دکھائیں کتب
  • 1 احقاق حق (پیر 27 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3180

    بیسویں صدی کا  ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان  انگریزی حکومت کے جبر واستبداد  کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"ستیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف  علماء کرام نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب"احقاق حق" بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی﷫ کی تصنیف ہے۔یہ قرآن مجید پر ستھیارتھ پرکاش  نامی کتاب کے اعتراضات کے جواب میں لکھی گئی  ہے۔اس سے پہلے اس موضوع پر  مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ بھی لکھ چکے ہیں۔ آپ نے  " تُرک اسلام بر تَرک اسلام" کے نام سے اس دل آزار کتاب کا خود ان کی مذہبی کتابوں سے ایسا دندان شکن جواب دیا کہ اس کے تمام اعتراضات کے تاروپود نہ صرف بکھیر کر رکھ دئے ،بلکہ ایک سو پندرہ اعتراضات کے جواب میں اس پر ایک سو سولہ اعتراضات جڑ دیئے۔جس کا آج تک کوئی جواب نہ دے سکا۔ اللہ تعالی دین اسلام کا دفاع کرنے والےا...

  • 2 اسلام اور ہندومت (ایک تقابلی مطالعہ)۔ (ہفتہ 27 جون 2009ء)

    مشاہدات:24474

    اس کتاب میں  مصنف نے ہندومت اور اسلام کا تقابلی جائزہ  پیش کیا ہے- جس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو زیر بحث لاتے ہوئے دونوں مذاہب میں تصور خدا  پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے- عالم اسلام کی مشہور ومعروف شخصیت ڈاکٹر ذاکر نائک  نے غیرمسلموں اور ہندؤوں کی جانب سے  دین اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کا عقلی و نقلی جواب دیا ہے اور ان کی ہی کتب سے ان کے خلاف ایسے واضح اور بین دلائل دیے ہیں جو ہندو مت کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں- کتاب کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر ذاکر نائک اور مسٹر رشمی بھائی زاویری کے مابین ''گوشت خوری جائز یا ناجائز'' کے موضوع پر ہونے والے دلچسپ اور علمی مناظرے کی روداد قلمبند کی گئی ہے-جسے پڑھ کر قارئین جہاں  گوشت خوری سے متعلق اسلامی نقطہ نگاہ سے آگاہ ہوں گے وہیں ڈاکٹر ذاکر نائک کی جانب سے پیش کیے جانے والے سائنسی استدلالات سے بھی محظوظ ہوں گے-

  • 3 انسانیت کا قاتل ہندو دھرم (منگل 19 مئی 2015ء)

    مشاہدات:3519

    ہندو دھرم کی صحیح تصویر کشی کے لئے بہت کم لکھا گیاہے۔ اور جو تحریری مواد موجود بھی ہے اس میں مولفین نے عام طور پر فلسفیانہ انداز اختیار کیا ہے۔ویسے بھی ہندو دھرم ایک الجھا ہوا فلسفہ ہے۔اور اس مذہب کے راہنما اپنی عوام کو یہ تلقین کرتے ہیں کہ مذہب سمجھ میں آنے والی چیز نہیں ہے ،بس آنکھیں بند کر کے اس پر عمل کیا جائے اور بغیر دلیل کے اسے تسلیم کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں کروڑوں خدا پوجے جاتے ہیں اور جنوں ،پریوں اور توہمات سے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ضرورت اس بات کی تھی کہ لوگوں کو ہندو مذہب سے آگاہ کرنے کے لئے آسان انداز میں لکھا جاتا ،کیونکہ ہندو رسوم ورواج اور ہندوانہ عقائد بہت حد تک مسلمانوں میں گھر کر چکے ہیں۔اور اس موضوع پر لکھنےوالے ناقدین نے بھی اس ضرورت کو پورا نہیں کیا ہے۔ الا ما شاء اللہ۔ زیر تبصرہ کتاب" انسانیت کا قاتل ہندو دھرم " جماعت الدعوہ کے مرکزی راہنما،مجلہ الحرمین کے ایڈیٹر اور معروف کالم نگار محترم امیر حمزہ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں ہندو دھرم کی تصویر کشی کی ہے،تاکہ عام لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنے عقائد کی اصلاح کر سکیں۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں ہندو دھرم کی حقیقت اور ہندووں کی اسلام دشمنی اور ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں پر مذہبی تشدد اور دہشت گردی کو آشکارا کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی ان محنتوں کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 تبر اسلام (پیر 04 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2231

    بیسویں صدی کا ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف عالم دین ابو الوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مہاشہ دھرمپال کی کتاب"نخل اسلام" کے جواب میں لکھی گئے ہے۔یہ شخص گوجرانوالہ کا ایک مسلمان تھا۔جس کا نام عبد الغفور تھا۔1903ء میں پنڈت دیانند شرما کی تحریروں اور آریہ سماج کی شدھی تحریک سے متاثر ہو کر اسلام سے مرتد ہو گیا اور آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے،اور عبد الغفور سے دھرمپال بن گیا۔جس پر سماجیوں نے بڑی خوشی منائی اور جگہ جگہ جلوس نکالے۔اللہ تعالی مولف کی اس عظیم الشان کاوش کو قبول ومنظور فرمائے اور مسلمانوں کے لئے باعث ہدایت بنائے۔آمین(راسخ)

  • 5 تُرک اسلام (منگل 05 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2248

    بیسویں صدی کا ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف عالم دین ابو الوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مہاشہ دھرمپال کی کتاب"ترک اسلام" کے جواب میں لکھی گئے ہے۔یہ شخص گوجرانوالہ کا ایک مسلمان تھا۔جس کا نام عبد الغفور تھا۔1903ء میں پنڈت دیانند شرما کی تحریروں اور آریہ سماج کی شدھی تحریک سے متاثر ہو کر اسلام سے مرتد ہو گیا اور آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے،اور عبد الغفور سے دھرمپال بن گیا۔جس پر سماجیوں نے بڑی خوشی منائی اور جگہ جگہ جلوس نکالے۔اس موقع پر آریہ سماج نے ایک لیکچر کا بھی اہتمام کیا جس میں اس نے اپنے مذہب کی تبدیلی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قرآن مجید پر ایک سو پندرہ اعتراضات کئے،جسے آریہ سماج نے مرتب کر کے " تَرک اسلام" کے نام سے...

  • 6 مسلمانوں میں ہندوانہ رسوم و رواج (جمعرات 23 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1506

    ایمانی محبت دیگر تمام محبتوں پر غالب ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بھی یہی تقاضا ہے کہ دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کفر کی رسموں سے شدید بغض ہو۔ افسوس یہ ہے کہ گرد و پیش پر نگاہ ڈالیں تو امت مسلمہ کے مجموعی افعال و کردار کا جائزہ لیں۔ پاک و ہند میں مروجہ رسومات اور ثقافتی پہچان کی تاریخ ملاحظہ فرمائیں، تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آج مسلمان غیر مسلموں کی شباہت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مسلمانوں میں ہندوانہ رسوم و رواج‘‘ میں نہایت مدلل انداز میں مسلمانوں میں رواج پا جانے والی ہندوانہ رسوم و رواج کا بنظر غائر جائزہ لیا گیا ہے، کہ آج مسلمانوں نے بے شمار معاملات میں یہود و ہنود کی نقالی اختیار کر رکھی ہے۔ اور کتاب و سنت کی روشنی میں ان سے بچنے کی احسن انداز میں ترغیب دلائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کے مفاہیم کو سمجھ کر اصلاح کرنے کی توفیق دے اور صاحب مؤلف کی کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( پ،ر،ر)

  • 7 گوتم بدھ راج محل سے جنگل تک (جمعرات 05 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:7483

    بدھ مت دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے جو عیسوی صدی سے کئی سال بیشتر اس وجہ سے معرض وجود میں آیا تھا کہ ہندومت کی ظالمانہ رسومات ختم کی جائیں ۔ اور معاشرے کے اندر انصاف پر مبنی شفاف ترین تعلیمات کا بول بالا کیا جائے ۔ یہ دنیا کے معرف ترین مذاہب میں سے ایک ہے اس دنیا میں اس کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ یہ مذہب  بنیادی طور پر ترک دنیا کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس مذہب کے بانی گوتم بدھ بھی پہلے ایک شہزادہ تھے تصوف و رہبانیت اور مادی آلائشوں سے طبعی نفرت رکھتے تھے ۔ ایک روز غم ، دکھ اور تکلیف کی مختلف تین حالتیں دکھیں جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر جنگلات کا رخ کیا ۔ اور وہاں گیان دھیان میں مصر ف ہوگئے ۔  عرصہ دراز کی ریاضت کے بعد انکشاف حقیقت کے مدعی ہو گئے ۔ اور پھر الگ طور پر ایک مذہب کی  بنیاد رکھی ۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بدھ مت ایک غیر سماوی اور خود ساختہ مذہب ہے یہ  زندگی کے بنیادی سوالات کے خلا کو جاہلانہ تصورات سے پر کرتا ہے ۔ ظاہر بات ہے جو مذہب سماوی نہیں وہ حقیقت بھی نہیں ہو سکتا بلکہ سماوی دین میں بھی اگر تحریف ہو جائے تو وہ غیرحقیقی بن جاتا ہے چہ جائیکہ ایک دین ہو ہی غیر سماوی ۔ (ع۔ح)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1110
  • اس ہفتے کے قارئین: 13551
  • اس ماہ کے قارئین: 41245
  • کل قارئین : 46009235

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں