غلام مصطفی ظہیر امن پوری

2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 تحفۃ الاطفال (جمعرات 06 دسمبر 2018ء)

    مشاہدات:1296

    اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد ہے۔اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔انسان کی اصل تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔ جو اپنے لال کو اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق وفرائض سے آگاہی فراہم کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلم گھرانوں میں بچہ زبان کھولتا ہے تو  گھر کی فضا لاالہ الا اللہ کی مشک بار لفظوں سے معطر  ہوجاتی ہے ۔اور حالات  کا مشاہدہےکہ جو لوگ اپنے بچوں کی دینی تربیت نہیں کرپاتے انہیں زندگی میں ندامت  وشرمندگی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ وہ اپنی نادانی اور بے خبری پر کف افسوس ملتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تحفۃ الاطفال‘‘  مولانا  غلام  مصطفیٰ  ظہیر امن پوری ﷾کی مرتب شد ہ ہے ۔ یہ کتاب  دو حصوں پرمشتمل ہے ۔پہلے  حصے کا نام تحفۃ الاطفال اور دوسرے حصے کا نام ’’ ریاض الاطفال‘‘ ہے  حصہ اول ’’ تحفۃ الاطفال‘‘ میں مسلمان ماؤں کی ضرورت کے پ...

  • 2 اللہ کہاں ہے ؟ ( امن پوری ) (اتوار 07 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:401

    اللہ کہاں ہے؟ یہ ایک  محض ایک سوال ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالیٰ  کی ذات مبارک سے متعلق ہے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ  الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى  سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہیں  اور یہی  اہل سنت  والجماعت (سلف صالحین) کا عقیدہ ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کے عرش پر مستو ی ہو نے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے جس طرح اﷲتعالیٰ کی شان کے لا ئق ہے اسی طرح وہ عرش پر مستوی ہے ہماری عقلیں اْس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہرجگہ موجود ہے کیونکہ وہ مکان سے پاک اور مبرا ہے البتہ اْس کا علمِ اور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے، اْس کی معیت ہر کسی کو حا صل ہے جس کی وضاحت کتب عقائد میں  موجود ہے ۔محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری ﷾ نے زیر نظرکتاب ’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘   میں  قرآن وسنت ، اقوال صحابہ  وائمہ محدثین کی روشنی  اسی عقیدے کو  علمی انداز میں ثابت کیا ہے۔شاید یہ کتاب ابھی مطبوع نہیں ہے  ہمیں پی ڈی ایف فارمیٹ  موصول ہوئی تواسے کتاب وسنت سائٹ کے قارئین لیےپبلش کردیا ہے ۔اللہ تعالیٰ علامہ امن پوری ﷾ کی تدرسی، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی مساعی کوقبول فرمائے ۔آمین)(م۔ا)


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

4 کل کتب
دکھائیں

  • 1 دامنے حدیث چھوٹنے نہ پائے (جمعہ 31 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1801

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔آج بھی بعض لوگ سرسری طور پر حدیث  کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دامن حدیث چھوٹنے نہ پائے " محترم ابو سعد آصف عباس حماد صاحب کی تصنیف ہے،جبکہ تحقیق وتخریج محترم غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے مقام حدیث،تدوین حدیث،کتب حدیث،استخفاف حدیث اور فتنہ انکار حدیث پر ایک مختصر ،مدلل اور عام فہم علمی وتحقیقی گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 2 فضائل اہلحدیث ( جدید ایڈیشن ) (جمعہ 09 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1473

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فضائل اھلحدیث "امام احمد بن علی المعروف...

  • 3 سیرۃ ابراہیم علیہ السلام اور اسکے تقاضے (اتوار 07 مئی 2017ء)

    مشاہدات:1974

    سیدنا حضرت ابراہیم اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیرت ابراہیم ﷩ اور اس کے تقاضے ‘‘ محترم جناب ابو سعد آصف عباس حماد﷾ کی جد الانبیاءسیدنا ابراہیم ﷩ کی سیرت پر ایک محققانہ کاوش ہے ۔کت...

  • 4 وفاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (بدھ 31 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2398

    عام انسانوں کی طرح نبی کریم ﷺکی بھی وفات ہوئی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ :سیدناابوبکر صدیق نے فرمایا : لوگو ! دیکھو اگر کوئی محمد ﷺکو پوجتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمد ﷺکی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔پھر ابوبکر نے سورہ الزمر کی یہ آیت پڑھی) : اے پیغمبر ! تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے۔ (آل عمرٰن : 144)۔نبی کریم ﷺ کی زندگی کےآخری ایام ، مرض اور وفات کا تذکرہ اور کیفیت کا بیان کتب حدیث وسیرت میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ وفاۃ النبی ﷺ ‘‘امام ابو عبد الرحمٰن النسائی ﷫ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب وفاۃ النبی ﷺ کے متعلق احادیث کا خوبصورت ، مختصر ،جامع اور بے مثال مجموعہ ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی علالت کی ابتدا ، ایام مرض کی سختیاں ، تکلیفوں پر صبر وفات کی گھڑی ، غسل ، نماز جنازہ ،قبر مبارک کی کیفیت، تدفین ،صحابہ کرا م کی اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی جدائی میں حالت اور اس موضوع سے جڑی بے شمار علمی معلومات اس کتاب کا حصہ ہیں ۔ محترم جناب ابو امامہ نوید احمد بشار ﷾ نے امام نسائی کی عربی کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہے تاکہ اردو دان طبقہ ب...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1757
  • اس ہفتے کے قارئین: 10510
  • اس ماہ کے قارئین: 35038
  • کل قارئین : 47146870

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں