دکھائیں کتب
  • بلاشبہ دنیا کی تاریخ میں عہد نبویﷺ سیاسی ،دینی اور اقتصادی اعتبار سے ممتاز ہے نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کےمختلف گوشوں پر سیرت نگاروں نے   کاوشیں کی ۔ کتب احادیث بھی آپ ﷺہی کے کردار کا مرقع ہیں ۔عبادات ومعاملات ،عقائدوغزوات اور محامد وفضائل ،کو نسا باب اور فصل آپ کےتذکرے سے مزین نہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات پاکیزہ سے متعلق صدہا مصنفینِ اسلام نےقابل قدر تصانیف لکھی ہیں اور اس کثرت سے لکھی ہیں کہ آج تک کسی علمی یا ادبی موضوع پر اس قدر سیر حاصل کتابیں نہیں کی گئیں۔ سیرت مقدسہ کی ا ن کتابوں میں مصنفین نے جہاں رسول اکرم ﷺ کی پاک زندگی کے مختلف گوشوں پر پوری شرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ۔اسی کے ذیل میں انہوں نے آپ کے ان فرامین مکاتیب عالیہ کابھی ذکر کیا ہے جو مختلف حالات کے زیر اثر دنیا کےمختلف حصوں میں ارسال کئے گئے۔ سیرت مقدسہ کی کوئی تصنیف مکاتیب النبیﷺ سے خالی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’بلاغ المبین یعنی مکاتیب سید المرسلین‘‘ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی﷫ کی تصنیف ہے ۔ مصنف موصوف نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے حصہ اول اصول تبلیغ ،حصہ ثانی فرامیں سید المرسلین ،حصہ ثالث :نتائج وعبر۔ کتاب کادوسراحصہ بہت زیاد ہ مہتم بالشان ہے۔ اس میں آپ ﷺ کے ان فرامین مقدسہ کوجمع کیا گیا ہے جو آپ نے دنیا کے مختلف بادشاہوں کے نام روانہ فرمائے تھےاو ر ان فرامین کے ساتھ ان سے متعلق تاریخی وحدیثی حالات کو بیان کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

  • 42 بنات اربعہ (بدھ 11 جون 2014ء)

    مشاہدات:4212

    قرآن واحادیث کی واضح سے نصوص او ر کتبِ سیرت وتاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کائنات نبی کریم ﷺ نے متعدد شادیاں کیں اور اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کو ام المومنین حضرت خدیجہ اور سید ہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہما سے اولاد جیسی نعمت سےنوازا ۔ سید ہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے چاربیٹاں(سید زینبؓ،سیدہ رقیہؓ ،سید ہ ام کلثومؓ، سیدہ فاطمہؓ ) اور دو بیٹے(سیدنا عبد اللہؓ اور سیدنا قاسم ؓ ) پیداہوئے ۔اورام المومنین سیدہ ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے ایک بیٹا سیدنا ابراہیمؓ پیدا ہوئے ۔نبی کریم ﷺکے بیٹے بچپن میں ہی فوت ہوگئے ۔ لیکن بعض لوگ نبی کریم ﷺ کی اولاد شریف کے حق میں افراط وتفریط کرتے ہوئے نبی اقدسﷺ کی صرف ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کو حقیقی دختر شمار کرتے ہیں اور باقی تین صاحبزادیوں حضرت زینبؓ ،حضرت رقیہؓ،حضرت ام کلثومؓ کو آنجناب ﷺکی حقیقی اولاد سے خارج گردانتے ہیں او ران کوربائب اور لے پالک بیٹیوں سے تعبیر کرتے ہیں ۔جوکہ صریحا قرآنی نصوص کے خلاف ہے ۔زیر نظر کتاب '' بناتِ اربعہ یعنی چار صاحبزادیاں'' جید عالم مولانا محمد نافع﷾ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے بنات ِرسول ﷺ کی تعداد چار ہونے کا مدلل ثبوت پیش کرتے ہوئے رسالت مآب ﷺکی چاروں صاحبزدیوں کی مفصل سوانح اور فضائل ومناقب کو بیان کیا ہے۔اور بناتِ رسولؐ کے بارہ میں اعتراضا ت وشبہات کا دلائل کی روشنی میں مکمل ازالہ کاکیا ہے ۔اللہ تعالی فاضل مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اولاد رسول ؐ کے متعلق لوگوں کے غلط نظریات کی اصلاح کا ذریعہ بنا ئے (آمین)(م۔ا)

    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم  خاندان نبوی 

  • 43 تجلیات سیرت صلی اللہ علیہ وسلم (پیر 13 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1084

    سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تجلیات سیرت‘‘ میں مستشرقین کی جن کتب سے استفادہ کیا گیا ہے، وہ اکثر اسی نوعیت کی ہیں۔ مصنف نے بڑی محنت اور جانفشانی سے ایسے مستشرقین کے بیانات کو اکٹھا کیا ہے جو اسلام اور پغمبر اسلام کے محاسن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور پھر اپنی تحقیقات میں اس کا برملا اعتراف اور اظہار بھی کیا۔ کسی نطریے کے مخالف کا اس کی عظمت کو تسلیم کرنا معمولی بات نہیں۔عربی مقولہ ہے : "الفضل ما شهدت به الأعداء" یعنی حقیقی فضیلت وہ ہے جس کی دشمن بھی گواہی دیں۔ صاحب مصنف نے مخالفین کی زبان سے اسلام اور پغمبر اسلام کی عظمت کو بڑے خوب صورت اسلوب میں...

  • 44 تجلیات نبوت (پیر 04 جنوری 2010ء)

    مشاہدات:14533

    اس کتاب میں مصنف رحمہ اللہ نے کمال ہنر مندی سے سیرت کے تمام تر وقائع کو ایسی نئی ترتیب اور تازہ اسلوب کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کے مطالعے سے دل ودماغ پر ایک پاکیزہ نقش قائم ہوجاتا ہے اس کتاب میں مصنف رحمہ اللہ نے دعوت اسلامی کے تمام مراحل اور اس کی پیش آمدہ دشواریوں کا مناسب تذکرہ کیا ہے تکالیف اور مصائب کے بحرانوں میں کس طرح وحی الہی نصرت الہی کے راستے پیداکرتی ہے اس کا ایمان افروزبیان ملتا ہےنیز مصنف نے واقعات سیرت کی صحت میں مستند ماخذوں تک رسائی حاصل کی ہے اردوزبان میں سیرت کی یہ پہلی  مختصر مگر جامع کتاب ہے جس میں واقعات کی صحت کے ساتھ اس کی مکمل تخریج موجود ہے
     

  • 45 تحقیق فدک (پیر 27 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2649

    صحابہ کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن شیعہ حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدہ فاطمہ کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر تبصرہ کتاب " تحقیق فدک ،میراث نبوت اور باغ فدک کے موضوع پر تحقیقی دستاویز"محترم مولانا سید احمد شاہ بخاری  کی تصنیف ہے۔مولف موصوف ﷫نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ...

  • 46 تذکرہ شہدائے بدر و احد (پیر 29 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2497

    اسلام اور کفر کے درمیان پہلا معرکہ جنگ بدر کی صورت میں لڑا گیا ہے ۔اس غزوہ میں اللہ کے فضل سےمسلمان سرخرو رہے اور ذلت ورسوائی مشرکین کا مقدر ٹھہری۔اس جنگ نے مشرکین مکہ کاغرور خاک میں ملاد یا ۔ان کے ستر بڑے بڑے سردار مارے گئے اور تقریبا اتنےہی گرفتار ہوئے۔اور چودہ مسلمان بھی خلعت شہادت زیب تن کر کے جنت کے مکیں ہوئے اور باقی بہت سا مال غنیمت حاصل کر کے مدینہ منورہ کو واپس لوٹے ۔بدرکی جنگ میں مشرکین مکہ کو بدترین شکست اور ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھااس شکست اور ذلت کاخیال کسی بھی لمحے ان کا پیچھا نہیں چوڑتا تھا۔ پورے خطۂ عرب میں ان کی شہرت خاک میں مل گئی تھی ۔ اور وہ بدلہ لینے کے لیے مرے جارہے تھے ۔انہوں نے مکہ مکرمہ جاکر اعلان کر دیا تھا کہ بدر کےمقتولین پر نہ تو کوئی روئے اور نہ ان پر مرثیہ خوانی کرے ہم مسلمانوں سے اس کا بدلہ لے کرر ہیں گے ۔آخر کار خو ب تیاری کر کے شوال 3ھ میں تقریبا تین ہزار کا لشکر مدینہ منور ہ سے کچھ فاصلے پرجبل احد کے قریب آٹھہرا۔مشرکین کے لشکر کی قیادت سیدناابوسفیان کے پاس تھی اورمسلمانوں کی قیادت حضور ﷺنے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔اس معرکہ میں ستر کے قریب صحابہ کرام جام شہادت نوش کر گئے اور نبی کریم ﷺ بھی اس میں زخمی ہوگئے تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرہ شہدائے بدر واحد‘‘ محترم جنا ب جناب پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی ﷾ (فاضل مدینہ یون...

  • اِسلامی نظریے کی ایک خصوصیت اُس کی ہمہ گیری اور جامعیت ہے۔ اِسلام نے زندگی کے ہر پہلو میں اِنسان کی رہنمائی کی ہے۔ اِسلام کی جامع رہنمائی اخلاقِ فاضلہ کی بلندیوں کی طرف اِنسان کو لے جاتی ہے اور بارِ امانت کا حق ادا کرنے کے لیے اس کو تیار کرتی ہے ۔ اِسلام نے اشخاص کی انفرادی اصلاح کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ اسی طرح اسلام کے نزدیک صرف باطن کی درستگی کااہتمام کافی نہیں بلکہ ظاہر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔انسانی زندگی کے تمام شعبے اسلام کے نزدیک اہم ہیں، خاندانی نظام، معاشرتی روابط ، معاشی تگ ودو، سیاست وحکومت، صلح وجنگ، تہذیب وتمدن، ثقافت و فنونِ لطیفہ اور تعلیم وتربیت سب پر اسلام نے توجہ کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تعلیم سیرت ﷺ سوال و جواب کے آئینے میں‘‘ مولانا حبیب اللہ قاسمی کی ہے۔ جس میں نبیﷺ کی حیات طیبہ پر تقریبا دو ہزار سوالات و جوابات کے انداز میں مختصر و جامع سوانحی خاکہ پیش کیا ہے۔۔مبتدی ومنتہی طالبان علوم نبوت کے لیے یہ کتاب یکساں مفید ہے ۔(رفیق الرحمن)

  • اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے  حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی  شخصیت حضرت آدم   کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت  کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج  انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی  ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے  قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے  ۔گزشتہ چودہ صدیوں  میں اس  ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے  ۔یہ سلسلۂ خیر ہنوز  روز اول کی طرح جاری وساری ہے ۔سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے ۔...

  • اللہ تعالی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے دین کو مکمل کر دیا- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو شخص دین میں نیا کام کرے گا وہ بدعت کے زمرے میں آئے گا-دنیا کے مختلف ممالک میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر ''جشن عید میلاد النبی'' کے نام سے بدعات وخرافات کا بازار گرم کیا جاتا ہے –اس جشن عید میلاد کی شرعی حیثیت کیاہے؟ یہ خطرناک بدعت اس امت کے اندر کہاں سے در آئی؟ اور اس کے در پردہ مقاصد کیا ہیں؟زیر نظر کتاب  میں مصنف نے اس طرح کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئےاس  بدعت کے ایجاد کرنے والوں کے مکروہ چہروں سے نقاب کشائی کی ہے-
     

  • 50 جشن ميلاد يوم وفات پر (اتوار 08 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:9610

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  جس قدر بدعات کی مذمت کی ہے ، بدقسمتی سے امت مسلمہ اسی شدومد کے ساتھ بدعات کے طوفان میں گھرتی چلی جارہی ہے-انہی میں سے ایک خطرناک بدعت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر عیدمیلاد النبی کا خصوصی اہتمام ہے، بہت سے نام نہاد روحانی پیشوا اپنے اپنے مفادات کی خاطر اسے ترویج دینے میں ہمہ تن مصروف ہیں-حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی؟ اور آپ کی ولادت پر جشن کا اہتمام کرنا جائز  ہے یا ناجائز؟ زیر نظر کتاب میں مصنف نے اس طرح کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیتے ہوئے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور آئمہ کرام کا اس جشن کے حوالے سے مؤقف واضح کیا ہے- کتاب کے آخر میں جشن میلاد النبی منانے والوں کے تمام دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی رد کیا گیا ہے -

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1562
    • اس ہفتے کے قارئین: 16290
    • اس ماہ کے قارئین: 35583
    • کل قارئین : 47818778

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں