مرکزی جمعیت اہل حدیث، پاکستان

مرکزی جمعیت اہل حدیث، پاکستان
پاکستان
4 کل کتب
دکھائیں

  • 1 نظم جماعت کے آداب (اتوار 14 جون 2015ء)

    مشاہدات:1742

    کوئی بھی جماعت ان عظیم مقاصد کے حصول کے لئے بنائی جاتی ہے ،جنہیں انفرادی کوشش سے حاصل کرنا یا تو سرے سے ممکن نہیں ہوتا ہے یا پھر بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اجتماع ،اجتماعیت اور اجتماعی کوشش میں فرد اور انفرادیت سے یقینا کہیں زیادہ اثر اور برکت ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"ید اللہ علی الجماعۃ "جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ تاہم اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت سازی کا مقصد جائز اور ارفع ہو۔ایک اچھے مقصد کے لئے تشکیل دی ہوئی اچھی جماعت اجتماعیت کی برکت اور اللہ کی تائید سے اولا تو کامیابی کی منزل مراد تک پہنچتی ہے اور اگر بظاہر ایسا نہ ہوسکے تو بھی اس کے کارکن اور اس کے مقاصد کے لئے اخلاص کے ساتھ تن من دھن کی قربانی دینے والے اخروی سرفرازی سے یقینا ان شاء اللہ ہمکنار ہوتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ "اچھی جماعت" کیا ہوتی ہے اور کیسے بنتی ہے ؟جماعت کے کن مقاصد کو اچھا قرار دیا جا سکتا ہے ؟اور جماعتی مقاصد کے حصول کا طریق کار اور آداب وشرائط کیا ہیں؟ زیر تبصرہ کتاب"نظم جماعت کے آداب"محترم مولانا میاں محمد جمیل ایم اے صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے انہی اہم اور بنیادی سولات کا جواب تلاش کرنے کی کامیاب اور قابل تحسین کوشش کی ہے۔اور جماعت سازی اور نظم وآداب جماعت کو قرآن وحدیث اور تاریخ وسیرت کے مضبوط دلائل سے تفصیلا بیان فرمایا ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی ان محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 2 لقب اہل حدیث (ہفتہ 10 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1183

    مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا  ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کون...

  • 3 اہل حدیث منزل بہ منزل (جمعہ 08 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1238

    مسلک اہل حدیث‘ اسلام کی اصل تعبیر اور سچی تصویر ہے اور اسلام کا دوسرا نام ہے‘ مسلک اہل حدیث کی بنیاد توحید خداوندی اور محبت اطاعت رسولﷺ ہے اس لیے اہل حدیث ہراس باطل نظام سے نبرد آزما اور برسر پیکار رہے ہیں جو غیر اللہ کے سامنے سر جھکانے اور شریعت رسولﷺ کے باغیوں کی ہاں میں ہاں ملانے پر مبنی ہو۔ اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ہندوستان میں انگریز طاغوت سے سمجھوتہ کر لتیے‘ اس لیے اکابر اہل حدیث نے ان کے ساتھ بالاکوٹ کی پہاڑیوں سے لے کر کالا پانی کی ویرانیوں تک ان سے جنگ لڑی۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  ہمارے ان اکابرین کے کارہائے نمایاں  کو اوراق تاریخ میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اہل حدیثوں کی تاریخ اور ان کے ارتقاء کو بیان کیا گیا ہے۔ اور اہل حدیث کی قدامت‘ لقب اہل حدیث‘ ہند میں اہل حدیث کی آمد‘ خدمات محدثین‘ جنگ آزادی اور خدمات اہل حدیث‘ تحریک پاکستان اور خدمات اہل حدیث‘ اکابر علماء اور زعماء کی خدمات  جیسے عناوین کو کتاب ہذا کی زینت بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ اہل حدیث منزل بہ منزل ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفور راشد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 4 واضح البیان فی تفسیر ام القرآن (منگل 05 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1406

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔قرآن مجید کی خدمت کو ہر مسلمان اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ واضح البیان فی تفسیر ام القرآن‘‘ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی ہے۔ جس میں تفسیر کی تاریخ و تحریک، طرق، تفسیر بسم اللہ شریف اور سورۃ الفاتحہ کی مفصل تفسیر کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1848
  • اس ہفتے کے قارئین: 15120
  • اس ماہ کے قارئین: 29091
  • کل قارئین : 48464335

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں