اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #4155

    مصنف : غلام رسول مہر

    مشاہدات : 2180

    سفر نامہ حجاز 1930ء

    (اتوار 28 فروری 2016ء) ناشر : یادگار لائبریری گوجرانوالہ

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سےبھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن ،لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں ۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سفر نامہ حجاز ‘‘ مولانا غلا م رسول مہر﷫ کے سفرحجاز کی روداد ہے ۔مولانا غلام رسول مہر نے خادم الحرمین الشریفین سلطان عبدالعزیز ابن سعود﷫ کی دعوت پر سفرمبارک کا عزم فرمایا تھااو ر23؍اپریل 1930 کو کراچی سے روانہ ہوئے۔مولانا اسماعیل غزنوی ﷫اور چند دیگر احباب ان کےہم سفرتھے ۔ ارض حرم میں 29؍ مئی1930ء تک انہیں قیام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔اس دوران سلطان ابن سعود سے ان کی ملاقات ہوئی ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور سعادتِ حج سےبھی مشرف ہوئے ۔اس سفر مبارک کی ہر منزل ہر مقام، قیام کی صحبت ومصروفیت کی روداد روزنامہ ’’انقلاب‘‘ لاہور میں اپریل سے جولائی تک خطوط کی صورت میں قسط وار شائع ہوئی۔یہ خطوط انہوں نے ’’انقلاب‘‘ کےمدیر ثانی عبد المجید سالک کے نام مختلف مراحل ومقامات سے ارسال کیے تھے ۔ 29؍مئی 1930ء کو مولانا مہر جس بحری جہاز سے واپس ہوئے اسی میں قاضی سلیمان سلمان منصورپوری﷫(مصنف رحمۃ للعالمین) بھی اپنے سترہ رفقا کے ساتھ سوارتھے۔ قاضی صاحب سخت علیل تھے او ران کا سانحۂ ارتحال30؍مئی کوبحالتِ سفر جہاز ہی میں پیش آیا۔ قاضی صاحب کی علالت ،ان کی وفات اور پھر ان کی میت کی سپردِ آب کرنے کی روداد مولانا غلام رسول مہر نےبڑی دل سوزی اورافسردگی سےساتھ قلم بند کی ہے جسے اس سانحۂ ارتحال کےایک اہم اور چشم دید ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔یہ روداد بھی اس سفر نامہ میں شامل اشاعت ہے ۔اس سفر نامہ کی مطبوعہ اقساط کو ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہان پوری نے اپنے ادبی اور دینی ذوق کی بناپر 1970۔71 میں ’’انقلاب اخبار سے نقل کر مرتب کیا ۔اس سفرنامہ کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے ہیں ۔ایڈیشن ہذا محترم جناب ضیاء اللہ کھوکھر آف گوجرانوالہ نے 1984ء میں شائع۔۔مولانا غلام رسول مہر کا یہ دوسرا سفر حجاز تھا۔ اس سے قبل آپ وفد خلافت کے رکن کی حیثیت سے یکم نومبر 1924ء کو مولانا ظفر علی خان کی معیت میں پہلی مرتبہ کراچی سے حجازِ مقدس کےسفر پر روانہ ہوئے۔جہاں ان کاقیام22جنوری 1926ء تک رہا۔مولانا مہر نےاپنے اس سفر کی روداد اور حجاز مقدس میں اپنے قیام ،مشاہدات او رتجربات کی سرگزشت بھی قلم بند کی تھی جو اُس وقت روزنامہ ’’زمیندار‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔ (م۔ا)

  • 2 #4166

    مصنف : ضیاء اللہ کھوکھر

    مشاہدات : 1779

    تعلیم گاہوں کے رسائل و جرائد

    (منگل 01 مارچ 2016ء) ناشر : یادگار لائبریری گوجرانوالہ

    انسان ازل سے حالات سے باخبر رہنے کا خواہش مند رہا ہے اس کی یہ خواہش مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے پوری ہوتی رہی ہے۔ شروع میں تحریریں پتھروں اور ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں، پھر معاملہ درختوں کی چھال اور چمڑے کی طرف بڑھا۔ زمانہ نے ترقی کی تو کاغذ او رپریس وجود میں آیا۔ جس کے بعد صحافت نے بے مثال ترقی کی، صحافت سے بگڑی ہوئی زبانیں سدھرتی ہیں، جرائم کی نشان دہی اور بیخ کنی ہوتی ہے، دوریاں قربتوں میں ڈھلتی ہیں، معاشرتی واقعات وحوادثات تاریخ کی شکل میں مرتب ہوتی ہیں۔ بالخصوص نظریاتی اور اسلامی صحافت معاشرہ کی مثبت تشکیل ، فکری استحکام، ملکی ترقی کے فروغ ، ثقافتی ہم آہنگی ، تعلیم وتربیت اصلاح وتبلیغ ، رائے عامہ کی تشکیل ، خیر وشر کی تمیز اور حقائق کے انکشاف میں بہت مدد دیتی ہے۔صحافت ایک امانت ہے، اس کے لیے خدا ترسی ، تربیت واہلیت اور فنی قابلیت شرط اول ہے۔ فی زمانہ بدقسمتی سے بہت سے ایسے لوگوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا ہے جن میں دینی اور اخلاقی اہلیت نہیں، اصول اور کردار کے لحاظ سے وہ قطعاً غیر ذمہ دار اور مغربی یلغار کی حمایت اور لادینی افکار کو نمایاں کرنے میں سر گرم ہیں۔۔حالاں کہ صحافت ایک مقدس اور عظیم الشان پیشہ ہے، جس کے ذریعے ملک وملت کی بہترین خدمت کی جاسکتی ہے ۔ اسلامی صحافت قوم کے ذہنوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ان کی فکری راہ نمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور ہدایت کی طرف لاتی ہے، برے کاموں سے روکتی اور اچھے کاموں کی ترغیب دیتی ہے۔جماعت اہل حدیث نے صحافت کی اس اہمیت کو دیکھتے ہوئے بھرپور انداز میں اس میں حصہ ڈالا ہے اور بے شمار رسائل وجرائد اور اخبارات کے ذریعے اصلاح معاشرہ کا عظیم الشان بیڑا اٹھایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  "تعلیم گاہوں کے رسائل وجرائد" محترم ضیاء اللہ کھوکھر  صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نےعبد المجید کھوکھر یاد گار لائبریری گوجرانوالہ کے ذخیرہ رسائل میں 1894ء سے 2005ء تک کے موجود تعلیمی  اداروں کے رسائل وجرائد  کا اشاریہ جمع فرما دیا ہے، تاکہ اس لائبریری سے استفادہ کرنے والوں کو آسانی رہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 923
  • اس ہفتے کے قارئین 6908
  • اس ماہ کے قارئین 45302
  • کل قارئین49320353

موضوعاتی فہرست