غلام رسول مہر

4 کل کتب
دکھائیں

  • 1 جماعت مجاہدین (پیر 21 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:1869

    مولانا غلام رسول کی شخصیت کسی تعارف کی  محتاج نہیں  انہوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن وہ ایک اچھے مؤرخ اور محقق بھی تھے۔ تاریخ و سیرت میں انکا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسلام اور دینی علوم کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے متعدد تصانیف اور تالیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ غالب پر انکی کتاب کو غالبیات میں ایک بڑا اضافہ سمجھا جاتا ہے۔ حضرت سید احمد بریلوی کی سوانح حیات انکا اہم کارنامہ ہے۔ حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات بھی سرگزشت مجاہدین کے نام سے لکھے غالب کے خطوط دو جلدوں میں ترتیب دیے۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے۔زیر نظرکتاب  بھی مولانا غلام رسول مہر کی تصنیف ہے  جس کو انہو ں نے  دو حصوں میں تقسیم کیاہے  پہلے حصہ میں جماعت مجاہدین کی تنظیم وترتیب کے  متعلق  تفصیلات  پیش کی ہیں  او ردوسرے  حصےمیں سید صاحب کے ان مجاہدوں اور رفیقوں کے سوانح حیات درج کیے ہیں کہ جو ان کی زندگی میں ان کے ساتھ شہید ہوئے یا جنہیں خو د سید صاحب نے  دعوت وتبلیغ پرمتعین کیا تھا او رانہیں مشاغل میں زندگی گزار کر  مالک حقیقی سے  جاملے  (م۔ا)

     

  • 2 سفر نامہ حجاز 1930ء (اتوار 28 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1866

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سےبھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن ،لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں ۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سفر نامہ حجاز ‘‘ مولانا غلا م رسول مہر﷫ کے سفرحجاز کی روداد ہے ۔مولانا غلام رسول مہر نے خادم الحرمین الشریفین سلطان عبدالعزیز ابن سعود﷫ کی دعوت پر سفرمبارک کا عزم فرمایا تھااو ر23؍اپریل 1930 کو کراچی سے روانہ ہوئے۔مولانا اسماعیل غزنوی ﷫اور چند دیگر احباب ان کےہم سفرتھے ۔ ارض حرم میں 29؍ مئی1930ء تک انہیں قیام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔اس دوران سلطان ابن سعود سے ان کی ملاقات ہوئی ان کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور سعادتِ حج سےبھی مشرف ہوئے ۔اس سفر مبارک کی ہر منزل ہر مقام، قیام کی صحبت ومصروفیت کی روداد روزنامہ &...

  • 3 سید احمد شہید (منگل 19 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2094

    سیداحمدشہید 1786ء بھارت کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ دائرہ شاہ علم اللہ میں پیداہوئے۔ بچپن سے ہی گھڑ سواری، مردانہ و سپاہیانہ کھیلوں اور ورزشوں سے خاصا شغف تھا۔ والد کے انتقال کے بعد تلاشِ معاش کے سلسلے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ لکھنؤ اور وہاں سے دہلی روانہ ہوئے، جہاں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور شاہ عبد القادر دہلوی سے ملاقات ہوئی، ان دونوں حضرات کی صحبت میں سلوک و ارشاد کی منزلیں طے کی۔ خیالات میں انقلاب آگیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریک اور انکے تجدیدی کام کو لے کر میدانِ عمل میں آگئے۔یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی، مشرکانہ رسوم و بدعات اسلامی معاشرہ میں زور پکڑ رہے تھے، سارے پنجاب پر سکھ اور بقیہ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکے تھے۔ سید احمد شہید نے اسلام کے پرچم تلے فرزندانِ توحید کو جمع کرنا شروع کیا اور جہاد کی صدا بلند کی، جس کی بازگشت ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لیکر خلیج بنگال کے کناروں تک سنائی دی جانے لگی، اور نتیجتاً تحریک مجاہدین وجود میں آئی ۔سید صاحب نے اپنی مہم کا آغاز ہندوستان کی شمال مغربی سرحد سے کیا۔ سکھوں سے جنگ کر کے مفتوحہ علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کیے۔ لیکن بالآخر ١۸۳١ میں رنجیت سنگھ کی کوششوں کے نتیجے میں بعض مقامی پٹھانوں نے بے وفائی کی اور بالاکوٹ کے میدان میں سید صاحب اور انکے بعض رفقاء نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ سید احمدشہید کی تحریک مجاہدین اور ان کے جانثار رفقاء کے حوالے سے متعد ر سوانح نگار ورں نے مطول اور مختصر کتب تحریر کی ہیں۔ کتاب ہذا &rsq...

  • 4 تحریک سید احمد شہید جلد اول (منگل 09 اپریل 2019ء)

    مشاہدات:871

    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے  اپنی  قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحیدِ خالص  کی اساس قائم کی   یہ شاہ  ولی اللہ  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  شہید  تھے ۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حرّیت کی ایک  عظیم مثال قائم کی جن کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا  کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے  مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی  نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور  ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد  ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی  کی کیفیت می...


4 کل کتب
دکھائیں

  • 2 انسائکلو پیڈیا تاریخ عالم جلد 1 (پیر 10 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:22838

    انسانی معاشرے یا اس کے کسی حصے کے آغاز، ارتقاء ، ترقی اور تنزل کے بارے میں معلومات کا علم تاریخ کہلاتا ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات معلوم کرنے اور اس کے مطالعہ کا شوق بہت زیادہ پرانا ہے۔ انسان کو اپنے گردو پیش کے حالات سے اس وقت سے دلچسپی ہے جب کہ وہ جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا تھا ظاہر ہے کہ یہ شوق گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید پروان چڑھتا گیا۔ زیر نظر کتاب اسی شوق کی تکمیل کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ مصنف نے کتاب میں اختصار کے ساتھ تاریخ عالم پر مکمل فروگزاشت پیش کی ہیں جس میں دنیا میں بسنے والے تقریباً تمام ممالک کی تاریخی و واقعاتی حیثیت سامنے آگئی ہے۔ کتاب کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے جس کے مصنف ولیم ایل لینگر ہیں اردو ترجمہ پاکستان کی مشہور شخصیت غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ مصنف اگرچہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر بھی تاریخ اسلام پر وافر معلومات فراہم کی ہیں اگرچہ بعض جگہ پر ان کی معلومات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لا ریب یہ کتاب قابل تحسین اور ہر فرد کے لیے قابل مطالعہ ہے اور واقعتاً تاریخ عالم کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 3 اسلامی مملکت و حکومت کے بنیادی اصول (منگل 05 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2552

    قیامِ  پاکستان  کے ساتھ ہی یہ سوال  بہت اہمیت اختیار کرگیا کہ پاکستان میں کس قسم کانظام نافذ ہونا چاہیے ۔ مختلف ادوار میں مختلف ادارےوجود میں آئے جو ہمارے ارباب اقتدار کو یہ مشورہ دے سکیں کہ ہمارے  ملک  کانظام کس طرح اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق ترتیب دیا جائے ۔اس  سلسلے  میں ڈاکٹر حمید اللہ او ر محمد اسد بھی مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے  رہے۔زیر نظر کتاب ’’اسلامی مملکت وحکومت کے بنیادی اصول‘‘ محمداسد کے حکومتِ پاکستان کو  ایک اسلامی  مملکت  بنانےکے لیے کتابی صورت میں دیئے جانے والے مشورں  کا اردو ترجمہ  ہے  ۔ کتاب کے مصنف نو مسلم  ہیں  ۔انہوں نے  بڑی محنت سے  عربی زبان وادب اور علوم اسلامی کاعلم حاصل کیا اورقرآن مجیدکا انگریزی ترجمہ بھی  کیا اوراس  پر

  • 4 پاکستان معاشرہ اور ثقافت (ہفتہ 10 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:1077

    پاکستان کا معاشرہ اور ثقافت مغرب میں بلوچ اور پشتون اور قدیم درد قبائل جیسے پنجابیوں، کشمیریوں، مشرق میں سندھیوں، مہاجرین، جنوب میں مکرانی اور دیگر متعدد نسلی گروہوں پر مشتمل ہے جبکہ شمال میں واکھی، بلتی اور شینا اقلیتیں. اسی طرح پاکستانی ثقافت ترک عوام، فارس، عرب، اور دیگر جنوبی ایشیائی، وسطی ایشیاء اور مشرق وسطی کے عوام کے طور پر اس کے ہمسایہ ممالک، کے نسلی گروہوں نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے. کسی بھی معاشرے کے افراد کے طرزِ زندگی یا راہ عمل جس میں اقدار ، عقائد ، ر سم ورواج اور معمولات شامل ہیں ثقافت کہلاتے ہیں، ثقافت ایک مفہوم رکھنے والی صطلاح ہے اس میں وہ تمام خصوصیات ( اچھائیاں اور برائیاں ) شامل ہیں جو کہ کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہیں دنیا میں انسانی معاشرے کا وجود ٹھوس ثقافی بنیادوں پر قائم ہے انسان ثقافت و معاشرہ لازم و ملزوم ہیں ، ہم ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے ، ثقافت کے اندر انسانی زندگی کی تمام سر گرمیاں خواہ وہ ذہنی ہوں یا مادی ہوں شامل ہیں سی سی کون کا کہنا ہے کہ ” انسان کے رہن سہن کا وہ مجموعہ جو سیکھنے کے عمل کے ذریعے نسل در سنل منتقل ہوتا رہا ہے‘‘ ثقافت کہلاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان معاشرہ اور ثقافت‘‘ مصنفین: جان ائیرڈ، جان جے، ہونگمن، ڈینس برناٹ، میری جین کینیڈی، لوسین برناٹ، جیمز ڈبلیو، سپین زکیہ ایگلر، ہربرٹ ایچ اور وریلنڈ کی تصنیف ہے۔ جس کا اردو ترجمہ غلام رسول مہر اور عبد المجید سالک نے کیا ہے۔جس میں پاکستان جغرافیہ، معاشرہ اور ثقافت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ متر...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1662
  • اس ہفتے کے قارئین: 9061
  • اس ماہ کے قارئین: 37310
  • کل قارئین : 46512281

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں