میاں محمد جمیل ایم ۔اے

  • 1 اتحاد امت نظم جماعت (بدھ 08 جنوری 2014ء)

    فی  زمانہ مسلمانوں کے زوال وادبار کا ایک اہم سبب اتحادو اتفاق اور نظم وتنظیم کا فقدان ہے معروف عالم دین میاں محمد جمیل صاحب نے زیر نظر کتاب ''اتحادامت نظم جماعت''میں اسی موضوع پربحث کی ہے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ قرآن وسنت سے تنظیمی امور سے متعلق ہدایت ورہنمائی موجود ہے کسی تنظیم یا جمعیت کے سربراہ اور کارکنان کے اوصاف کیا ہونے چاہئیں اور ان میں باہمی تعلق کی نوعیت کیا ہو اس کو بھی بحث وفکر کا ہدف بنایا ہے کتاب وسنت کو نصوص سے ان امور کی وضاحت کی ہے ہرمسلمان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا جاہیے اور ایک منظم جماعتی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے یہی اس کتاب کا پیغام ہے -


  • 2 فہم الحدیث ۔ جلد اول (جمعہ 14 فروری 2014ء)

    حدیث پاک ،دین اسلام کا بنیادی اور اولین مصدر ہے احکام دین کی تفصیلات حدیث وسنت ہی سے معلوم ہوتی ہیں لہذا دین کو جاننے کےلیے احادیث کامطالعہ ناگزیر ہے خداجزائے خیر دے محدثین کو جنہوں نے امت کی آسانی اور بھلائی کےلیے احادیث کو مرتب او رمدون کیازیر نظر کتاب فہم الحدیث مین حدیث کی معتبر کتابوں سےاحادیث صحیحہ کاانتخاب کیا گیا ہے اور ہرگوشئہ زندگی سے متعلق حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس میں حدیث کی روانی ،کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تسلسل اور نبوت کے معجزۂ خطابت کو حتی المقدور قائم رکھتے ہوئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ احادیث کا ترجمہ اورتشریح اس انداز میں عام فہم ہو کہ عام آدمی سمجھ سکے اسی لیے ابتداء میں باب کامفہوم او رآخر میں باب کاخلاصہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ فرقہ واریت کی بجائے حدیث کی تشریح او رمفہوم وہی بیان کیا جائے جورسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کامقصد ہے ۔واضح رہے کہ کتاب میں درج شدہ روایات پر محدثین،دیوبندی ،بریلوی اور اہل حدیث علمآء کا اتفاق ہے ۔


  • 3 فہم الحدیث ۔ جلد دوم (جمعہ 14 فروری 2014ء)

    حدیث پاک ،دین اسلام کا بنیادی اور اولین مصدر ہے احکام دین کی تفصیلات حدیث وسنت ہی سے معلوم ہوتی ہیں لہذا دین کو جاننے کےلیے احادیث کامطالعہ ناگزیر ہے خداجزائے خیر دے محدثین کو جنہوں نے امت کی آسانی اور بھلائی کےلیے احادیث کو مرتب او رمدون کیازیر نظر کتاب فہم الحدیث مین حدیث کی معتبر کتابوں سےاحادیث صحیحہ کاانتخاب کیا گیا ہے اور ہرگوشئہ زندگی سے متعلق حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس میں حدیث کی روانی ،کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تسلسل اور نبوت کے معجزۂ خطابت کو حتی المقدور قائم رکھتے ہوئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ احادیث کا ترجمہ اورتشریح اس انداز میں عام فہم ہو کہ عام آدمی سمجھ سکے اسی لیے ابتداء میں باب کامفہوم او رآخر میں باب کاخلاصہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ فرقہ واریت کی بجائے حدیث کی تشریح او رمفہوم وہی بیان کیا جائے جورسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کامقصد ہے ۔واضح رہے کہ کتاب میں درج شدہ روایات پر محدثین،دیوبندی ،بریلوی اور اہل حدیث علمآء کا اتفاق ہے ۔



  • افراد اور اقوام کے رہن سہن، عادات وخصائل حتی کہ کھانے پینےکےآداب کوبھی تہذیب وتمدن اور ثقافت وکلچرمیں شمارکیاگیاہے۔ ہرمعاشرے اوراقوام کی عادات واطوار، بودوباش او رکھانے پینے کے انداز ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ تہذیب وتمدن انسانوں کی عزت وعظمت کامعیار ہی نہیں بلکہ افراد کو یکجا اورمتحدرکھنے میں اس کا بڑا دخل بھی ہے۔ جس طرح نظریا ت آدمی کو ایک دوسر ےکےقریب اور دور کرتے ہیں یہی قوت تہذیب وتمدن میں کارفرماہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب کو اپنایا وہ انہی میں سے ہوگا۔ لہذا ضروری تھا کہ امت کےتہذیب وتمدن کو نمایاں اورمسلم امہ کو ممتاز رکھنےکے لیے اس کو ایک ایسی فکریکسوئی اورحسن عمل سے آراستہ کیا جاتا جس کی کوئی نظیر پیش نہ کرسکے۔ اورپھر امت اس قوت کےساتھ اقوام عالم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں میاں جمیل صاحب جوکہ ایک مشہور عالم دین ہیں انہوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور تاریخ کے دیگراسلامی واقعات کی روشنی میں تہذیب اسلامی کے جملہ پہلووں کو اجاگرکرنےکوشش کی ہے۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 5 سیرت ابراہیم علیہ السلام (پیر 19 مئی 2014ء)

    سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم ﷤ کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم ﷤ کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم﷤کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ''اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے...

  • 6 زکوٰۃ کے مسائل و فوائد (ہفتہ 20 دسمبر 2014ء)

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کر...

  • 7 نظم جماعت کے آداب (اتوار 14 جون 2015ء)

    کوئی بھی جماعت ان عظیم مقاصد کے حصول کے لئے بنائی جاتی ہے ،جنہیں انفرادی کوشش سے حاصل کرنا یا تو سرے سے ممکن نہیں ہوتا ہے یا پھر بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اجتماع ،اجتماعیت اور اجتماعی کوشش میں فرد اور انفرادیت سے یقینا کہیں زیادہ اثر اور برکت ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"ید اللہ علی الجماعۃ "جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ تاہم اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت سازی کا مقصد جائز اور ارفع ہو۔ایک اچھے مقصد کے لئے تشکیل دی ہوئی اچھی جماعت اجتماعیت کی برکت اور اللہ کی تائید سے اولا تو کامیابی کی منزل مراد تک پہنچتی ہے اور اگر بظاہر ایسا نہ ہوسکے تو بھی اس کے کارکن اور اس کے مقاصد کے لئے اخلاص کے ساتھ تن من دھن کی قربانی دینے والے اخروی سرفرازی سے یقینا ان شاء اللہ ہمکنار ہوتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ "اچھی جماعت" کیا ہوتی ہے اور کیسے بنتی ہے ؟جماعت کے کن مقاصد کو اچھا قرار دیا جا سکتا ہے ؟اور جماعتی مقاصد کے حصول کا طریق کار اور آداب وشرائط کیا ہیں؟ زیر تبصرہ کتاب"نظم جماعت کے آداب"محترم مولانا میاں محمد جمیل ایم اے صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے انہی اہم اور بنیادی سولات کا جواب تلاش کرنے کی کامیاب اور قابل تحسین کوشش کی ہے۔اور جماعت سازی اور نظم وآداب جماعت کو قرآن وحدیث اور تاریخ وسیرت کے مضبوط دلائل سے تفصیلا بیان فرمایا ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہ...

  • نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو ك...

  • 9 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حج (اتوار 09 اگست 2015ء)

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز روزہ صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ فقط مالی عبادت ہے۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچ...

  • 10 انبیاء کا طریقۂ دعاء (جمعہ 11 ستمبر 2015ء)

    شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہےقرآن مجید میں انبیاء کرام ﷩ کے واقعات کے ضمن میں انبیاء﷩ کی دعاؤں او ران کے آداب کاتذکرہ ہوا ہے۔ ان قرآنی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لاکر کیا کیا مانگا کرتے تھے ۔ انبیاء﷩ کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قرآن مید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی آسمانی کتاب کے حصے میں بھی نہیں آتا۔ ان دعاؤں میں ندرت کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری راہنمائی کے لیے فراہم کردیئے گئے ہیں ۔آپﷺ اور انبیاء کی دعائیں اس قدر جامع اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہیں کہ ان کےہوتےہوئے بزرگوں کے تجربات اورمن گھڑت فضائل کے حوالے سےمصنوعی وظائف کرنا قرآن وسنت کی دعاؤں اوراذکار پر عملاً بے اعتمادی اور شرکیہ وذظائف اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺ سےبغاوت کاثبوت ہے۔ رب کریم نےانبیاء کےمسائل اور مصائب کے حوالے سےہماری مشکلات کا جو حل تجویز فرمایا ہے اس کے حضور ان سے زیاہ کوئی دعا اوروظیفہ مستجاب نہیں ہو سکتاہے...

  • علوم کی دنیا میں جادو ایک پرانا علم ہے۔ ابتدائے افرینش سے انسانی معاشرے میں اس کا وجود اور ثبوت پایا جاتا ہے۔ جناب موسیٰ کلیم اللہ کے مقابلے میں جادو کو فرعونی حکومت کی سرپرستی اور جادوگر کو انتہائی مراعات یافتہ طبقہ شمار کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے حاکم وقت فرعون کی نگرانی اور سرپرستی میں حضر کلیم اللہ کا مقابلہ کیا لیکن اصلیت اور حقیقت نہ ہونے کی وجہ سے علم نبوت کے سامنے پسپا اور ناکام ہوئے۔ اسی اثناء حضرت موسیٰؑ نے جادوگروں کو مخاطب کرتے ہوئے جادو کی حقیقت بے نقاب فرمائی تھی کہ جادو گر کبھی بھی حقیقی اور دائمی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ جادو کا اثرات بڑے مہلک ہوتے مگر اس کا مؤثر علاج بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  کا موضوع ہی یہی ہے کہ جادو کے اثرات یا نقصانات کیا ہیں اور اس کا قرآن وحدیث کے مطابق حل کیا ہے؟۔ اس کتاب میں چھ ابواب ہیں‘ پہلے میں واقعات اور مشکلات کے بارے میں لوگوں کے تین قسم کے خیالات‘ جادو کے محرکات اور تاریخی وغیرہ رقم ہیں‘ دوسرے میں جادو کا شرعی علاج‘ وظائف وغیرہ‘ تیسرے میں حفاظتی تدابیر‘ چوتھے میں جادوگروں کے متعلق سوالات کے جوابات‘ پانچویں میں جنات کی حقیقت ‘ چھٹے میں نظر بد کے اثرات وغیرہ ‘ ساتویں میں نظام فلکی اور علم نجوم کی حقیقت  اور آٹھویں میں پامسٹری اور مسمریزم کو بیان کی...

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 3949
  • اس ہفتے کے قارئین: 16086
  • اس ماہ کے قارئین: 54764
  • کل مشاہدات: 40186112

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں