ڈاکٹر سعید الرحمن بن نور حبیب

3 کل کتب
دکھائیں

  • اشاریہ سازی کی ابتداء مذہبی کتابوں کے لیے مرتب اشاریوں سے ہوئی۔ یہ اشاریے جو سولہویں، سترہویں صدیوں میں مرتب ہوئے الفاظ ، نام یا عبارت کے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتے تھے ، اشاریہ متلاشی معلومات کے لیے درکار معلومات کی نشاندہی کا وسیلہ ہے کتابوں کے برعکس رسائل کی اشاریہ سازی نسبتا زیادہ قدیم نہیں ۔ یوں تو سائنسی علو م میں تحقیق کی روز افزوں رفتار کی بدولت رسائل کی اشاعت کی تعدا د اٹھارہویں صدی سے ہی بڑھنے لگی تھی لیکن انیسویں‎ صدی کے آخری دور تک ان میں شائع مضامین کی تعداد اتنی بڑھ چکی تھی کہ باحثین کو اشاریہ کی مدد کے بغیر واقفیت حاصل کرنا مشکل ہو گیاجس کے نتیجہ میں رسائل کی اشاریہ سازی کی داغ بیل پڑی ۔ آج اہمیت اور افادیت کے اعتبار سے کتابوں کے اشاریے سے کہیں زیادہ رسائل کے اشاریوں کا مقام ہے ۔ رسائل کے اشاریہ سازی میں معاون قاعدے اور ضابطے مرتب ہوئے ہیں ، جواشاریہ سازی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وضع کیے گئے ۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اردو زبان میں اشاریہ سازی کے کام میں بڑی ترقی ہوئی ہے ۔ اس وقت برصغیر ہند و پاک سے لاتعداد رسائل و جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ یہ جرائد ادبی، نیم ادبی، سیاسی، مذہبی،سماجی اور دیگر موضوعات پرمشتمل ہیں۔ رسائل و جرائد کی اشاعت کی ایک طویل تاریخ ہے اور موضوعات کے اعتبار سے ان کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اہمیت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے کیونکہ آگے چل کر یہی رسائل و جرائد تاریخ نویسی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض رسائل و جرائد کی اہمیت تو کتابوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کا انتظار قارئین کو بے چین کیے رکھتا ہے۔ ان رسائل...

  • موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا  نے جس قدر ترقی کی منازل طے کی ہیں اس سے  یوں محوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں لوگوں کے تمام معاملات الیکٹرانک میڈیا کے گرد ہی گھومیں گے اور رسائل وجرائد ایک مخصوص طبقے تک محدود ہوکر رہ جائیں کے ۔ جب کہ یہ دینی رسائل وجرائد ہماری تہذیب اور دینی صحافت کا حصہ ہیں ۔ ذرائع ابلاغ اور میڈیا میں سے یہی ایک وہ طاقت ہے جس کے ذریعے مسلم قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتی  اوراپنی منزل کا تعین کرسکتی ہے ۔ دینی رسائل ہی لوگوں کو دین ِخالص کی تعلیمات سے  روشناس اور موجودہ فتنوں سے آگاہ کرتے ہیں ۔ برصغیر پاک وہند میں اردو زبان میں   بے شمار دینی، ادبی ، سیاسی  مجلات شائع ہوتے ہیں جن کااحاطہ کرنا مشکل ہے ۔پاکستان سے شائع ہونے والے اہم  مجلات کے تعارف کےسلسلے  میں ڈاکٹر سعید الرحمن کی زیر نظر کتاب ’’مجلات ِاسلامیات(نیشنل ڈائریکٹری اسلامک سٹڈیز ریسرچ جزنلز)‘‘ اہم کاوش ہے  اس کتاب میں  انہوں نے  ہائیر ایچوکیشن کمیشن پاکستان سے منظوری پانے  والے اور منظوری کے خواہاں تحقیقی مجلات کی کیٹگریز بنا کر ان کا تعارف پیش کرنے کے علاوہ  اہل علم وادب کی نظر میں رسائل جرائد ومجلات کی علمی ، ادبی وتحقیقی افادیت  کو  بھی پیش کیا ہے  ۔اور علوم اسلامیہ کے فیکلٹی ممبرز ، ایم فل ، پی ایچ ڈی سکالرز اور مدیرانِ جرائد کے لیے  مفید معلومات  اس کتاب میں جمع کردی ہیں ۔(م۔ا)

  • 3 معروضی مطالعہ غیر الہامی مذاہب (اتوار 25 اگست 2019ء)

    مشاہدات:383

    مذاہبِ عالم كو الہامی اور غیر الہامی میں تقسیم كیا جاتا ہے۔ الہامی سے مراد وہ ادیان ہیں جو خدا، اس كے رسولوں اور ان كی لائی ہوئی كتابوں پر یقین ركھتے ہیں اور  ان کا سرچشمہ وحی الہٰی ہے ۔ان کو سامی مذاہب بھی کہا جاتا ہے ۔ سامی نسل میں سے ایک لاکھ چوبیس ہزار(یاکم وبیش )پیغمبر مبعوث ہوئے ۔ ان میں سے بعض پیغمبروں پر چھوٹے چھوٹے صحیفے نازل ہوئے اور بعضوں کو سابقہ انبیاء کی شریعت کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ۔ اس كے برخلاف غیر الہام مذاہب سے مراد وہ ہیں جو اپنی تعلیمات اور عقائد كو خدائے وحدہُ لاشریك كی معیّن ہدایات كے تابع نہیں سمجھتے۔ الہامی مذاہب میں یہودیت، عیسائیت اور اسلام، جبكہ غیر الہامی میں بقیہ مذاہب آتے ہیں۔ غیر الہامی مذاہب کو منگولی اور آریائی مذاہب بھی کہا جاتا ہے ، تاؤازم،شنوازم،بدھ مت اورکنفیوشزم ،یہ تمام مذاہب منگول قوم کی طرف منسوب ہیں۔بعض علماء بدھ مت کو آریائی مذاہب میں شمار کرتے ہیں اور بعض منگولی مذاہب میں شمارکرتے ہیں ہندومت،جین مت،سکھ مت اور زرتشت یہ تمام مذاہب کی نسبت آریہ قوم کی طرف منسوب ہیں۔ زیرنظرکتابچہ’’ معروضی مطالعۂ غیر الہامی مذاہب‘‘محترم جناب سعید الرحمن صاحب (اسسٹنٹ پروفیسر عبدالولی خان یونیورسٹی،مردان) کی کاوش ہے ۔یہ کتابچہ غیر الہامی مذاہب(ہندومت،بدھ مت،جین مت،سکھ مت،تاؤمت، کنفیوشیت،شنٹومت،زرتشت،بہائیت،ذکری مذہب،قادیانیت) کےتعارف ، تاریخی پسِ منظر، بانیان وبادیان، اساسی عقائد، مقدس کتب، مذہبی رسومات وغیرہ پر بنیادی معروضی ...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1605
  • اس ہفتے کے قارئین: 15033
  • اس ماہ کے قارئین: 29854
  • کل قارئین : 46428984

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں