دکھائیں کتب
  • 21 ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر5 ، جنوری 2016ء (اتوار 15 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:947

    اس وقت رشد کا پانچواں شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے محرکات‘‘ ہے۔سترہویں صدی ہجری کے صنعتی انقلاب اور بیسویں صدی ہجری کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں سارے عالم کو متاثر کیا، وہاں مذہب کی دنیا میں بھی ان گنت سوال پیدا کر دیے ہیں۔ مثلاً صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے کاروبار کی ہزاروں ایسی نئی شکلیں متعارف ہوئیں ہے کہ جن کی شرعی حیثیت معلوم کرنا وقت کا ایک اہم تقاضا تھا۔ سیاسی انقلاب نے جمہوریت، انتخابات، پارلیمنٹ، آئین اور قانون جیسے نئے تصورات سے دنیا کو آگاہی بخشی۔ معاشرتی تبدیلیوں سے مرد وزن کے باہمی اختلاط اور باہمی تعلق کی حدود ودائرہ کار جیسے مسائل پیدا ہوئے۔ میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایجادات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا کہ جس سے کئی ایک ایجادات کے بارے شرعی حکم جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پس بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں اجتہاد کی تحریکیں برپا ہوئیں۔ تہذیب وتمدن کے ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسائل میں علماء نے رہنمائی کی، فتاویٰ کی ہزاروں جلدیں مرتب ہوئیں۔ اور اجتہاد کے عمل کو منظم انداز میں وقت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی اجتہاد کے ادارے وجود میں آنے لگے۔ اس مقالے میں بیسویں صدی عیسوی کی اجتماعی اجتہاد کی اس تحریک کے پس پردہ محرکات اور اسباب کا ایک جائزہ پیش کیاگیا ہے۔ دوسرے مقالے کا عنوان ’’ جدید تصور درایت اور جدت پسند مفکرین کے درایتی اصول ‘&lsqu...

    رشد 
  • اس وقت رشد کا چھٹا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی اجتہاد کا مفہوم: ایک ارتقائی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے کہ جسے راقم نے ترتیب دیا ہے۔ اجتماعی اجتہاد ایک جدید اصطلاح ہے جبکہ اس کا تصور قدیم ہے۔ اجتماعی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ علماء کی ایک جماعت مل کر قرآن وسنت کی گہرائیوں اور وسعتوں سے کسی مسئلے کا شرعی حکم نکالنے کے لیے مقدور بھر کوشش کرے۔ آج کل مسلم دنیا کے بہت سے ممالک میں علماء کی سرکاری اور غیر سرکاری قسم کی مجالس اور کمیٹیاں جدید مسائل میں اجتماعی فتویٰ جاری کرتی ہیں جو کہ اجتماعی اجتہاد ہی کی صورتیں ہیں۔ عصر حاضر میں کچھ علماء نے اجتماعی اجتہاد کے اس عمل کو جامع مانع تعریف کی صورت میں مدون کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کے نتیجے میں اجتماعی اجتہاد کی کوئی دس کے قریب اصطلاحی تعریفات وضع ہو چکی ہیں۔ اس مقالے میں ان جمیع تعریفات کا تقابلی اور تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے اس عمل کے لیے مناسب تعریف اور اس کے لیے متعلقہ الفاظ کے انتخاب کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ دوسرے مقالے کا موضوع ’’اصول تفسیر کی تاریخ وتدوین‘‘ ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر جن اصولوں کی روشنی میں کی جاتی ہے، وہ اصول تفسیر کہلاتے ہیں۔ اس مقالہ میں اصول تفسیر کی تاریخ اور تدوین ہر سیر حاصل بحث کی گئی ہے کہ وہ کون کون سے مصادر یا فنون ہیں کہ جن میں اصول تفسیر سے متعلق ابحاث مدون ہوئی ہیں۔ یہ واضح رہے کہ اصول تفسیر کے نام سے اصول تفسیر پر بہت کم کتب لکھی گئی ہیں جبکہ اصول تفسیر کا بیان اکثر طور امہات تفاسیر کے مقدمات، علوم قرآ...

    رشد 
  • 23 ششماہی رشد ، جلد نمبر 13 ، شمارہ نمبر7 ،جنوری 2017ء (جمعرات 04 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:860

    محترم قارئین کرام!
    اس وقت ششماہی رشد کا ساتواں شمارہ (جنوری تا جون 2017ء ) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ "علوم عربیہ سے استفادہ میں افراط وتفریط اور اعتدال کی راہیں" کے عنوان سے ہے کہ جس کا موضوع مولانا حمید الدین فراہی ﷫کے اصول تفسیر ہیں۔ مقالہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ مولانا فراہی ﷫نے تفسیر قرآن مجید میں لغت عرب کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور ان کے نزدیک قرآن مجید کی تفسیر کا اولین اصول، ادب جاہلی ہے۔ مقالہ نگار نے مولانا فراہی ﷫کے اس اصول کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ ادب جاہلی مصادر تفاسیر میں سے ایک مصدر ہے لیکن اولین مصدر نہیں ہے لہذا اگر قرآن مجید کی لغوی تفسیر اور اس تفسیر بالماثور میں اختلاف ہو جائے تو پھر حدیث میں موجود تفسیر اور صحابہ کی تفسیر کو اس تفسیر پر ترجیح حاصل ہو گی جو عربی معلی کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اور مولانا حمید الدین فراہی صاحب﷫ کا موقف اس کے برعکس ہے کہ وہ حدیث میں موجود تفسیر اور صحابہ کی تفسیر پر لغت سے تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں اور اس بارے تفسیر بالماثور سے اعتناء نہیں فرماتے ہیں۔ شمارے کے دوسرے مقالے کا عنوان "امام ابن قیم ﷫ کا منہج بحث وتالیف" ہے۔ امام ابن قیم﷫قرون وسطی کے معروف فقیہ، مصنف اور محقق ہیں اور اس مقالے میں ان کے منہج بحث وتحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ امام ابن قیم﷫ ان فقہاء میں سے ہیں جو فقہی اور کلامی اختلاف کی صورت میں مسالک وفرق کی بجائے کتاب وسنت کی طرف رجوع کی دعوت پر زور دیتے ہیں۔ اور...

    رشد 
  • محترم قارئین کرام!
    اس وقت ششماہی رشد کا آٹھواں شمارہ (جولائی تا دسمبر 2017ء ) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ "روایت تصوف میں تزکیہ نفس کے ذرائع: ایک تجزیاتی مطالعہ" کے عنوان سے ہے۔ راقم نے اس مقالے میں واضح کیا ہے کہ تصوف کے بارے امت میں دو نقطہ ہائے نظر معروف ہیں، ایک یہ کہ یہ عین دین اسلام ہے اور دوسرا یہ کہ یہ دین اسلام کے متوازی ایک نیا دین ہے۔ اس مضمون میں تصوف کی روایت میں تزکیہ نفس کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع پر گفتگو کی گئی ہے کہ مراقبہ، سماع اور وجد، فناء اور بقاء، علائق دنیویہ سے انقطاع، مبشرات، کرامات اور متصوفانہ ادب وغیرہ کا اصلاح نفس میں کتنا کردار ہے؟ اس کے ساتھ یہ بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کتاب وسنت اور سلف صالحین کی نظر میں اصلاح نفس کے ان ذرائع کا کیا مقام اور مرتبہ ہے۔ دوسرا مقالہ "شریعت اور مقاصد شریعت: معانی اور مفاہیم" کے موضوع پر ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ امام شاطبی ﷫کی الموافقات کے بعد علماء کے حلقوں میں مقاصد شریعت کا مطالعہ ایک باقاعدہ فن کے طور ہونے لگا لہذا بہت سے علماء نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی کہ جس سے اس کی متنوع جہات تک رہنمائی حاصل ہوئی۔ اس مقالہ میں مقاصد شریعت کے متنوع معانی اور مفاہیم کو جمع کر کے اس کے اصل جوہر تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تیسرے مقالے میں "علم حدیث میں درایتی نقد کی حیثیت" کے موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ مقالہ نگاران کے مطابق عصر حاضر میں بعض متجددین نے محدثین کے ہاں متفق علیہ طور پر ثابت شدہ صحیح روایات کو اپنی تحقیق کا موضوع بنا...

    رشد 
  • محترم قارئین کرام!
    اس وقت رشد کا نواں شمارہ(جنوری تا مارچ 2018ء) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ "تحقیق حدیث میں از روئے متن شذوذ اور علت کی مباحث: ایک تحقیقی مطالعہ" کے عنوان سے ہے۔ شذوذ اور علت کی ابحاث روایت حدیث کی تحقیق کی اہم اور گہری ترین مباحث میں سے ہیں۔ اس مقالے میں متن حدیث میں شذوذ اور علت کی پہچان کے اصول وضوابط کا تعارف کروایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بتلایا گیا ہے کہ حدیث کی تحقیق میں سند کی تحقیق اور متن کی تحقیق یہ دو معیارات الگ الگ نہیں ہیں بلکہ حدیث کی تحقیق کے تمام اسالیب میں اصل مدار سند ہی ہے۔ حدیث کے متن کی تحقیق سے متعلق جتنی مباحث ہمیں اصول حدیث کی کتب میں ملتی ہیں، ان کا آخری نتیجہ بھی یہی ہے کہ سند کی دوبارہ یا سہ بارہ تحقیق ہو جائے۔ پس حدیث کے متن کی تحقیق کے لیے نقد روایت کے نام نہاد درایتی معیار کو مستقل معیارِتحقیق قرار دینا درست طرز عمل نہیں ہے۔ شمارے کا دوسرا مقالہ " تبدیلی احکام پر اولیات عمر سےاستدلال اوراس کاتجزیہ " کے موضوع پر ہے۔ "اولیات عمر " سے مراد وہ احکامات ہیں جو حضرت عمر نے پہلے پہل اپنی خلافت میں جاری فرمائے۔ مقالہ نگار کے مطابق متجددین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ "اولیات عمر " اس بات کی دلیل ہیں کہ احوال وظروف کے تبدیل ہو جانے سے شرعی احکام بھی بدل جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مقالہ نگار نے یہ ثابت کیا ہے کہ "اولیات عمر " کا تعلق شرعی احکام کی منسوخی سے نہیں ہے بلکہ یہ حضرت عمر کا شریعت کی عمومی تعلیمات کا فہم ہے جو کہ انہوں نے بطور قانون نافذ...

    رشد 
  • 26 ضیائے حدیث (ختم نبوت نمبر) (اتوار 18 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2389

    تمام مسلمانوں کا یہ متفق  علیہ عقیدہ ہے کہ   نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے سب سے آخری نبی رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔( مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ) محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے)  ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا  ہےکہ آپﷺہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔ خود نبی کریم ﷺنے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔(اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ) اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔اس حدیث پاک سے ثابت ہوگیا کہ آپ ﷺکے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔ آپ ﷺ نے نب...

  • 27 ماہنامہ السنۃ وسیلہ نمبر (بدھ 28 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2935

    وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جو مقصود تک پہنچا دے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔
    1۔اللہ تعالیٰ کے اسماء کا وسیلہ قرآن میں ہے: وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا(الاعراف:108)’’اور اللہ کے اچھے نام ہیں پس تم اس کے ناموں سے پکارو‘‘۔اللہ تعالیٰ سے اس کے اسماء حسنیٰ کے وسیلہ سے دعا کرنا درست ہے جیسا کہ اوپر آیت میں ذکر ہے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبیﷺ سے دعا کا پوچھا تو آپﷺ نے یہ دعا پڑھنے کا کہا: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ "(صحيح بخاری:834’)’اے اللہ ! یقیناً میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ۔پس تو اپنی خصوصی بخشش کے ساتھ میرے سب گناہ معاف کردے او رمجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے دو اسماء کو وسیلہ بنایا گیا۔ 2۔اللہ کی صفات کے ساتھ وسیلہ حدیث میں ہے: ’’اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي‘‘(سنن النسائی :1306)’’اے اللہ میں تیرے علم غیب او رمخلوق پر قدرت کے وسیلے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ جب تک تیرے ع...

  • شہید ملت علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒسیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔علامہ صاحب ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ بچپن ہی سے بڑے ذہین او ر فطین ثابت ہوئے۔درس نظامی کی تکمیل کے  بعد  حصول  تعلیم  کےلیے  آپ مدینہ یونیورسٹی  تشریف لے  گئے وہاں شیخ ناصر الدین  البانی ،شیخ  ابن باز ،شیخ    شنقیطی  وغیرہم  جیسے  کبار اہل علم  سے شرف تلمذ  حاصل کیا ۔ مدینہ یونیورسٹی میں  شیخ  الحدیث  حافظ ثناء اللہ مدنی ،حافظ عبد الرحمن مدنی ،ڈاکٹر  محمد لقمان سلفی  حفظہم اللہ  آپ کے ہم کلاس رہے ۔علامہ  صاحب  وہاں سے  سند فراغت  حاصل کرکے   وطنِ عزیز میں واپس تشریف لے آئے  اور زندگی بھر  اسلام کی دعوت وتبلیغ ،نفاذ اسلام کی جدوجہد ،  فرق  باطلہ  کارد  او رمسلک حق اہل  حدیث کی ترجمانی  کرتے  ہوئے اپنے  خالق حقیقی سے جاملے ۔  آپ پر صحیح معنوں میں اہلحدیثیت کا رنگ نمایاں تھا۔آپ ایک تاریخ ساز شخصیت کے حامل تھے۔ آپ میدان خطابت  کےشہسوار  تھے ۔شیخ الحدیث مولانا حافظ اسماعیل سلفی ؒ نے آپ کو مولانا سید دائود غزنوی ؒ کی اور اہلحدیثوں کی قدیم تاریخ ساز مسجد ’’جامع مسجد چینیانوالی اہلحدیث ‘‘ کی مسند میں لا کر کھڑا کر دیا۔ آپ 16کتابوں کے مصنف  بھی تھے ۔ علامہ شہید ؒ مسلک اہلحدیث کے ماتھے کا جھومر تھے۔ ۔ علامہ صاحب ؒ نے قادیانیت ، شیعیت فتنے کو آڑے ہات...

  • 29 ماہنامہ رشد لاہور ( حرمت رسول ﷺنمبر) (جمعہ 13 جون 2014ء)

    مشاہدات:2034

    سید الانبیاء  حضرت  محمد مصطفی ﷺ مسلمانوں  کے لیے  مرکزِ ملت کی حیثیت رکھتے ہیں  اور آپ ﷺسے محبت وعقیدت  مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص  کاایمان اس  وقت تک مکمل قرار نہیں دیا  جاسکتا  جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے  کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے  رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے  بڑھ  کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ  امتِ مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم  ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط  ہے۔ دورِ  نبوی ﷺ میں  صحابہ  کرام ﷢ اور بعد کے ادوار میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے  ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر کسی بد بخت نے  آپﷺ کی  شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے  شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا  قتل کے  حوالے  سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت  میں  بے  شمار واقعات موجود ہیں  ۔اور اہل  علم  نے  تحریر وتقریر کے ذریعے  بھی  ناموس رسالت  کا حق اداکیا ہے  شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫نے اس  موضوع پر  ’’الصارم المسلول  علی شاتم الرسول ﷺ ‘‘کے  نام سے  مستقل کتاب&nb...

  • 30 ماہنامہ رشد لاہور ( حرمت رسول ﷺنمبر) (جمعہ 13 جون 2014ء)

    مشاہدات:2034

    سید الانبیاء  حضرت  محمد مصطفی ﷺ مسلمانوں  کے لیے  مرکزِ ملت کی حیثیت رکھتے ہیں  اور آپ ﷺسے محبت وعقیدت  مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص  کاایمان اس  وقت تک مکمل قرار نہیں دیا  جاسکتا  جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے  کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے  رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے  بڑھ  کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ  امتِ مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم  ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط  ہے۔ دورِ  نبوی ﷺ میں  صحابہ  کرام ﷢ اور بعد کے ادوار میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے  ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر کسی بد بخت نے  آپﷺ کی  شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے  شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا  قتل کے  حوالے  سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت  میں  بے  شمار واقعات موجود ہیں  ۔اور اہل  علم  نے  تحریر وتقریر کے ذریعے  بھی  ناموس رسالت  کا حق اداکیا ہے  شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫نے اس  موضوع پر  ’’الصارم المسلول  علی شاتم الرسول ﷺ ‘‘کے  نام سے  مستقل کتاب&nb...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 761
  • اس ہفتے کے قارئین: 2431
  • اس ماہ کے قارئین: 42566
  • کل قارئین : 46024876

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں