دار الفکر الاسلامی

دار الفکر الاسلامی
5 کل کتب
دکھائیں

  • 1 رسالہ توحید و رد شرک (پیر 08 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1364

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہاب﷫ کے تلمید خاص اور ان کی قائم کرد ہ تحریک احیاء کتاب وسنت کےممد ومعاون شیخ عبد العزیز بن محمد بن سعود ﷫ کے توحید اور شرک کے موضوع پر ایک رسالہ کاترجمہ ہے۔ یہ رسالہ اگرچہ مختصر ہے مگراپنے مشمولات ومحتویات کے اعتبار سے ایک جامع کتاب کی حیثیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس میں ایک دقیق النظر صاحب بصیرت عالم کتاب وسنت کی فکری کاوش اور امت مسلمہ کے...

  • 2 تصوف کتاب و سنت کی روشنی میں (بدھ 23 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:3429

    تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ﷭ اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تصوف کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ شیخ محمد جمیل زینو﷫ کی تصوف کےموضوع پر جامع کتاب ’’الصوفیہ فی میزان الکتاب والسنۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ مولانا عبد الجبار صاحب نےاردو ترجمہ کرنےکی سعادت حاصل کی ہے ۔موصوف مترجم ایک اچھا علمی ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ فرق ضالہ پر بھی اچھا مطالعہ رکھتے ہیں۔شیخ جمیل زینو ﷫ نےاس کتاب میں تصوف کی ابتدا، صوفیت کتاب وسنت کے میزان میں ، صوفیوں کے اقوال، صوفیوں کی کرامات، صوفیوں کانظریہ جہاد،صوفیوں کے پیراور مشائخ صوفیہ کےنزدیک تقلیدِ شیخ، صوفیہ...

  • 3 چند مایہ ناز اسلاف قدیم و جدید (منگل 07 مئی 2019ء)

    مشاہدات:778

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے  امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے  یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور  ہو ۔تمام حالات کو  حقیقت کی نظر  سے  دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین  وفطین ہو  اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے  کہ تاریخ  ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس  کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے  اور اسلام میں تاریخ ، رجال  اور تذکرہ  نگار ی کو بڑی اہمیت  حاصل ہے ۔انسان انسان سے سیکھتا ہےاور اپنی زندگی کےلیے پیش رو کی زندگیوں سے فیض  حاصل کرتا ہےاس لیے  ہمیں اپنے اسلاف کے طور طریق کوجاننا چاہیے  اور ان میں  جو ہماری زندگی سنوارنے اور بنانے کے لیے مفید ہوں اس کواپنی زندگی  کےلیے رہنما بناناچاہیے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین  کے تذکرے لکھ کر ان  کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’چند مایہ ناز اسلاف قدیم وجدید‘‘مولولی محمد مسعود عزیزی ندوی  کےمقالات کے کا مجموعہ ہے ۔ان مقالات میں انہوں نے  متعدد اہل حق اسلاف  اور قابل استفادہ شخصتیوں کا تذکرہ کیا ہے  کہ جن کی زندگیاں علمی  ودینی خدمات میں گزری ہیں اس کتاب میں ایسے   نفوسِ قدسیہ  اور اصحاب دعوت وعزیمت کے سوان...

  • 4 خوابوں کی تعبیر کے اصول و ضوابط (اتوار 13 اکتوبر 2019ء)

    مشاہدات:369

    خواب ہماری زندگی کا ایک اہم جزو ہیں۔ ہم روزانہ خواب دیکھتے ہیں، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی، اور پھر ان کی تعبیر تلاش کرتے ہیں۔ دنیا میں کچھ حاصل کرنے کے لیے خواب دیکھنا بہت ضروری ہے، آپ وہی حاصل کر پاتے ہیں یا اسی کے لیے محنت کرتے ہیں کہ جس کے خواب آپ جاگتی آنکھوں دیکھ چکے ہوں۔ تو پہلی قسم کے خوابوں کا اس کتابچے میں ذکر نہیں ہے یعنی جاگتی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خوابوں کا ۔ ان خوابوں کو تعبیر کے لیے بس دو چیز وں کی ضرورت ہوتی ہے، محنت اور قسمت !اپنے مستقبل یعنی تعلیم، ملازمت، کاروبار، شادی، اولاد وغیرہ کے بارے میں آپ کی سوچیں، آپ کے خواب ہی تو ہیں کہ جنہیں پورا کرنے کے لیے آپ محنت کر رہے ہیں۔ بعض اوقات آپ کی محنت رنگ لاتی ہے اور قسمت بھی ساتھ دیتی ہے تو آپ کا خواب پورا ہو جاتا ہے اور بعض صورتوں میں آپ محنت تو بہت کرتے ہیں لیکن قسمت ساتھ نہیں دیتی تو آپ کا خواب پورا نہیں ہو پاتا لیکن ایسی صورت حال میں اگر آپ کے پاس ایمان کی دولت ہو گی تو اس خواب کا پورا نہ ہونا آپ کے لیے اذیت کا باعث نہیں بنے گا بلکہ آپ صبر کی دولت کے ساتھ ایک اچھی زندگی گزار جائیں گے۔ تو صرف محنت کچھ نہیں ہے بلکہ عبادت اور بندگی کے ساتھ محنت والی زندگی اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ اور یہی وہ زندگی ہے جسے قرآن مجید میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کہا گیا ہے اور ایسی زندگی گزارنے والے کے خواب بھی طیب ہی ثابت ہوتے ہیں۔اور دوسری قسم کے خواب وہ ہے جو ہم سوتے میں دیکھتے ہیں اور یہی اس کتابچے کا موضوع ہیں۔ ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اچھے خوابوں کا دیکھنا بہت ضروری ہے۔ ی...

  • 5 تعلق کی سائنس (پیر 14 اکتوبر 2019ء)

    مشاہدات:333

    "تعلق کی سائنس" چند تحریروں کا مجموعہ ہے جو پہلے پہل فیس بک ٹائم لائن پر شیئر کی تھیں تو بہت سے دوستوں کا تقاضا تھا کہ انہیں ایک کتابچے کی صورت جمع کر دیا جائے تو اس غرض سے ان دس تحریروں کو ایڈیٹنگ اور حک واضافے کے بعد ایک کتابچے میں جمع کیا گیا ہے۔ فیس بک کا اپنا ایک مزاج ہے لہذا بہت سی چیزیں وہاں لکھنے میں چل جاتی ہیں لیکن کتابی صورت میں انہیں بیان کرنا مناسب نہیں ہوتا لہذا میں جب بھی فیس بک کی تحریروں کو کتابی صورت میں شائع کرتا ہوں تو ان کی  کافی کچھ ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔ تعلق پر گفتگو کرنے سے پہلے تعلق کی فلاسفی کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامی تناظر میں اگر ہم گفتگو کریں تو ایک لفظ میں تعلق کی فلاسفی "آزمائش/امتحان" ہے۔ اللہ عزوجل نے تعلق کو ہماری آزمائش/امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ آزمائش/امتحان کو آپ تعلق سے کسی صورت جدا نہیں کر سکتے، کسی بھی تعلق سے۔ یہ دونوں یعنی تعلق اور آزمائش/امتحان آپس میں لازم وملزوم ہیں کہ جہاں تعلق ہے وہاں آزمائش/امتحان لازما ہے۔ تو انسانی تعلق راحت بھی ہے اور اذیت بھی۔ محبت بھی اس کی ایک جہت ہے اور نفرت بھی اس کا لازمہ ہے۔ اور دونوں صورتوں میں ہی یہ آزمائش ہے، کبھی محبت کی صورت میں تو کبھی نفرت کی صورت میں۔ کبھی پروردگار ہمیں محبت سے آزماتے ہیں اور کبھی نفرت سے۔ اور دونوں قسم کے جذبات میں اعتدال پر رہنا ہی آزمائش/امتحان میں کامیابی ہے اور یہی اعتدال انسان سے مطلوب ہے۔اس کتاب میں تعلق کی فلاسفی، اصول، اہمیت وضرورت، وجوہات اور اقسام، عشق، محبت، ہم جنس سے تعلق وغیرہ جیسے مسائل کو ز...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1750
  • اس ہفتے کے قارئین: 10503
  • اس ماہ کے قارئین: 35031
  • کل قارئین : 47146755

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں