اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #4207

    مصنف : عبد العزیز بن محمد آل سعود

    مشاہدات : 1513

    رسالہ توحید و رد شرک

    (پیر 08 فروری 2016ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’شیخ الاسلام مجدد دین امام محمد بن عبد الوہاب﷫ کے تلمید خاص اور ان کی قائم کرد ہ تحریک احیاء کتاب وسنت کےممد ومعاون شیخ عبد العزیز بن محمد بن سعود ﷫ کے توحید اور شرک کے موضوع پر ایک رسالہ کاترجمہ ہے۔ یہ رسالہ اگرچہ مختصر ہے مگراپنے مشمولات ومحتویات کے اعتبار سے ایک جامع کتاب کی حیثیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس میں ایک دقیق النظر صاحب بصیرت عالم کتاب وسنت کی فکری کاوش اور امت مسلمہ کے ایک مخلص مجاہد ، مصلح حاکم اور مرد میدان کی عقیدہ فہمی جمع ہے۔ اس اہم رسالہ کا ترجمہ کی سعادت جناب ڈاکٹر ظہور احمد اظہر (سابق پرنسل اورئنٹیل کالج،لاہور ) نے حاصل کی۔اور محترم جناب حافظ عبدالرشید اظہر﷫ نے 1995ء میں اسے   اپنے قائم کردہ ادارے ’’دار الفکر الاسلامی ‘‘ کی طرف سے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدہ توحیدپر قائم ودائم رکھیں اور اس کی نشرواشاعت وتبلیغ کی توفیق دے۔ (آمین)

  • 2 #4923

    مصنف : محمد بن جمیل زینو

    مشاہدات : 4059

    تصوف کتاب و سنت کی روشنی میں

    (بدھ 23 نومبر 2016ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ﷭ اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تصوف کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ شیخ محمد جمیل زینو﷫ کی تصوف کےموضوع پر جامع کتاب ’’الصوفیہ فی میزان الکتاب والسنۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ مولانا عبد الجبار صاحب نےاردو ترجمہ کرنےکی سعادت حاصل کی ہے ۔موصوف مترجم ایک اچھا علمی ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ فرق ضالہ پر بھی اچھا مطالعہ رکھتے ہیں۔شیخ جمیل زینو ﷫ نےاس کتاب میں تصوف کی ابتدا، صوفیت کتاب وسنت کے میزان میں ، صوفیوں کے اقوال، صوفیوں کی کرامات، صوفیوں کانظریہ جہاد،صوفیوں کے پیراور مشائخ صوفیہ کےنزدیک تقلیدِ شیخ، صوفیہ کےنزدیک ولی کامفہوم جیسے عنوانات قائم کرکے انہیں بڑے عام فہم انداز میں قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے تصوف کی حقیقت کو واضح کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 3 #6953

    مصنف : محمد مسعود عزیزی ندوی

    مشاہدات : 938

    چند مایہ ناز اسلاف قدیم و جدید

    (منگل 07 مئی 2019ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے  امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے  یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور  ہو ۔تمام حالات کو  حقیقت کی نظر  سے  دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین  وفطین ہو  اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے  کہ تاریخ  ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس  کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے  اور اسلام میں تاریخ ، رجال  اور تذکرہ  نگار ی کو بڑی اہمیت  حاصل ہے ۔انسان انسان سے سیکھتا ہےاور اپنی زندگی کےلیے پیش رو کی زندگیوں سے فیض  حاصل کرتا ہےاس لیے  ہمیں اپنے اسلاف کے طور طریق کوجاننا چاہیے  اور ان میں  جو ہماری زندگی سنوارنے اور بنانے کے لیے مفید ہوں اس کواپنی زندگی  کےلیے رہنما بناناچاہیے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین  کے تذکرے لکھ کر ان  کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’چند مایہ ناز اسلاف قدیم وجدید‘‘مولولی محمد مسعود عزیزی ندوی  کےمقالات کے کا مجموعہ ہے ۔ان مقالات میں انہوں نے  متعدد اہل حق اسلاف  اور قابل استفادہ شخصتیوں کا تذکرہ کیا ہے  کہ جن کی زندگیاں علمی  ودینی خدمات میں گزری ہیں اس کتاب میں ایسے   نفوسِ قدسیہ  اور اصحاب دعوت وعزیمت کے سوانح حیات او رحالات زندگی  پیش کیے گیے ہیں کہ  جن کی زبان میں اور جن کی باتوں میں اللہ نے تاثیر رکھی تھی اور انہوں نے ایسے اصلاحی  کام انجام دئیے کہ وہ تاریخ  کےہیرو بن گئے اور ان کےدعوتی واصلاحی کارنامے آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں ان کےحالات پڑھ کر خو د اپنی زندگیوں میں  تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔یہ کتاب نیٹ سے ڈؤان لوڈ کر کے  قارئین کتاب وسنت سائٹ کےلیے پیش کی گئی ہے۔(م۔ا)

  • 4 #7085

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 842

    خوابوں کی تعبیر کے اصول و ضوابط

    (اتوار 13 اکتوبر 2019ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    خواب ہماری زندگی کا ایک اہم جزو ہیں۔ ہم روزانہ خواب دیکھتے ہیں، سوتے میں بھی اور جاگتے میں بھی، اور پھر ان کی تعبیر تلاش کرتے ہیں۔ دنیا میں کچھ حاصل کرنے کے لیے خواب دیکھنا بہت ضروری ہے، آپ وہی حاصل کر پاتے ہیں یا اسی کے لیے محنت کرتے ہیں کہ جس کے خواب آپ جاگتی آنکھوں دیکھ چکے ہوں۔ تو پہلی قسم کے خوابوں کا اس کتابچے میں ذکر نہیں ہے یعنی جاگتی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خوابوں کا ۔ ان خوابوں کو تعبیر کے لیے بس دو چیز وں کی ضرورت ہوتی ہے، محنت اور قسمت !اپنے مستقبل یعنی تعلیم، ملازمت، کاروبار، شادی، اولاد وغیرہ کے بارے میں آپ کی سوچیں، آپ کے خواب ہی تو ہیں کہ جنہیں پورا کرنے کے لیے آپ محنت کر رہے ہیں۔ بعض اوقات آپ کی محنت رنگ لاتی ہے اور قسمت بھی ساتھ دیتی ہے تو آپ کا خواب پورا ہو جاتا ہے اور بعض صورتوں میں آپ محنت تو بہت کرتے ہیں لیکن قسمت ساتھ نہیں دیتی تو آپ کا خواب پورا نہیں ہو پاتا لیکن ایسی صورت حال میں اگر آپ کے پاس ایمان کی دولت ہو گی تو اس خواب کا پورا نہ ہونا آپ کے لیے اذیت کا باعث نہیں بنے گا بلکہ آپ صبر کی دولت کے ساتھ ایک اچھی زندگی گزار جائیں گے۔ تو صرف محنت کچھ نہیں ہے بلکہ عبادت اور بندگی کے ساتھ محنت والی زندگی اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ اور یہی وہ زندگی ہے جسے قرآن مجید میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کہا گیا ہے اور ایسی زندگی گزارنے والے کے خواب بھی طیب ہی ثابت ہوتے ہیں۔اور دوسری قسم کے خواب وہ ہے جو ہم سوتے میں دیکھتے ہیں اور یہی اس کتابچے کا موضوع ہیں۔ ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اچھے خوابوں کا دیکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ خواب بعض اوقات ناامیدی کے اندھیروں میں آپ کے لیے روشنی کی کرن بن جاتے ہیں، یہ خواب بستر مرگ پر آپ کو زندہ رہنے کی امنگ عطا کرتے ہیں۔ تو اچھے خوابوں کا دیکھنا بہت ضروری ہے اور پھر ان کی اچھی تعبیر پر یقین رکھنا تو اس سے بھی ضروری ہے کہ بعض اوقات انسان کےپاس زندگی گزارنے کے لیے سوائے چند خوابوں کے کچھ ہوتا ہی نہیں ہے۔اس کتابچے میں جن خوابوں کو بیان کیا گیا ہے، وہ حقیقی خواب ہیں کہ جن کی تعبیر ہم سے وقتا فوقتا لوگوں نے پوچھی ہے۔ اگرچہ پہلے بھی لوگ خوابوں کی تعبیر پوچھتے رہتے تھے لیکن جب فیس بک پر ہم نے خوابوں کی تعبیر کےا صول وضوابط کے بیان کا یہ سلسلہ شروع کیا تو کافی سارے لوگوں نے واٹس ایپ اور میسنجر پر اپنے خواب شیئر کیے۔ ان خوابوں میں سے کوئی ستر کے قریب خوابوں کے مواد کا ہم نے جائزہ لیا اور ان کے ایک معتد بہ حصے کو اس کتابچے کی تفہیم کے لیے اس کا حصہ بنایا ہے لیکن خواب دیکھنے والے کی معلومات کو شیئر نہیں کیا گیا ہے اور صرف خواب کے مواد کےتجزیے کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ بہت سے خواب ایسے بھی تھے جو ایک سے زائد لوگ دیکھ رہے تھے جیسا کہ ہوا میں اڑنا، اونچائی سے گرنا، کمرہ امتحان میں پریشان رہنا، اپنے آپ کو بے لباس دیکھنا، اپنے کسی محرم سے تعلق قائم کرنا، سانپ اور کتے کو دیکھنا، نجاست اور گندگی دیکھنا ، قیامت برپا ہوتے دیکھنا، چاند کو دیکھنا وغیرہ۔ اس کتابچے میں خوابوں کی تعبیر کے علاوہ ان کی تعبیر کے اصول وضوابط متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے تا کہ ان کی تعبیر میں آسانی رہے۔ [ڈاکٹر حافظ محمد زبیر]

  • 5 #7086

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 689

    تعلق کی سائنس

    (پیر 14 اکتوبر 2019ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    "تعلق کی سائنس" چند تحریروں کا مجموعہ ہے جو پہلے پہل فیس بک ٹائم لائن پر شیئر کی تھیں تو بہت سے دوستوں کا تقاضا تھا کہ انہیں ایک کتابچے کی صورت جمع کر دیا جائے تو اس غرض سے ان دس تحریروں کو ایڈیٹنگ اور حک واضافے کے بعد ایک کتابچے میں جمع کیا گیا ہے۔ فیس بک کا اپنا ایک مزاج ہے لہذا بہت سی چیزیں وہاں لکھنے میں چل جاتی ہیں لیکن کتابی صورت میں انہیں بیان کرنا مناسب نہیں ہوتا لہذا میں جب بھی فیس بک کی تحریروں کو کتابی صورت میں شائع کرتا ہوں تو ان کی  کافی کچھ ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔ تعلق پر گفتگو کرنے سے پہلے تعلق کی فلاسفی کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامی تناظر میں اگر ہم گفتگو کریں تو ایک لفظ میں تعلق کی فلاسفی "آزمائش/امتحان" ہے۔ اللہ عزوجل نے تعلق کو ہماری آزمائش/امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ آزمائش/امتحان کو آپ تعلق سے کسی صورت جدا نہیں کر سکتے، کسی بھی تعلق سے۔ یہ دونوں یعنی تعلق اور آزمائش/امتحان آپس میں لازم وملزوم ہیں کہ جہاں تعلق ہے وہاں آزمائش/امتحان لازما ہے۔ تو انسانی تعلق راحت بھی ہے اور اذیت بھی۔ محبت بھی اس کی ایک جہت ہے اور نفرت بھی اس کا لازمہ ہے۔ اور دونوں صورتوں میں ہی یہ آزمائش ہے، کبھی محبت کی صورت میں تو کبھی نفرت کی صورت میں۔ کبھی پروردگار ہمیں محبت سے آزماتے ہیں اور کبھی نفرت سے۔ اور دونوں قسم کے جذبات میں اعتدال پر رہنا ہی آزمائش/امتحان میں کامیابی ہے اور یہی اعتدال انسان سے مطلوب ہے۔اس کتاب میں تعلق کی فلاسفی، اصول، اہمیت وضرورت، وجوہات اور اقسام، عشق، محبت، ہم جنس سے تعلق وغیرہ جیسے مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ [ڈاکٹر حافظ محمد زبیر]

  • 6 #8031

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 515

    روایت اور جدیدیت

    (جمعرات 28 نومبر 2019ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    "روایت اور جدیدیت" چند تحریروں کا مجموعہ ہے جو پہلے پہل فیس بک ٹائم لائن پر شیئر کی گئی تھیں۔ بعض دوستوں کا تقاضا تھا کہ انہیں ایک کتابچے کی صورت جمع کر دیا جائے تو اس غرض سے ان تحریروں کو ضروری ایڈیٹنگ اور کچھ اضافوں کے بعد ایک کتابچے کی صورت جمع کیا گیا ہے کہ جسے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا جا سکتا ہے۔ اس کتابچے کا شان نزول یہ ہے کہ ہمارے ایک قریبی دوست جناب مراد علوی صاحب جو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ سیاسیات میں زیر تعلیم ہیں اور دین کا بہت ہی درد رکھنے والے طالب علم ہیں، کچھ عرصہ سے فکر اہل حدیث اور علمائے اہل حدیث پر گاہے بگاہے کچھ پوسٹیں لگا رہے تھے۔ خیر اہل حدیث علماء سے اختلاف یا ان پر نقد تو کوئی ایسا ایشو نہیں ہے کہ جس پر کوئی جوابی بیانیہ تیار کیا جائے کہ کسی بھی مسلک کے علماء ہوں، ان سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور ان پر نقد بھی ہو سکتا ہے لیکن فکر اہل حدیث ہماری نظر میں ایک ایسی شیء ہے کہ جس پر نقد کا جواب دینا ہم ایک دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اور فکر اہل حدیث سے ہماری مراد کتاب وسنت کی طرف رجوع کی دعوت ہے جو کہ خود کتاب وسنت ہی کی دعوت ہے۔ مراد علوی صاحب کی اس تحریر میں رجوع الی القرآن کی ہر تحریک کو مارٹن لوتھر کی تحریک کا تاثر قرار دیا گیا تھا اور کچھ ایسا ہی موقف جناب حسن عسکری صاحب  رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "جدیدیت" میں بھی پیش کیا ہے کہ جس کا  تفصیل سے رد ہم نے اپنے کتابچے "اسلامائزیشن آف سائنس" میں  کیا ہے۔ فیس بک پر ہی ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب نے بھی اس بحث میں حصہ لیا اور ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈاکٹر اسرار احمد  رحمہ اللہ  کی تحریک رجوع الی القرآن کو روایت ہی کا تسلسل سمجھتے ہیں البتہ اہل حدیث کے بارے ان کا کہنا تھا کہ ان میں جدیدیت ہے۔  تو اس کے جواب میں ہمارا کہنا یہ تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد  رحمہ اللہ  کو روایت پسند ہونے کا تمغہ صرف اس لیے دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو نیم مقلد کہتے تھے جبکہ فقہ، کلام اور تصوف کی تینوں روایات کے بارے جو سختی اور رد ان کے بیانات میں موجود ہے، اہل حدیث کے ہاں عام طور نہیں ملتی۔ تو اہل حدیث کو بعض فکری احناف کی طرف سے صرف اور صرف مسلکی تعصب میں جدیدیت کا نمائندہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ ڈاکٹر اسرار احمد  رحمہ اللہ  بھی وہی نعرہ لگاتے ہیں یعنی رجوع الی القرآن جو اہل حدیث نے لگایا ہے یعنی رجوع الی الکتاب والسنۃ۔ ڈاکٹر اسرار احمد  رحمہ اللہ  نے تو فقہ کو دور ملوکیت کی پروردہ ، علم کلام کو قوالی اور مروجہ تصوف کو بدعت قرار دیا ہے۔ اب لوگ پڑھیں تو معلوم ہو کہ کس کا کیا موقف رہا ہے۔ تو اہل حدیث کو جدیدیت کا نمائندہ قرار دینا یہ مسلکی تعصب کا شاخسانہ ہے۔ اور مسلکی تعصب، مسلکی تعصب ہی کو جنم دیتا ہے۔ بہرحال اس کتابچے میں ہم نے بہت اچھے سے کتاب وسنت کی روایت کے ساتھ ساتھ فقہ، کلام اور تصوف کی روایتوں کے بارے فکر اہل حدیث کا موقف بیان کر دیا ہے۔ اور یہ وہی موقف ہے جو ائمہ اربعہ کا تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو خیر القرون میں رائج تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو صحابہ وتابعین کا تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو سلف صالحین کا تھا کہ روایت دو قسم پر ہے؛ ایک کتاب وسنت کی اور یہی اصل روایت ہے اور اس کی تو غیر مشروط اطاعت کی جائے گی اور اہل حدیث اس کے  پورے طور قائل ہیں۔ اور رہی فقہ، کلام اور تصوف کی روایت تو اس کے ساتھ  ہمیں تمسک اختیار کرنا ہے لیکن اس کی اصلاح کی پوزیشن لیتے ہوئے نہ کہ تقلیدی جمود کی کہ جس کا نتیجہ روایت پسندی نہیں بلکہ روایت پرستی ہے۔ ( ڈاکٹر حافظ محمد زبیر )

  • 7 #8075

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 461

    اسلامائزیشن آف سائنس

    (اتوار 12 جنوری 2020ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    اسلام اور سائنس کے موضوع پر مختلف بیانیے اس وقت موجود ہیں   ان میں ایک بیانیہ حسن عسکری صاحب کا ہے ۔حسن عسکری صاحب کے بیانیے نے  انصاری مکتب فکر سے وابستہ بہت سے اہل فکر ودانش کو متاثر کیا ہے۔ ان حضرات کی تحریریں ماہنامہ’’الساحل‘‘ کراچی میں پبلش ہوتی رہی  ہیں۔ خالد جامعی صاحب نے خاص طور اس موضوع پر کافی کچھ لکھا ہے اور لکھتے رہتے ہیں۔معروف مذہبی سکالر  ڈاکٹر حافظ محمد زبیر ﷾(مصنف کتب کثیرہ،اسسٹنٹ پروفیسر کامساٹس یونیورسٹی،لاہور)  نے  زیر نظر کتابچہ بعنوان’’ اسلامائزیشن آف سائنس‘‘ میں اس موضوع کے متعلق چند ایک معروف بیانیوں کو موضوع بحث بنایا ہے۔ اس کتابچے میں سب سے زیادہ زیر بحث حسن عسکری صاحب کا بیانیہ رہا ہے۔ڈاکٹرحافظ  زبیر صاحب کو حسن عسکری صاحب اور ان کے متبعین کے نقطہ نظر سے بالکل بھی اتفاق نہیں ہے لیکن ڈاکٹر زبیر صاحب کے نزدیک  ان کی تحریریں اس اعتبار سے قابل ستائش ہیں کہ کسی نے اس موضوع پر کھل کر اظہار خیال تو کیا ہے اور ایک بیانیہ تو پیش کیا ہے۔نیزسائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے جو نقطہ نظر انصاری مکتب فکر سے وابستہ حضرات پیش کر رہے ہیں، اس میں اضافی سچائی (relative truth) موجود ہے اگرچہ وہ کل حقیقت نہیں ہے۔ اگر یہ حضرات اسے حقیقت کے مطالعے کے لیے ایک زاویے کے طور پیش کریں تو بات پھر بھی چل جائے لیکن جب وہ اسے کل حقیقت بنا کر پیش کرتے ہیں تو پھر بات بگڑ جاتی ہے اور ایک ایسی فکر سامنے آتی ہے جو عدم توازن کا شکار لگتی ہے۔  ڈاکٹر زبیر صاحب کا یہ کتابچہ اسی حوالے سے اس  حسن عسکری اور انصاری مکتب فکر سے وابستہ حضرات کے بیانیے پر ایک نقد ہے۔ صاحب کتابچہ کا  ان حضرات  کے بیانیے سے بنیادی اختلاف یہ ہےکہ سائنس فی نفسہ شر نہیں ہے بلکہ اس کا استعمال اسے خیر اور شر بنا دیتا ہے جبکہ ان حضرات کا اصرار یہ ہے کہ سائنس فی نفسہ شر ہے۔  زیر نظر کتابچہ اس موضوع پر ڈاکٹر زبیر صاحب کی فیس بک کی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ جنہیں حافظ زبیر ﷾ نے  تہذیب وتصحیح اور حک واضافے کے ساتھ شائع کیا ہے۔اللہ تعالیٰ  ڈاکٹر حافظ زبیر ﷾ کی تحقیقی وتصنیفی ،تبلیغی  وتدریسی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے  اور ان کے ان علم وعمل میں مزید خیر وبرکت فرمائے ۔(م۔ا) 

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 999
  • اس ہفتے کے قارئین 6984
  • اس ماہ کے قارئین 45378
  • کل قارئین49320633

موضوعاتی فہرست