مکتبہ رحمانیہ لاہور

  • 4 مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 1 (اتوار 26 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:30486

    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی...

  • 18 میزان الاعتدال اردو جلد اول (بدھ 01 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1571

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  &r...

  • ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتا...

  • 28 تقویٰ کیسے اختیار کریں (اتوار 18 اگست 2013ء)

    مشاہدات:5262

    دین اسلام میں تقوی اور احسان  کوبہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔اول الذکر کی بنیادخوف جبکہ مؤخرالذکر کی اساس شوق ہے ۔ دونوں ہی ایسے رویے ہیں جن میں اللہ کےتعلق کا اظہار ہوتا ہے ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں تعلیم کتاب حکمت کےساتھ ساتھ تزکیہ نفس پر بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ علمائے امت نے جہاں پہلے میدان میں اپنے اپنے جواہرات بکھیرے ہیں وہاں دوسرا بھی ان کی جولانیوں کا مرکز و محور رہا ہے ۔ چناچہ زیرنظر کتاب امام احمد بن حنبل  جیسے عظیم المرتبت استاذ کے عظیم شاگرد امام ابوبکر احمد بن محمد بن الحجاج المروزی کی مایہ ناز تصنیف ہے ۔ جسے جناب اختر فتح پوری صاحب نے بہت احسن طریقے سے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کچھ  اضافے بھی فرمائے ہیں ۔ ظاہر بات ہے دین میں تقوی کی اساس یہی ہے کہ اللہ سے ڈر کر اور خوف کھاتے ہوئے ان احکام پر عمل کیا جائے جو اس نے اپنے پیغمبر کے ذریعے نازل فرمائے ہیں ۔ اورقرآن میں بھی آیا ہے کہ ائے لوگو! اپنے رب کا تقوی اختیار کرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا ۔ کہیں فرمایا ائے لوگو! جو ایمان لائے ہو صحیح معنوں میں اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ اس کتاب میں دینی احکام کی اسی  روح کو بیدار کیا گیا ہے ۔ اللہ مصنف  اور مترجم  کو  اجر جزیل  سے  نوازے آمین ۔ (ع۔ح)
     

  • 29 اخلاق اور فلسفہ اخلاق (اتوار 01 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:5491

    اخلاقیات کی بنیاد کیا ہو ؟ فلسفہ یا مذہب اس حوالے سے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیں مختلف آرا نظر آتی ہیں ۔ اگر انبیاء اور وحی والہامی تعلیمات کو دیکھا جائے تو اس میں اخلاقیات کی بنیاد ہمیں مذہب ہی نظر آتی ہے ۔ اور اس کے بعد اگر یونانیوں کو دیکھا جائے تو ان کے ہاں اخلاقیات کی اساس فلسفہ ہے ۔ یونانیوں نے اخلاقیات کو ایک مستقل علم بنا دیا ۔ حتی کہ ارسطو نے اس پر ایک مستقل کتاب بھی لکھ ڈالی ۔ اس کے بعد عیسائیت اور اسلام نے پھر اخلاقیات کو مذہبی بنیاد فراہم کردی ۔ تاہم تاریخی طور پر یہ کشمکش جاری ہی رہے گی ۔ لیکن آج تک کے اس تاریخی تسلسل کو زیر نظر کتاب میں بحسن و خوبی بیان کر دیا گیا ہے ۔ اگرچہ یہ کتاب اپنے موضوع پر کوئی مستقل اضافہ تو نہیں البتہ اس کی تحریر میں مصنف کا جو بالخصوص جذبہ کار فرما ہے وہ یہ ہے کہ اردو کو ایک علمی زبان بنایا جائے اور یہ مواد دوسری زبانوں سے اردو میں منتقل کیاجائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ مصنف کی نظر میں آج تک اس موضوع پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ سب فلسفہ یا مذہب میں سے کسی ایک کی حمایت میں لکھی گئی ہیں ۔ اس میں کوشش کی گئی ہےکہ یہ موضوع غیر جانب دار ہو کر لکھا جائے ۔ (ع۔ح)
     

  • 30 الوجیز فی اصول فقہ (جمعرات 28 اگست 2014ء)

    مشاہدات:3760

    وہ علم جس میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے ، استدلال کے مراتب اور استدلال کی شرائط سےبحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے معین قواعد کا استخراج کیا جائے کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے مجتہد تفصیلی دلائل سے احکام معلوم کرے ، اس علم کا نام اصول فقہ ہے ۔علامہ ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص:452) جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے اس زبان کے قواعد واصول کو سمجھنا ضروری ہے اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول فقہ میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ فقہاء و محدثین نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً امام شافعی نے الرسالہ کے نام سے   کتاب تحریرکی پھر اس کی روشنی میں دیگر اہل علم نے کتب مرتب کیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ سید عبدالکریم زیدا ن کی اصول فقہ   کے موضوع پر جامع عربی کتاب کا ترجمہ ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو   چارابو اب(باب اول :حکم کی مباحث۔ باب دوم :احکام کے دلائل کی بحث میں۔باب ثالث:احکام کے استنباط کے طریقہ اور قواعد اور ان کے ساتھ ملحق قواعد ترجیح اور ناسخ ومنسوخ۔باب چہارم : اجتہاد ا راس کی شرائط ،مجتہد،تقلید اوراس کےتعریف۔) میں تقسیم کرکے   مثالوں کے ساتھ   تفصیلی مباحث پیش کی ہیں ۔یہ اپنی افادیت او رجامعیت کے...

  • 31 خلیہ اک کائنات (منگل 21 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2071

    قرآن کریم انسانوں کی رہنمائی کےلیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخری کتاب ہے ۔اس میں تمام سابقہ آسمانی کتابوں کا نچوڑ اور لب لباب موجود ہے اس لیے  یہ کتاب اس   مقام پر اانسان کی رہنمائی کرتی ہے جہاں اس کی عقل اپنی  آخری حدوں کو چھولینے کے بعد حیران راہ جاتی ہے ۔اس کتاب میں  اللہ تعالیٰ نے انسان کوجگہ جگہ اپنی قدرت کی نشانیوں کےذریعے  اپنے آپ کوپہچاننے  کی دعوت دی ہے ۔کہیں انسان کو اپنے  بدن پر غور  کرنے کی دعوت  ہے تو  کہیں اپنے ماحول پر ۔کہیں آسمانوں پر غور  کرنے کو کہا جارہا ہے   توکہیں پانی  اورآگ پر نظر التفات کرنے کی دعوت دی جاتی ہے  ۔اس دعوت کا مقصود صرف اور صرف یہ ہے کہ انسان کی نظر  مادے سے  ہٹا کرمادے  کے خالق کی جانب لگائی جائے ۔زیر نظر کتاب ’’ خلیہ ایک کائنات‘‘ ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے جس  میں  انہوں نے  اپنی دیگر  تصانیف کی طرح  سائنس  اور عقل کی بھول  بھلیوں میں  گم عقل انسانی  کو وحی  کی روشنی میں چلنے   کی دعوت دی ہے ۔اور انہوں نے ہمارے  ماحول میں پھیلے  لاکھوں اور کروڑوں  معجزوں میں سے صرف چند ایک کا تذکرہ  اس کتاب میں کیا ہے  اوراس بارے  میں سائنس کی آخری  حد بیان کرنے کے بعد  اس جانب توجہ دلائی ہے  کہ اس سے  آگے...

  • 32 سلسلہ معجزات (جمعرات 23 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2017

    کسی نبی یا رسول  سے ایسے  واقعہ کاظہور پذیر ہونا جو انسانی  عقل  وفکر سے بالاتر ہو ۔یہ  خصوصی واقعہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ اس کے نبی یا رسول کی صداقت عام لوگوں پر واضح ہوجائے  عمومی طور  پر  معجزے اس  مخصوص زمانے اور حالات کے مطابق ہوتے ہیں  جس میں  وہ نبی یا رسول  اپنی دعوت پیش کر رہا ہو ۔ قرآن مجید میں انہیں آیات (نشانیاں) قرار دیاگیاہے مختلف پیغمبروں کومختلف معجزے عطا ہوئے  تھےتا کہ  وہ ان کے ذریعے  سےاللہ  کی قدرت  کالوگوں   پراظہار  کرسکیں۔ نبی کریم  ﷺکوبھی  کئی معجزوں سے نوازا گیا  ان میں سے   واقعہ معراج او رواقعہ شق القمر زیادہ مشہور ہیں۔زیر نظر کتاب ’’سلسلہ معجزات ‘‘ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے  کائنات کی ابتداء سے آج تک  وقوع پذیر ہونے والی کئی مثالوں کا  تذکرہ کرنے کے ساتھ  ساتھ  اس وقت  دنیا  کے گوشے  گوشے میں پیش آنے والے  گزشتہ  اور آئندہ معجزوں کاتذکرہ کیا  ہے ۔او رمعجزات کی ان مثالوں  کو درج ذیل  ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔1 کائنات میں موجود معجزے۔2 زمین سمیت نظام شمسی میں موجود معجزے۔3جانداروں میں پائے  جانے والے   معجزات ۔اس کتاب  کاہدف قاری کےسامنے مختلف معجزات کی ایسی...

  • 33 انکشافات قرآن اسرار قرآنی (اتوار 26 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2679

    بہت سےلوگ سچے مومن ہونے کا دعویٰ کرنے   کے باوجود درحقیقت قرآن پر ایمان نہیں رکھتے ۔  غلط اور فرسودہ عقائد سے چمٹے رہتے  ہیں  اور ساری زندگی انہی پر فریب خیالات اور متناقض نظریات کی بھول بھلیوں میں گزار دیتے ہیں  ۔لیکن  قرآن  کواپنے لیے  مشعل  راہ اور رہنما بنانے سے گریزاں رہتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن ہی  ہر  شخص کے لیے  صحیح علم کاواحد ذریعہ ہےجس میں خدا کے راز ہائے تخلیق اپنے  درست ترین او رخالص ترین شکل میں موجود ہیں ۔ جو معلومات قرآن پر مبنی نہ ہو وہ  متناقض ہیں لہذا وہ  محض دھوکہ اور فریب  ہیں ۔اور جو لوگ قرآن  سے اپنا تعلق  نہیں جوڑتے  فریب  خوردگی  کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں  اور وہ آخرت میں خود کودائمی  عذاب  میں گرفتار پائیں گے ۔ قرآن مجید میں  اللہ تعالیٰ نے  انسانوں کو اوامر  ونواہی اوراعلیٰ اخلاقی معیارات سے  اگاہ کرنے کےعلاوہ کئی رازوں سے مطلع کیا ہے  ۔ یہ  بے حد اہم اور سچے راز  ہیں ایک حقیقت شناس  نگاہ زندگی  بھر ان کا مشاہدہ  کرسکتی  ہیں ۔قرآن  کے سوا ان رازوں سے آگاہی  کےلیے  کوئی اور ذریعہ نہیں ہے ۔قرآن ان کا واحد منبع او رماخذ ہے  کوئی شخص خواہ کتنا ہی  ذہین  وفطین ، تعلیم یافتہ اور نابغۂ روزگار ہو ان رازوں کو کہیں  اور سے تلاش نہیں کرسکتا۔زیر نظر  کتاب ’’ انکشافات  قرآن ‘‘ جدید اور سائ...

  • 34 جانداروں کا جذبہ قربانی (بدھ 01 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1976

    کائنات اللہ تعالیٰ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ انسان اس پر غور کر کے  اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتا ہے ۔اسی لیے  قرآن کریم  میں اللہ تعالیٰ نےجگہ جگہ انسانوں کو کائنات کی مختلف چیزوں اور مظاہر پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے کیونکہ مخلوق کودیکھ کر خالق کی جانب خیال ضرورجاتاہے ۔اس کائنات میں بے جان چیزوں  کےعلاوہ جانداروں کی بلامبالغہ لاکھوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔ہم ہر وقت مختلف جانداروں کو دیکھتے ہیں ۔ان کی شکلوں ،ان کی  ساخت او ران کے حجم اور ان کےرہن سہن کے طریقوں کےفرق کومحسوس کرتے ہیں مگر اس  سے آگے کسی  چیز پر غور کرنے کے روادار نہیں ہوتے ۔زیر نظر کتاب’’جانداروں کا جذبۂ قربانی‘  عالمی شہرت یافتہ  مصنف کتب کثیر ہ  ہارون یحیٰ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے بلا تفریق مذہب تمام انسانوں کی توجہ جانداروں کے رویوں کی جانب مبذول کرانے کی  کوشش کی   ہے۔پرندوں کےگھونسلوں سے لے کر جانوروں کے ایک دوسرے سے تعاون اور ایک دوسرے کی خاطرجان نثاری کااس انداز سے تذکرہ کیا گیا ہے کہ ہر سطر  پر زبان سے بے ساختہ ’’سبحان اللہ‘‘ نکل جاتاہے۔اس کتاب میں چیونٹی جیسےحقیر جاندار کےبارے میں جومعلومات فراہم کی گئی  ہیں وہ یقینا  ً انسان کو اس کے خالق کے بارے میں سوچنے پر محبور کر دیتی  ہیں ۔ یہ کتاب جہاں ایک  جانب نظریہ ارتقاء کی سائنسی انداز سے بیخ کنی کرتی ہے  وہیں دوسری جانب اللہ پر  ایما ن رکھنے والوں کوبھی اس کی مخلوق...

  • 35 اجمل الحواشی علی اصول الشاشی (جمعہ 06 فروری 2015ء)

    مشاہدات:4402

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے اپنے اپنے اصول وضع کئے ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔اصول شاشى احناف كى اصول فقہ پر لکھی گئی مشہور كتابوں ميں سے ایک ہے اور اس كے مؤلف ابو على الشاشى...

  • 36 اصلاح الرسوم (پیر 25 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2045

    عصر میں اکثر مسلمانوں کو  دیکھا جاتا ہےکہ   وہ اپنی رسومِ  اختراعیہ کے  اس قدر پابند ہیں کہ فرض وواجب کےکی ادائیگی چھوڑ دیتے  ہیں  مگر ان رسم ورواج کوپورے کرنے میں رائی برابر بھی کمی نہیں آنے دیتے۔اور ان کی بدولت طرح طرح  کی پریشانی اور تنگ دستی اور مصیبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں او ردین ودنیا دونوں کھو دیتے ہیں۔اور چونکہ رسم ورواج    عام ہے  اس لیے  ان کی برائی بھی دل میں بس برائے نام  ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب  مولانا اشرف علی تھانوی﷫ کی  تصنیف ہے جس میں  انہو ں نے  برصغیر  پاک وہند کے مسلمانوں  میں عبادت سمجھ کر  کی جانے والی بدعات ورسومات   کوبیان کیا ہے  جن کا  دین حق سے کوئی  تعلق نہیں۔مولانا  صاحب نے  رسومات  کی خرابیوں اور قباحتوں کوخوب واضح کیا ہے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر لاجواب کتاب ہے ۔اللہ اس کتاب کو  رسومات کے خاتمے کا ذریعہ بنائے (آمین ) (م۔ا)

  • 37 تاریخ حرمین شریفین (جمعرات 24 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:1468

    حرم مکی سے مراد مسجد حرام ہے مسجد حرام دینِ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ صاحب حیثیت مسلمانوں پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے۔سیدنا ابراہیم﷤ کا قائم کردہ بیت اللہ بغیر چھت کےایک مستطیل نما عمارت تھی جس کےدونوں طرف دروازے کھلے تھےجو سطح زمین کےبرابر تھےجن سےہر خاص و عام کو گذرنےکی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کے پتھر استعمال ہوئےتھےجبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو سیدنا ابراہیم﷤ نےرکھےتھے۔ خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں تک رہا تاوقتیکہ قریش نے 604ء میں اپنےمالی مفادات کےتحفظ کےلئےاس میں تبدیلی کردی کیونکہ زائرین جو نذر و نیاز اندر رکھتےتھےوہ چوری ہوجاتی تھیں۔قریش نےبیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ جگہ چھوڑ کر عمارت کو مکعب نما (یعنی کعبہ) بنادیا تھا۔اور اس پر چھت بھی ڈال دی تاکہ اوپر سےبھی محفوظ رہے، مغربی دروازہ بند کردیا گیا جبکہ مشرقی دروازےکو زمین سےاتنا اونچا کردیا گہ کہ صرف خواص ہی قریش کی اجازت سےاندر جاسکیں۔ اللہ کےگھر کو بڑا سا دروازہ اور تالا بھی لگادیا گیا جو مقتدر حلقوں کےمزاج اور سوچ کےعین مطابق تھا۔ حالانکہ نبی پاک ﷺ (جو اس تعمیر میں شامل تھےاور حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنےکا مشہور زمانہ واقعہ بھی رونما ہوا تھا) کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو ابراہیمی تعمیر کےمطابق ہی بنایا جائے۔سیدنا عبداللہ بن زبیر﷜ (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے اور سیدنا حسین﷜ کی شہادت کےبطور احتجاج یزید بن معاویہ سےبغاوت کرتےہوئےمکہ میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا تھا) نےنبی پاک﷜ کی خواہش کا احترام کرتےہوئے685ءمیں بیت اللہ...

  • 38 تاریخ المکۃ المکرمہ (جمعہ 25 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:1710

    بلدحرام مکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کو سب شہروں سےزیادہ محبوب ہے ۔ مسلمانوں کا قبلہ اوران کی دلی محبت کا مرکز ہے حج کا مرکز اورباہمی ملاقات وتعلقات کی آماجگاہ ہے ۔ روزِ اول سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعظیم کے پیش نظر اسے حرم قرار دے دیا تھا۔ اس میں ’’کعبہ‘‘ ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا سب سےپہلا گھر ہے ۔ اس قدیم گھر کی وجہ سےاس علاقے کو حرم کا درجہ ملا ہے۔ اوراس کی ہر چیز کو امن وامان حاصل ہے ۔ حتیٰ کہ یہاں کے درختوں اور دوسری خورد ونباتات کوبھی کاٹا نہیں جاسکتا۔ یہاں کے پرندوں اور جانوروں کوڈرا کر بھگایا نہیں جاسکتا۔اس جگہ کا ثواب دوسرےمقامات سے کئی گناہ افضل ہے۔ یہاں کی ایک نماز ایک لاکھ نماز کا درجہ رکھتی ہے ۔ مکہ مکرمہ کو عظمت ، حرمت او رامان سب کچھ کعبہ کی برکت سےملا ہے۔مکہ مکرمہ تاریخی خطہ حجاز میں سعودی عرب کے صوبہ مکہ کا دارالحکومت اور مذہب اسلام کا مقدس ترین شہر ہے۔ مکہ جدہ سے 73 کلومیٹر دور وادی فاران میں سطح سمندر سے 277 میٹر بلندی پر واقع ہے ۔ یہ بحیرہ احمر سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔یہ شہر اسلام کا مقدس ترین شہر ہے کیونکہ روئے زمین پر مقدس ترین مقام بیت اللہ یہیں موجود ہے اور تمام باحیثیت مسلمانوں پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ یہاں کا حج کرنا فرض ہے ۔مسجد حرام کے اندر قائم خانۂ کعبہ سیدنا ابراہیم ﷤اور سیدنا اسماعیل ﷤ نے تعمیر کیا ۔کعبۃ الله کی تعمیری تاریخ عہد ابراہیم اور اسماعیل ﷩سے تعلق رکھتی ہے اور اسی شہر میں نبی آخر الزماں محمد ﷺپیدا ہوئے اور اسی شہر میں نبی ﷺپر وحی کی...

  • 39 اسلامی دستور کے بنیادی اور رہنما اصول (ہفتہ 02 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1247

    عرصہ دراز سے جدیدتعلیم یافتہ لوگوں کی طرف سےیہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اسلام میں لچک پیدا کی جائے۔اور اب یہ مطالبہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ کہا جانے لگا ہے کہ اسلام کی تشکیل جدید کی جائے۔حیرت کی بات ہے کہ اگر تو یہ لوگ اسلام کو جانتے ہیں ، تو پھر یہ اسلام کو کیا بنانا چاہتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو پھر اسے جاننے اور سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ہیں۔کسی بھی مذہب کی تشکیل جدید یا اس میں مقرر شدہ رعایتوں کے بعد لچک اگر تحریف یا تبدیلی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے، یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی دستور کے بنیادی اور رہنما اصول"محترم م...

  • 40 اردو شرح مراح الارواح (ہفتہ 12 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:4892

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "اردو شرح مراح الارواح"شیخ احمد بن علی بن مسعود ﷫کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ وشرح ہے۔اردو ترجمہ اور شرح کرنے کی سعادت محترم مولانا ابو حمزہ محمد شریف صاحب نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں لغت عرب کے ایک اہم ترین باب علم الصرف پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اورمترجم وشارح کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 41 قرآنی آیات کے شان نزول (پیر 04 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:4041

    قرآن کریم آخری الہامی کتاب اور عالمی وابدی سرچشمۂ ہدایت کی حیثیت سے پڑھنے سمجھنے اور معاشرے میں اس کے قوانین کے اطلاق کے سلسلے میں جس اہتمام کاتقاضا کرتا ہے وہ کسی طرح محتاج بیان نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں جاننا ضروری ہے کہ قرآن کریم معاشرے میں اصلاح کے تدریجی طریق کار کے پیش نظر مختلف حالات میں نازل ہوتا رہا ۔ ا ن مخصوص حالات اور واقعات کی واقفیت ہر مسلمان فر د بالخصوص ہر مبلغ کے لیے از بس ضروری ہے ۔ کیونکہ قرآن کریم کے فہم کے لیے جن علوم کی ضرورت پڑتی ہے ان میں سے ایک اہم علم قرآن کریم کی مخصوص آیات کے شان نزول اوران کےمتعلق قصص واقعات کاجاننا بھی ہے قرآن کریم کی بعض آیات ایسی ہیں جن میں شان نزول کوجانے بغیر درست تفسیر ممکن ہی نہیں اور مفسر کوآیت کے صحیح معانی جاننے کے لیے شان نزول کو جانے بغیر چارۂ کار نہیں ہوتا۔علامہ ابن دقیق العید فرماتے ہیں: ’’شان نزول کابیان کرنا قرآن کریم کے معانی سمجھنے کا ایک قوی ذریعہ ہے ۔‘‘اسی اہمیت کے پیش نظر بہت سے علماء نے شان ِنزول کے لیے مستقل کتب تصنیف کیں ہیں اوران میں آیات قرآنی کے شان نزول کو تفصیل کےساتھ محفوظ کیا ہے ۔ ان حضرات میں امام علی بن مدینی، امام عبد الرحمن بن محمد اندلسی، امام ابو الحسن علی بن احمد ، امام ابن جوزی ،امام ابن حجر عسقلانی ، امام ابو الحسن علی بن احمد بن محمد الواحدی اور علامہ سیوطی﷭ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’قرآنی آیات کےشانِ نزول‘‘شیخ خالد عبد الرحمن العک کی اساب نزول کےموضوع پر بڑی عمدہ کتاب ’’ جامع اسبا...

  • اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام...

  • 53 تاریخ مدینہ منورہ ( مکتبہ رحمانیہ ) (منگل 19 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1850

    اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی ﷺ کی ہجرت سے قبل اس کا نام یثرب تھا اورغیر معروف تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔اس شہر میں بہت سے تاریخی مقامات , اور بکثرت اسلامی آثار وعلامات پائے جاتے ہیں جن سے شہر کی عظمت ورفعت شان کا پتہ چلتا ہے.اس شہر مقدس کی فضیلت میں بہت سی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن زید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: سیدناابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا کی، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم نے مکہ حرم قرار دیا، میں مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں یہاں کے مُد میں اس کے صاع میں (برکت ہو) جس طرح ابراہیم نے مکہ کے لئے دعاکی۔(صحیح بخاری)مدینہ منورہ کی فضیلت پر مبنی متعدد صحیح روایات موجود ہیں اور مدینہ منورہ کی تاریخ کے سلسلے میں الگ سے عربی واردو زبان میں کئی کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’تاریخ مدینۃ المنورۃ‘‘ محمد عبد المعبود کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے مدینہ منورہ کا محل وقوع،اسماء مدینہ منورہ، مدینۃ النبیﷺ کے فضائل وخصوصیات ، یہاں کے قدیم اور عصر حاضر کےقبائل،تہذیب وتمدن،مسجد نبوی کا تعمیری ارتقاء، مساجد مدینہ،تاریخی کنویں وغیرہ عنوانا ت قائم کرکے مسجد نبوی اور روضۂ رسول کی چودہ سوسالہ مکمل تاریخ ا س کتاب میں درج کردی ہے ۔(م۔ا)

  • 54 اشرف الانشاء اردو شرح معلم الانشاء جلد اول (جمعرات 26 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:7410

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " اشرف الانشاء اردو شرح معلم الانشاء "دو جلدوں پر مشتمل  محترم مولانا ابو حمزہ محمد شریف صاحب کی کاوش ہے ، جس میں انہوں نے عربی گرائمر کی مشہور ترین کتاب " معلم الانشاء"  کا اردو ترجمہ اور شرح پیش کی ہے۔عربی زبان وادب سیکھنے کے حوالے سے یہ ایک مقبول ترین کتاب ہے ،جو متعدد دینی مدارس اور سکولوں وکالجوں کے ایم اے عربی اور فاضل عربی کے نصاب میں داخل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 56 تاریخ حدیث و محدثین ( جدید ایڈیشن ) (جمعہ 10 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1934

    حدیث شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا اور آخری الہامی ذخیرہ وماخذ ہے جسے قرآن کریم کی طرح بذریعہ وحی زبان رسالت نے پیش کیا ہے ۔ یہ اس ہستی کا عطا کردہ خزانہ ہے جس کا ہر قول وعمل ،لغرش وخطاء سے پاک اور محفوظ ہے اسی لیے اس منصب عالی کے نتائج بھی ہر خطا سےمحفوظ ہیں ۔جب کہ دوسرے مناصب کی شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن وفہمی ناممکن اور فقہی استدلال فضول نظرآتے ہیں۔اس میں کسی کی پیونکاری کی ضرورت نہیں۔ یہ اس شخصیت کے کلمات ہیں جنہیں مان کر ابو بکروعمر ،عثمان وعلی یا ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کا رتبہ پایا ۔ جس نے اسے نہ مانا وہ ابو لہب اور ابو جہل ٹھہرا۔ یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے حسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ س...

  • 57 حدیث کی مشہور کتابیں اردو ترجمہ ’المستطرفہ‘ (ہفتہ 18 فروری 2017ء)

    مشاہدات:3023

    ابو عبداللہ محمد بن جعفر بن ادریس معروف الکتانی1857ء کو فاس شہر میں پیدا ہوئے۔ تما م علوم وفنون کی تعلیم اپنے خاندان میں ہی حاصل کی ۔ 18 سال کی عمر میں تحصیل علم کے بعد مشائخ اور بڑے علماء کے امتحان اور جانچ پرکھ کےبعد خانقاہ کتانیہ میں تدریس شروع کی اور بیس سال کی عمر میں فاس کی سب سے بڑی مسجد جامع قرویین میں تدریس کی ابتداء کی جہاں اپنے والد صاحب کی نگرانی میں تقریباً سب ہی علوم وفنون کی متعددکتابیں پڑھائیں۔تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کیا ۔فقہ) حدیث ،تاریخ، تصوف، تفسیر، سیرت اور انساب وغیرہ جیسے موضوعات پر ساٹھ سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ان کی اہم کتب میں سے زیر تبصرہ اہم کتاب ’’رسالہ المستطرفہ ‘‘ ہے۔ یہ کتاب علم حدیث اور کتب حدیث کے تعارف کے متعلق ہے۔ اس کتاب کا علوم حدیث اور تعارف محدثین کے حوالے سے کتابوں میں وہی مقام ہے جو عام علوم کی نسبت ابن ندیم کی مشہور کتاب الفہرست لابن الندیم کا ہے۔ یہ کتاب حدیث اور علوم حدیث کے 1400 کتابوں کے تذکرے اور چھ صد کے قریب مشہور محدثین کے تراجم اور تعارف پرمشتمل ہے۔ اس میں ہر کتاب صاحب کتاب کا مختصر جامع تعارف ،نقد اور تبصرہ علامہ کتانی نے بڑی جامعیت کےساتھ پیش کیاہے۔ کتاب ہذا اسی کتاب کاترجمہ ہے۔ترجمہ کی سعادت مولانا مفتی شعیب احمد نے حاصل کی ہے۔ مکتبہ رحمانیہ نے اسے حسن ِطباعت سےآراستہ کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 58 حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی (ہفتہ 25 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1701

    حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کے آباء واجداد اصل میں بخاراکے رہنے والے تھے ۔جو دہلی میں آکر سکونت پذیر ہوئے۔ آپؒ شہر دہلی میں 958ھ مطابق 1551ء پیداہوئے۔ آپ کا پورا نام شیخ ابو المجد عبدالحق بن سیف الدین دہلوی بخاری ہے، مغلیہ دور میں متحدہ ہندوستان کے مایہ ناز عالم دین اور محدث تھے۔ ہندوستان میں علم حدیث کی ترویج و اشاعت میں آپ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔آپ کی تعلیم وتربیت آپ کے والد نے بڑی محبت اور محنت سے کی ۔حضرت شخ ﷫ نے صر ف تین ماہ میں پورا قرآن پاک مکمل قواعدکے ساتھ اپنے والد ماجد سے پڑھ لیا۔ اورایک ماہ میں کتابت کی قدرت اور انشاء کا سلیقہ حاصل ہو گیا اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ اپنے والد ماجد سے حاصل کر لیے۔ اس دوران آپ نے جید علماء کرام سے بھی اکتساب علم کیا۔ 996ھ / 1588ء میں حجاز کا رخ کیا اور کئی سال تک حرمین شریفین کے اولیاء کبار اور علماء زمانہ سے استفادہ کیا۔ بالخصوص شیخ عبد الوہاب متقی خلیفہ شیخ علی متقی کی صحبت میں علم حدیث کی تکمیل کی۔ آپ نے ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔1642ء میں دہلی میں وفات پائی۔ زیر تبصرہ کتاب’’حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی ‘‘ خلیق احمد نظامی کی تصنیف ہے جو کہ پانچ حصوں ، مقدمہ او رآخر میں تعلیقات پر مشتمل ہے ۔فاضل مصنف نے مقدمہ میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی سے قبل ہندوستان میں علوم اسلامی کی نشوو نما کا جائزہ لیا ہے۔ اور اسلامی ہند کے مختلف زمانوں میں علوم دینی کی حالت پر بحث کی ہے اس مقدمہ کے مطالعہ سے ہندوستان کی علمی اور دینی تاریخ میں شیخ عبدالحق کا ص...

  • 59 موضوع روایات (جمعرات 25 مئی 2017ء)

    مشاہدات:1130

    بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث در حقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیہہ جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتن کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کےاختتام پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں...

  • 60 تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار (جمعہ 23 جون 2017ء)

    مشاہدات:1256

    تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہیں جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں ۔1930 ءمیں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے ۔ لیکن افسوس  کہ آج جب ایک عام پاکستانی اپنے روز مرہ کے معاملات کے سلسلے میں حکومت کے مختلف اداروں سے رابطہ کرتا ہے تو قدم قدم پر سر پیٹ کر رہ جاتا ہے۔اسے یقین ہو ج...

  • 61 التبیان فی علوم القرآن (جمعرات 29 جون 2017ء)

    مشاہدات:2032

    علوم القرآن سے مراد وہ تمام علوم وفنون ہیں جو قرآن فہمی میں مدد دیتے ہیں او رجن کے ذریعے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔ ان علوم میں وحی کی کیفیت ،نزولِ قرآن کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن،تاریخ تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، علم قراءات ،محکم ومتشابہ آیات وغیرہ ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول تفسیر سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن کے مباحث کی ابتداء عہد نبوی اور دورِ صحابہ کرام سے ہو چکی تھی تاہم دوسرے اسلامی علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد میں ہوا۔ قرآن کریم کو سمجھنے اور سمجھانے کے بنیادی اصول اور ضابطے یہی ہیں کہ قرآن کریم کو قرآنی اور نبوی علوم کی روشنی میں ہی سمجھا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ التبیان فی علوم القرآن ‘‘ کلیۃ الشریعہ والدراسات الاسلامیہ ، مکہ مکرمہ کے استاد محترم جناب محمد علی الصابونی کی تصنیف ہے ¬ جسے انہوں نے مدارس اسلامیہ کے لیے اپنی تدریسی یاداشتوں کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے تاکہ طالبان علوم نبوت اس سے استفادہ کرسکیں ۔ اصل کتاب چونکہ عربی زبان میں تھی تو جناب اخترفتح پوری صاحب نے اسے اردودان طبقہ کے لیے سلیس اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کتاب اور مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے طلباء وطالبات کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 62 مصنف ابن ابی شیبہ مترجم جلد۔ 01 (منگل 04 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2443

    خدمت ِ حدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کا شمار کل قیامت کے دن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا، بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی، اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مصنف ابن ابی شیبہ﷫" امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابو شیبہ العبسی الکوفی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو جمع فرمایا ہے۔ یہ ترجمہ گیارہ جلدوں پر مشتمل مکتبہ رحمانیہ کا مطبوعہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد اویس سرور صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • 72 سچائی کی جستجو (ہفتہ 21 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:914

    انسان کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے اور تخلیق کرنے کے بعد اس کے ذمہ کچھ اہم ذمہ داریاں بھی ہیں اور مخلوق ہونے کے ناطے وہ ان ذمہ داریوں سے روگردانی نہیں کر سکتا۔وہ اپنی موجودگی کی اور کوئی توجیہ نہیں کرسکتا۔چونکہ وہ تخلیق کیا گیا ہے اس لیےاسے بے قابو اور غیر ذمہ دار حیثیت میں چھوڑا نہیں جا سکتا۔ انسان ان ذمہ داریوں سے آگاہی صرف اور صرف اللہ رب العزت کی کتاب سے ہی تلاش کر سکتا ہے اور تلاش کرنے کے بعد ان پر عمل کر سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی قاری کو ان معاملات اور ذمہ داریوں کی قدر وقیمت معلوم کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے جن اس نے غیر اہم تصور کرتے ہوئے ایک طرف کر دیا ہے لیکن اصل میں وہ اس کی زندگی کے سب سے اہم مسائل ہیں۔اور اس کتاب  میں قاری کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ غیر متعصب ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو جانے اور انہیں ادار کرے۔اس کتاب میں انسان کو اس بات کا شعور دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم کون ہیں؟یہاں کیوں آئے ہیں؟ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ہماری موجودہ زندگی کا کیا مقصد ہے؟وغیرہ۔ اور ہر بات کو ایک احسن مثال کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کتاب کو تین مختلف حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’سچائی کی جستجو‘‘ ڈاکٹر ہارون یحیٰی کی عظیم کاوش ہے اور اس کا ترجمہ ڈاکٹر فردوس روحی صاحب نے کیا ہے۔دعا ہے کہ  اللہ تعالیٰ مصنفین کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے  اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • تعلیم و تربیت انسان کی سب سے پہلی،اصل اور بنیادی ضرورت ہے۔ہماری تاریخ میں اس کی عملی تابندہ مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف جہاں مسجد نبوی میں چبوترے پر اہل صفہ علم حاصل کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگی قیدیوں کے لیے آزادی کے بدلے ان پڑھ صحابہ کو تعلیم یافتہ بنانے کی شرط رکھی جاتی ہے اور کبھی مسجد نبوی کا ہال دینی، سماجی اور معاشرتی مسائل کی افہام و تفہیم کا منظر پیش کرتا ہے۔ آج کل فن تعلیم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔ہر طرف ٹریننگ اسکول اور کالج کھلے ہیں،مدرس تیار کئے جاتے ہیں،فن تعلیم پر نئی نئی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور نئے نئے نظرئیے آزمائے جاتے ہیں۔ایک وہ وقت بھی تھا جب اس روئے زمین پر مسلمان ایک ترقی یافتہ اور سپر پاور کے طور پر موجود تھے،مسلمانوں کے اس ترقی وعروج کے زمانے میں بھی اس فن پر کتابیں لکھی گئیں اور علماء اہل تدریس نے اپنے اپنے خیالات کتابوں اور رسالوں میں تحریر کئےاور کتاب وسنت ،بزرگوں کے واقعات اور تجربات کی روشنی میں جو تعلیمی نتائج انہوں نے سمجھے تھے انہیں اصول وقواعد کی حیثیت سے ترتیب دے دیا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلمان علماء نے جو کتابیں لکھی ہیں یا اپنی تصنیفات میں تعلیم سے متعلق جو نظرئیے بتائے ہیں یا متفرق خیالات ظاہر کئے ہیں ان سب کو ترتیب سے یکجا کر دیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت‘‘ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی تصنیف ہے۔ جس میں ہندوستان میں قطب الدین ایبک کے وقت سے لے کر آج تک مسلمانوں کے نظام تعلیم وتربیت کو بیان کیا گیا ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ م...

  • تعلیم و تربیت انسان کی سب سے پہلی،اصل اور بنیادی ضرورت ہے۔ہماری تاریخ میں اس کی عملی تابندہ مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف جہاں مسجد نبوی میں چبوترے پر اہل صفہ علم حاصل کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگی قیدیوں کے لیے آزادی کے بدلے ان پڑھ صحابہ کو تعلیم یافتہ بنانے کی شرط رکھی جاتی ہے اور کبھی مسجد نبوی کا ہال دینی، سماجی اور معاشرتی مسائل کی افہام و تفہیم کا منظر پیش کرتا ہے۔ آج کل فن تعلیم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔ہر طرف ٹریننگ اسکول اور کالج کھلے ہیں،مدرس تیار کئے جاتے ہیں،فن تعلیم پر نئی نئی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور نئے نئے نظرئیے آزمائے جاتے ہیں۔ایک وہ وقت بھی تھا جب اس روئے زمین پر مسلمان ایک ترقی یافتہ اور سپر پاور کے طور پر موجود تھے،مسلمانوں کے اس ترقی وعروج کے زمانے میں بھی اس فن پر کتابیں لکھی گئیں اور علماء اہل تدریس نے اپنے اپنے خیالات کتابوں اور رسالوں میں تحریر کئےاور کتاب وسنت ،بزرگوں کے واقعات اور تجربات کی روشنی میں جو تعلیمی نتائج انہوں نے سمجھے تھے انہیں اصول وقواعد کی حیثیت سے ترتیب دے دیا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلمان علماء نے جو کتابیں لکھی ہیں یا اپنی تصنیفات میں تعلیم سے متعلق جو نظرئیے بتائے ہیں یا متفرق خیالات ظاہر کئے ہیں ان سب کو ترتیب سے یکجا کر دیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت‘‘ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی تصنیف ہے۔ جس میں ہندوستان میں قطب الدین ایبک کے وقت سے لے کر آج تک مسلمانوں کے نظام تعلیم وتربیت کو بیان کیا گیا ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ م...

  • 79 کتاب الخراج مترجم (اتوار 02 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1045

    امام ابو یوسف  امام ابوحنیفہکے شاگرد مایہ نا ز شاگرد اور فقہ حنفی کے  معروف امام ہیں  آپ امام ابوحنیفہ کے بعد خلیفہ ہادی، مہدیاور ہارون الرشیدکے عہد میں قضا کے محکمے پر فائز رہے اور تاریخ اسلام میں پہلےوہ شخص ہیں جن کو قاضی القضاۃ(چیف جسٹس)کے خطاب سے نوازا گیا‘ لیکن بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملاکر نہیں رہے، بلکہ ہرمعاملہ میں شریعت کا اتباع کرتے، یہاں تک کہ بادشاہ کا مزاج درست کردیا۔آپ کی مشہور تصنیف کتاب الخراجفقہ حنفیکی مستند کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کی ایک درجن کے قریب کتب ہیں۔آپ 731ء کو کوفہ میں پیدا ہوئے  اور  798ء کو 67 سال کی عمر میں بغداد...

  • 83 تقریب التہذیب ( اردو ) جلد اول (اتوار 26 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1341

    علم  اسماء الرجال علم راویانِ حدیث کی سوانحِ عمری اورتاریخ  کا  علم ہے، اس میں راویوں کے نام، حسب ونسب، قوم ووطن، علم وفضل، دیانت وتقویٰ، ذکاوت وحفظ، قوت وضعف اور ان کی ولادت وغیرہ کا بیان ہوتا ہے، بغیراس علم کے حدیث کی جانچ مشکل ہے، اس کے ذریعہ ائمہ حدیث نے مراتب روات اور احادیث کی قوت وضعف کا پتہ لگایاہےحدیث کے راوی جب تک صحابہ کرام﷢ تھے اس فن کی کوئی ضرورت نہ تھی، وہ سب کے سب عادل، انصاف پسند اور محتاط تھے ۔کبارِتابعین بھی اپنے علم وتقویٰ کی روشنی میں ہرجگہ لائق قبول سمجھے جاتے تھے، جب فتنے پھیلے اور بدعات شروع ہوئیں تو ضرورت محسوس ہوئی کہ راویوں کی جانچ پڑتال کی جائے۔ تو ائمہ  محدثین  نے علم اسماء الرجال کو شروع کیا ۔سو حدیث کے لیے جس طرح متن کو جاننا ضروری ہے، سند کو پہچاننا بھی ضروری ٹھہرا کہ اسماء الرجال کے علم کے بغیر علم حدیث میں کوئی شخص کامیاب نہیں ہوسکتا، امام علی بن المدینی (۲۳۴ھ) کہتے ہیں:معانی حدیث میں غور کرنا نصف علم ہے تو معرفت رجال بھی نصف علم ہے۔ (مقدمہ خلاصہ تہذیب الکمال، فصل وھذہ نبذۃ من أقوال الائمۃ فی ہذا:۱/۱۶۵ ) ائمہ محدثین نے اس  اسماء الرجال  پر باقائدہ کتب مرتب کیں۔پہلے دور کی اسماء الرجال کی کتابیں راویوں کے نہایت مختصر حالات کو لیے ہوئے تھیں، بعد میں ابنِ عدی اور ابونعیم اصفہانی نے سب سے پہلے معلومات زیادہ حاصل کرنے کی طرف توجہ کی، خطیب بغدادی ابن عبدالبر اور ابن عساکر دمشقی نے ضخیم جلدوں میں بغداد اور دم...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 506
  • اس ہفتے کے قارئین: 2551
  • اس ماہ کے قارئین: 23161
  • کل مشاہدات: 41877301

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں