اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

محمد لقمان سلفی

  • نام : محمد لقمان سلفی

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #493

    مصنف : محمد لقمان سلفی

    مشاہدات : 24563

    تیسیرُ الرحمٰن لبیان القرآن

    (تیسیرُ الرحمٰن لبیان القرآن) ناشر : علامہ ابن باز اسلامک سٹڈیز سنٹر ہند

    ہر دور میں علمائے اسلام نے کتاب وسنت کی خدمت کرتے رہے ہیں۔ عصر حاضر میں دنیا کے ایک گلوبل ولیج بن جانے کی وجہ سے اہل علم اور خواص کے طبقہ میں یہ ضرورت اور احساس بڑھ گیا ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں کتاب اللہ اور احادیث مبارکہ کے تراجم ہونے چاہییں۔ برصغیر پاک وہند میں قرآن کا سب سے پہلا ترجمہ فارسی میں ہوا جس کے مؤلف شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تھے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے قرآن کریم کا اردو زبان میں پہلا ترجمہ کیا۔ اس کے بعد تو گویا تراجم ، حواشی اور تفاسیر کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ سلف صالحین کے سلفی منہج پر لکھے جانے والے قرآنی حواشی میں سے دوکوبہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی، ان میں سے ایک مفتی عبدہ الفلاح صاحب کا ’اشرف الحواشی‘ اور دوسرا مولانا صلاح الدین یوسف صاحب کا ’احسن البیان‘ ہے۔ سلفی منہج پر لکھے جانے والے ا ن حواشی میں ’تیسیر الرحمن لبیان القرآن‘ ایک اہم اضافہ ہے۔ اس حاشیہ کے مولف ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ہیں جنہوں نے سعودی عرب سے حدیث میں پی۔ ایچ ۔ڈی مکمل کی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے قرآن مجید کے متن کا نہایت ہی سلیس اور آسان فہم ترجمہ بیان کیا ہے۔ اس کے بعد حاشیہ میں شروع میں وہ سورۃ مبارکہ کے نام، زمانہ نزول،شان نزول اور فضائل سورۃ، اگر موجود ہوں،پر بحث کرتے ہیں۔ حواشی میں احادیث کے بیان میں صحیح اور مستند روایات کا التزام کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں سلف صالحین کی تفاسیر میں سے تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی، فتح القدیر، فتح البیان، محاسن التنزیل، تفسیر سعدی اور حافظ ابن القیم کی تفسیر سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔عوام الناس کے لیے بہت ہی مفید حواشی قرآن ہیں۔
     

  • 2 #2299

    مصنف : محمد لقمان سلفی

    مشاہدات : 4361

    اسلام میں سنت کا مقام

    (اسلام میں سنت کا مقام) ناشر : دار الداعی للنشر و التوزیع ریاض

    قرآن  کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے  مصدر شریعت  اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ  سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے  ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے  ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور  فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی  تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ)  میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری  فرماکر  دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی  بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان  کی فرضیت کے بارے  میں ابہام پیدا کرکے  کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے  سنت کی شرعی  حیثیت کو مجروح کر کے  دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ  ہر دو ر میں محدثین  اور  علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی  اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں سنت کا مقام ‘‘ ہندوستان کے جید عالم دین مفسر  قرآن  ڈاکٹر  محمد لقمان  سلفی ﷾ کی حجیت سنت کے اثبات  اور منکرین سنت ومستشرقین کی تردید کے سلسلہ میں  ان کی  مایہ ناز  عربی تصنیف مكانة السنة فى التشريع الإسلامى کا  سلیس  ورواں  اردو ترجمہ ہے ۔ڈاکٹر صاحب  نے  اس  کتاب میں  شریعت ِاسلامیہ میں سنت کا  جو عظیم مقام  ہے اسے  قرآن  کریم  کی آیات مبارکہ اور صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے  واضح کیا ہے کہ  جس طرح قرآن کریم دینِ اسلام کے بنیادی عقائد اور شرائع اسلامیہ کو جاننے کا  پہلا ذریعہ ہے اسی طرح نبی کریم ﷺکی احادیث کریمہ دوسرا ذریعہ ہیں ۔ان کے بغیر اسلام کی تکمیل کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ا س کےبعد تاریخی حوالہ جات کی مدد لیتے ہوئے سنت کی جمع وتدوین پر روشنی ڈالنے  کے علاوہ محدثین عظام کی ان  کوشش کو اجاگر کیا  ہے  جن کے  نتیجہ میں  یہ علم شریعت بحفاظت تمام  اکٹھا  کردیا گیا ۔ فاضل مصنف  ڈاکٹر لقمان سلفی ﷾ اس کتاب کے علاوہ کئی کتب کے  مصنف  جامعہ  ابن تیمیہ ،ہنداور  دار الداعی للنشر والتوزیع ،الریاض کے مؤسس ومدیر  ہیں۔ سعودی عرب میں  ڈاکٹریٹ کی تکمیل کے بعد  وہیں  تصنیف وتدریس  میں  مصروف ہیں  ۔ان کی خدمات اور  کارناموں کی  وجہ سے انہیں سعودی شہریت بھی حاصل  ہے  ۔اور موصوف مدینہ  یونیورسٹی میں  تعلیم کے دوران  علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیداور استاذ الاساتذہ حافظ  ثناء اللہ مدنی ﷾ (شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور)  وغیرہ کے ہم کلاس ر ہے ہیں اور ان کا  شمارشیخ ابن  باز   کےخاص تلامذہ میں سے ہوتا ہے  ۔اللہ تعالی  دین اسلام کے لیے ان کی مساعی جمیلہ کو قبول  فرمائے۔ اور اس کتاب کو مستشرقین  و منکرین سنت کے تمام  مکائد  اور شبہات واوہام  اور ان کے مکر وفریب کے  خاتمہ کا  ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)  
     

  • 3 #4396

    مصنف : محمد لقمان سلفی

    مشاہدات : 2745

    کاروان حیات خود نوشت سوانح علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی

    (کاروان حیات خود نوشت سوانح علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی) ناشر : دار الداعی للنشر و التوزیع ریاض

    ڈاکٹر لقمان سلفی ﷾ 1943ءکو بھارت میں پیدا ہوئے او ردار العلوم  احمد سلفیہ دربھگنہ ،بہار میں  دینی تعلیم حاصل کی  اس دوران ہی آپ کا داخلہ مدینہ یونیورسٹی  میں ہوگیا تو باقی تعلیم آپ نے مدینہ یونیورسٹی میں  حاصل کی۔ مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے آپ مفتی دیار سعودیہ فضیلۃ الشیخ ابن باز ﷫کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے رہے ۔بلکہ ان کے معتمد خاص بنے۔ علماء کرام عموماً ان کی وساطت سے شیخ مرحوم سے رابطہ کیاکرتے تھے۔ شیخ بن باز کی خصوصی سفارش بلکہ حکم پر انہیں سعودی شہریت دی گئی اب ماشاء اللہ ان کے بیٹے بھی ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ۔ماشاء اللہ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے ہیں ۔ شیخ لقمان صاحب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ منہج اسلاف اہل الحدیث کے بہت بڑے وکیل ہیں۔موصوف  نے   عربی اردو زبان  میں کئی کتب تصنیف کیں ۔تفسیر ’’تیسیر الرحمن لبیان القرآن ‘‘آپ  ہی کی   تصنیف ہے۔اور آپ سرزمینِ ہند کے عظیم ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ، مدینۃالسلام، بہار کے  مؤسس و رئیس بھی    ہیں۔31؍ جنوری 2009ءجامعہ امام ابن تیمیہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے المعہد العالی للتخصص فی التدریس والتربیۃکے افتتاحی پروگرام میں جامعہ سلفیہ بنارس کے رئیس، اُستاذ الاساتذہ علامہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری﷫  اور شیخ حفیظ الرحمن اعظمی (اُستاذ جامعہ دارالسلام، عمر آباد) کو بحیثیت ِمہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا ۔تو ڈاکٹر مقتدی حسن ازہر ی ﷫ اس وقت جامعہ ابن تیمیہ  کی نشاطات اور ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ﷾  کی خدمات کو دیکھ عربی  زبان تحریری طور پر اپنے  تاثرات کااظہار ان الفاظ میں کیا :’’''31؍ جنوری 2009ء کو جامعہ امام ابن تیمیہ، مدینۃالسلام میں المعہد العالی للتخصص فی التدریس والتربیۃ کی تقریب افتتاح کی مناسبت سے جامعہ کے مؤسس و رئیس عزت مآب ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ﷾ کی دعوت پر راقم الحروف کو اس کی زیارت کا موقع ملا۔ میں محترم ڈاکٹر صاحب کابے حد شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے مجھے جامعہ کی زیارت کی دعوت دی۔ اس زیارت نے میری ان خواہشات اور آرزوؤں کو عملی جامہ پہنا دیا جو میرے دل میں اس وقت سے موجزن تھیں جب میں نے بغیر دیکھے ہی جامعہ کے بارے میں لکھا تھا۔ لیکن آج جب کہ میں نے اپنی آنکھوں سے جامعہ کے کامیاب تعلیمی منصوبوں اوریہاں کے اساتذہ و معلّمات، طلبہ و طالبات کی سرگرمیوں کا نظارہ کیا تو مجھے ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوا، اوراس مردِ مجاہد کی ہمت کی داد دینی پڑی جس نے نہ صرف اپنی زندگی جامعہ کے لئے وقف کررکھی ہے، بلکہ اس کی تعمیر و توسیع، اساتذہ کی ہمت افزائی اور طلبہ کی رہنمائی میں اپنا سب کچھ قربان کردیا ہے۔جامعہ امام ابن تیمیہ میری نظر میں ایک عظیم علمی و دعوتی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بابرکت تہذیبی مشن ہے جو نہ صرف صوبہ بہار کی تعلیمی و تربیتی ضرورتوں کو پورا کررہا ہے، بلکہ اس کی روشنی پورے اُفقِ ہند پر پھیلتی جارہی ہے۔ میں اس جامعہ کے مؤسس و رئیس ڈاکٹر محمد لقمان سلفی ﷾ کو بے تکلف او رپُرخلوص مبارکباد پیش کرتا ہوں ، جنہوں نے یہ عظیم علمی قلعہ قائم کیا۔ فرزندانِ ملت کو صحیح علم و عقیدہ کے حصول کے لئے یہ خوبصورت فضا عطا کی اور باحثین و دعاة کو علم اور دین کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر اُبھارا۔‘‘ڈاکٹر لقمان صاحب نے  جامعہ ابن تیمیہ کے علاوہ بہار میں ’’مرکز ابن باز برائے دراسات اسلامیہ‘‘  قائم کیا  جس کی نگرانی میں یکصد سے زائد عربی اردو  اور انگریزی  زبان میں   نہایت وقیع علمی  کتابیں شائع ہوچکی  ہیں۔آپ نے مختلف کانفرنسوں میں شرکت کے لیے متعدد ممالک  کے سفر بھی کیے ہیں۔پاکستان میں بھی دومرتبہ تشریف لائے ۔ایک مرتبہ سعودیہ حکومت کی  طرف سے   قادیانیوں کی سرگرمیوں کاجائزہ لینے کے لیے  مولانا منظور چنیوٹی  کے تعاون سے  ربوہ کا دورہ کیا۔اور تقریباً دس سال قبل   بھارت میں قائم اپنے ادراے جامعہ ابن تیمیہ  کی لائبریری   کے لیے کتب خریدنے کی غرض سے تشریف لائے  اور  استاذی المکرم مولانا حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾(مدیر اعلیٰ ماہنامہ محدث ،لاہور) کےپاس  کئی  دن قیام کیا اور  لاہور ،کراچی،فیصل آباد کے اہم دینی  اداروں کا وزٹ کیا اور مختلف علماء  سے  ملاقات بھی کی۔موصوف کی پوری زندگی دین کی نشرواشاعت اور تعلیم وتربیت میں  گزری ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’کاروان  حیات‘‘ علامہ ڈاکٹر  محمد لقمان سلفی ﷾ کی خودنوشت سوانح حیات ہے۔ موصوف نے اس کتاب میں اپنی پیدائش سے  لے کر ابتدائی تعلیم  اور پھر سعودی عرب میں  اعلی ٰ تعلیم  اوراپنی تمام دعوتی ،تعلیمی وتدریسی  او رتحقیقی  وتصنیفی خدمات  کامکمل تذکرہ کیاہے ۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سےنوازے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 4 #5776

    مصنف : محمد لقمان سلفی

    مشاہدات : 1867

    الصادق الامین

    (الصادق الامین) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    انسانیت اور نبوت کا سفر ایک ساتھ شروع ہوا۔ آدمؑ اس کائنات کے پہلے انسان ہی نہیں بلکہ پہلے نبی بھی تھے۔ بنی نوع انسان کو علم وحی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی زندہ رہنے کے لیے پانی کی۔انسانیت کا زیور علم ہے اور علم وحی کے بغیر فساد ہے۔یہ کائنات علم وحی کے بغیر کبھی خالی نہیں رہی‘ وحی کا سلسلہ سیدنا آدمؑ سے لے کر آخری نبی محمد کریمﷺ تک جاری رہا۔ نبیﷺ جب اپنی جماعت میں موجود تھے تو اپنی سیرت سے ایک ایسی جماعت تیار کی جس کو ہم صحابہؓ کے نام سے جانتے ہیں۔ انہی صحابہؓ نے نبیﷺ کی سیرت کو قلم بند کیا اور انہی صحابہؓ کے شاگردوں نے آپﷺ کی سیرت کو قلم بند کیا‘ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ان شاء اللہ۔زیرِ تبصرہ کتاب  سیرت کے موضوع پر لکھی جانے والی ضخیم کتاب ہے۔ اس میں صحیح احادیث اور قرآنی آیات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب پہلے عربی میں لکھی گئی اور خود مؤلف نے ہی بعد میں اس کا ترجمہ کیا اور ترجمہ نہایت عمدہ اسلوب  میں کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ الصادق الامین ‘‘ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی﷾  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #3282

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    رہنمائے حج ، عمرہ و زیارت مسجد نبوی

    (جمعرات 25 جون 2015ء) ناشر : نا معلوم

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے ۔یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے  او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے  تاکہ وہ  حقوق اللہ  اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ  استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت  اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن  ہے بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے۔حج زندگی  میں ایک دفعہ ہر اس  شخص پر فرض ہے حوزادِ راہ رکھتا ہو۔ کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہو جو مانع سفر ہو اور راستہ میں ایسی رکاوٹ نہ ہو جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو ۔ایسی تمام رکاوٹیں موجود نہ  ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص بغیر حج کے مرجائے تو اس کی موت یہودی اور عیسائی کی طرح ہے۔  اجر وثواب کے لحاظ    سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز  روزہ  صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ  فقط مالی عبادت ہے ۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی  اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اگر حج کے  تمام  احکام وفرائض سنت نبوی کےمطابق ادا نہ جائیں تو ان کی  قبولیت نہ ہوگی۔اور نہ ان کے لیے کوئی اجر ہوگا بلکہ وہ  ضائع اور برباد ہوجائیں گے ۔اس لیے ضروری ہےکہ حج جیسا اہم فریضہ سنت نبوی ﷺ کےمطابق ادا کیا جائے ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری  ہے  ۔اور کئی سالوں سے وزارت حج سعودیہ کی طرف سے   حاجیوں  کو  حج  کےمتعلق  فری گائیڈ  بکس بھی تقسیم کی جاتی ہیں ۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’رہنمائے حج وعمرہ  وزیارت مسجدنبوی‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ جوکہ ایک عربی کتابچہ ’’ دلیل الحاج والمعتمر  زائر مسجد الرسول ﷺ‘‘   کا  ترجمہ ہے ۔ترجمہ کے فرائض طویل عرصہ سے سعودی عرب میں مقیم  ہندوستان کے  جید عالم دین ڈاکٹر محمدلقمان سلفی ﷾ نے انجام دئیے ہیں۔ اس کتابچہ میں اختصار کے ساتھ عمرہ اور حج کرنےوالے  احباب کو جن امورسے اجتناب کرنا چاہیے    انہیں بیا ن کردیا ہےاور  حج وعمرہ کے متعلق تمام ضروری باتیں اس میں آگئی ہیں۔اور آخر میں  حج  وعمرہ کے متعلق تمام دعاؤں کوبھی جمع کردیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1387
  • اس ہفتے کے قارئین 7372
  • اس ماہ کے قارئین 45766
  • کل قارئین49325249

موضوعاتی فہرست