دار العلم، اسلام آباد

6 کل کتب
دکھائیں

  • 1 مفتاح الانشاء - حصہ اول (جمعہ 15 جون 2012ء)

    مشاہدات:16686

    اس وقت ’مفتاح الإنشاء‘ کا حصہ اول آپ کے سامنے ہے، اس کتا ب کا مقصد اعلیٰ جماعتوں کے طلبہ و طالبات کو عربی زبان میں تحریر و انشاء کی تعلیم و تربیت دینا ہے۔ مؤلف نے اس میں عربی کے آسان اور کثیر الاستعمال محاوروں اور مرکبات کا مفصل تعارف کراتے ہوئے ان کے استعمال کی متنوع اور متعدد مثالیں دی ہیں اس کے بعد عربی کے مشہور افعال کا تعارف کرایا ہے اور ان کے استعمالات کی مشقیں کرائی ہیں۔ اس حصے کی تمام مثالیں عربی کے ایسے جدید الفاظ، مرکبات اور محاوروں پر مشتمل ہیں جن کا آج کی روز مرہ زندگی کے مختلف شعبوں سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں متنوع مضامین، مقالات، مشہور کہانیاں، خطوط اور درخواستوں کے نمونے درج کیے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 2 اقرا اول (ہفتہ 07 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:6392

    عربی زبان کو ایک ایسا اعزاز حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت تک رہے گی ۔ اور وہ یہ ہے کہ قرآن جیسی مقدس کتاب اس زبان میں موجود ہے ۔ مسلمان اپنا دین سیکھنے کے لئے ہمیشہ ہی اس زبان کے محتاج رہیں گے ۔ اس کی تفہیم اور تشریح کے لئے ماہرین نے مختلف پہلوؤں سے کام کیا ہے ۔ ایک تو اس کا گوشہ گرائمر کا ہے جس میں اس زبان کے قواعد و ضوابط زیر بحث آیا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسے براہ راست بولنے کی مشق کی جائے ۔ تاکہ اس کے الفاظ معانی کے ساتھ زبان پر چڑھ جائیں ۔ زیر نظر کتاب مؤخرالذکر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے ۔ اس میں تقریبا تمام وہ الفاظ آگئے ہیں جو ہماری روزمرہ معمولات میں استعمال ہوا کرتے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ یہ ہے کہ زبان کے اساسی اجزا کو ملا کر ایک جملہ کیسے تشکیل دیا جانا چاہیے اس حوالے سے بھی ساتھ ساتھ بطریق احسن مشق ہوتی جاتی ہے ۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر اسے مدارس میں داخل نصاب بھی کیا جا چکا ہے اور ہزاروں مبتدی طلبا اس سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ اللہ مصنف کو اجر سے نوازے ۔ آمین (ع۔ح)
     

  • 3 درس نظامی کی اصلاح اور ترقی (منگل 10 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:3255

    ہمارے اس خطے (جنوبی ایشیا)کے ممالک میں عربی زبان کی تعلیم وتدریس اور اس کے مسائل اور صحیح مقام کو جس سرد مہری سے اور جتنی صدیوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے اس کی مثال برصغیر کی تاریخ میں کسی دوسرے مضمون کی تعلیم وتدریس میں دکھائی نہیں دیتی ہے۔بیسویں صدی کے وسط میں انگریزی سامراج سے آزادی کے بعد بظاہرا سلامی علوم اور عربی زبان کی تعلیم کا شعبہ بہت تیزی سے وسیع ہوا ہے۔اور اسلامی مدارس،یونیورسٹیوں اور طلبہ کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔لیکن ان علوم کی تعلیم وتدریس کے ذمہ داروں نے نہ تو ان کی بہتر تعلیم وتدریس کی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے اور نہ ہی معاشرے اور حکومت نے ضروری جانا ہے کہ ان موضوعات پر سنجیدہ غور کیا جائے اور ان کی تعلیم کو آئندہ نسلوں کے لئے مفید تر بنانے کی لئےتعلیمی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔اس افسوسناک صورتحال کے تناظر میں ہمارے ملک اور پورے خطے میں عربی زبان کی تعلیم وتدریس میں جمود وانحطاط پیدا ہوا جو صدیوں سے اب تک جاری ہے۔اب فوری اور شدید ضرورت ہے کہ محض روایتی سوچ سے ہٹ کر اس مسئلے کا سائنسی تجزیہ کیا جائے اور تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیا جائے اور اس کے حکومتی وغیر حکومتی ذمی داروں کا محاسبہ کیا جائے اور صدیوں پرانے جمود وانحطاط کے بنیادی اور حقیقی اسباب کو تفصیل سے واضح کرتے ہوئے ہر ہر شعبے کی اصلاح وترقی کے مناسب خاکے اور واضح اقدامات تجویز کئے جائیں۔زیر تبصرہ کتاب " درس نظامی کی اصلاح اور ترقی " اسی اصلاح کے نیک جذبے کے تحت لکھی گئی ہے۔جس کے مولف  پاکستان کے معروف عالم دین شیخ العربیہ الاستاذ محمد بشیر سیالکوٹی...

  • 4 اساس الصرف حصہ اول (اتوار 26 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:3388

    اللہ تعالی کاکلام اور نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں ہیں اسی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں سے عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعتِ اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا   امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے شروع میں اس کے مسائل نحو کے تحت ہی بیان کیےجاتے تھے معاذ بن مسلم ہرّاء یاابو عثمان بکر بن محمدمزنی نے علم صرف کو علم النحو سے الگ کرکے مستقل فن کی حیثیت مرتب ومدون کیا۔صرف ونحوصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ عجمی علماء بھی   پیش پیش رہے ۔جب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ تعلیم وتدریس میں علم وفن کاپہلا تعارف طالب علم کی مادری زبان میں ہی ہوناچاہیے تو مختلف علاقوں کے اہل علم نے اپنی اپنی مقامی زبان میں اس فن پر کئی کتب تصنیف کیں ۔تاریخ اسلام کا یہ باب کس قد ر عظیم ہے کہ عربی زبان کی صحیح تدوین وترویج کا اعزاز عجمی علماء اور بالخصوص کبار علمائے ہندکے حصے میں آیا ہندوستان اور مغل حکمرانوں کی سرکاری زبان فارسی ہونےکی وجہ سے ہندی علماء نے صرف ونحو کی کتب فارسی زبان میں ہی تصنیف کیں پھر رفتہ رفتہ برصغیر کے باشندوں کے لیے فارسی زبان بھی اجنبی ہونے لگی توبرصغیر کے فضلا ءنےاردو میں نحووصرف کے موضوع پرکتاب النحو، کتاب الصرف،عربی کا معلم کے علاوہ متعدد کتب لکھیں ان علماء کرام کااردو زبان میں صر ف ونحو پر کتابیں لکھنےکا مقصد عربی وزبان وادب کی تفہیم وتس...

  • 5 عظمت حدیث (عبد الغفار حسن مدنی) (جمعرات 04 جون 2015ء)

    مشاہدات:1634

    قرآن کے بغیر دین اسلام کے علم کاتصور محال ہے۔ اسی طرح شارح قرآن کے بغیر قرآن کا علم حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی لیے صحابۂ کرام ﷢ نے قرآن وحدیث میں کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ ان نفوس قدسیہ کے نزدیک نہ صرف دونوں واجب الاطاعت تھے بلکہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک احادیث ِاحکام قرآن ہی کا تسلسل تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان فیصلوں کو جو قرآن کریم میں منصوص نہیں کتاب اللہ کے فیصلے قرار دیا۔ زیر نظر کتاب ’’عظمت حدیث ‘‘ مولانا عبد الغفار حسن رحمانی ﷫‘‘ کی تالیف ہے یہ کتاب حدیث اور علومِ حدیث کے تعارف تدوین وحفاظت اور اسلام میں اس کی حجیت واستنادی حیثیت، نیز اس بارے میں پیش کردہ شکوک وشبہات اور مغالطوں کے ازالے پر گرانقدر علمی مقالات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں مولانا عبد الغفار حسن  کے علاوہ مولانا عبد الجبار عمر پوری، مولانا حافظ عبد الستار حسن عمرپوری اور مولانا ڈاکٹر صہیب حسن﷾ کے مقالات بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کوجنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطافرمائے ۔آمین(م۔ا)

  • قادیانیت کے یوم پیدائش سے لے کر  آج تک  اسلام  اور قادیانیت میں جنگ جار ی ہے یہ جنگ گلیوں ،بازاروں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور عدالت کےکمروں تک لڑی گئی اہل علم  نے  قادیانیوں کا ہر میدان میں تعاقب کیا تحریر و تقریر ، خطاب وسیاست میں  قانون اور عدالت میں  غرض کہ ہر میدان  میں انہیں شکست فاش دی سب سے پہلے قادیانیوں سے  فیصلہ کن قانونی معرکہ آرائی بہاولپور   کی سر زمیں میں ہوئی جہاں ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے مقدمہ تنسیخ نکاح  میں مسماۃ عائشہ بی بی کانکاح عبد الرزاق قادیانی  سے فسخ کردیاکہ ایک مسلمان عورت مرتد کے نکاح میں نہیں رہ سکتی  1926ء سے  1935 تک  یہ مقدمہ زیر سماعت رہا  جید  اکابر علمائے  کرام   نے عدالت   کے  سامنے  قادیانیوں کے خلاف  دلائل کے انبار لگا دئیے  کہ ان  دلائل کی روشنی میں  پہلی  بار عدالت کے ذریعے  قادیانیوں کو غیر مسلم  قرار دیا گیا  ۔   پھر  اس کے بعد بھی  قادیانیوں کے خلاف یہ محاذ جاری رہا     بالآخر تحریک ختم نبوت کی کوششوں سے 1974ء میں  قومی  اسمبلی پاکستان  نے  بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے  دیا  اور اس کے بعد  پاکستان کی اعلی عدالتوں  نے بھی قادیانیوں کو غیرمسلم  قرار دینے کے  فیصلے جاری کیے  زیرنظر کتاب   بھی 1984ء میں قادیانیوں کے خلاف   وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد کی طرف  سے دئی...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1181
  • اس ہفتے کے قارئین: 4825
  • اس ماہ کے قارئین: 37344
  • کل مشاہدات: 44206936

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں