مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی
یوپی انڈیا
  • 1 تذکرۃ البخاری ( محمد الاعظمی ) (جمعہ 18 جنوری 2019ء)

    مشاہدات:640

    امام محمد بن  اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر  االمؤمنین فی  الحدیث امام  المحدثین  کے  القاب سے ملقب  تھے۔ ان کے  علم  و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا  محدثین عظام  او رارباب ِسیر  نے اعتراف کیا ہے  امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁ ، بروز جمعہ  بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔  جن میں امام محمد بن سلام الکندی ، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔  طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور  کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری ﷫ کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے اساتذہ اور شیوخ  کی تعداد  کم وبیش ایک ہزار  ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ  کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری﷫ سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری﷫ کے علمی کارناموں میں  سب سے  بڑا کارنامہ صحیح بخاری  کی تالیف ہے  جس کے بارے  میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ  ہے کہ قرآن کریم   کے بعد&nbs...


  • دینی مدارس  کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام  ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی  مدارس دینِ اسلام  کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ  قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے  دینِ اسلام کا تعلق تعلیم  وتعلم اور درس وتدریس سے  رہا ہے  ۔نبی  کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو  وحی  نازل  ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم  کے گھر میں دار ارقم  کے  نام سے  ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح  وشام کے اوقات میں  صحابہ  کرام ﷢وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے  یہ اسلام کی سب سے  پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست  کاقیام عمل میں آیا  تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی  جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے  ۔اس کے  ایک جانب آپ نے  ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ  مقامی وبیرونی  صحابہ کرام﷢ کو قرآن مجید اور دین  کی تعلیم دیتے  تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی  مدرسہ تھا جو تاریخ  میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف  ہے ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ  کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ  پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں  ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ  ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث  سے بھری پڑی ہے ...

  • 3 مقدس رسول بجواب رنگیلا رسول (جمعہ 25 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3098

    مفسر قرآن ، فاتح قادیان ،کثیرالتصانیف مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ 1868ء امرتسر میں پیدا ہوئے،اورمولانا سیّد نذیر حسین دہلوی ﷫ سے اکتساب علم کیا۔ ہفت روزہ ’’اخبار اہل حدیث‘‘ کے مدیر اور مؤسس تھے۔ادیانِ باطلہ پر گہری نظر تھی۔عیسائیت ، آریہ سماج ہندووں، قادیانیت اور تقلید کے ردمیں متعدد کتابیں لکھیں۔آپ نے سیرت مبارکہ صلی اللہ علیہ و سلم پر تین کتابیں تالیف کی تھیں،جن میں سے ایک زیر تبصرہ کتاب(مقدس رسولﷺ بجواب رنگیلا رسول) بھی ہے۔یہ کتاب اس زمانے میں لکھی گئی جب مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔"رنگیلا رسول " نامی کتاب خبیث ہندو راجپال کی شرارت تھی ،جس میں اس نے نبی کریمﷺ کی ذات بابرکات پر نہایت رکیک ،کمینے اور غیر مہذب اعتراضات کئے تھے۔اس کتاب کے بازار میں آتے ہی مسلمانوں میں انتہائی اشتعال پیدا ہو گیا اور اس کا جواب لکھنے کے مطالبے سامنے آنے لگے۔چنانچہ مولانا ثناء اللہ امرتسری میدان میں آئے اور (مقدس رسولﷺ)کے نام سے اس کانہایت متین،معقول،محققانہ اور قاطع جواب لکھا۔اور اس جاہل اور احمق ک...

  • 4 بدعات کا انسائیکلو پیڈیا (بدھ 08 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:4062

    دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں ۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب   وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام ﷢ نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا ۔ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے ۔ اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے راہبوں ،صوفیوں، نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے اسلام کی اصل شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی ہے۔دن کی بدعات الگ ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔جید اہل علم نے   بدعات اور اس کے نقصانات سے...

  • نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ زیر نظر کتاب" تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہیئت وکیفیت " انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین مولانا محفوظ الرحمن فیضی شیخ الجامعہ جامعہ اسلامیہ فیض آبادکی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہیئت وکیفیت کو بیان کیا ہے ،تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین۔(راسخ)

  • 6 سنت کی روشنی اور بدعت کی تاریکیاں (منگل 14 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2545

    قرآن کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے۔قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثیت ہے  ۔سنت وہ ہدایت ہےجس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ،علم واعتقاد اور قول وعمل کےساتھ گامزن تھے اور یہی وہ سنت ہے جس کی اتباع واجب ہےاور اس پر چلنے والے قابل تعریف اوراس کی مخالف کرنےوالے قابل مذمت ہیں ۔کیونکہ اتباعِ سنت جزو ایمان ہے  ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعتِ رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اور ایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث نبویہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دی...

  • 7 کیا خضر علیہ السلام ابھی زندہ ہیں؟ (ہفتہ 18 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2462

    سیدنا خضر ﷤ کے نبی یا ولی ہونے اور ان کے اب تک زندہ رہنے نیز بعض لوگوں کے خضر ﷤سے ملاقات کرنے اور خضر ﷤ کے ان کی رہنمائی کرنے کا مسئلہ عرصہ دراز سے موضوع بحث بنا ہوا ہے،اور لوگوں کے درمیان سیدنا خضر کے حوالے سے بے شمار بے تکی،غیر مستند اور جھوٹی کہانیاں زیر گردش ہیں۔ اس سلسلے میں عربی زبان میں اگرچہ کچھ کتابیں موجود ہیں ،لیکن اردو زبان کا دامن اب تک اس سے خالی تھا،اور اس امر کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ اس نازک موضوع پر اردو میں بھی کچھ لکھا جائےتاکہ لوگوں کے عقائد کی اصلاح کی جاسکے۔مقام مسرت ہے کہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو انڈیا کے ایک عالم دین محترم جناب مولانا عبد اللطیف اثری ﷾نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور صحیح بخاری کے شارح علامہ حافظ ابن حجر ﷫کی کتاب"الزھر النضر فی حال الخضر "کا اردو ترجمہ کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے اس ترجمہ کا اردو نام " کیا خضر﷤ ابھی زندہ ہیں؟"رکھا ہے۔جس پر تحقیق ،تخریج اور تحشیہ کاکام شیخ صلاح الدین مقبول احمد (کویت) نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں حدیث میں خضر کا قصہ،خضر کے بارے میں خلاصہ بحث،خضر سے کون مراد ہیں؟خضر فرشتہ ہیں یا ولی یا نبی ،نبوت ورسالت پر ولایت کی برتری کی تردید،شارح العقیدہ الطحاویہ کی ایک نفیس بات،قرآن وحدیث سے نبوت خضر پر دلائل،استمرار حیات کا سبب اس کے قائلین کی نظر میں،استمرار حیات خضر کے قائلین کی آراءوغیرہ جیسی مباحث بیان کی ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف،مترجم اور تمام معاونین کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت (جمعہ 24 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2134

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ صلى الله عليه وسلم کو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلن...

  • 9 تصوف دین یا بے دینی (منگل 05 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2243

    تصوف ایک انسانی روحانی تجربہ ہے اسے دین وشریعت کا نام نہیں مل سکتا ہے اور ہر صوفی کاتجربہ دوسرے صوفی سےجدا ہوتا ہے اوراس تجربے میں جس قدر تعمق آتاجاتا ہے گمراہی اسی قدر بڑھتی جاتی ہے اس تجربے کےلیے انسان کو ہر قدم پر شریعت سے دو ر ہٹنا پڑتا ہے اور تجربے میں جس قد ر تعمق ہوگا اس کے بقدر انسان شریعت سےدور ہٹے گا۔ اور یہ تجربہ کسی حدودوقید کا پابند نہیں ہے ۔اس لیے اس میں ارتقاء آتا گیا اورگمراہیاں بڑھتی گئیں اوراس آزادئ فکر پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا اگر تصوف کسی پابندی کوبرا داشت کرلے توتصوف تصوف نہ رہ جائے گا تصوف کا مسلک ہی آزادی اور اباحیت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب جناب عبد المعیدمدنی ﷾ کے تصوف کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے مقالہ کی کتابی صورت ہے۔ اس میں انہوں نے تصوف کی شرعیت، عملیت، فعالیت اور مضرت پر بات کی ہے اور یہ نتیجہ ظاہر کیا ہے کہ تصوف ہر اعتبار سے دین سے خارج شئی ہے او رگمراہی کا منبع، دنیا میں کوئی نظریہ تصوف سے زیادہ گمراہ کن اور فاسد نہیں ہے او ردین کی قرآن وسنت سے ثابت شدہ باتوں پر تصوف کا عنوان لگانا بہت بڑی جسارت ہےجو معافی کے لائق نہیں ہے۔ (م۔ا)

  • 10 شمائل ترمذی ( زبیر علی زئی ) (جمعہ 28 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2591

    انسانیت کے انفرادى معاملات سے لے کراجتماعى بلکہ بین الاقوامى معاملات اورتعلقات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں کہ جس کے متعلق پیارے پیغمبرﷺ نے راہنمائی نہ فرمائی ہو، کتبِ احادیث میں انسانى زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں ہے یعنى انفرادى اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق محدثین نے پیارے پیغمبر ﷺ کے فرامین کی روشنى میں ہر چیز جمع فرمادی ہے۔کتب ِ سیرت او رکتب ِ شمائل میں فرق یہ ہے کہ کتب سیرت میں نبی کریم ﷺ سے متعلق ہر بات خوب وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ مثلاً ہجرت جہاد وقتال ،غزوات ، دشمن کی طرف سے مصائب وآلام، امہات المومنین کابیان اور صحابہ کرام کے تذکرے وغیرہ ۔جبکہ شمائل وخصائل کی کتب میں صرف آپﷺ کی ذاتِ بابرکت ہی موضوع ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ کا چلنا پھرنا، آپ کا کھانا پینا آپ کی زلفوں کے تذکرے ، آپ کےلباس اور بالوں وغیرہ کے بیانات جو اصلاح فرد کےلیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہیں ۔اسی لیے ائمہ محدثین نے اس طرف بھی خوصی توجہ کی ہے مثلاً امام اورامام ترمذی نے اس موضوع پر الگ سے کتب تصنیف ہیں۔ شمائل ترمذی پا ک وہند میں موجو د درسی جامع ترمذی کے آخر میں بھی مطبوع ہے۔ جسے مدارسِ اسلامیہ میں طلباء کو سبقا پڑھایاجاتا ہے ۔ اور اسے شمائل محمدیہ کےنام سے الگ بھی شائع کیا گیا ہے علامہ شیخ ناصر الدین البانی ﷫ وغیرہ نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے ۔اور کئی اہل علم نے اسے اردو دان طبقہ کے لیے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ شمائل ترمذی‘‘ امام ترمذی ﷫ کی نبی کریم ﷺ کی خصائل وعادات پر مشمتل کتاب ہے ۔اس کتاب میں امام ترمذی ﷫نے نہایت محنت وک...

  • 11 ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع (پیر 01 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2386

    ہر مسلمان پرواجب اور ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کے وارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسلﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اور اسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب"ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع" علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کی ایک معرکۃ الاراء کتاب"جلب المنفعۃ فی الذب عن الائمۃ المجتہدین الاربعۃ" فارسی کا اردو ترجمہ ہے، مترجم مولانا محمد اعظمی حفظہ اللہ تعالیٰ نے حتی المقدور کتاب کا ترجمہ سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ مولانا خان صاحبؒ کے علمی و دینی خدمات جلیلہ اور ان کے تجدیدی کارنامے تعارف کے محتاج نہیں۔ مولانا خان صاحبؒ نے اپنی اس نایاب تصنیف میں ائمہ اربعہ کے دفاع کے ساتھ ان کے اور جماعت اہل حدیث و محدثین کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں اور مقلدین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو لعن طعن، الزام تراشی اور تکفیر و تفسیق کی گرم بازاری رہتی ہے اس پر سخت نکیر کی...

    سنت 
  • 12 سنتیں جو چھوڑ دی گئیں (منگل 16 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1570

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کےلیےبےشمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔پس انسان کے لیےلازم ہےکہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی اداکرے۔اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہےتو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہےکہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہےجس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہےکہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سےدیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہےیہ واحد دین ہےجو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی کامیابی کا راز اتباع رسول اللہ ﷺ میں مضمر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سنتیں جو چھوڑ دی گئیں" مولانا عبد المالک القاسم کی عربی تالیف ہے۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا یوسف بن اسحاق نے نہایت سلیس انداز سے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کو ہمت و استقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 13 دنیا بھر میں قبول اسلام کے سچے واقعات (جمعہ 19 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1556

    اسلام ایک ایسا آفاقی اورفطری مذہب ہے جس نے ہر دور میں اطراف واکناف میں پھیلے ہوئے جن وانس کو اپنی ابدی تعلیمات سے مسحور کر دیا۔ یہی وہ مذہب ہے جس کے سایہ عاطفت میں آکر ہر شخص اس قدر سکون واطمینان محسوس کرتا ہے جس سے وہ کبھی بھی آشنا نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کے مادی معاشرے میں سکون و اطمینان کی تلاش میں سرگرداں لوگ بھی اسی مذہب کی آغوش میں ہی حقیقی سکون محسوس کرتے ہیں۔اور مسلمان ہونا یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس نعمت کے مقابلہ میں دنیا جہاں کی تمام نعمتیں ہیچ او ر بے حیثیت ہیں ۔اسلام کتنی عظیم نعمت ہے اسکا احساس یہودیت اور عیسائیت سے توبہ تائب ہوکر اسلام لانے والو ں کے حالات پڑ ھ کر ہوتا ہے۔اسلام کی نعمت عطا فرماکر اللہ تعالی ٰ نے یقیناً اپنے بندوں پر بڑا انعام فرمایا ہے۔ لیکن اسلام کو مکمل صورت اختیار کرنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں دشوار اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام کی آغوش میں آنا ہے یہ ہرگز معمولی بات نہیں کہ ایک شخص اپنے ماحول خاندان اور والدین کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور تلاشِ حق میں اس راستے پر گامزن ہوتاہے جوہزاروں گھاٹیوں اور دشواریوں سے بھرا ہوتا ہے مگر وہ ہر مصیبت کا مقابلہ کرتا ہے اور ہر آزمائش پر پورا اترتا ہے یہ کام یقیناً انھی لوگوں کا ہے جن کے حوصلے بلند اور ہمتیں غیر متزلزل ہوتی ہیں اہل عزیمت کایہ قافلہ قابل صد مبارک باد اور قابل تحسین ہے ۔ کئی قلمکاران نے عصر حاصر میں میں یہودیت ، عیسائیت سے تائب ہوکراسلام قبول کرنے والوں کی دلسوز داستانیں مرتب کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’دنیا بھر میں قبول اسلام کے سچے و...

  • 14 سیرت امہات المومنین (اتوار 21 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2489

    اہل السنۃ والجماعۃ کےنزدیک ازواج ِ مطہرات تمام مومنین کی مائیں ہیں۔ کیونکہ یہ قرآنی فیصلہ ہے اور قرآن حکیم نے صاف لفظوں میں اس کو بیان کردیاہے:ترجمہ۔نبیﷺ مومنوں کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں(الاحزاب:6:33)۔ جن عورتوں کو آپﷺ نے حبالۂ عقد میں لیا انکو اپنی مرضی سے رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپﷺ نے ان سے نکاح کیا تھا۔ ان کوبرا بھلا کہنا حرام ہے۔ اس کی حرمت قرآن وحدیث کے واضح دلائل سے ثابت ہے ۔جو ازواج مطہرات میں سے کسی ایک پر بھی طعن   وتشنیع کرے گا وہ ملعون او ر خارج ایمان ہے۔ نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات کی سیرت خواتین اسلام کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ان امہات المومنین کی سیرت کے تذکرے حدیث وسیرت وتاریخ کی کتب میں موجود ہیں۔ اور اہل علم نے الگ سے بھی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت امہات المومنین‘‘برصغیر کے معروف سوانح نگار مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی مختصر تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی گیارہ ازواج مطہرات کا مختصر تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام کاوشوں کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو خواتین اسلام کےلیے نفع بنائے۔ (م۔ا)

  • 15 غیبت یا دونوں جہاں کی مصیبت (اتوار 13 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1166

    اللہ رب العزت نے آنحضرت ﷺ کو رحمت اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا، آپ ﷺ نے جہالت میں ڈوبی ہوئی امت کو جہاں علم و حکمت کا شعور بخشا وہیں انہیں اعلیٰ طرز معیشت سے بھی ہمکنار کیا۔ شریعت اسلامیہ ہی وہ واحد شریعت ہے جس میں ہر چیز کوعدل و انصاف کے ترازو میں رکھ کر توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس کی بے شمار خصوصیات و خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے اندر تمام حقوق کی بغیر کسی کمی بیشی کے وضاحت کر دی گئی ہے، اور حقوق کی پامالی پر عتاب کی وعید بھی سنائی گئی ہےاور ہر ایک کو اس کا پورا پورا حق دیا ہے تا کہ فتنہ و فساد سے محفوظ رہ سکیں۔ عصر حاضر میں ہوس و لالچ کی وجہ سے حق تلفی کی مہلک بیماری ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔ آپؐ نے معاشرے میں شر انگیز اسباب کینہ، بغض، حسد، عداوت، غیبت اور رشوت وغیرہ جیسی مہلک بیماریوں کا خاتمہ کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" غیبت یا دونوں جہاں کی مصیبت" مولانا ساجد اسید ندوی کی ایک اصلاحی تصنیف ہے۔ جس میں فاضل مؤلف نے معاشرے کے ایک ایسے ناسور کا ذکر کیا ہے جو بظاہر تو معمولی سمجھا جاتا ہے مگر یہی معمولی گناہ معاشرے کا امن تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ فاضل مؤلف کو اجر عظیم عطا فرمائے اور اہل اسلام کو اس معاشرتی ناسور سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 16 60 باکمال خواتین (اتوار 01 مئی 2016ء)

    مشاہدات:3755

    اسلامی تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اورپاکیزہ  نمونہ پیش کرتی ہے۔ آج جب زمانہ بدل رہا ہے، مغربی تہذیب و تمدن  او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے، تہذیب مغرب کی دلدادہ مسلمان خواتین  او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزیدہ  خواتین کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر گمراہ اور ذرائع ابلاغ کی زینت خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف کی خدمات کو پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام کے ہردور میں عورتوں نےمختلف حیثیتوں  سے امتیاز حاصل کیا ہے ،اور بڑے بڑے عظیم کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ، تابعیات، صالحات کی زندگیاں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ان کے دینی، اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے نہ صرف دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں نجات کا ذریعہ  ہیں، بلکہ موجودہ دور کے تمام معاشرتی خطرات سے  محفوظ رکھنے کے بھی ضامن ہیں۔ اسلامی تاریخ میں ایسی خواتین بھی گزری ہیں جن کے سامنے اچھے اچھے سیاستدان اور حرب وضرب کے ماہر اپنے آپ کے بے بس پاتے تھے ان کی زبان کی کاٹ تلوار سے تیز تھی اوربعض کے اشعار دشمن کے لیے شمشیر برہنہ سے کم نہ تھے۔ ایک بہادر خاتون نے بنوامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خلافت کے حق دار نہیں ہیں اور اتنا بڑا اعزاز انہیں زیب نہیں دیتا۔تاریخ میں ایسی خواتین کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے شاہی غیظ وغضب کی بھی پرواہ نہیں کی اور شاہی خاندان کے بعض خودسر افراد کے غرور وتمکنت کا جنازہ نکال دیا۔ زیر تبصرہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب کا منتخب حصہ...

  • 17 تاریخ مرکزی دار العلوم (جامعہ سلفیہ بنارس) (جمعرات 05 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1776

    دینی مدارس کے طلباء، اساتذہ ،علمائے کرام، مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں۔ روزِ اول سے دینِ اسلام کا تعلق تعلیم وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نے ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا۔ صبح و شام کے اوقات میں صحابہ کرام ﷢وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے۔ اس کے ایک جانب آپ نے ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی و بیرونی صحابہ کرام﷢ کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔ اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام، ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس دینیہ اور مَسندوں کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ جہاں سے وہ شخصیا ت پیدا ہوئیں...

  • مسلمانوں کے اندر وہ لوگ جو اہل سنت گردانے جاتے ہیں یا جن کو اہل سنت کہا جاتا ہے یا جو خود کو اہل سنت کہلوانا پسند کرتے ہیں عمومی طور پر ان کے اندر تین طرح کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ 1۔ سلفی رجحان، 2۔ تحریکی رجحان اور 3۔ صوفی رجحان۔برصغیر میں ان تینوں رجحانات کی نمائندہ جماعتیں موجود ہیں۔ جماعت اہل حدیث سلفی رجحان کی نمائندہ ہے، جماعت اسلامی اور تمام تجدد پسند تحریکی وعصرانی رجحان کی نمائندہ ہیں اور دیو بندی وبریلوی جماعتیں صوفی رجحان کی نمائندہ ہیں۔ ہر رجحان کے اپنے افکار ومعتقدات اور اصول وضوابط ہیں اور ان کے مطابق ان کی چلت پھرت اور نشاطات وتحرکات ہیں۔جماعت اسلامی جو کہ تحریکی رجحان کی مالک ہے اس میں بعض ایسی چیزیں بھی پائی جاتی ہیں جو قابل اعتراض ہ ہیں اور ان کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تحریکی رجحان، جماعت اسلامی کی بنیادی کمزوریاں" انڈیا کے عالم دین مولانا عبد المعید مدنی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے انہی رجحانات کی روشنی میں جماعت اسلامی کی بنیادی کمزوریوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 19 تحفۂ وقت (پیر 09 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1289

    وقت اس کائنات میں انسان کی عزیز ترین اور نہایت بیش قیمت متاع ہے۔ جن لوگوں نے وقت کی قدر و قیمت کا ادراک کر کے اپنی زندگی میں اس کابہتر استعمال کیا و ہی لوگ کائنات کے سینے پر اپنا نقش چھوڑنے میں کامیاب ٹھہرے۔ در حقیقت انسان اس وقت تک ’’وقت‘‘ کے درست مصرف پر اپنی تو جہات کا ارتکاز نہیں کرسکتا جب تک اس کے سامنے اس کی زندگی کا کوئی متعین مقصد اور نصب العین نہ ہو۔جو انسان اپنی زندگی کو مقصدیت کے دائرے میں لے آیا ہو اور وہ اپنے اسی مقصد اور آدرش کے لیے ہی زندگی کے شب و روز بسرکرنا چاہتا ہو اس کی ساری توجہ اپنے مقصد پر لگ جاتی ہے۔ اِدھر اُدھر کے لا یعنی مسائل میں الجھ کر وہ اپنا وقت برباد نہیں کرتا۔ایک بندۂ مومن کے لیے وقت کسی نعمت کبریٰ سے کم نہیں۔ ایمان انسان کا ایک ایسا وصف ہے جوگزر ے ہوئے وقت کو اس کے لیے ختم یا محو نہیں ہونے دیتا لکہ اس کو ہمیشہ کےلیے امر بنا دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۂ وقت‘‘ محترم شفیق الرحمٰن الدراوی﷾ کی گراں قدر کاوش ہے۔ اس میں انہوں نے امت مسلمہ کے افراد کے لیے راہنمائی کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں ایسے اصول بیان کیے ہیں جن کی روشنی میں انسان وقت کی صحیح قدر سمجھ سکتا ہے اللہ تعالیٰ اور نبی مکرﷺ کی اطاعت میں رہتے ہوئے دین ودنیا کی کامیابی و کامرانی حاصل کرسکتا ہے۔ فاضل مصنف نے وقت کی قدر و قیمت کو خاص طور اسلامی نقطہ نظر سے اجاگر کرکے ایک سچے اور راست باز مومن کو تضیع اوقات کے نقصان سے آگاہ کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک عام انسان کے لیے بھی اور امت مسلمہ کے علمبرداروں کے لیے بھی رہنما...

  • 20 تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں (منگل 10 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1482

    تعزیہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مادہ عین، زاء اور ی سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں مصیبت میں صبر کرنا ، دلاسہ دینا ،تسلی دینا ، پرسہ دینا کے ہیں۔ انہیں الفاظ سے سے تعزیت اور تعزیہ وجود میں آئے۔ اہل تشیع کے ہاں تعزیہ ایک ایسی شبیہ ہے جوکہ سیدنا حسین کے روضہ کی طرز پر تعمیر کی جاتی ہے۔ یہ تعزیے مختلف شکلوں مختلف اشیاء سونے،چاندی،لکڑی،بانس اور سٹیل سے تیار کئے جاتے ہیں، جوکہ شیعوں کی طرف سے محرم کے مہینے میں ایک جلوس کے ہمراہ برآمد کئے جاتے ہیں۔ برصغیر میں تعزیے کا بانی بادشاہ امیر تیمور تھا۔ تیمور کے باپ، دادا اسلام قبول کر چکے تھے۔ مگر تیمور کا تعلق تلوار اور ملکوں کی فتوحات تک ہی تھا۔ تعزیہ کا تعلق عہد تیمور سے ہے۔ یعنی تعزیہ کی شروعات عہد تیموری سے ہوئی اور رفتہ رفتہ اس کی شکل میں مختلف تبدیلیوں رائج ہوتی چلی گئیں۔ عجیب بات یہ کہ ان بدعات و رسومات کو دین کی خدمت سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے جبکہ اسلام نے ان تمام شرکیہ افعال اور بدعات و خرافات سے واضح طور سے منع کیا ہے اور ایسے موقع پر صبر سے کام لینے کی تعلیم دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں" جامعہ سلفیہ بنارس انڈیا کے استاد مولانا حافظ اسعد اعظمی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بریلوی، اہل حدیث اور حقیقت پسند شیعی علماء کے فتاوی کی روشنی میں تعزیے کی غلطی کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 21 تعمیر ملت اور دینی ادارے (بدھ 11 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1139

    مسلمانوں کے دینی مدارس تعلیم و تربیت کے ادارے ہیں ۔ یہاں ذمہ دار شہری بنائے جاتے ہیں۔ یہاں سے فارغ ہوکر مسلمان بچے قوم او رملک کی اپنی سکت اور صلاحیت کے مطابق خدمت کرتے ہیں۔ لیکن ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور شرپسند عناصر مسلمانوں اور تعمیرملت کے دینی اداروں کی تصویر خراب کرنے میں شب وروز مصروف ہے۔ دنیا کا ابلیسی نظام مسلمانوں کی بیداری سے ہمیشہ خائف رہتا ہے۔ اس کی پوری کوشش ہے کہ یہ امت کسی طرح اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہوسکے۔ چنانچہ اس کے و سائل کو برباد کیا جارہا ہے یا ان کو اپنی جاگیر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور مسلمانوں کو ہرجگہ قدامت پرست، متشدد اور دہشت گردقرار دیا جارہا ہے۔ ہمارے سربراہان مملکت اور دینی رہنماؤں کو حق بات کہنے کی جرأت نہیں ہے بلکہ بہت سے وظیفہ یاب سادہ مزاج، دین پسند اور مخلص عوام کو مسلسل گمراہ کر رہے ہیں۔ اور لاکھوں مسلمانوں کو خاک وخون میں تڑپانے کی اصل حقیقت سے رورشناس نہیں کراتے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تعمیر ملت اور دینی ادارے‘‘ مولانا رفیق احمد رئیس سلفی کی تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے مسلمانوں کے کئی حساس مسائل پر بحث کی ہے۔ خاص طور پر مدارس پر کئی پہلوؤں سے روشنی ڈالی گئی ہے اور عالمی سطح پر مسلمانوں پر جو الزامات عائد کیے جاتے ہیں ان کی حقیقت کا جائزہ لیاکیا ہے۔ اور ان کے پس پردہ جو ذہنیت کارفرما ہےاسے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ نیز مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال کا تجزیہ کیا ہے اور اس پہلو سے ان کی زبوں حالی کو دور کرنےکے لیے چند تجاویز پیش کی گی ہیں۔ (م۔ا)

  • 22 جمعہ کے خطبے بسلسلہ خطبات نور جلد۔2 (ہفتہ 14 مئی 2016ء)

    مشاہدات:5888

    دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد انبیائی مشن ہے۔ اس کے ذریعہ بندگان اٖلہ کی صحیح رہنمائی ہوتی ہے صحیح عقیدہ کی معرفت اور باطل عقائد وخیالات کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ شریعت اور اس کے مسائل سےآگاہی اور رسوم جاہلیت نیز اوہام و خرافات کی جڑیں کٹتی ہیں دعوت، اصلاح وارشاد کے بہت سے وسائل و اسالیب ہیں انہیں میں سے ایک مؤثر ذریعہ دروس وخطابت کا ہے۔ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک و شبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اور تزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جمعے کے خطبے‘‘ مولانا نور العین سلفی کی تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے معا...

  • 23 حدیث خیر و شر (جدید تحقیق شدہ ایڈیشن) (منگل 17 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1997

    جب سے یہ کائنا ت معرض وجود میں آئی اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی راہنمائی کے لیے اپنے برگزیدہ اور محبوب انبیاء اور رسل کو مبعوث فرمایا۔ جو اپنے اپنے مخصوص علاقوں، بستیوں میں لوگوں کی اصلاح فرماتے رہے۔ اسی سلسلہ کا آغاز سیدنا آدم ﷤ سے ہوا اور آخر ی کڑی سیدالانبیاء سیدنا محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ کی زندگی کا ایک ایک گوشہ اور بول آپ کی ولادت سے وفات تک، کماحقہ محفوظ ہے۔ ملت اسلامیہ کے ہر فرد کے لیے رسول ﷺکااسوہ حسنہ حرزجاں کی حیثیت رکھتا ہے اور قرون اولیٰ میں اسلاف کا اس پر تمسک ایک تاریخی ریکاڈ ہے مگر رفتہ رفتہ لوگوں نے اپنے اکابر، بزرگوں،ائمہ اور آباء کی پیروی شروع کر دی اور اتباع کو چھوڑ کر تقلید کو اپنا لیاتو معاشرے میں بدعات و خرافات نے جنم لیا۔مسلمانوں نے اپنے اپنے ائمہ کی تقلید کو لازم کر لیااورحنفی،شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہم کہلوانے میں فخر محسوس کرنے لگے اور اپنے مسلک کے دفاع پر اتر آئے حتی کہ ضعیف وموضوع، روایات کا سہارالیتے ہوئے اپنے اپنے مذہب کو ثابت کرنے پر کمر باندھ لی ۔مگر درحقیقت امت مسلمہ کی بھلائی اور نجات اطاعت نبوی ﷺ میں ہی مضمر ہے۔ ائمہ واکابرقابل احترام ہیں مگر ذریعہ نجات آپﷺ کا اسوہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "حدیث خیروشر" حافظ عبدالمتین میمن جوناگڑھی کی تصنیف ہے۔موصوف بھارت کے ممتاز عالم دین ہیں۔یہ کتاب انہوں نے "محمد پالن حقانی" کی کتاب "شریعت یا جہالت"کے جواب میں تحریر کی۔ حقانی صاحب نے اپنی کتاب میں اہل الحدیث پر طعنہ زنی کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کو یہودونصاریٰ سے مشابہت قرار دیا۔تو جناب حافظ عبدالمتین میمن جوناگڑھی نے...

  • 24 خطبات خطیب (فیضان اشرف) (جمعرات 19 مئی 2016ء)

    مشاہدات:3188

    دعوت و تبلیغ، اصلاح و ارشاد انبیائی مشن ہے۔ اس کے ذریعہ بندگان اٖلہ کی صحیح رہنمائی ہوتی ہے صحیح عقیدہ کی معرفت اور باطل عقائد و خیالات کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ شریعت اور اس کے مسائل سے آگاہی اور رسوم جاہلیت نیز اوہام و خرافات کی جڑیں کٹتی ہیں۔ دعوت و تبلیغ، اصلاح و ارشاد کے بہت سے وسائل و اسالیب ہیں انہیں میں سے ایک مؤثر ذریعہ دروس وخطابت کا ہے۔ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ، خاص استعداد و صلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات و احساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت و صدارت کی بلندیوں کو حاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب و سنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہے جس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیرتبصرہ کتاب ’’خطبات خطیب‘‘ انڈیا کے ایک ابھرتے ہوئے نو جوان سل...

  • 25 خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں (اتوار 22 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2491

    نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق ، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی کا عہد خلافت خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ اس عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے جس میں سیدنا ابوبکر صدیق  اولین اور سیدنا علی  آخری خلیفہ ہیں۔ اس عہد کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ یہ قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم نظام حکومت تھا۔ خلافت راشدہ کا دور اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس زمانے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا گیا اور حکومت کے اصول اسلام کے مطابق رہے۔ یہ زمانہ اسلامی فتوحات کا بھی ہے۔ اوراسلام میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات بھی پیش آئے۔جزیرہ نما عرب کے علاوہ ایران، عراق، مصر، فلسطین اور شام بھی اسلام کے زیر نگیں آگئے۔خلافت راشدہ کا زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت عروج کا زمانہ تھا۔ جس میں مسلمانوں نے ہر میدان میں خوب ترقی کی۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی نصیب تھی، امن و امان اور عدل و انصاف کا خصوصی اہتمام تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں" انڈیا کے معروف عالم دین سابق صدر شعبہ ادارہ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ ڈاکٹر پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے خلافت راشدہ کے پس منظر میں خلافت اموی کا جائزہ لیا ہے کہ ان دونوں خلافتوں کیا کیا  فرق تھا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

  • خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دوچار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتاہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہو جاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنےکی مانند بالکل آشکارہوجاتی ‘‘اور نبی ﷺنے فرمایا ’’نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ‘‘خوابوں کی تعبیر ،احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسول اللہﷺ نے خواب میں کیا دیکھا‘‘ مولانا فضل اللہ محمد الیاس سلفی کی کاوش ہے اس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ان خوابوں کا ذکر کیا ہے حو صحیح بخاری کے کتاب التعبیر میں مختلف ابواب کے تحت موجود ہیں ۔صحیح بخاری کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں بھی نبی اکرم ﷺ کے دیکھے گئے خواب اور بہت سے خوابوں کا ذکر ہے مگر اس اس کتابچہ میں صحیح بخاری سے ہی ماخوذ ومنقول احادیث کو یکجا ومرتب کیاگیا ہے۔ (م۔ا)

  • 27 سنہرے نغمات (منگل 31 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2621

    حمد ایک عربی لفظ ہے،جس کے معنیٰ‘‘تعریف‘‘ کے ہیں۔ اللہ کی تعریف میں کہی جانے والی نظم کو حمد کہتے ہیں۔ حمد باری تعالیٰ، کئی زبانوں میں لکھی جاتی آرہی ہے۔پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی مدحت، تعریف و توصیف، شمائل و خصائص کے نظمی اندازِ بیاں کو نعت یا نعت گوئی کہا جاتا ہے۔عربی زبان میں نعت کیلئے لفظ "مدحِ رسول" استعمال ہوتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بہت سے صحابہ کرام نے نعتیں لکھیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔ عہدرسالت میں سیدنا حسان بن ثابت ﷜ پہلے نعت گو شاعر اور نعت خواں تھے۔نبی کریم ﷺ نے خود کئی مرتبہ سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے نعت سماعت فرمائی۔حمدونعت دینی اداروں اور اسلامی واصلاحی اجتماعات میں قدیم زمانے سے رائج ہے اور اب بھی جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’سنہرے نغمات‘‘ حمد ونعت ، دعا ومناجات اور ترانے ومنظومات پر مشتمل سرفراز احمد فیضی صاحب کا مرتب کردہ ایک حسین گلدستہ ہے ۔ اس مجموعہ کو مرتب موصوف نے بڑی محنت سے جمع کیا ہے۔ اس گلدستہ میں ہندوپاک کے متنوع مجلات وجرائد، اخبارات ورسائل سے ایسے گل وبوٹے چن کر جمع کیے گئے ہیں جن سے صحیح فکر اور صالح عقیدہ ومنہج کی نکلنے والی خوشبو دل ودماغ کومعطر کرنے کے ساتھ بدعت وخرافات سے متعفن ماحول کودلکش وعطربیز بنادیتی ہے ۔اور یہ گلدستہ اسلاف کی خوبصورت منظوم تاریخ اوران کے کارناموں کی سچی تصویر ہے جس میں ان کے مجاہدات کا تذکرہ او رکتاب وسنت کی اشاعت وسربلندی کے لیے سرفروشانہ جدوجہد کا ذکر بڑے ہی دلنشیں انداز میں کیا گیا ہے ۔تاکہ طالبان علوم نبوت کو ان کی دیرینہ عظمتوں سے حوصلہ ملے ۔حمد نعت کے...

  • 28 سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوئز حصہ اول (جمعرات 02 جون 2016ء)

    مشاہدات:2422

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی کیا جاتاہے   جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے...

  • 29 شجرہ مبارکہ یعنی تذکرہ علماء مبارکپور (اتوار 05 جون 2016ء)

    مشاہدات:1693

    مبارک پور ضلع اعظم گڑھ بھارت کا ایک مشہور و معروف قصبہ ہے، ریشمی ساڑیوں اور الجامعۃ الاشرفیہ اور کبار علمائے مبارکپور نے قصبہ مبارک پور کو عالمی سطح پر شہرت دلائی ہے۔ یہ قصبہ شہر اعظم گڑھ سے 16 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ علم و ادب، شعر و سخن، اخلاق و کردار، ایثار و قربانی اور اپنی دست کاری کے باعث یہاں کے لوگوں نے ہندوستان بھر میں اپنی ایک شناخت قائم کی ہے۔سیرۃ البخاری کے مصنف مولانا عبد السلام مبارکپوری، شارح جامع ترمذی مولانا عبد الرحمٰن محدث مبارکپوری ،عالمی مقابلہ سیرت میں اول انعام یافتہ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری ، مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری ﷭ کا تعلق بھی اسی مبارکپور سے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شجرۂ مبارکہ یعنی تذکرۂ علماء مبارکپور‘‘مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری﷫ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں ہدوستان کے مشہور علمی ودینی اور صنعتی قبصہ مبارکپور اور اس کے ملحقات کی ساڑھے چاسوسالہ اجمالی تاریخ اور قصبہ و سوا قصبہ کے مشائخ وبزرگان دین علماء، فقہا ، محدثین ومصنفین، شعراء وادباؤ اور دیگر ارباب علم وفضل کے حالات اور ان کے علمی ودینی کارنامے بیان کیے گئے ۔یہ کتاب پہلی دفعہ 1974ءشائع ہوئی زیر تبصرہ   اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں مزید   ان علماء کے حالات شامل کردئیے ہیں جو مصنف کی زندگی میں فوت ہو ئے۔اس کے علاوہ بھی اس ایڈیشن میں مفید اضافہ جات کیے گئے ہیں۔جس سے کتاب کی افادیت اور زیادہ ہوگئی ہے۔ مصنف کتاب   قاضی اطہر مبارکپوری﷫ پہلے ایڈیشن کے شائع ہونے کے 23 سال...

  • عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے   امام ابن تیمیہ﷫ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ الشیخ خلیل ہراس کی شرح العقیدۃ الواسطیۃ پاک و ہند کےاکثر مدارس وجامعات کے نصاب میں شامل ہے ۔ اس کتاب میں   عقیدۂ سلف کو قرآن وصحیح احادیث کی روشنی میں واضح کیاگیا ہے ساتھ ہی ساتھ باطل فرقوں کے اعتقادات کا دلائل کی روشنی میں رد بھی کیاگیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ صحیح اسلامی عقائد اردو ترجمہ شرح العقیدۃ الواسطیۃ‘‘ فضیلۃ الشیخ خلیل ہراس کی تالیف کردہ شرح عقیدہ واسطیہ کا   اردو ترجمہ ہے ۔یہ ترجمہ انڈیا کے ایک عالم مولوی جاوید عمری   کی کاوش ہے ۔شیخ خلیل ہراس کی یہ شرح عقیدہ سے متعلق تقریباً تمام ہی پہلوؤں کو محیط ومتوسط حجم کی ایک جامع شرح ہے اس شرح کا یہ اردو ترجمہ اردو داں طبقہ بالخصوص مدارس...

  • 31 عہد تابعین کی جلیل القدر خواتین (بدھ 08 جون 2016ء)

    مشاہدات:1763

    ابتدائے اسلام سے لے کر اس وقت تک سینکڑوں ہزاروں پردہ نشیں مسلم خواتین نے حدود شریعت میں رہتے ہوئے گوشہ عمل وفن سے لے کر میدان جہاد تک ہر شعبہ زندگی میں حصہ لیا اور اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا، خواتینِ اسلام نے علم حدیث کی جو خدمات انجام دی ہیں، ان کی سب سے پہلی نمائندگی صحابیات وتابعیات کرتی ہیں،عصر حاضر میں خواتین اسلام کو صحابیات و تابعیات کی زندگیوں کو اپنے لیے آئیڈیل بنانا چاہیے۔صحابیات کی صحبت اور ایمان کی حالت میں جن خواتین نے پرورش پائی یا ان سے استفادہ کیا ان کو تابعیات کہا جاتا ہے، صحابیات کی طرح تابعیات نے بھی فن حدیث کی حفاظت واشاعت اور اس کی روایت اور درس وتدریس میں کافی حصہ لیا اور بعض نے تو اس فن میں اتنی مہارت حاصل کی کہ بہت سے کبار تابعین نے ان سے اکتساب فیض کیا۔ زیر تبصرہ کتا ب’’عہد تابعین کی جلیل القدر خواتین‘‘ معروف عرب مؤرخ شیخ احمد خلیل جمعہ کی عربی کتاب ’’نسآء من عصر التابعین‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں مصنف نے تیس جلیل القدر تابعیات کا تذکرہ اور ان کی سوانح حیات کو نہایت ہی دلپذیر ، دلآویز اور دلکش انداز میں پیش کیا ہے ۔یہ کتاب اپنے مندرجات کے اعتبار سے بڑی معلومات افزا معنیٰ خیز اور دلچسپ ہے خواتین اسلام کی تعلیم وتربیت کے لیے نہایت مفید ہے۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر   وطن عزیز کے معروف مترجم ومنصف جناب مولانا محمود احمد غضنفر﷫ نے اسے اردوداں طبقہ کےلیے اردو قالب میں ڈھالا اور مکتبہ قدوسیہ ،لاہور نے اسے سولہ سال قبل 2000ء میں طباعت سے آراستہ ک...

  • 32 عقیدہ ایمان اور منہج اسلام (جمعرات 09 جون 2016ء)

    مشاہدات:1365

    توحید دین کی اساس ہے باقی سب چیزیں وسائل توحید ہیں ۔ توحید کے بغیر انسان کی پہنچان ہی نہیں ہوتی۔ توحید نے انسان کو حقیقی شعور بخشا ہے ۔ زمین پر کوئی بھی مخلوق ایسی نہیں جوتوحید پرست نہ ہو۔ ایک انسان ایسی مخلوق ہے جو توحید اور شرک کےدرمیان رہتا ہے سوائے انبیاء کے جو توحید والے ہوتے ہیں اور توحید کی طرف بلاتے ہیں۔اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح ﷤ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ عق...

  • 33 علماء صحابہ رضی اللہ عنہم (جمعہ 10 جون 2016ء)

    مشاہدات:1662

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے   ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی  مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے   انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے   بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے   کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا   کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم نے کئی کتب تصنیف کی ہیں زیر تبصرہ کتا...

  • 34 قیاس ایک تقابلی مطالعہ (اتوار 19 جون 2016ء)

    مشاہدات:1735

    علم اصول فقہ وہ علم جس میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے ، استدلال کے مراتب اور استدلال کی شرائط سےبحث کی جائے اوراستنباط کے طریقوں کووضع کر کے معین قواعد کا استخراج کیا جائے کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے مجتہد تفصیلی دلائل سے احکام معلوم کرے ۔علامہ ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص:452)جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے اس زبان کے قواعد واصول کو سمجھنا ضروری ہے اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول فقہ میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ فقہاء و محدثین نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً امام شافعی نے الرسالہ کے نام سے   کتاب تحریرکی پھر اس کی روشنی میں دیگر اہل علم نے کتب مرتب کیں۔ اصول فقہ کے اصولوں میں ایک سے ایک اصول قیاس بھی ہے ۔قیاس اصول اربعہ یعنی کتاب وسنت ، اجماع، اور قیاس میں سےایک اصل ہے ۔کتب اصول فقہ میں اس پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں اور الگ سے کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قیاس ایک تقابلی مطالعہ ‘‘ کویت عالم جناب عمر سلیمان الاشقر کی تصنیف ہے اس   میں انہوں نے قیاس کے موضوع پر موضوعی بحث کر کے مختصر طور پر ہر پہلو کو اضح کردیا ہے۔ موصوف نےاس میں قیاس کے لغوی واصطلاحی مفہوم اور قیاس واجتہاد ورائے کےباہمی فرق پرروشنی ڈالی ہے ۔نیز قیاس کی حجیت پر بحث کرتے ہوئے علماء کے مختلف مذاہب اور نقطہ ہائے نظر کا ذکر کیا ہے۔ قیاس کے ما...

  • تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں  کہ جب قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں  نے اسلامی اصولوں  کو اپنا شعاربنا کر عملی میدان میں  قدم رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو زیر نگین کرلیا۔مسلمان دانشوروں ، سکالروں  اور سائنسدانوں  نے علم و حکمت کے خزانوں  کو صرف اپنی قوم تک محدود نہیں  رکھابلکہ دنیا کی پسماندہ قوموں  کو بھی استفادہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ چنانچہ اُس وقت کی پسماندہ قوموں  نے جن میں  یورپ قابل ذکر ہے مسلمان سکالروں  سے سائنس اورفلسفہ کے علوم حاصل کئے۔یورپ کے سائنسدانوں  نے اسلامی دانش گاہوں  سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرلی اور یورپ کو نئے علوم سے روشناس کیا۔حیرت کی بات ہے کہ وہی مسلم ملت جس نے دنیا کو ترقی اور عروج کا سبق پڑھایا آج انحطاط کا شکار ہے۔ جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں  کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ یہ اتنا بڑا تاریخی سانحہ ہے جس کے مضمرات کاجاننا امت مسلمہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اس قرآن کو اللہ کی جانب سے نازل شدہ مانتے ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ یہ ایک بے مثل اور معجز کلام ہے ۔ بندوں پر حجت ِالٰہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا واجب الاطاعت حکمنامہ ہے او رانسان کی دنیوی ا ور اخروی فلاح وکامرانی کا ضامن ہے ۔ لیکن اس اعتقاد کےباوصف مسلمانوں نے اس کتابِ عظیم کی ہدایت وتعلیم سے مسلسل بیگانگی اختیار کی ۔ جس کا فطری نتیجہ زوالِ امت کی شکل م...

  • 36 گلوبلائزیشن اور عالم اسلام (بدھ 22 جون 2016ء)

    مشاہدات:1995

    گلوبلائزیشن کا مطلب ہے سازوسامان اور علمی وثقافتی افکار وخیالات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر کسی شرط اور قید کے منتقل کرنا یا ہونا ہے۔داخلی مارکیٹ کو خارجی مارکیٹ کے لیے کھول دینا ۔ زندگی کی تمام تر نقل وحرکت تگ ودو ، نشاطات اور ورابط کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کردینا تاکہ ایک قوم دوسری قوم کےساتھ اجتماعی، ثقافتی اور اقتصادی ربط رکھ سکے اور ایک دوسرے سے متعارف ہوسکے۔ اور گلوبلائزیشن ایک ایسا نظریہ ہے جس کا مقصد پوری دنیا کو مغربی اورامریکی جھنڈے تلے جمع کردینا ہے ۔دانش ورروں نے گلوبلائزیشن کی مختلف تعریفیں اور معنیٰ بیان کیے ہیں۔جن کااس کتاب میں ملاحظہ کیا جا سکتاہے۔ یہ کتاب ’’گلوبلائزیشن اور عالم اسلام ‘‘شیخ عبد الرزاق عبد الغفار سلفی کی تصنیف ہےاور اپنے موضوع پر ایک انتہائی گراں قدر کتاب ہے صاحب کتاب نے موضوع کا پوری طرح حق اداکرنے کی کوشش کی ہے گلوبلائزیشن کے ذریعہ پوری دنیا پر ایک نظام اور ایک تہذیب تھوپنے کی کوشش کو بے نقاب کیا گیا ہے اوراس میں عالم اسلا م پر اس کےاثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہےکہ کس طرح متعدد اسلامی ممالک امریکی پروپیگنڈہ کے زیر اثر ہیں۔ (م۔ا)

  • 37 مبشر صحابہ رضی اللہ عنہم (ہفتہ 25 جون 2016ء)

    مشاہدات:1091

    صحابہ نام ہے ان نفوس ِ قدسیہ کا جنہوں نے   محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے   ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے   انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے   بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔صحابہ کرام ﷢ میں سے کچھ ایسے خوش نصیب جلیل القدر صحابہ ہیں جن کو نبی کریم ﷺ نےدنیا میں جنت کی بشارت دی ۔جامع ترمذی اور سن...

  • 38 نظر بد، جادو اور نفسیانی بیماریوں کا قرآنی علاج (اتوار 24 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2094

    جادو کرنا او رکالے علم کےذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سےمحض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو، جنات اور نظر بد سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظر بد ،جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور اس کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیرتبصرہ کتاب’’نظر بد، جادو اورنفسیاتی بیماریوں کاقرآنی علاج‘‘ شیخ عبداللہ بن عبدالعزیز العیدان کی تصنیف ہےاس کتاب میں انہوں نے نفسیانی وروحانی بیماریوں کے کےبچاؤں کےلیے شرعی رقیہ (دم) کی حقیقت واہمیت کو واضح کیا ہے اورکتاب کے آخر میں کچھ ایسے واقع...

  • 39 یہ ہے ہماری دعوت (ہفتہ 30 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1261

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے   پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے۔ اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔ لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔ علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، دعوت الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی پروگرام ہے جو تعلیم وتعلم ،تربیت واصلاح کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ یہ ہے ہماری دعوت‘‘ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کے   خطاب کی کتاب صورت ہے ۔...

  • 40 فضائل اعمال کے دفاع کا علمی و تحقیقی جائزہ (ہفتہ 15 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1921

    شریعتِ اسلامیہ میں دینی احکام ومسائل پر عمل کی تاکید کے ساتھ ساتھ ان اعمال کی فضیلت وثواب بیان کرتے ہوئے انسانی نفوس کو ان پر عمل کرنے کے لیے انگیخت کیا گیا ہے۔ کیونکہ کسی عمل کی فضیلت،اجروثواب اورآخرت میں بلند مقام دیکھ کر انسانی طبیعت جلد اس کی طرف راغب ہوجاتی ہے اوران پر عمل کرنا آسان معلوم ہوتا ہےمزیدبرآں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام واحسان کے طور پر دین اسلام میں کئی ایسے چھوٹے چھوٹے اعمال بتائے گئے ہیں جن کا اجروثواب اعمال کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے ۔کتب احادیث میں فضائل کے متعلق کئی ایسی صحیح احادیث موجود ہیں۔جن پر عمل کر کے ا یک مسلمان اپنے نامۂ اعمال میں   اضافہ کرسکتا ہے ۔کئی لوگوں نے فضائل اعمال کے نام سے بعض مجموعے تیار کر رکھے ہیں جس میں موضوع روایات ، من گھڑت حکایات واقعات اور غیر معتبر وضعیف روایات کا انبار ہے ۔ حالانکہ شریعت اسلامیہ میں فضائل اعمال کے متعلق ایسی بے شمار معتبر اور صحیح احادیث وسنن مروی ہیں جو اس سلسلے میں ایک مسلمان کے لیے کافی ووافی ہیں پھر ایسے مستند ذخیرے کوچھوڑ کر خود ساختہ روایات وحکایات کی طرف جانا محض جہالت کا شاخسانہ او راندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ایسی مذموم روش سے محفوظ رکھے اور انہیں کتاب وسنت پرعمل اور اسی پر اکتفا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ زیرتبصرہ کتاب’’ مجموعہ فضائل اعمال کےدفاع کا علمی وتحقیقی جائزہ ‘‘مولانا محمد الاعظمی اور مولانا مجیب الغفار اسعد اعظمی   کی تصنیف ہے جس میں مصنفین نےتبلیغی جماعت کی اہم شخصیت مولانا محمد زکریا کاندہلوی...

  • 41 سیرت فاطمۃ الزہراء (اتوار 16 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1155

    سید البشرحضرت محمد رسول اللہ ﷺکی چا ربیٹیاں تھیں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سب سے چھوٹی تھیں۔رسول اکرم ﷺ کو ان سے خاص محبت تھی۔اسی لیے فرمایا کہ فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہونگی۔ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم ﷺ سے بہت مشابہت رکھتی تھیں،چال ڈھال اور نشست وبرخاست میں ہوبہو اپنے والد محمد مصطفیٰﷺکی تصویر تھیں۔ ان کی زندگی میں خواتین اسلام کے لیے بڑا درس موجود ہے آٖج جبکہ امت کی بیٹیاں تہذیب کفر کی نقل میں اپنی ناموس وعزت سے بے خبر ہورہی ہیں انہیں سیرت فاطمہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک آئیڈیل خاتون اسلام کی زندگی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں۔ایک مسلمان خاتون کے لیے سیرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا میں اس کی زندگی کے تمام مراحل بچپن، جوانی، شادی، شوہر، خادنہ داری، عبادت، پرورش اولاد، خدمت اور اعزا اقربا سے محبت غرض ہر مرحلہ حیات کے لیے قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا‘‘ مولانا عبدالمجید سوہدروی﷫ کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں انہوں نے جگر گوشۂ رسول سیدہ بتول حضرت فاطمۃ الزاہراء کی سیرت کردار اوراخلاق وگفتار کو بڑے آسان فہم انداز میں واضح کردیا ہے۔موجودہ ایڈیشن سے قبل اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس ایڈیشن کو مسلم پبلی کیشنز، لاہورکے مدیر جناب محمد نعمان فاروقی﷾ نے نئےانداز میں تخریج کےساتھ شائع کیا ہے جس اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کتاب کا موجودہ ایڈیشن اولاً مسلم پبلی کیشنز لاہور کی طرف سے تقریبا دس سال قبل شائع ہوا بعد ازاں اسی کتاب...

  • 42 رزم حق و باطل روداد مناظرہ بنارس 1978 (اتوار 06 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1317

    ہندوستان کی علمی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ اسلام اور اس کی سچی تعلیمات کے خلاف جب بھی کسی گستاخ نے زبان کھولی یا اپنی ہفوات کو تحریر کی شکل دی تو اس کا دندان شکن، مسکت اور تسلی بخش جواب کے لئے علماء اہل حدیث ہمیشہ صف اول میں رہے۔اس سلسلے میں آریہ،سناتن دھرمی،قادیانی اور عیسائیوں سے مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب کے مناظرے اور مقدس رسول، حق پرکاش اور ترک اسلام کو بطور نمونہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "رزم حق وباطل، روداد مناظرہ بجرڈیہہ بنارس" دراصل جبرڈیہہ بنارس میں ہونے والے ایک مناظرے کی روداد ہے جو 23 تا 26 اکتوبر 1978ء میں منعقد ہوا اور اس میں اہل حدیثوں کی طرف سے سیرۃ النبیﷺ پر عالمی انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم کے مولف مولانا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب جبکہ بریلویوں کی طرف سے مولانا ضیاء المصطفی قادری نے شرکت کی۔ اس مناظرے میں مولانا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب نے دلائل کے ساتھ فریق مخالف کا منہ بند کر دیا اور حق کو واضح کر دیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 43 اتباع سنت اور صحابہ و ائمہ کے اصول فقہ (جمعرات 28 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1517

    اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ، فرمایا:( َ ومَا خَلَقْتُ الْجِنَّوَالْاِنْسَاِلَّالِیَعْبُدُوْن)(الذاریات)میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں)۔ جن وانس کی تخلیق کا مقصد اصلی چونکہ عبادت ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے عبادت کا طریقہ اور اس کی کیفیت بتانے کےلئے انبیائے کرام کاسلسلہ قائم فرمایا۔کیوں کہ کون ساعمل اورکونسی عبادت اللہ کو پسند اور کون ساعمل اور کون سی عبادت اللہ کو ناپسند ہے یہ بندے کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود نہ بتائے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی خوشی اور ناراضگی کے امور کی اطلاع دی اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْت))النحل: ۳۶(۔ ہم نے ہرامت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف ا للہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو)۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر قوم پر یہ فرض کیا کہ اپنے رسولوں کی بات مانیں ، ان کی اطاعت کریں اور انہیں اپنا اسوہ تسلیم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ )(النساء)۔ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے)۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قبل جتنے بھی نبی بھیجے ہر ایک کے کچھ خاص ساتھی ، مددگار اورصحابہ ہوا کرتے تھے، جونبی کی باتوں کو مانتے اور ان کی سنت کو اپناتے تھے‘‘ (مسلم)۔ یعنی ہرزمانے کے...

  • 44 شب برات کی حقیقت کتاب و سنت کی روشنی میں (پیر 22 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:643

    دین ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو کہ نبیﷺ کی زندگی میں ہی مرحلۂ تکمیل کو پہنچ گیا تھا۔ اب اس میں کسی بھی قسم کی کمی وبیشی کرنا حرام ہے۔ خود نبیﷺ نے اپنی زندگی مبارک میں تبلیغ دین کا حق ادا کر دیا اور دین کو کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑا اور آپ نے اپنے اقوال وافعال کے ذریعہ اپنی امت کے لیے ہر اس امر کی وضاحت فرما دی جسے اللہ نے مشروع کر دیا یا جس کو شریعت نے حرام وناجائز بتلایا اور اِس کی گواہی حجۃ الوداع کے تاریخی موقعہ پر صحابہؓ کے جم غفیر نے دی۔ اب نبیﷺ کے بعد دین میں کسی بھی ایسی بات کا اضافہ جو نبیﷺ نے نہیں کی یا بتلائی تو وہ بدعت وگمراہی کے سوا کچھ حیثیت نہ رکھے گی۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں   ان  غیر مشروع اعمال کو بیان کیا گیا ہے جو شب برات کے دن یا رات کو کیے جاتے ہیں اور وہ نہ نبیﷺ سے ثابت ہیں‘ نہ صحابہ سے اور نہ ہی تابعین عظام سے مثلا قبروں کی زیارت کا اہتمام‘ آتش بازی وچراغاں کرنا‘ شب برات کا روزہ اور قیام‘ مخصوص نماز کا اہتمام وغیرہ۔ اور اس میں شب برات کی شرعی حیثیت کے بارے میں بھی گفتگو موجود ہے۔ اس کتاب میں حوالہ جات کا اہتمام نہیں کیا گیا جو اس کتاب میں نقص یا عیب ہے۔ یہ کتاب’’ شب برأت کی حقیقت کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘ ضياء الحسن محمد سلفی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے ا...

  • 45 اللہ تعالیٰ کہاں ہے ہر جگہ یا عرش پر (منگل 23 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:915

    اللہ رب العزت ہمارے خالق حقیقی اور معبود حقیقی ہیں‘ زمین و آسمان کی تخلیق کرنے والے‘ زمین وآسمان میں موجود تمام اشیاء جاندار وغیرہ جاندار کو بنانے والے اور رزق دینے والے۔ اللہ رب العزت کے سوا دنیا وما فیہا میں کوئی بھی ذرہ برابر بھی کچھ بنانے والا نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو نقصان دینے والا اور نہ ہی نفع دینے والا۔ صرف وہی ذات اقدس ہے جو ہر کام پر قادر مطلق ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے سوالات اور عقائد منظر عام پر آئیں ہیں جنہیں سننے کے بعد عقلیں دھنگ رہ جاتی ہیں مثلا پہلے جب بھی سوال کیا جاتا کہ اللہ کہاں ہے تو ہمیں جواب یہی ملتا تھا کہ وہ عرش پر ہے یا آسمان پر لیکن اب ہمیں یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔نعوذ باللہ۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں مصنف نے  مسئلہ استواء اور جہت فوق کو  نہایت مدلل اور علمی انداز میں ثابت کیا ہے۔ اس کتاب میں کل بارہ فصلیں ہیں۔ جس میں سے گیارہ فصلوں میں مسئلہ استواء اور جہت فوق کو مختلف ناحیوں سے ثابت کیا ہے اور اس سلسلے میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کے دور کیا گیا ہے اور بارہویں فصل میں بلا دلیل کتاب وسنت کے صحیح عقائد کو صرف شمار کرا دیا گیا ہے۔ اختصار کے پیش نظر عقائد کے بعض مسائل کی تشریح حاشیے میں کی گئی ہے۔ یہ کتاب’’اللہ تعالیٰ کہاں ہےہر جگہ یاعرش پر‘‘ نواب صدیق حسن خان  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل...

  • 46 عہدہ اور منصب کا اسلامی تصور (اتوار 21 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:821

    اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گُربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ عہدہ اور منصب کا اسلامی تصور‘‘ شیخ اسد اعظمی کی ہے۔ جس میں منصب و عہدہ کی اہمیت و فضیلت  کو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں اجاگر کیا گیا ہے۔ہر ایک عہدے دران شخص کے لئے یہ کتاب انتہائی مفید ہے۔ اللہ    موصوف کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور اسے تمام مسلمانوں کے لیے  نافع بنائے۔ (آمین)(رفیق الرحمن)
     

  • 47 رسول اکرمﷺ کی رضاعی مائیں (ہفتہ 27 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:695

    رضاعت رضع سے بنا ہے رضاع یا رضاعۃ (پہلے حرف پر زیر ہو یا زبر دونوں صحیح ہے) بمعنی پستان چوسنا ہے لیکن فقہ میں شیر خوار اگر شیر خوارگی کی عمر میں کسی بھی محرم یا نا محرم عورت کا دودھ پیے یا وہ عورت اسے دودھ پلائے (یعنی ارضاع) دونوں کا عمل رضاعت کہلاتا ہے۔گویا کہ رضاعت ایک قدیم ترین فطری قانون ہے۔ نومولود کی ولادت کے ما بعد ہی اس قانون الہی کی کار فرمائی شروع ہو جاتی ہے۔ اس فطری عمل کو بالعموم تمام انسانی سماجوں میں فالِ نیک سمجھا جاتا ہے۔ماں کی رضاعت ایک مسلمہ حقیقت ہے، جس کے لئے کسی دوسری شہادت کی ضرورت نہیں۔ قرآن مجید کی متعدد آیاتِ کریمہ میں ماؤں کی صنف کے علاوہ خاص رضاعت کرنے والی خواتین کی صنف بھی بیان کی گئی ہے۔ اور تاریخ اور سیرۃ النبی ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ :نبی کریم ﷺ نے اپنی والدہ کے علاوہ دو خواتین کا دودھ پیا ہے۔ایک ہیں : ثویبہ ، جو ابولہب کی لونڈی تھی ، اور دوسری ہیں ،سیدہ حلیمہ سعدیہ۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ رسول اکرمﷺ کی رضاعی مائیں‘‘ ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں نبی اکرمﷺ کی مختصر حالاتِ زندگی اور دو رضاعی ماؤں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔رضاعی ماؤں میں سے پہلے حضرت ثوبیہ کا تذکرہ کیا ہے۔پھرحضرت حلیمہ سعدیہ کا مفصل تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،ناشر کی   خدمات کوقبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےنفع بخش بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • 48 موت کے آہنی پنجے (بدھ 18 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1026

    یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ موت کے آہنی پنجے‘‘ شیخ نیاز احمد مدنی طیب پوری (استاذ جامعہ محمدیہ منصورہ ملیگاؤں) کی تصنیف ہے۔ جس میں قیامت کبریٰ اور قیامت صغریٰ کو بیان کرتے موت اور قبر کے حالات واقعاتسے باخبر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو لوگوں کےلیے نفع بخش بنائے اور تما م اہل اسلام کوخاتمہ بالایمان نصیب فرمائے ۔آمین۔ (رفیق الرحم...



ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 652
  • اس ہفتے کے قارئین: 6090
  • اس ماہ کے قارئین: 30994
  • کل مشاہدات: 42907522

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں