرت النبی از شبلی نعمانی ،  رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور  مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول   آنے والی کتاب   الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری  کو  بہت قبول عام حاصل ہوا۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے   ہیں۔اور پورے عالمِ اسلام  میں  سیرت  النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی  کیا  جاتاہے   جس میں  مختلف اہل علم  اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ  کتاب’’ سیرۃ النبیﷺ ماخوذ  تاریخ طبری ،  تاریخ ابن کثیر‘‘یاسر جواد کی مرتب شدہ ہے انہوں نے   تایخ کی مستند کتب     تاریخ طبری از علامہ ابن جریر طبری ،البدایہ والنہایۃ(تاریخ ابن کثیر) از علامہ ابن کثیر،تاریخ ابن خلدون  از علامہ ابن خلدون  سے  سرت النبی  ﷺ سے متعلقہ  مواد کو   اخذ کر کے  اس  کتاب میں  یکجا کردیا ہے۔مذکورہ   تینوں تاریخوں کے  مکمل اردو تراجم بھی الحمد للہ سا ئٹ پر پبلش کیے جاچکے ہیں۔(م۔ا) 

  • #6476
    ڈاکٹر سلیم اختر

    2 ہماری جنسی اور جذباتی زندگی

    آج کا انسان جس ماحول میں سانس لے رہا ہے اس نے اس کی شخصیت کو لخت لخت کر کے ایسے اعصابی تناؤ میں مبتلا کیا کہ انسان خود اپنا آسیب بن کر رہ گیا جس کے نتیجے میں جب اس کا اپنی ذات پر سے ایمان اٹھ گیا تو دوسروں سے ابلاغ ختم ہو گیا۔ یوں لوگ پرچھائیوں میں تبدیل ہو گئے اور دیا سایوں کی بستی بن گئی۔چنانچہ آج کا انسان اپنے سایہ کو بھی دوسروں کا سایہ سمجھتے ہوئے اس سے لرزاں ہے۔ابن العربی نے جہنم کو ایک سرد جگہ قرار دیا تھا۔ جہاں ہر آنے والا اپنی آگ خود ساتھ لاتا ہے اس کے برعکس سارتر کے خیال میں جہنم دوسرے لوگ ہیں جبکہ فرائڈ کے خیال میں جہنم جنس ہے جس کی آگ میں انسان صدا جلتا رہتا ہے۔ یہ تین نظریات اس جبر کے غماز ہیں جس سے کسی نہ کسی طور سے انسان کو عہدہ بر آ ہونا پڑتا ہے۔ اور جدید انسان کا المیہ یہ ہے کہ اسے تینوں جہنموں کی آگ میں جلنا پڑ رہا ہے اور اسی لیے ذہنی عوارض میں مبتلا مریضوں اور خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی حوالے سے ہے جس میں تفصیل سے اسی موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ کتاب طویل اور مختصر مضامین کا مجموعہ ہے‘ ان کے موضوعات میں تنوع ہے اور جن ذہنی مسائل سے بحث کی گئی ہے وہ ذہنی زندگی کے بیشتر امور اور شخصیت کے بہت سے مستور گوشوں پر سے پردے اٹھاتے ہیں۔ ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ہماری جنسی اور جذباتی زندگی ‘‘ ڈاکٹر سلیم اختر  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • #5055
    حافظ محمد یونس اثری

    3 ماہ شوال کے 6 روزے، فضائل، مسائل اور شبہات کا ازالہ

    رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہیں، اورمسلمان کے لیے مشروع ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے جس میں فضل عظیم اوربہت بڑا اجر و ثواب ہے، کیونکہ جو شخص بھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ روزے بھی رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا اجروثواب لکھا جاتا ہے۔ سیدنا ابوایوب انصاری﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا: جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں۔ ( صحیح مسلم) لیکن عصر حاصر کے بعض روشن خیال مجتہدین ماہ شوال کے چھ روزوں کو مکرو ہ کہتے ہیں نیز امام مالک﷫  اور امام ابو حنفیہ﷫  سے بھی ان کی کراہت  منقو ل  ہے لیکن متا خرین نے ان سے اتفاق  نہیں کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ماہ شوال کے چھ روزے فضائل ومسائل اور شبہات کا ازالہ‘‘ المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر، کے ریسرچ سکالر اور المعہد السلفی ،کراچی کے مدرس محترم جناب مولانا حافظ محمد یونس اثری﷾ کی کاوش ہے۔ یہ کتابچہ در اصل کراچی کے ایک عالم دین مفتی زرو لی صاحب کے ایک کتابچہ’’ احسن المقال فی کراہیۃ صیام ستۃ شوال‘‘ کے تعاقب میں محدث العصر حافظ زبیر علی﷫ کی طرف سے تحریر کے گئے ایک مضمون ’’صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال‘‘ کا تکملہ ہے۔ اس مضمون میں حافظ زبیر علی﷫ نے مفتی زر ولی کے وہ اعتراضات جو اس نے شوال کے روزوں کی فضیلت سے متعلق اٹھائے تھے ان کا مدلل ومسکت جواب دیا تھا جسے اہل علم نے خوب سراہا اور اسے علماء و طلباء میں یکساں پذیرائی ملی۔بعد ازاں حافظ یونس اثری ﷾ نے حافظ زبیر علی زئی﷫ کے مضمون پر تکملہ کی صورت میں مفتی زرلی ولی کے رسالہ پر ایک اور تعاقب کیا ہے اور مزید دلائل سے مسئلہ مذکورہ کی حقانیت ثابت کرتے ہوئے ان اعتراضات کے جوابات بھی قلمبند کردیئے ہیں جنہیں شیخ زبیر علی زئی نے طوالت کی بنار پر یا غیر اہم سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیا تھا۔ الغرض اس رسالہ میں مولانا زبیر علی زئی﷫ اورمولانا حافظ محمد یونس اثری﷾ نے شوال کے چھ روزں کے متعلق مفتی زرولی صاحب کے ان تمام شکوک وشبہات کا ازالہ فرمادیا ہے جو مفتی موصوف اور ان کے ہم خیال حضرات نے تجاہل عارفانہ کے طور پر پیدا کیے تھے یا محض اپنے امام کے فتویٰ کے تحفظ میں وارد کیے تھے۔ اللہ تعالیٰ دفاع حدیث کے سلسلے میں مولانا حافظ محمد یونس اثری﷾ کی اس علمی وتحقیقی کاوش کو قبول فرمائے اور اس کے ذریعے راہ حق کو قبول کرنے کی اپنے بندوں کو توفیق بخشے۔ (آمین) (م۔ا)

  • #3907
    سید داؤد غزنوی

    4 اسوۂ حسین

    سیدنا حسین ﷜ کی شہادت کا واقعہ جو شریعت محمدیہ کی بے شمار بصیرتیں اپنے اندر پنہاں رکھتا تھا، افسوس کہ وہ بھی افراط وتفریط کی دست درازیوں سے محفوظ نہ رہ سکا۔ماتمی مجالس کی چیخ وپکار اور ماتمیوں کی سینہ کوبی کے شور میں اس کی صدائے عبرت انگیز گم ہو گئی۔آہ !اشکبار آنکھوں کے آنسوؤں کے سیلاب میں اس کا سارا سامان عبرت وبصیرت بہہ گیا ۔افسوس اس کی ساری عظمت وبزرگی تعزیوں کے ساتھ ہی زمین میں دفن کر دی گئی۔آہ! دوست اور دشمن دونوں نے اس کے ساتھ بے انصافی کی۔دشمن نے اس واقعہ شہادت پر خوشیاں منائیں اور اس کی عظمت کو اپنے جور واستبداد کے زور سے متانے کی کوشش کی۔لیکن دوست نے بھی اس کے حقیقی شرف سے غفلت برتی اور مختلف بدعات اور شرکیہ رسوم کے تاریک پروں مین اس کو چھپا دیا۔پس آئیے !دنیا کی مجالس ماتم میں ایک نئے حلقہ ماتم کا اضافہ کریں، اور واقعہ شہادت کو اسرار شریعت کا سرچشمہ بنائیں۔اور ایک ایسی مجلس منعقد کریں جو سینہ کوبی اور ماتمی بین کی چیخ وپکار کی بجائے صبر واستقامت، عزیمت وبرداشت، ایثار وقربانی، جان نثاری وفدائیت، اور شہادت وفنا فی سبیل الحریت کا درس دے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسوہ حسین﷜"جماعت اہل پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا سید محمد داود غزنوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے سیدنا حسین﷜ کی شہادت کو ایک منفرد انداز میں نمونے کے طور پر بیان کیا ہے اور ہمیں اس نمونے کی پیروی کرنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3882
    امام ابن تیمیہ

    5 عقیدہ اہل سنت و الجماعت ترجمہ عقیدہ واسطیہ

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ﷫ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔ زیرتبصرہ کتاب’’ عقیدہ اہل سنت الجماعت ‘‘شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی شہرہ آفاق تالیف عقیدہ واسطیہ کی شرح کاترجمہ ہے ۔یہ شرح وتوضیح فضیلۃ الشیخ محمد ہراس کی ہے۔ شیخ موصوف نے نہایت سلیس شگفتہ انداز میں عقیدہ واسطیہ کی شرح فرمائی ہے۔ اس شرح کا یہ سلیس و آسان فہم ترجمہ معروف عالم دین مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نے عقیدہ اہل سنت والجماعت کےنام سے کیا ۔ جسے مدارس کے اساتذہ وطلباء کے ہاں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور ان کےمیزان حسنات میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • #3875
    عبید اللہ محدث مبارکپوری

    6 فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری جلد۔1

    قرآن مجید خالق کائنات کی طرف سے انسانیت کے لیے حتمی اور آخری پیغام ِ ہدایت اور مسودۂ قانون ہے جسے ہادئ دوجہاں خاتم النبین ﷺ پر نازل کیا گیا ہے جن کے بعد نبوت کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔کتاب وسنت او رسیر صحابہ ﷢ کا بغور مطالعہ کرنے سےپتہ چلتا ہے کہ فتویٰ دینا سنت اللہ،سنت رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سلف صالحین وائمہ دین کی سنت ہے ۔قرآن مجید میں ’’استفتاء، افتاء اور یسئلونک کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے جن مسائل، احکام، اور اشکالات کے متعلق صحابہ کرام ﷺ نے نبی اکرم ﷺ سے سوالات دریافت کئے اورآپ ﷺ کی طرف سے ان کے ارشاد کردہ جوابات فتاوائے رسول اللہﷺ کہلاتے ہیں۔ جو کتب احادیث میں بکثرت موجودہیں- اور اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالمِ دین اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے برصغیر پاک وہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل حد یث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں   شائع ہو چکے ہیں۔ زير تبصره كتاب ’’فتاوی ٰ شیخ الحدیث مبارکپوری ﷫‘‘ شارح مشکاۃ محدث دوراں شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری ﷫ کےعلمی وفقہی فتاویٰ وتحریروں کا مجموعہ ہے۔ جنہیں موصوف کے پوتے فواز بن عبد العزیز ﷾ نے مختلف رسائل وجرائد میں بکھرے   فتاویٰ جات وتحریروں کو   جمع کر کے انہیں مرتب کیا ہے۔ اس پر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی﷾ نے مبسوط علمی مقدمہ تحریرکیا ہے جس میں انہوں نے اس فتاویٰ کو مرتب کرنے کی روداد اور مولانا مبارکپوری ﷫ کے حالات زندگی بھی قلمبند کیے ہیں ۔نیز عالم باعمل مفتی پاکستان مولانا ابو الحسن مبشر احمدربانی ﷾ نے اس پر ایک مفید وجامع تقریظ لکھی ہے۔ دارالابلاغ، لاہور کے مدیر جناب طاہر نقاش ﷾ نے فتاویٰ کو طباعت کے اعلی معیار پر دو جلدوں میں شائع کرکے پاکستان میں پہلی بار اسے شائع کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مولانا عبید اللہ مبارکپوری ﷫ اور اس فتاویٰ کومنظر عام   پر لانے والے تمام احبات کی مساعی کو قبول فرمائے۔آمین (م۔ ا)

  • #3773
    ڈاکٹر سید تنویر بخاری

    7 تفہیم الفقہ

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " تفہیم الفقہ" ایم اے اسلامیات کے طلباء کے لئے خصوصی طور پر تیار کی گئی ہے۔جومحترم تنویر بخاری صاحب، پروفیسر عین الحق صاحب اور پروفیسر واحد بخش سعیدی صاحب کی مشترکہ کاوش ہے۔اس کتاب کے دو حصے ہیں۔جن میں سے پہلے حصے میں اصول شاشی جبکہ دوسرے حصے میں امام ابن رشد کی بدایۃ المجتہد کے بعض متعین ابواب کا ترجمہ پیش کیا گیاہے۔ ایم اے کے نصاب  میں شامل ہونے کی وجہ سے اس کتاب کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔تاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء  اس سے استفادہ کر سکیں۔(راسخ)

  • #3441
    عکاشہ عبد المنان

    8 رحمت کے فرشتوں سے محروم گھر

    فرشتوں کی کئی اقسام ہیں اور تمام فرشتوں کا سردار حضرت جبریل امین ﷤ ہیں کہ جو تمام انبیاء﷩ پر اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آتے رہے ۔فرشتے بھی انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی بندگی میں مصروف رہتے ہیں اور انسانوں کی حفاظت اور ان کی سلامتی کے لیے دعابھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ خوش نصیب بندے ایسے ہیں جو ایسے اعمال سرانجام دیتے ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں اور درود کا مطلب علمائے کرام نے انسان کے لیے فرشتوں کو دعا و استغفار کرنا بتلایا ہے۔ اور کچھ بدقسمت ایسے ہیں جو ایسے کاموں میں بدمست رہتے ہیں جو اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت کا موجب بنتے ہیں۔ قرآن وسنت میں ایسے اعمال کی بالتفصیل بیان کردیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’رحمت کےفرشتے سے محروم گھر‘‘ ایک عربی تصنیف ’’بیوت لاتدخلہا الملائکۃ‘‘کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے فرشتوں کے عجیب وغریب حالات اوراقسام نیز ان گھروں کا مفصل تذکرہ کیا ہے جن میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (م۔ا)

  • #3772
    ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی

    9 شرح ارکان الایمان

    دینِ اسلام عقیدہ،عبادات،معاملات ،سیاسیات وغیرہ کا مجموعہ ہے ، لیکن عقیدہ اور پھر عبادات کامقام ومرتبہ اسلام میں سب سے بلند ہے کیونکہ عقیدہ پورے دین کی اساس اور جڑ ہے ۔اور عبادات کائنات کی تخلیق کا مقصد اصلی ہیں ۔ ایمان کے بالمقابل کفر ونفاق ہیں یہ دونوں چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسول کی تصدیقات ارکان ایمان ہیں۔قرآن مجیدکی متعدد آیات بالخصوص سورۂ بقرہ کی ایت 285 اور حدیث جبریل اور دیگر احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے ۔لہذا اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اوراس کی طرف سے بھیجے ہوئے رسولوں کو تسلیم کرنا اور یوم حساب پر یقین کرنا کہ وہ آکر رہے گا اور نیک وبدعمل کا صلہ مل کر رہے گا۔ یہ امور ایمان کے بنیادی ارکان ہیں ۔ان کو ماننا ہر مومن پر واجب ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرح ارکان ‘‘ ابی عبدالصبور عبد الغفور دامنی کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے اللہ تعالیٰ ،اس کی کتابوں، رسولوں اور فرشتوں ، آخرت اورتقدیر پر ایمان لانےکی حقیقت کو آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں تفصیلاً بیان کیا ہے ۔کتاب کے آغاز میں شیخ عبد اللہ ناصررحمانی ﷾ کا جامع مقدمہ انتہائی اہم اور لائق مطالعہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اورہمیں ایمان کی پختگی نصیب فرمائے(آمین) (م۔ا)

  • #3738
    پروفیسر چوہدری غلام رسول چیمہ

    10 اسلام کا معاشی نظام

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام کا معاشی نظام"محترم جناب پروفیسر چودھری غلام رسول چیمہ صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے اسلام کے اسی  عظیم الشان معاشی نظام کی خوبیوں کو بیان کیا ہے اور اسلام کے علاوہ دیگر نظاموں کی خامیوں اور خرابیوں کو واضح کیا ہے۔اسلام حلال طریقے سے کمانے اور حلال جگہ پر خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔یہ  اپنے موضوع ایک  انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825347

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں