اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #549

    مصنف : امام احمد بن حنبل

    مشاہدات : 32710

    مسند امام احمد بن حنبل (مترجم) جلد 1

    (ہفتہ 07 مئی 2011ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔
     

  • 2 #6712

    مصنف : شمس الدین الذہبی

    مشاہدات : 6184

    میزان الاعتدال اردو جلد اول

    (بدھ 01 اگست 2018ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا)

     

  • 3 #676

    مصنف : ابن حجر العسقلانی

    مشاہدات : 29294

    الاصابہ فی تمییز الصحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جلد1

    (پیر 18 مارچ 2013ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)

     

  • تقویٰ کیسے اختیار کریں

    (اتوار 18 اگست 2013ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    دین اسلام میں تقوی اور احسان  کوبہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔اول الذکر کی بنیادخوف جبکہ مؤخرالذکر کی اساس شوق ہے ۔ دونوں ہی ایسے رویے ہیں جن میں اللہ کےتعلق کا اظہار ہوتا ہے ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں تعلیم کتاب حکمت کےساتھ ساتھ تزکیہ نفس پر بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ علمائے امت نے جہاں پہلے میدان میں اپنے اپنے جواہرات بکھیرے ہیں وہاں دوسرا بھی ان کی جولانیوں کا مرکز و محور رہا ہے ۔ چناچہ زیرنظر کتاب امام احمد بن حنبل  جیسے عظیم المرتبت استاذ کے عظیم شاگرد امام ابوبکر احمد بن محمد بن الحجاج المروزی کی مایہ ناز تصنیف ہے ۔ جسے جناب اختر فتح پوری صاحب نے بہت احسن طریقے سے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کچھ  اضافے بھی فرمائے ہیں ۔ ظاہر بات ہے دین میں تقوی کی اساس یہی ہے کہ اللہ سے ڈر کر اور خوف کھاتے ہوئے ان احکام پر عمل کیا جائے جو اس نے اپنے پیغمبر کے ذریعے نازل فرمائے ہیں ۔ اورقرآن میں بھی آیا ہے کہ ائے لوگو! اپنے رب کا تقوی اختیار کرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا ۔ کہیں فرمایا ائے لوگو! جو ایمان لائے ہو صحیح معنوں میں اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ اس کتاب میں دینی احکام کی اسی  روح کو بیدار کیا گیا ہے ۔ اللہ مصنف  اور مترجم  کو  اجر جزیل  سے  نوازے آمین ۔ (ع۔ح)
     

  • 5 #1801

    مصنف : محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی

    مشاہدات : 7929

    اخلاق اور فلسفہ اخلاق

    (اتوار 01 ستمبر 2013ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    اخلاقیات کی بنیاد کیا ہو ؟ فلسفہ یا مذہب اس حوالے سے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیں مختلف آرا نظر آتی ہیں ۔ اگر انبیاء اور وحی والہامی تعلیمات کو دیکھا جائے تو اس میں اخلاقیات کی بنیاد ہمیں مذہب ہی نظر آتی ہے ۔ اور اس کے بعد اگر یونانیوں کو دیکھا جائے تو ان کے ہاں اخلاقیات کی اساس فلسفہ ہے ۔ یونانیوں نے اخلاقیات کو ایک مستقل علم بنا دیا ۔ حتی کہ ارسطو نے اس پر ایک مستقل کتاب بھی لکھ ڈالی ۔ اس کے بعد عیسائیت اور اسلام نے پھر اخلاقیات کو مذہبی بنیاد فراہم کردی ۔ تاہم تاریخی طور پر یہ کشمکش جاری ہی رہے گی ۔ لیکن آج تک کے اس تاریخی تسلسل کو زیر نظر کتاب میں بحسن و خوبی بیان کر دیا گیا ہے ۔ اگرچہ یہ کتاب اپنے موضوع پر کوئی مستقل اضافہ تو نہیں البتہ اس کی تحریر میں مصنف کا جو بالخصوص جذبہ کار فرما ہے وہ یہ ہے کہ اردو کو ایک علمی زبان بنایا جائے اور یہ مواد دوسری زبانوں سے اردو میں منتقل کیاجائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ مصنف کی نظر میں آج تک اس موضوع پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ سب فلسفہ یا مذہب میں سے کسی ایک کی حمایت میں لکھی گئی ہیں ۔ اس میں کوشش کی گئی ہےکہ یہ موضوع غیر جانب دار ہو کر لکھا جائے ۔ (ع۔ح)
     

  • 6 #2422

    مصنف : عبد الکریم زیدان

    مشاہدات : 6397

    الوجیز فی اصول فقہ

    (جمعرات 28 اگست 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    وہ علم جس میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے ، استدلال کے مراتب اور استدلال کی شرائط سےبحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے معین قواعد کا استخراج کیا جائے کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے مجتہد تفصیلی دلائل سے احکام معلوم کرے ، اس علم کا نام اصول فقہ ہے ۔علامہ ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص:452) جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے اس زبان کے قواعد واصول کو سمجھنا ضروری ہے اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول فقہ میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ فقہاء و محدثین نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً امام شافعی نے الرسالہ کے نام سے   کتاب تحریرکی پھر اس کی روشنی میں دیگر اہل علم نے کتب مرتب کیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ سید عبدالکریم زیدا ن کی اصول فقہ   کے موضوع پر جامع عربی کتاب کا ترجمہ ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو   چارابو اب(باب اول :حکم کی مباحث۔ باب دوم :احکام کے دلائل کی بحث میں۔باب ثالث:احکام کے استنباط کے طریقہ اور قواعد اور ان کے ساتھ ملحق قواعد ترجیح اور ناسخ ومنسوخ۔باب چہارم : اجتہاد ا راس کی شرائط ،مجتہد،تقلید اوراس کےتعریف۔) میں تقسیم کرکے   مثالوں کے ساتھ   تفصیلی مباحث پیش کی ہیں ۔یہ اپنی افادیت او رجامعیت کے پیش نظر   وفاق المدارس سلفیہ او راکثر مدارس دینیہ میں شامل نصاب ہے ۔(م۔ا)

  • 7 #2515

    مصنف : ہارون یحییٰ

    مشاہدات : 4030

    خلیہ اک کائنات

    (منگل 21 اکتوبر 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    قرآن کریم انسانوں کی رہنمائی کےلیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخری کتاب ہے ۔اس میں تمام سابقہ آسمانی کتابوں کا نچوڑ اور لب لباب موجود ہے اس لیے  یہ کتاب اس   مقام پر اانسان کی رہنمائی کرتی ہے جہاں اس کی عقل اپنی  آخری حدوں کو چھولینے کے بعد حیران راہ جاتی ہے ۔اس کتاب میں  اللہ تعالیٰ نے انسان کوجگہ جگہ اپنی قدرت کی نشانیوں کےذریعے  اپنے آپ کوپہچاننے  کی دعوت دی ہے ۔کہیں انسان کو اپنے  بدن پر غور  کرنے کی دعوت  ہے تو  کہیں اپنے ماحول پر ۔کہیں آسمانوں پر غور  کرنے کو کہا جارہا ہے   توکہیں پانی  اورآگ پر نظر التفات کرنے کی دعوت دی جاتی ہے  ۔اس دعوت کا مقصود صرف اور صرف یہ ہے کہ انسان کی نظر  مادے سے  ہٹا کرمادے  کے خالق کی جانب لگائی جائے ۔زیر نظر کتاب ’’ خلیہ ایک کائنات‘‘ ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے جس  میں  انہوں نے  اپنی دیگر  تصانیف کی طرح  سائنس  اور عقل کی بھول  بھلیوں میں  گم عقل انسانی  کو وحی  کی روشنی میں چلنے   کی دعوت دی ہے ۔اور انہوں نے ہمارے  ماحول میں پھیلے  لاکھوں اور کروڑوں  معجزوں میں سے صرف چند ایک کا تذکرہ  اس کتاب میں کیا ہے  اوراس بارے  میں سائنس کی آخری  حد بیان کرنے کے بعد  اس جانب توجہ دلائی ہے  کہ اس سے  آگے کا کام  اس خالق کائنات کا ہے  جس نے  یہ کارخانہ  تخلیق  کیا ہے  انہوں نے  جگہ جگہ سائنس  کی قلعی  کھولی ہے اور بتایا ہے کہ سائنس ابھی تک کائنات کی حقیقت تو کیا اس کے  کسی ایک جزو کی پور ری ماہیت  کوبھی  نہیں  سمجھ سکی ۔اللہ تعالیٰ مصنف ِ کتاب کی  تمام  کاوشوں کو قبول  فرمائے اور اس کتاب کو  لوگوں  کے  لیے خالق کائنات  کی صحیح معرفت کا ذریعہ  بنائے  (آمین) (م۔ا)

     

  • 8 #2517

    مصنف : ہارون یحییٰ

    مشاہدات : 3135

    سلسلہ معجزات

    (جمعرات 23 اکتوبر 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    کسی نبی یا رسول  سے ایسے  واقعہ کاظہور پذیر ہونا جو انسانی  عقل  وفکر سے بالاتر ہو ۔یہ  خصوصی واقعہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے تاکہ اس کے نبی یا رسول کی صداقت عام لوگوں پر واضح ہوجائے  عمومی طور  پر  معجزے اس  مخصوص زمانے اور حالات کے مطابق ہوتے ہیں  جس میں  وہ نبی یا رسول  اپنی دعوت پیش کر رہا ہو ۔ قرآن مجید میں انہیں آیات (نشانیاں) قرار دیاگیاہے مختلف پیغمبروں کومختلف معجزے عطا ہوئے  تھےتا کہ  وہ ان کے ذریعے  سےاللہ  کی قدرت  کالوگوں   پراظہار  کرسکیں۔ نبی کریم  ﷺکوبھی  کئی معجزوں سے نوازا گیا  ان میں سے   واقعہ معراج او رواقعہ شق القمر زیادہ مشہور ہیں۔زیر نظر کتاب ’’سلسلہ معجزات ‘‘ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے  کائنات کی ابتداء سے آج تک  وقوع پذیر ہونے والی کئی مثالوں کا  تذکرہ کرنے کے ساتھ  ساتھ  اس وقت  دنیا  کے گوشے  گوشے میں پیش آنے والے  گزشتہ  اور آئندہ معجزوں کاتذکرہ کیا  ہے ۔او رمعجزات کی ان مثالوں  کو درج ذیل  ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔1 کائنات میں موجود معجزے۔2 زمین سمیت نظام شمسی میں موجود معجزے۔3جانداروں میں پائے  جانے والے   معجزات ۔اس کتاب  کاہدف قاری کےسامنے مختلف معجزات کی ایسی مثالیں پیش کرنا ہے جو  اللہ تعالیٰ  کی عظمت اوراس کی  لامتناہی  قدرت  پردال  ہیں اور اس کا سب سے بڑا مقصد انسان  کواپنے ماحول میں موجود  ان تمام چیزوں  پر غور  کرنے کی دعوت دینا ہے  جو زمین وآسمان  کے  خالق کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو  لوگوں کے  ایمان   میں پختگی اوراضافے    کا باعث بنائے  (آمین) ( م۔ا)

     

  • 9 #2520

    مصنف : ہارون یحییٰ

    مشاہدات : 3610

    انکشافات قرآن اسرار قرآنی

    (اتوار 26 اکتوبر 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    بہت سےلوگ سچے مومن ہونے کا دعویٰ کرنے   کے باوجود درحقیقت قرآن پر ایمان نہیں رکھتے ۔  غلط اور فرسودہ عقائد سے چمٹے رہتے  ہیں  اور ساری زندگی انہی پر فریب خیالات اور متناقض نظریات کی بھول بھلیوں میں گزار دیتے ہیں  ۔لیکن  قرآن  کواپنے لیے  مشعل  راہ اور رہنما بنانے سے گریزاں رہتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن ہی  ہر  شخص کے لیے  صحیح علم کاواحد ذریعہ ہےجس میں خدا کے راز ہائے تخلیق اپنے  درست ترین او رخالص ترین شکل میں موجود ہیں ۔ جو معلومات قرآن پر مبنی نہ ہو وہ  متناقض ہیں لہذا وہ  محض دھوکہ اور فریب  ہیں ۔اور جو لوگ قرآن  سے اپنا تعلق  نہیں جوڑتے  فریب  خوردگی  کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں  اور وہ آخرت میں خود کودائمی  عذاب  میں گرفتار پائیں گے ۔ قرآن مجید میں  اللہ تعالیٰ نے  انسانوں کو اوامر  ونواہی اوراعلیٰ اخلاقی معیارات سے  اگاہ کرنے کےعلاوہ کئی رازوں سے مطلع کیا ہے  ۔ یہ  بے حد اہم اور سچے راز  ہیں ایک حقیقت شناس  نگاہ زندگی  بھر ان کا مشاہدہ  کرسکتی  ہیں ۔قرآن  کے سوا ان رازوں سے آگاہی  کےلیے  کوئی اور ذریعہ نہیں ہے ۔قرآن ان کا واحد منبع او رماخذ ہے  کوئی شخص خواہ کتنا ہی  ذہین  وفطین ، تعلیم یافتہ اور نابغۂ روزگار ہو ان رازوں کو کہیں  اور سے تلاش نہیں کرسکتا۔زیر نظر  کتاب ’’ انکشافات  قرآن ‘‘ جدید اور سائنسی علوم کےماہر  ترکی کے  معروف   قلمکار   محترم   ہارون یحییٰ  کی   قرآنی انکشافات  کے سلسلے  میں ایک دلچسپ کتاب ہے ۔یہ کتاب ان  موضوعات کے متعلق ہے  جنہیں  قرآن نے اللہ کی نشانیاں اور اس کی حکمتیں قرار  دیا ہے۔ جب انسان قرآن پڑہتا ہے تو اس کی توجہ آیات میں بیان کردہ حکمتوں کی طرف مبذول ہوجاتی ہے۔ جس کےبعد  انسان پرلازم آتاہے کہ وہ  ان حکمتوں پر غور کرے  اور واقعات کاقرآن کی روشنی میں جائزہ لے ۔ ایسا کرنے سے انسان پر  یہ حیرت انگیز  انکشاف ہوگا کہ قرآن انسان کی زندگی  پر بھی اس حاوی ہے جس طرح دوسری چیزوں پر ہے  اس کی  حکمت ذرے ذرے  پرحاوی ہے۔کتاب ہذا کے مطالعہ  سےایک عام  قاری بھی  قرآن کریم  میں  موجود انکشافات سے   اگاہی حاصل کرسکتاہے ۔ اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو   لوگوں کےلیے  نفع بخش  بنائے ( آمین )   ( م۔ا)

     

  • 10 #2521

    مصنف : ہارون یحییٰ

    مشاہدات : 2718

    جانداروں کا جذبہ قربانی

    (بدھ 01 اکتوبر 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور

    کائنات اللہ تعالیٰ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ انسان اس پر غور کر کے  اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکتا ہے ۔اسی لیے  قرآن کریم  میں اللہ تعالیٰ نےجگہ جگہ انسانوں کو کائنات کی مختلف چیزوں اور مظاہر پر غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے کیونکہ مخلوق کودیکھ کر خالق کی جانب خیال ضرورجاتاہے ۔اس کائنات میں بے جان چیزوں  کےعلاوہ جانداروں کی بلامبالغہ لاکھوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔ہم ہر وقت مختلف جانداروں کو دیکھتے ہیں ۔ان کی شکلوں ،ان کی  ساخت او ران کے حجم اور ان کےرہن سہن کے طریقوں کےفرق کومحسوس کرتے ہیں مگر اس  سے آگے کسی  چیز پر غور کرنے کے روادار نہیں ہوتے ۔زیر نظر کتاب’’جانداروں کا جذبۂ قربانی‘  عالمی شہرت یافتہ  مصنف کتب کثیر ہ  ہارون یحیٰ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے بلا تفریق مذہب تمام انسانوں کی توجہ جانداروں کے رویوں کی جانب مبذول کرانے کی  کوشش کی   ہے۔پرندوں کےگھونسلوں سے لے کر جانوروں کے ایک دوسرے سے تعاون اور ایک دوسرے کی خاطرجان نثاری کااس انداز سے تذکرہ کیا گیا ہے کہ ہر سطر  پر زبان سے بے ساختہ ’’سبحان اللہ‘‘ نکل جاتاہے۔اس کتاب میں چیونٹی جیسےحقیر جاندار کےبارے میں جومعلومات فراہم کی گئی  ہیں وہ یقینا  ً انسان کو اس کے خالق کے بارے میں سوچنے پر محبور کر دیتی  ہیں ۔ یہ کتاب جہاں ایک  جانب نظریہ ارتقاء کی سائنسی انداز سے بیخ کنی کرتی ہے  وہیں دوسری جانب اللہ پر  ایما ن رکھنے والوں کوبھی اس کی مخلوق کے بارے  میں بے شمار معلومات بہم پہچاتی ہے جس سے ان کےایمان میں مزید تقویت آئے گی۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو بے ایمانوں کےایمان اورایمانداروں کےایمان کی تقویت کاسبب بنائے (آمین)(م۔ا)
     

     

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1602
  • اس ہفتے کے قارئین 3447
  • اس ماہ کے قارئین 55480
  • کل قارئین49463959

موضوعاتی فہرست