اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #647

    مصنف : محمد عاصم الحداد

    مشاہدات : 20029

    اصول فقہ پر ایک نظر

    (منگل 28 جنوری 2014ء) ناشر : اسلام پبلیشنگ ہاؤس لاہور

    اصول فقہ سے مراد ایسے قواعد و ضوابط ہیں جن سے کتاب سنت سے احکام کشید کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ پیش نظر کتاب ’اصول فقہ پر ایک نظر‘ میں فاضل مؤلف محمد عاصم الحداد نے مختلف مکاتب فکر کے اختیار کردہ انہی اصولوں پر ناقدانہ نگاہ ڈالی ہے۔ اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح فہم حاصل کرنے کے طریقوں کی وضاحت کی ہے۔ کتاب لکھتے ہوئے ان کے پیش نظر یہ مقصد یہ تھا کہ اصول فقہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود موادکا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کی افادیت اور عدم افادیت سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔ تاکہ امت مسلمہ چند مشہور ائمہ دین کے بیان کردہ اصولوں ہی پر تکیہ نہ کرے بلکہ ہر فرد کو فرمودات باری تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات عالیہ سے پوری طرح مستفید ہونے کا موقع میسر آ سکے۔
     

  • 2 #2443

    مصنف : منیر احمد سلفی

    مشاہدات : 2590

    درس صحیح بخاری

    (جمعہ 19 ستمبر 2014ء) ناشر : اسلام پبلیشنگ ہاؤس لاہور

    دورِ حاضر کے عظیم محدث حضرت الامام حافظ محمد گوندلوی ﷫ ​۱۸۹۷ء ضلع گوجرانوالہ کے مشہور قصبہ گوندلانوالہ میں پیدا ہوئے۔پانچ سال کی عمر میں آپ نے حفظِ قرآن آغاز کیا ۔تکمیل حفظ کے بعد جامع مسجد اہل حدیث چوک نیائیں (چوک اہل حدیث) شہر گوجرانوالہ میں مولانا علاؤ الدین کے پاس بھیجا، جہاں آپ نے عربی ادب اور صرف و نحو کی چند ابتدائی کتابیں پڑھیں۔اور مزید دینی تعلیم  مدرسہ تقویۃ الاسلام امر تسر میں حاصل کی ۔درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد آپ نے طبیہ کالج دہلی سے ’’فاضل الطب و الجراحت‘‘ درجہ اول کی سند اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ۱۹۲۷ء میں آپ مدرسہ رحمانیہ دہلی تشریف لے گئے اور ۱۹۲۸ء تک وہیں تدریسی خدمات انجام دیں۔ پھر آپ گوجرانوالہ واپس تشریف لے آئے یہاں مولانا عطاء اللہ حنیف اور حافظ عبداللہ بڈھیمالوی جیسے بڑے علماء آپ سے اسی دور میں مختلف کتابیں پڑھتے رہے۔ ۱۹۳۳ء میں آپ عمر آباد تشریف لے گئے،  وہاں چند سال تدریس کے بعد آپ واپس پھر گوجرانوالہ تشریف لے آئے اور ۱۹۴۷ء تک آپ یہیں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۹۵۶ء میں جب جامعہ سلفیہ فیصل آباد قیام عمل میں آیا تو شیخ الحدیث کی مسند پر  فائز ہوئے ۔ ۱۹۶۳ء تک آپ جامعہ سلفیہ میں بطور  شیخ الحدیث کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ۱۹۶۴ء کے لگ بھگ مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے آپ کو تدریس کے لیے مدعو کیا گیا تو آپ وہاں تشریف لے گئے، مدینہ یونیورسٹی سے واپس آ کر گوجرانوالہ میں تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور وفات تک یہیں رہے ۔ بڑے  بڑے  متبحر اہل علم آپ کے  تبحر علمی کے معترف ہیں ۔حافظ محمد عبداللہ محدث روپڑی﷫ حافظ محمد گوندلوی ﷫ کے بارے میں فرماتے ہیں:’’ہماری جماعت میں یہ شخص علم کے ایسے سمندر ہیں جس کا کوئی کنارا نہیں اور علمی میدان میں اتنی اونچی پرواز پر چلے گئے ہیں جہاں تک کسی دوسرے کی رسائی نہیں‘‘(الاعتصام، محدث گوندلوی نمبر، ص: ۳۰، ۱۳)اور شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن ضیاء ﷾اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں’’علامہ ناصر الدین البانی ر﷫ حضرت حافظ صاحب گوندلوی کے علم و فضل کے بڑے قدر شناس تھے۔ حضرت حافظ صاحب گوندلوی کے ایک شاگرد مولانا محمد ریاض بن محمد شریف سیالکوٹی سے راقم الحروف کی ملاقات ہوئی تو وہ بتانے لگے کہ جب میں علامہ البانی سے ملاقات کرنے کے لیے مرکز الجنوب عمان میں واقع ان کے مکتبہ میں گیا اور اپنا تعارف کرواتے ہوئے حضرت حافظ صاحب گوندلوی  سے اپنے تلمذ کا ذکر کیا تو علامہ البانی حضرت حافظ صاحب  کا ذکر سن کر بڑے خوش ہوئے اور فرمانے لگے:’’ما رأیت تحت أدیم السماء أعلم من الحافظ المحدث محمد الجوندلوی، و کان إمامً فی کل فن، و ھو من أکبر العلماء فی القارۃ الہندیۃ۔‘‘ (مقالات محدث گوندلوی) آپ  نے  طویل عرصہ  صحیح بخاری کی  تددیس کی  اور سیکڑوں  طالبانِ علوم نبو ت  نے  آ پ سے   صحیح بخاری  کا  تدریس لیا ۔زیر نظر  کتاب ’’درس صحیح بخاری ‘‘ استاذ الاساتذہ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی ﷫ کی تقاریر ودروس صحیح بخاری پر مشتمل  ہے  جس میں   محدث گوندلوی کی سوانح حیات ،امام بخاری ، صحیح بخاری شریف اور  حدیث کی علمی مباحث اور  صحیح بخاری شریف کے کتاب الایمان  پر  حضرت حافظ  صاحب  کے   علمی  دورس شامل  ہیں ۔یہ حافظ صاحب کےوہ دروس ہیں جو  انہوں نے  ’’جامعہ محمدیہ‘‘ گوجرانوالہ  میں 26اکتوبر1975ء تا8دسمبر1975ء  صحیح بخاری پڑھنے والے طلباء سے ارشاد فرمائے  ۔کتاب کے مرتب منیر احمدالسلفی ﷾ نے کسیٹوں سے  سن کر انہیں مرتب کیا اور   افادۂ عام کے لیے شائع کیا ہے ۔اللہ تعالی  حافظ  صاحب اور ان کے دورس کو مرتب کرکے شائع کرنے والےتمام احباب کی  مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے ۔ (آمین)(م۔ا)

     

  • 3 #2741

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 2902

    حجیت حدیث ( اسماعیل سلفی)

    (جمعرات 25 دسمبر 2014ء) ناشر : اسلام پبلیشنگ ہاؤس لاہور

    اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین)زیر نظر  کتاب ’’ حجیت  حدیث ‘‘شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی ﷫ کی حجیت حدیث   کے سلسلے میں بڑی  اہم  کتاب ہے  جوکہ مولاناکے  چار مقالات (حدیث  کی تشریعی  حیثیت،جماعت اسلامی کانظریہ حدیث،سنت قرآن کے آئینے  میں ،حجیت حدیث آنحضرت کی سیرت کی روشنی میں ) پر مشمتل ہے ۔ان مقالات کو حافظ شاہد محمود ﷾  نے   مولانا اسماعیل سلفی﷫ کے مجموعہ مقالات حدیث میں   بھی بڑے عمدہ   طریقے کے ساتھ شائع کیا ۔اللہ   تعالیٰ مولانا مرحوم کی دفاع    حدیث کےسلسلے میں کی گئی کوششوں کوقبول فرمائے اوراسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا) 

     

  • 4 #2839

    مصنف : محمد عاصم الحداد

    مشاہدات : 3321

    سنت رسولﷺ کیا ہے اور کیا نہیں

    (منگل 13 جنوری 2015ء) ناشر : اسلام پبلیشنگ ہاؤس لاہور

    کسی بھی علم کی اہمیت کا اندازہ اس کے موضوع سے لگایاجاتاہے۔ علم اصول حدیث کا موضوع "سندومتن "یعنی حدیث ہے۔ اورحدیث کی اہمیت سے کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کرسکتا،کیونکہ قرآن مجید کے بعد حدیث احکام شرعیہ کا ایک اہم ترین اور دوسرا بڑا ماخذہے۔یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام نے اس ضمن میں نہایت ہی احتیاط برتی ہے۔ اور نبی کریمﷺ کی طرف منسوب احادیث کی چھان بین کے لئے اصول وضع کیے ہیں۔ان میں سے کچھ اصولوں کا تعلق حدیث کی سند سے ہے،اور کچھ کا حدیث کے متن سے ہے۔حدیث کی سند کی تحقیق کے عمل کو "روایت حدیث" کہا جاتا ہے۔جبکہ متن کی تحقیق کے عمل کو "درایت حدیث" کہا جاتا ہے۔ احادیث کو جب روایت کے اصولوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے تو احادیث کی غالب تعداد کے بارے میں نہایت ہی اطمینان کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان احادیث کی نسبت رسول اللہﷺ کی طرف درست ہے یا نہیں۔ بسا اوقات کوئی حدیث روایت کے اصولوں کے مطابق صحیح قرار پاتی ہے لیکن اس کے متن میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی درست نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک ثقہ سے ثقہ اور محتاط سے محتاط شخص بھی بھول چوک یا غلطی سے پاک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایت کے اصولوں پر پرکھنے کے بعد بعض احادیث کو درایت کے اصولوں پر پرکھنے کی ضرورت بھی پیش آتی ہے تاکہ حدیث کی سند کے ساتھ ساتھ اس کے متن کی تحقیق بھی کر لی جائے کہ آیا یہ بات واقعتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے درست طور پرثابت ہے یا نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب" سنت رسول ﷺ کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟"جماعت اہل حدیث کے معروف اصولی اور عالم دین محترم مولانا محمد عاصم الحداد ﷾کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے محدثین کے ان اصولوں کو بیان کیا ہے جو انہوں نے حدیث کی چھان بین کے لئے وضع فرمائے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بعض فقہاء کے ان اصولوں کا بھی جائزہ لیا ہے جو انہوں نے اپنی فقہی مسالک کی تایید میں گھڑے ہیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1882
  • اس ہفتے کے قارئین 13579
  • اس ماہ کے قارئین 51973
  • کل قارئین49429325

موضوعاتی فہرست