مکتبہ رحمۃ للعالمین لاہور

9 کل کتب
دکھائیں

  • 1 چہرے کا پردہ واجب، مستحب یا بدعت؟ (پیر 03 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:20605

    چہرے کا پردہ واجب ہے مستحب یا بدعت؟ اس سلسلہ میں ماضی قریب کے معتبر عالم دین علامہ ناصر الدین البانی کا موقف استحباب کا ہے۔ البتہ فتنہ کے اندیشہ کی صورت میں وہ بھی چہرے کے پردے کے وجوب کے قائل ہیں۔ لیکن موجودہ دور کے متجددین حضرات چہرے کے پردہ کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں بلکہ ان کےموقف کے مطابق یہ بدعت کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں محترم حافظ محمد زبیر اور پروفیسر خورشید صاحب کے مابین طویل سلسلہ مضامین رہا ہے۔ پروفیسر خورشید صاحب چہرے کے پردہ کے سلسلہ میں ماہنامہ ’اشراق‘ میں لکھتے رہے ہیں جبکہ اس کے جواب میں حافظ محمد زبیر ماہنامہ ’حکمت قرآن‘ میں اپنی آرا کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’ چہرے کا پردہ واجب ہے مستحب یا بدعت؟ ‘حافظ صاحب کے انہی مضامین کی یکجا صورت ہے، جن کو حافظ صاحب نے مزید تنقیح و تہذیب اور حک واضافہ کے بعد افادہ عام کے لیے پیش کیا ہے۔ حافظ صاحب نے کتاب میں جواضافے کیے ہیں ان میں بطور خاص اس طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’جلباب المراۃ المسلمۃ‘ میں بیان کردہ احادیث و آثار کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے۔ اس کتا ب میں چہرے کے پردے کے حوالے سے ہر نوع کے ان اشکالات کا بھی علمی محاکمہ کیا گیا ہے جو اپنوں یا غیروں نے علمی بنیادوں یا محض جہالت کی بنا پر اٹھائے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 2 فکر غامدی ایک تحقیقی وتجزیاتی مطالعہ (بدھ 26 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:17363

    علامہ جاوید احمد غامدی صاحب اپنے تجدد پسندانہ نظریات کے حوالے سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔ میڈیا کی کرم فرمائی کی وجہ سے علامہ صاحب کو روشن خیال طبقوں میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ علامہ صاحب کےگمراہ کن اور منہج سلف سے ہٹے ہوئے نظریات پر بہت سے لوگوں نے مختلف انداز میں تنقید کی ہے۔ ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے غامدی صاحب کے خوشنما افکار کی قلعی کھولنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے نہایت سنجیدہ اور علمی انداز میں ہر فورم پر غامدی صاحب کے نظریات کو ہدف تنقید بنایا۔ زیر تبصرہ کتاب غامدی صاحب اور اہل سنت کے اصول استنباط اور قواعد تحقیق کے ایک تقابلی مطالعہ پر مشتمل ہے۔ یعنی اس کتاب میں غامدی صاحب کے اختیار کردہ اصولوں پر نقد کیا گیا ہے فروعات کو موضوع بحث نہیں بنایا گیا ہے۔ غامدی صاحب کے افکار پر نقد دو اعتبارات سے کیا گیا ہے۔ ایک کتاب و سنت کی روشنی میں اور دوسرا خود غامدی صاحب کے اصولوں کی روشنی میں۔ حافظ صاحب خاصیت ہےکہ  شخصیات پر تنقید سے گریز کرتے اور ممکن حد تک نرم انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور صرف نظریات کو موضوع بحث بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی خوبی ان کی زیر نظر تصنیف میں بھی واضح طور پر عیاں ہے۔ یہ کتاب دراصل ان مضامین کا مجموعہ ہے جو ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں شائع ہوتے رہے۔ ان مضامین کو اس سے قبل بھی یکجا صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ اب کے بار اس کتاب میں کافی سارے اضافوں کے ساتھ افادہ قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ جو یقیناً علمی حلقوں کے لیے خاصے کی چیز ہے۔ (ع۔ م)
     

  • علامہ جاوید احمد غامدی صاحب اپنے تجدد پسندانہ نظریات کے حوالے سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔ میڈیا کی کرم فرمائی کی وجہ سے علامہ صاحب کو روشن خیال طبقوں میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ علامہ صاحب کےگمراہ کن اور منہج سلف سے ہٹے ہوئے نظریات پر بہت سے لوگوں نے مختلف انداز میں تنقید کی ہے۔ ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے غامدی صاحب کے خوشنما افکار کی قلعی کھولنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے نہایت سنجیدہ اور علمی انداز میں ہر فورم پر غامدی صاحب کے نظریات کو ہدف تنقید بنایا۔ زیر تبصرہ کتاب غامدی صاحب اور اہل سنت کے اصول استنباط اور قواعد تحقیق کے ایک تقابلی مطالعہ پر مشتمل ہے۔ یعنی اس کتاب میں غامدی صاحب کے اختیار کردہ اصولوں پر نقد کیا گیا ہے فروعات کو موضوع بحث نہیں بنایا گیا ہے۔ غامدی صاحب کے افکار پر نقد دو اعتبارات سے کیا گیا ہے۔ ایک کتاب و سنت کی روشنی میں اور دوسرا خود غامدی صاحب کے اصولوں کی روشنی میں۔ حافظ صاحب خاصیت ہےکہ  شخصیات پر تنقید سے گریز کرتے اور ممکن حد تک نرم انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور صرف نظریات کو موضوع بحث بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی خوبی ان کی زیر نظر تصنیف میں بھی واضح طور پر عیاں ہے۔ یہ کتاب ان مضامین پر مشتمل ہے جو کہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہوئے۔ بعد میں تنظیم اسلامی کے سالانہ اجتماع 2006ء کے موقع پر انہی مضامین کو یکجا کرکے کچھ اضافوں اور تبدیلیوں کے ساتھ ایک کتاب کی شکل دے کر شائع کردیا گیا۔ یہ اس کتاب کا پہلا پمفلٹ ایڈیشن تھا جس کو ایک طرف تو علمی وفکری حلقوں میں کافی پذیرائی ملی جبکہ دوس...

  • 4 مولانا وحید الدین خان افکار و نظریات (بدھ 13 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:9011

    مولانا وحید الدین خان یکم جنوری 1925ءکو پید ا ہوئے۔ اُنہوں نے  اِبتدائی تعلیم مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ میں حاصل کی ۔شروع  شروع میں مولانا مودودی﷫ کی تحریروں سے متاثر ہوکر  1949ء میں جماعت اسلامی   ہند میں شامل ہوگئے،  لیکن 15 سال بعد جماعت اسلامی کوخیر باد کہہ دیا  اورتبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی ۔ 1975ء میں اسے بھی مکمل طور پر چھوڑ دیا ۔مولانا وحید الدین خان تقریبا دو صد کتب کے مصنف ہیں  جو  اُردو ،عربی، اورانگریزی زبان میں ہیں۔ اُن  کی تحریروں میں مکالمہ بین  المذاہب ،اَمن کابہت  زیادہ ذکر ملتاہے  اوراس میں وعظ وتذکیر  کاپہلو  بھی نمایاں طور پر موجود ہوتاہے ۔لیکن مولانا  صاحب کے افکار  ونظریات میں تجدد پسندی کی  طرف میلانات اور رجحانات بہت  زیادہ پائے جاتے  ہیں ۔ اُنہوں نے  دین کے بنیادی تصورات کی از سر نو ایسی تعبیر وتشریح پیش کی ہے، جو ان سے پہلے کسی نے  نہیں کی۔وہ نہ صرف اس بات کو تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اپنے لیے  اس میں فخر بھی محسوس کرتے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر  حافظ زبیر﷾  کی تالیف ہے، جس  میں اُنہوں نے مولاناوحید الدین خان صاحب کی فکر کا  ان کے   اپنے الفاظ کی روشنی میں ایک مفصل تحلیلی وتجزیاتی مطالعہ پیش کیاہے۔اور  نقد وتبصرہ  کرتے ہوئے اس بات کا  بھی لحاظ رکھا ہے کہ مولانا  صاحب کے اصولوں ہی کی روشنی میں  ان کے  افکار ونظریات کا جائزہ  لیا جائے۔ اس لیے کتاب میں جابجا ...

  • زیر نظرکتاب محترم جناب ڈاکٹر حافظ محمدزبیر صاحب کی اپنے موضوع پرایک قابل قدر تحقیقی و تطبیقی کاوش ہے۔ جس میں حافظ صاحب نے متعلقہ موضوع  کےحوالے سے معتدل اور متوازن رویے کی طرف نشاندہی فرمائی ہے۔ عالمی استعمار کے تہذیبی غلبے، ریاستی دہشت گردی اور مال وزر کی حد سے متجاوز ہوس نے مسلمانوں کےاندر  رد عمل کےطور پر دو انتہائی رویوں کو جنم دیا ہے۔ جن میں ایک طرف وہ مسلمان ہیں جو جدیدیت  کے پرستار ہیں اور اس پرستاری میں اپنی روایات واقدار کی  بےدریغ قربانی دینےسے بھی گریزاں نہیں۔ اور ہر طریقے سے مغربی معاشرت وروایات میں ضم  ہونےکو تیار ہیں ۔ دوسری طرف  ایسے اسلام کےنام لیوا ہیں جو ردعمل کی ان نفسیات میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ انہوں نے اہل مغرب تو کیا اپنے معاشرے کے ان لادین  اور مغرب پرست مسلمانوں سے بھی  مفاہمت کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ اور اپنے مزاج ومسائل کے پیش نظراسلامی وشرعی نصوص کی  تعبیر میں سلف کی اراء کو بھی پس پشت ڈال کر، اپنےمطلوبہ اہداف کےحصول کی خاطر نصوص کی نئی  تعبیر کر ڈالی۔ انہوں نے اپنی ان تنقیدات کا نشانہ بالخصوص مسلم حکمرانوں کو بنایا۔ کیونکہ وہی  عسکری ،تہذیبی اور معاشی میدان میں اہل مغرب کےلئے راہیں ہموار کرتے ہیں۔ اس کےلئے اسلام کی  جہاد، تکفیر اور خروج کے باب میں  دی گئی تعلیمات کو استعمال کیا۔ محترم حافظ صاحب نے بڑی عرق ریزی سے سلف  کی آراء کی روشنی میں  مذکورہ نصوص کا اطلاق واضح کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اور پھر ساتھ ساتھ  عصرحاضر میں بھی ان کا اطلاق وانطباق واضح کرتے ہوئے ایک...

  • 6 اسلامی نظریہ حیات (ہفتہ 20 جون 2015ء)

    مشاہدات:3949

    انسان کے مبدا اور معاد کے بارے سب سے جامع اور منطقی جواب مذہب کے پاس ہے۔ازل سے خالق تھا اور اس کے ساتھ کچھ بھی نہ تھا یہاں تک کہ اس نے سب سے پہلے پانی کو پیدا کیا اور اس کے بعد اس پر اپنا عرش بنایا۔پانی اور عرش کے بعد سب سے پہلے خالق نے جسے پیدا کیا وہ قلم ہے۔قلم کو پیدا کرنے کے بعد خالق نے اسے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا،اس کے لکھنے کا حکم دیا۔اور اس لکھے ہوئے کو ہم تقدیر کے نام سے جانتے ہیں۔اس کے بعد خالق نے زمین،پہاڑوں،سات آسمانوں ،ستاروں اور دیگر مخلوقات کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور اپنے عرش پر مستوی ہوا۔خالق اور مخلوق کا باہمی تعلق عبد ومعبود کا ہے نہ کہ وہم وخیال یا عکس وظلال کا۔اس دنیا میں انسان کا وجود کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ خالق وحدہ لاشریک کی ایک بامقصد تخلیق کا ظہور ہے۔اور انسان کی تخلیق کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی عبادت اور بہترین عمل کے ذریعے اپنے خالق کا شکر ادا کرے۔اور یہ اسلامی  نظریہ حیات ہی وہ واحد نظریہ ہے کہ جس میں انسانی زندگی کی ابتداء وانتہاء ،مقصد زندگی ،طرز حیات، تاریخ ،لسانیات،علمیت،اور اخلاقیات وغیرہ کے بارے  اس قدر تفصیلی اور واقعی معلومات موجود ہیں کہ اس پر "Theory of  Everything" کا اطلاق نہیں ہوسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی نظریہ حیات"جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل محترم ڈاکٹر حافظ زبیر تیمی صاحب کی کاوش ہے ،جس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی ضابطہ حیات کی روشنی میں اسلام کا عالمی نقطہ نظر اصولی انداز میں اس طرح پیش کر دیا جائے کہ یہ دین کی روایتی فکرکا ایک جامع او...

  • 7 اسلام اور مستشرقین (جمعہ 14 اگست 2015ء)

    مشاہدات:7164

    ماڈرن  یورپ میں احیائے علوم اور نشاہ ثانیہ کی تحریک کے نتیجے میں علوم کی کی تدوین عمل میں آئی۔اہل یورپ کی ایک جماعت نے جدید سائنسی علوم سے ہٹ کر علوم اسلامیہ اور مشرقی فنون کو اپنی تحقیقات کا مرکز بنایا اور اسی میں اپنی زندگیاں کھپا دیں۔اس ریسرچ کے نتیجے میں پچھلی دو صدیوں میں انگریزی،فرانسیسی،جرمن اور دیگر معروف یورپی زبانوں میں اسلا م کا ایک ایسا جدید  ورژن مدون ہو کر سامنے آیا جسے اسلام کی یورپین تعبیر قرار دیا جا سکتا ہے۔اہل یورپ کی تحقیق کا جہاں دنیائے اسلام کو کچھ فائدہ ہوا کہ اسلامی مخطوطات کا ایک گراں قدر ذخیرہ اشاعت کے بعد لائبریریوں سے نکل کر اہل علم کے ہاتھوں میں پہنچ گیا تو وہاں اس سے پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔یہودی،عیسائی اور لامذہب مغربی پروفیسروں کی ایک جماعت نے اسلام،قرآن مجید،پیغمبر اسلام ،اسلامی تہذیب وتمدن اور علوم اسلامیہ میں تشکیک وشبہات پیدا کرنے کی ایک تحریک برپا کرتے ہوئے اہل اسلام کے خلاف ایک فکری جنگ کا آغاز کر دیا۔زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور مستشرقین " مجلس التحقیق الاسلامی کے سابق رکن اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل نوجوان محترم ڈاکٹر حافظ محمد زبیر تیمی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے مستشرقین کے حوالے سے تاریخی نوعیت کی تفصیلات جمع فرما دی ہیں تاکہ اہل اسلام مستشرقین کی تاریخ سے آگاہی حاصل کرتے ہوتے ان کے مذموم مقاصد سے آگاہ ہو سکیں،اور ان کی فکری جنگ کا کما حقہ جواب دے سکیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات...

  • 8 صالح اور مصلح (جمعہ 03 جون 2016ء)

    مشاہدات:2286

    زیر تبصرہ کتاب دراصل خیر القرون کے منہج پر کتاب وسنت کی روشنی میں تزکیہ نفس اور اصلاح احوال کا ایک جامع پروگرام پیش کرتی ہے۔ تعلیم اور تزکیہ دونوں کی بنیاد کتاب وسنت اور صحبت ہے۔ تعلیم کی اصل اعتصام بالکتاب والسنۃ ہے تو تزکیہ کی اصل اتباع بالکتاب والسنۃ ہے۔ ترکیہ نفس میں دو چیزیں بہت اہم ہیں، طلب اور صحبت۔ اگر اپنی اصلاح کی طلب، خواہش اور آرزو نہ ہو گی تو نبی کی صحبت میں بھی بیٹھنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا جیسا کہ منافقین کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اور طلب پیدا کرنے کے بعد دوسری اہم چیز صالحین کی صحبت ہے۔ یہ کتاب ان شاء اللہ، ایک تو قاری میں تزکیہ نفس کی طلب پیدا کر دے گی اور دوسرا صحبت صالحین کی کمی پوری کرنے کے رستے تجویز کر دے گی۔ تعلیم میں کتاب وسنت کا گہرا فہم رکھنے والے علماء کی صحبت اور تزکیہ میں کتاب وسنت پر احسان کی کیفیت کےساتھ عمل کرنے والے صالحین کی صحبت ضروری ہے۔ اور صالحین میں سے بھی آپ کے والدین، رشتہ دار، پڑوسی، استاذ اور وہ دوست کہ جو نیکی کا شوق رکھتے ہوں اور نیکی کی ترغیب دیتے ہوں۔ پس آپ کتاب وسنت اور اپنے ارد گرد کے ان صالحین کی صحبت سے آپ اپنی اصلاح کیسے کر سکتے ہیں، یہ اس کتاب کا اصل موضوع ہے۔ اگر تو آپ ”بزرگ“ بننا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ہر گز مفید نہیں ہے اور اگر آپ ”بندہ“ بننا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں کہ یہی اس کتاب کا اصل موضوع ہے۔ ِیہ کتاب غوث، قطب، ابدال اور قلندر بننے کی خواہش رکھنے والوں کو مایوس کرے گی البتہ جو لوگ سلوک قرآنی کے مقامات صالحین، مصلحین، مسلمین، مومنین، محسنین، متق...

  • 9 حجیت حدیث اور انکار حدیث (جمعرات 02 فروری 2017ء)

    مشاہدات:2489

    انکار حدیث اور حجیت حدیث دراصل دو موضوعات ہیں۔ انکار حدیث سے مراد حدیث کے انکار کا فتنہ ہے کہ جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں اشارہ فرما گئے ہیں کہ میرے بعد ایک شخص پیدا ہو گا جو گاؤ تکیہ لگا کر بیٹھا ہو گا اور یہ کہے گا کہ قرآن مجید کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور جو اس میں حلال ہے، اسے حلال سمجھو۔ اور جو اس میں حرام ہے، اسے حرام قرار دو۔ پس اس کا مقصد یہ ہو گا کہ وہ لوگوں کو باور کروائے کہ قرآن مجید کے علاوہ تمہیں کسی چیز کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس چیز کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرایا ہے تو وہ بھی ویسے ہی حرام ہے جیسا کہ وہ شیء حرام ہے کہ جسے اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں حرام کہا ہے۔ یہ روایت سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد اورمسند احمد وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت 29 میں اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس کو حرام نہیں سمجھتے کہ جسے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو۔ قرآن مجید کی اس آیت سے واضح طور معلوم ہواکہ کچھ چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا اور کچھ کو اللہ کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔پس اس آیت اور روایت سے معلوم ہوا کہ اسلام کے بنیادی مصادر دو ہیں۔ قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ اب جن لوگوں نے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا بنیادی ماخذ ماننے سے انکار کر دیا تو وہ منکرین حدیث کہلائے اور ان کا یہ رویہ انکار حدیث کہلاتا ہے۔ پس اس امت میں کچھ لوگ تو ایسے ہو گزرے کہ جنہوں نے حدیث کا ک...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 634
  • اس ہفتے کے قارئین: 6803
  • اس ماہ کے قارئین: 46371
  • کل قارئین : 47263809

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں