• #2461
    ام عبد منیب

    1 اعتکاف اور خواتین

    رمضان میں اعتکاف سنت ہے۔ نبی کریمﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں اعتکاف فرمایا اور آپ کے بعد ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف فرماتی رہی تھیں۔اہل علم نے بیان کیا ہے کہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ اعتکاف مسنون ہے لیکن ضروری ہے کہ اعتکاف اس مقصد سے ہو جس کے لیے اسے مشروع قرار دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ انسان مسجد میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت کے لیے گوشہ نشین ہو، دنیا کے کاموں کو خیر باد کہہ کر اطاعتِ الٰہی کے لیے کمر باندھ لے اور دنیوی امور سے بالکل دست کش ہو کر انواع و اقسام کی اطاعت  و بندگی بجا لائے، نماز اور ذکر الٰہی کا کثرت سے اہتمام کرے۔ رسول اللہﷺ لیلۃ القدر کی تلاش و جستجو کے لیے اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ معتکف کو چاہیے کہ وہ دنیوی مشاغل سے بالکل دور رہے، خریدو فروخت کا بالکل کوئی کام نہ کرے، مسجد سے باہر نہ نکلے، جنازہ کے لیے بھی نہ جائے اور نہ کسی مریض کی بیمار پرسی کے لیے جائے۔ بعض لوگوں میں جو یہ رواج پا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والوں کے پاس دن رات آنے جانے والوں کا تانتا باندھا رہتا ہے اور ان ملاقاتوں کے دوران ایسی گفتگو بھی ہو جاتی ہے جو حرام ہے تو یہ سب کچھ اعتکاف کے مقصود کے منافی ہے۔ہاں اعتکاف کے دوران گھر کا کوئی فرد ملنے کے لیے آئے اور باتیں کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺاعتکاف میں تھے تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ملاقات کے لیے تشریف لائیں اور انہوں نے آپ سے کچھ باتیں بھی کیں۔خلاصہ کلام یہ کہ انسان کو چاہیے وہ اپنے اعتکاف کو تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنا لے۔اعتکاف صرف مسجد میں ہوتا ہے، گھر میں نہیں ہوتا ۔ مسجد کے علاوہ کہیں بھی اعتکاف کرنا صحیح نہيں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :’’ جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو عورتوں سے مباشرت نہ کرو ‘‘ البقرة ( 187 ) ۔ فرمان الٰہی کے   اس حکم میں عورتیں بھی شامل ہیں کہ   اگر خواتین نے اعتکاف کرنا ہو تو وہ بھی مسجد میں ہی کریں۔عورتوں کے لیے گھرمیں اعتکاف کرنا جا‏ئزنہيں کیونکہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے نبی ﷺسے مسجد میں اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے انہیں اجازت دے دی ۔ گویا اعتکاف کرنے کی جگہ میں مرد اور عورت کےلیے کوئی تخصیص نہیں ہے لہذا عورت بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرے گی۔ کیوں کہ قرآن حکیم اوراحادیث نبویہ میں عورت کےلیے   کوئی تخصیص نہیں بتائی گئی۔ زیرنظر کتابچہ ’’ اعتکاف اور خواتین ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے خواتین کےلیے   اعتکاف کرنے کی شرعی حیثیت اور آداب وشرائط کو عام فہم انداز میں قرآن وحدیث کی روشنی میں   پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ محترمہ کی تمام دینی واصلاحی اور دعوتی کاوشوں کوقبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

  • #1393
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    2 فتاویٰ ثنائیہ - جلد1

    مولانا ثناء اللہ امر تسری کی دینِ اسلام کے فروغ کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ خاص طور پر قادیانیت کے خلاف ہر محاذ پر انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس فتنہ کے آگے بند باندھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مولانا نے اپنی زندگی میں تمام دینی علوم کا دقت نظر سے جائزہ لیا اور قرآن و سنت کے قریب صائب آراء قائم کیں۔ کتاب زیر مطالعہ میں اسی شخصیت کے اپنی زندگی میں دئیے گئے فتاویٰ جات کو مولانا داؤد راز نے مرتب صورت میں پیش کیا ہے۔ اگرچہ بعض جگہوں پر ان سےاختلاف کی گنجائش موجود ہے اور ظاہر نبی کریمﷺ کی ذات گرامی کے بعد کسی بھی شخصیت کی تمام تر آراء سے اتفاق مشکل امر ہے۔ صحابہ کرام اور تبع و تابعین کے آراء سے بھی اس دور میں اختلاف کیا جاتا رہا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1231
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

    3 تعلق باللہ اسباب، ذرائع اور ثمرات

    تعلق باللہ انسان کےدل کو ماسوائے اللہ سے خالی کر دیتا ہے۔ یہ انتہائی اہم فریضہ ہے، جس کا شریعت نے حکم بھی دیا اور بے تحاشا اجرو ثواب کے وعدے بھی فرمائے۔ انبیائے کرام﷩ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہایت مضبوط تعلق قائم تھا اور نبی کریمﷺ نے تو کائنات میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کیا۔ زیر نظر کتاب میں انھی مبارک ہستیوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق بیان کرتے ہوئے تعلق باللہ کے اسباب، ذرائع اور ثمرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک مدلل کتاب ہے جس می موضوع سے متعلق تقریباً تمام مواد آگیا ہے۔ زہد کے باب میں یہ کتاب ایک اہم اضافہ ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #1833
    شیخ عمران نذر حسین

    4 درہم و دینار مستقبل کے اسلامی سکے

    گزشتہ صدیوں میں استعماری غلبے اور استحصال  کی یہ شکل تھی کہ  استعماری قوتیں بذات خود نوآبایات میں  آکر استحصال کی راہیں ہموار کیا کرتی تھیں۔ لیکن اب ان کا طریقہء کار بدل چکا ہے۔اگرچہ بظاہر  یہ نظر آتا ہے کہ دنیا مہذب ہو چکی ہے۔پہلےکی طرح ظلم و استحصال کرنا ممکن نہیں رہا۔ جبکہ حقیقت یہ  ہے کہ  موجودہ دور میں بھی لوٹنے کھسوٹنے کی  وہی صورت ہے بلکہ اس سے بھی بدترین شکل میں ہے۔چنانچہ آج استعماری قوتیں خود تو نہیں آتیں لیکن انہوں نے عالمی مالیاتی نظام ایسا بنا دیا ہے کہ   جس میں ترقی پذیرممالک خود بخود ہی  اپنا مال و دولت  ان کے عشرت کدوں میں پھینک دیتے ہیں۔اس سلسلے میں سب سے زیادہ خطرناک اور اساسی ترین یہ کاغذ کی کرنسی ہے۔اس کتابچہ میں مصنف نے اسی پہلو کو اجاگر کرنے کوشش کی ہے کہ  اگر اسلامی ممالک بالخصوص اور دنیا بالعموم اس نظام زر  کے چنگل سے نجات حاصل نہیں کر لیتی اس وقت تک سکون کا سانس نہیں لے سکتی۔  اور اس کا صرف ایک یہی طریقہ ہے کہ دوبارہ سونے کے سکے رائج کیے جائیں۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39792614

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں