دکھائیں کتب
  • 11 حجیت حدیث اور انکار حدیث (جمعرات 02 فروری 2017ء)

    مشاہدات:2595

    انکار حدیث اور حجیت حدیث دراصل دو موضوعات ہیں۔ انکار حدیث سے مراد حدیث کے انکار کا فتنہ ہے کہ جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں اشارہ فرما گئے ہیں کہ میرے بعد ایک شخص پیدا ہو گا جو گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھا ہو گا اور یہ کہے گا کہ قرآن مجید کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور جو اس میں حلال ہے، اسے حلال سمجھو۔ اور جو اس میں حرام ہے، اسے حرام قرار دو۔ پس اس کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ لوگوں کو باور کروائے کہ قرآن مجید کے علاوہ تمہیں کسی چیز کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس چیز کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرایا ہے تو وہ بھی ویسے ہی حرام ہے جیسا کہ وہ شیء حرام ہے کہ جسے اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں حرام کہا ہے۔ یہ روایت سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد اورمسند احمد وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت 29 میں اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس کو حرام نہیں سمجھتے کہ جسے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو۔ قرآن مجید کی اس آیت سے واضح طور معلوم ہواکہ کچھ چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا اور کچھ کو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔پس اس آیت اور روایت سے معلوم ہوا کہ اسلام کے بنیادی مصادر دو ہیں۔ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ اب جن لوگوں نے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا بنیادی ماخذ ماننے سے انکار کر دیا تو وہ منکرین حدیث کہلائے اور ان کا یہ رویہ انکار حدیث کہلاتا ہے۔ پس اس امت میں کچھ لوگ تو ایسے ہو گزرے کہ جنہوں نے حدیث کا ک...

  • 12 حجیت حدیث در رد موقف انکار حدیث (جمعہ 17 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2385

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے ن...

  • 13 حجیت سنت (اتوار 24 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:15476

    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ ان کے لیے علم ومعرفت کے حصول اور رہنمائی کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا ذریعہ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ہے۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ان میں سے کسی ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا گیا ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے کا تھا۔معاذ اللہ۔زیر نظر کتاب میں جو کہ ایک عظیم المرتبت مصری عالم کی تصنیف ہے،ان تمام شبہات  کا ازالہ کرتے ہوئے سنت رسول کے صحیح مقام ومرتبے کا تعین کیا گیاہے۔اس موضوع پر ویسے تو بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن اس کی انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں سنت کی حجیت کو عصمت انبیاء کے تصور سے مربوط کیا گیاہے۔بلامبالغہ یہ بحث جس قدر تفصیل کے ساتھ اس کتاب میں آئی ہے وہ موجودہ دور کی شایدہی کسی اور تصنیف میں نظر آئے۔(ط۔ا)
     

  • 14 حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریعی مقام (پیر 22 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:3788

    قرآن کریم شریعت کے  قواعد عامہ اوراکثر احکام کلیہ کا جامع ہے اسی جامعیت  نے اس کو ایک ابدی اور دائمی حیثیت عطا کی  ہے  او رجب تک کائنات پرحق  قائم ہے  وہ بھی قائم  ودائم  رہے گا۔ سنت ِنبوی ان قواعد کی شرح وتوضیح کرتی ۔ ان کے نظم وربط کوبرقرار رکھتی  اور کلیات سےجزئیات کا  استخراج کرتی ہے  یہ ایک  درخشندہ حقیقت ہے جس سے  ہر وہ شخص بخوبی آگاہ  ہے جو سنت  کے تفصیلی مطالعہ سے بہرہ مند ہ ہوچکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر عصر وعہد کے علما وفقہا سنت پر  اعتماد کرتے چلے آئے ہیں ۔ وہ ہمیشہ سنت کے  دامن سے وابستہ رہے اور نئے  حوادث وواقعات کے  احکام اس  سےاخذ کرتے رہے ۔قرآن  کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے  مصدر شریعت  اور متمم دین کی حیثیت سے  قرآن مجید کے ساتھ  سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے  ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے   ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور  فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیما...

  • 15 حدیث قرآن کی تشریح کرتی ہے (بدھ 24 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2051

    قرآن اور رسول ﷺ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور رسول اللہﷺ اس کتاب کے سکھانے والے معلّم ہیں قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور رسول ﷺ اس کی تشریح کرتا ہے۔ قرآن ایک آئین اور دستور ہے اورر سول اللہﷺ اس کی مستند اور معتبر تشریح اور تعبیر کرنے والا ہے ­۔قرآن کریم شریعت کے قواعد عامہ اوراکثر احکام کلیہ کا جامع ہے اسی جامعیت نے اس کو ایک ابدی اور دائمی حیثیت عطا کی ہے او رجب تک کائنات پرحق قائم ہے وہ بھی قائم ودائم رہے گا۔ سنت ِنبوی ان قواعد کی شرح وتوضیح کرتی۔ ان کے نظم وربط کوبرقرار رکھتی اور کلیات سےجزئیات کا استخراج کرتی ہے یہ ایک درخشندہ حقیقت ہے جس سے ہر وہ شخص بخوبی آگاہ ہے جو سنت کے تفصیلی مطالعہ سے بہرہ مند ہ ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عصر وعہد کے علما وفقہا سنت پر اعتماد کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ ہمیشہ سنت کے دامن سے وابستہ رہے اور نئے حوادث وواقعات کے احکام اس سےاخذ کرتے رہے۔ قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔ اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِ اسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔ اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے۔ اتباعِ سنت جزو ایمان ہے   ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض و لاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے۔...

  • 16 حدیث کی اہمیت اور ضرورت (بدھ 19 اگست 2009ء)

    مشاہدات:19990

    الفوز اکیڈمی کے زیر اہتمام معرفت حدیث کے موضوع پر مصنف کے دئے گئے نو لیکچرز کے ابتدائی تین لیکچرز پر مشتمل اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دین و شریعت کے ایک اہم ماخذ یعنی علم حدیث کو انتہائی سائینٹیفک لیکن سہل انداز میں متعارف کروایا جائے۔ طلبہ کی آسانی کیلئے اس کتاب میں بہت سے چارٹس بنا دئے گئے ہیں، تاکہ وہ اصطلاحات کے مشکل اسباق کو ذہن نشین کرنے میں آسانی محسوس کریں۔ یہ کتاب ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کو حدیث، تاریخ حدیث، تدوین حدیث، اظلاحات حدیث ، کتب حدیث اور دیگر متعلقہ علوم کی ابتدائی واقفیت پہنچانے کیلئے نہایت اہم ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہمارا یہ ذی شعور طبقہ افراط و تفریط سے بچتے ہوئے امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے فکری اور عملی اسلحہ سے لیس ہو کر سرگرم عمل ہو جائے۔

     

  • 17 حفاظت حدیث (جمعہ 16 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:3712

    رسول اکرم ﷺ کے قووعمل اور تقریر کوحدیث کہتے ہیں ۔ یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ وحی نطق رسالت نے پیش فرمایا۔ یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ،فقہی استدلال فضول اور راست دینی نظریات عنقا ہوجاتے ہیں۔یہ اس شخصیات کے کلماتِ خیر ہیں جنہیں مان کر ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور رب ذوالجلال نے اسے﷜ کے خطاب سے نوازا۔ یہ وہ علم ہےجس کاصحیح فہم حاصل کرکے ایک عام مسلمان ،امامت کےدرجے پر فائز ہوجاتاہے ۔ جس طرح کہ قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نےحدیث نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ حدیث نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے   احادیث نبویہ کو زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات فرمائیں ۔ اسی لیے مسلمانوں نے نہ صرف قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، ائمہ محدثین نے بھی حفظ احادیث اور کتابت حدیث کےذریعے   حفاظت ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اللہ کے رسول ﷺکو شروع میں یہ خوف لاحق تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ حدیث اور قرآن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر لکھ لیں جس سے کچھ لوگوں کے لئے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوجائے، اسی لئے آپ ﷺ نے صحابہ کو احادیث لکھنے سے منع کر دیا تھا، جیسا کہ مسند احمد کی حدیث ہے:لا تكتبوا عني، ومن كتب عني شيئا سوى الق...

  • 18 دامنے حدیث چھوٹنے نہ پائے (جمعہ 31 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1857

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔آج بھی بعض لوگ سرسری طور پر حدیث  کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دامن حدیث چھوٹنے نہ پائے " محترم ابو سعد آصف عباس حماد صاحب کی تصنیف ہے،جبکہ تحقیق وتخریج محترم غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے مقام حدیث،تدوین حدیث،کتب حدیث،استخفاف حدیث اور فتنہ انکار حدیث پر ایک مختصر ،مدلل اور عام فہم علمی وتحقیقی گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 19 رحیق الارواح (جمعہ 17 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1347

    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں ماخذوں میں سے کسی ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے کا تھا۔معاذ اللہ۔ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"رحیق الارواح "ابو بسام خالد بن محمد علی الحاج ﷫کی مایہ ناز تصنیف "السنۃ مفتاح الجنۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت حافظ محمد منشاء بن جمال الدین شہید﷫ نے حاصل ک...

  • سنت مراد الٰہی تک پہنچنے کا اولین ماخذ ہے اور سنت کی موافقت کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے بنیادی شرط ہے ۔اگر سنت کو ترک کردیاجائے تو نہ قرآن کی تفہیم ممکن ہے اور نہ ہی کسی عمل کی قبولیت ۔اسی وجہ سے کتاب اللہ میں جابجا اتباع سنت کی ترغیب دکھائی دیتی ہے ۔ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے ۔سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے ۔قرآن کریم اور سنت رسول میں کوئی غیریت نہیں بلکہ اصل میں یہ دونوں ایک ہیں قرآن حکیم کتاب ہے تو سنت اس کی تفسیر قرآن حکیم اجمال ہے تو سنت اس کی تفصیل ہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’سنت رسول ﷺ اور قرآن دونو ں ایک ہی چیز ہیں ‘‘ شیخ عبد اللہ بن زید المحمود کا تحریر شدہ عربی رسالہ ’’سنۃ الرسول شقیقۃ القرآن‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔جس میں شیخ موصوف نے سنت اور حدیث کی دین میں حیثیت پر مدلل اور مفصل بحث کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ’’قرآن اور سنت اصل میں دونوں ایک ہیں۔ یعنی سنت کا انکار قرآن کریم کا انکار ہے ۔یہ مختصر رسالہ اپنے موضوع میں علمی اور مفید ہے ۔اس رسالے کی افادیت کے پیش نظر مولانا مختار احمد ندوی ﷫ نے اسے اردو قالب میں ڈھالا اور دار الکتب السلفیہ ،لاہور نے اسے افا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1537
  • اس ہفتے کے قارئین: 10220
  • اس ماہ کے قارئین: 44241
  • کل قارئین : 47909632

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں