اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #6854

    مصنف : محمد الاعظمی

    مشاہدات : 1694

    تذکرۃ البخاری ( محمد الاعظمی )

    (جمعہ 18 جنوری 2019ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    امام محمد بن  اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر  االمؤمنین فی  الحدیث امام  المحدثین  کے  القاب سے ملقب  تھے۔ ان کے  علم  و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا  محدثین عظام  او رارباب ِسیر  نے اعتراف کیا ہے  امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁ ، بروز جمعہ  بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔  جن میں امام محمد بن سلام الکندی ، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔  طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور  کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری ﷫ کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے اساتذہ اور شیوخ  کی تعداد  کم وبیش ایک ہزار  ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ  کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری﷫ سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری﷫ کے علمی کارناموں میں  سب سے  بڑا کارنامہ صحیح بخاری  کی تالیف ہے  جس کے بارے  میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ  ہے کہ قرآن کریم   کے بعد  کتب  ِحدیث میں صحیح ترین کتاب  صحیح بخاری   ہے  ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب  کی نظیر  نہیں  پائی جاتی  آپ نے   سولہ سال کے طویل عرصہ میں  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام  بخاری ﷫ کی سیر ت اور صحیح بخاری کے تعارف  کے متعلق  متعدد اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب  سے عمدہ کتاب   مولانا  عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ اس کتاب  کا  عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے  جامعہ سلفیہ بنارس اورمکہ مکرمہ  سے  شائع  ہوچکا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’تذکرۃ البخاری‘‘  مولانا محمد الاعظمی (سابق شیخ الحدیث  جامعہ عالیہ عربیہ مئو)  کی تالیف ہے ۔مصنف  نے اس کتاب  کو  پانچ ابواب میں  تقسیم کرتے ہوئے امام بخاری کی حیات  وسیرت، خصائص وشمائل، امام بخاری کا تفقہ اور اجتہادات ، صحیح بخاری اور اس کی خصوصیات ،امام بخاری کی تصانیف، صحیح بخاری کی شروح  ، ختم صحیح بخاری، جیسے عنوانات  قائم کر کے  اما م بخاری  ﷫ اور ان کی الجامع الصحیح کے علمی مقام پر روشنی ڈالی ہے  کتاب  کے شرو ع  میں ڈاکٹر مقتدیٰ   حسن ﷫ کاعلمی مقدمہ انتہائی اہم ہے ۔(م۔ا)

  • 2 #6963

    مصنف : ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 1179

    انوار التوضیح لرکعات التراویح مسنون رکعات تراویح اور شبہات کا ازالہ

    (پیر 20 مئی 2019ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث  کے مطابق  رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے  ۔مسنون تعداد کا  مطلب  وہ تعداد  ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں  فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ  جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے  ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ  ہے  کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے  منتخب کی  ہے یہ سمجھتے  ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے  اس لیے جتنی  رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔

    زیر نظر کتاب ’’انوار التوضیح لرکعات  التراویح؍مسنون رکعاتِ تراویح اور شبہات کا ازالہ ‘‘انڈیا  کے  جید عالم دین  محقق  مصنف  کتب  کثیرہ مولانا  ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی﷾ کی  تصنیف ہےموصوف  پختہ  عالم  دین  ہیں  اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  انہیں   مکمل دسترس  حا صل ہے  متعدد  علمی  وتحقیقی مسائل میں  ان کی تحقیقی کتب  موجو د  ہیں ۔کتاب ہذا میں انہوں نے  رکعاتِ  تراویح کے سلسلے میں وارد   احادیث کی  مکمل  تحقیق پیش کرتے ہوئے  ثابت کیا ہے  کہ تعداد رکعات تراویج  بشمول وتر کل گیارہ رکعات ہیں  اور صحابہ کرام ﷢کا عمل بھی اسی پر تھا  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜  کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢  کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں۔سیدناعمر ﷜ نے   بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔ امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷢سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔نیز  صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ  سے مروی  حدیث  پر  احناف نے  اضطراب کا جو اعتراض کیا ہے اس کا مفصل جواب پہلی بار اس کتاب میں  پیش کیاگیا ہے۔اور عہد فاروقی  سے متعلق موطا کی روایت  پر شذو وغیرہ کے جو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں  ،ان کےمفصل جوابات اس کتاب میں موجود ہیں۔ایک بریلوی عالم احمدیار نعیمی کی ’’ جاء الحق‘‘ نامی کتاب میں بیس رکعات کو سنت ثابت کرنے کےلیے  جو مضحکہ خیز استدلالات کیے گئے ہیں  مولانا کفایت اللہ صاحب نے  اس کتاب میں  ان کے تسلی بخش جوابات پیش کیے ہیں۔حرمین میں بیس رکعات کی نوعیت اور ا س کے پسِ منظر پر بھی مفصل گفتگو کی ہے۔بہت سارے علمائے احناف نے  اعتراف کیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے آٹھ رکعات تراویح ہی پڑھی ہیں ۔ان علماءکے اس اعتراف کے  اصل کتابوں سے حوالے پیش کیے گئے ہیں ۔میرے علم کے مطابق اپنے موضوع  میں  تحقیقی نوعیت کی اتنی ضخیم   یہ پہلی کتاب ہے۔  اللہ تعالیٰ  مولانا کفایت  اللہ  ﷾  کی تحقیقی  وتصنیفی، تدریسی ودعوتی خدمات کو قبول فرمائے ۔یہ کتاب مولانا  نےکتاب وسنت سائٹ  پر پبلش  کرنے کے کے لیے  پی ڈی ایف  فارمیٹ میں  عنائت کی  ہے ۔  (آمین) (م۔ا)

  • 3 #2176

    مصنف : حافظ اسعد اعظمی

    مشاہدات : 2745

    تاریخ و تعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی

    (پیر 30 جون 2014ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی


    دینی مدارس  کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام  ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی  مدارس دینِ اسلام  کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ  قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے  دینِ اسلام کا تعلق تعلیم  وتعلم اور درس وتدریس سے  رہا ہے  ۔نبی  کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو  وحی  نازل  ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم  کے گھر میں دار ارقم  کے  نام سے  ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح  وشام کے اوقات میں  صحابہ  کرام ﷢وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے  یہ اسلام کی سب سے  پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست  کاقیام عمل میں آیا  تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی  جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے  ۔اس کے  ایک جانب آپ نے  ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ  مقامی وبیرونی  صحابہ کرام﷢ کو قرآن مجید اور دین  کی تعلیم دیتے  تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی  مدرسہ تھا جو تاریخ  میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف  ہے ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ  کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ  پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں  ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ  ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث  سے بھری پڑی ہے  کہ  غلبۂ اسلام  ،ترویج  دین  اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے  میں  جن کی خدمات نے  نمایاں کردار  ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی  اسلام کی  ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس  دینیہ اور مَسندوں کی خدمات  روزِ  روشن کی طرح  عیاں ہیں  کہ جہاں سے وہ شخصیا ت  پیدا ہوئیں  جنہوں نے  معاشرے کی  قیادت کرتے  ہوئے  اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام  الناس کے لیے  منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ زیرنظر کتاب ’’ تاریخ وتعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ  ،دہلی ‘‘  دہلی  کی  اس  عظیم الشان  معیا ری درس گاہ  کے تعارف  پر مشتمل  ہے  کہ  جس  سے  پاک وہند کے  بے  شمار جید علماء نے فیض پایا ۔مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ  کو  شیخ عبد الرحمن اور شیخ عطاء الرحمن نے  1921ء میں  قائم کیا  کہ جس کی  صرف ستائیس سالہ مختصر مدت کارکردگی میں مدارس کے اندر کوئی دوسر ی  مثال  نہیں  ۔مولانا محمد ابراہیم  میر سیالکوٹی  او ر مولانا احمدللہ  پرتاب گڑھی وغیرہ اس مدرسہ کے اولین اساتذہ اور  محدث العصر حافظ عبداللہ روپڑی  اس کے اولین ممتحن اورمدیر تعلیم مقررہوئے  او ر اس مدرسہ کے آخری وجودقیام ِپاکستان تک اس منصب پر فائز رہے ۔ مدرسے  کے مہتم تعلیمی معاملات میں  موصوف پر ہی اعتماد کرتے او ران کی بات اور  فیصلے کو حرف آخر میں  سمجھتے تھے (لیکن  ناجانے کیوں  صاحب کتاب نے  حافظ عبد اللہ روپڑی ا ور ان کےخاندان  کی مدرسہ کے  لیے  تعلیمی  خدمات کو  بطور خاص اہتمام سے  بیان  کیوں نہیں کیا ) 1947ء تک یہ  مدرسہ قائم رہا ۔ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد پیش آنے والے  حوادث وفسادات  کی  وجہ سے یہ مدرسہ بند ہوگیا  ۔ شیخ  عطاء الرحمن کے  صاحبزادے  شیخ عبدالوہاب اور ان کاخاندان ہجرت کر کے  کراچی منتقل ہوگیا۔کتاب  کے مرتب شیخ اسعد اعظمی  ﷾ نے  اس کتاب  میں  مدرسہ کی تعمیر،اس کے قواعد وضوابط، نصاب ِتعلیم، نظام امتحان،  اساتذہ ، فاضلین  اور مدرسہ کے  متعلق علماء کے تاثرات اور بانیانِ  مدرسہ کے حالات  واقعات  کو تفصیل سے  بیان کیا ہےجوکہ قابل مطالعہ ہیں ۔ مدرسہ  کے بانی شیخ  حاجی عبد الرحمن  انتہائی سخی  اور فیاض انسان  تھے  روزانہ  شام کو مدرسہ آتے ..  طلباء کے لیے  سیر وتفریح  او ر ہرجمعہ کو  مدرسہ کے اساتذہ کی دعوت کا خاص اہتمام کرتے  لیکن مدرسہ کے  نظم و نسق کے معاملہ بڑے سخت اور اصولوں کے پابند تھے ۔مدرسہ کے  نظم  وضبط  کی خلاف ورزی اور کتاہی کرنے  والے طلباء سے  ناراض ہوتے  ۔مدرسہ کے قیام کےایک سال بعد ہی وفات پاگئے ۔ان کے بعد  شیخ عطاء الرحمن   نے مدرسہ کا انتظام سنبھالہ ۔یہ اگرچہ  بذات خود عالمِ دین نہ تھے مگر انہیں علم اور علماء سے گہرا قلبی تعلق تھا ۔ ہر  روز ڈیڑھ میل کا سفر طے کر کے  نمازِ فجر  سے  قبل  مدرسہ میں آتے  طلباء کو  نماز  کے لیے  خود  اٹھاتے  جماعت سے پیچھے  رہنے والوں کوسزا دیتے ۔مدرسہ  میں  طلباء کےلیے  تیار ہونے والے کھانے کی  خود نگرانی کرتے ۔ کبھی  کبھی  اچانک کھانا  منگوا کر کھانے کا معیار چیک کرتے ۔ دار الحدیث  رحمانیہ  میں  تعلیم  وتربیت ،دعوت  وتبلیغ کے علاوہ  نشر واشاعت کا بھی انتظام  تھاجس کے تحت  دینی کتب  کی اشاعت  کے علاوہ  ایک ماہوار علمی رسالہ ’’محدث ‘‘بھی شائع ہوتا  تھا جس کا آغاز مئی 1933 میں ہوا۔ مدرسہ کا تعلیمی معیار بھی بہت بلند تھاجس میں بنیادی کردار  و ہ سالانہ امتحان تھا جوکہ روپڑی خاندان کے سالارِ اول  حافظ عبداللہ محدث روپڑی  اور  مولانا محمدحسین روپڑی  (والد گرامی  حافظ عبدالرحمن مدنی﷾ مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) لیا کرتے  اور امتحان  کی نگرانی  خطیبِ ملت حافظ اسماعیل روپڑی  اور مناظر اسلام عبد القادر روپڑی  کیا کرتے۔اس لیے  مدرسہ دار الحدیث  رحمانیہ  کاخاص علمی  تعلق اس امرتسری روپڑی خاندان سےتھا۔ اسی مناسبت سے  حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ نے اپنے  رفقاء(شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی ﷾،مولاناعبدالسلام کیلانی) کی مشاورت سے  لاہور میں  مدرسہ رحمانیہ کے نام سے  دینی  درس گاہ  قائم کی جو اب  بین  الاقوامی  طور پر جامعہ لاہور الاسلامیہ  کے نام سے معروف ہے۔  اور 1970  میں  مجلس التحقیق  الاسلامی ،لاہور کی  طرف سے  ماہوار علمی رسالہ  ’’محدث ‘‘جاری کیا  جس کو علمی  وفکری حلقوں میں  بہت قبول عام  حاصل  ہوا۔  یہ رسالہ اب  بھی جاری وساری  ہے  ۔ دار الحدیث  رحمانیہ ،دہلی  کے بانیان  ومنتظمین  کی  مدرسہ کے  طلبا ،اساتذہ، علماء  سے شفقت  ومحبت اور امور  مدرسہ سے  وابستگی  اور دلچسپی آج کے  مدارس  کے منتظمین  اور مہتمم حضرات کےلیے  قابلِ اتباع  نمونہ  ہے ۔ اللہ دین اسلام  کے لیے  کام کرنے  والے  تمام  مدارس دینیہ  اورعلماء کی حفاظت فرمائے (آمین)( م۔ا )

     

     

  • 4 #2316

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 4620

    مقدس رسول بجواب رنگیلا رسول

    (جمعہ 25 جولائی 2014ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    مفسر قرآن ، فاتح قادیان ،کثیرالتصانیف مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ 1868ء امرتسر میں پیدا ہوئے،اورمولانا سیّد نذیر حسین دہلوی ﷫ سے اکتساب علم کیا۔ ہفت روزہ ’’اخبار اہل حدیث‘‘ کے مدیر اور مؤسس تھے۔ادیانِ باطلہ پر گہری نظر تھی۔عیسائیت ، آریہ سماج ہندووں، قادیانیت اور تقلید کے ردمیں متعدد کتابیں لکھیں۔آپ نے سیرت مبارکہ صلی اللہ علیہ و سلم پر تین کتابیں تالیف کی تھیں،جن میں سے ایک زیر تبصرہ کتاب(مقدس رسولﷺ بجواب رنگیلا رسول) بھی ہے۔یہ کتاب اس زمانے میں لکھی گئی جب مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔"رنگیلا رسول " نامی کتاب خبیث ہندو راجپال کی شرارت تھی ،جس میں اس نے نبی کریمﷺ کی ذات بابرکات پر نہایت رکیک ،کمینے اور غیر مہذب اعتراضات کئے تھے۔اس کتاب کے بازار میں آتے ہی مسلمانوں میں انتہائی اشتعال پیدا ہو گیا اور اس کا جواب لکھنے کے مطالبے سامنے آنے لگے۔چنانچہ مولانا ثناء اللہ امرتسری میدان میں آئے اور (مقدس رسولﷺ)کے نام سے اس کانہایت متین،معقول،محققانہ اور قاطع جواب لکھا۔اور اس جاہل اور احمق کی جہالتوں اور حماقتوں کا نہایت متانت اور سنجیدگی سے جواب دیا۔نیز یہ بات یاد رہے کہ جہاں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے علمی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دئیے، وہیں میدان کار زار میں غازی علم دین شہید﷫نے اس خبیث راجپال کو جہنم واصل کرتے ہوئے رسول اللہﷺ سے سچی محبت کا ثبوت فراہم کر دیا۔اللہ تعالی دونوں میدانوں کے شاہسواروں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ہمیں بھی نبی کریمﷺ کے ساتھ سچی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #3105

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 5465

    بدعات کا انسائیکلو پیڈیا

    (بدھ 08 اپریل 2015ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں ۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب   وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام ﷢ نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا ۔ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے ۔ اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے راہبوں ،صوفیوں، نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے اسلام کی اصل شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی ہے۔دن کی بدعات الگ ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔جید اہل علم نے   بدعات اور اس کے نقصانات سے روشناس کروانے کے لیے   اردو وعربی زبان میں متعدد چھوٹی بڑی کتب   لکھیں ہیں جن کے مطالعہ سے اہل اسلام اپنے دامن کو   بدعات سے خرافات سے بچا سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’بدعات کا انسکائیکلوپیڈیا‘‘ ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان اور ابو عبداللہ احمد بن اسماعیل شکوکانی کی مرتب شدہ عربی کتاب ’’قاموس البدع‘‘ کا ترجمہ ہے ۔یہ کتاب محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی﷫ کی تصنیفات سے ماخوذ شدہ ہے۔ کتا ب کے ترجمہ اور اس پر استدراکات کا فریضہ جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن﷾ نے بڑی محنت ولگن سے انجام دیاہے۔ مرتبین نےاس کتاب میں ان تمام بدعات کو یکجا کر دیا ہے جنہیں علمائے سوء بڑی کوشش سے روز بروز، ہفتہ بہ ہفتہ وار سبق کی طرح سکھاتے اور رٹاتے ہیں، مسلمانوں کی اکثریت اسے اسلام سمجھ کر بڑے انہماک سےیاد کرتی اور خوبصورتی کے ساتھ ادا کرتی ہے اور ان بدعات کی ادائیگی پر بے شمار دولت بھی خرچ کرتی ہے ۔مؤلفین نے بہت سےمقامات پر علامہ البانی﷫ کا موقف حاشیے میں انہی کے الفاظ سے پیش کیا ہے ۔ ایسے مقامات پر انہوں نے (منہ) کی رمز استعمال کی ہے ۔ دیگر حواشی مؤلفین کی طرف سے ہیں ۔ان دیگر حواشی میں بھی علامہ البانی کے موقف کی وضاحت کی گئی ہے ۔ یا انہی کے موقف کو اپنے الفاظ میں پیش کردیا گیا ہے ۔کتاب چونکہ علمی نوعیت کی ہے ۔اس لیے بعض دقیق علمی مسائل میں اختلاف رائے کابھی امکان ہوتا ہے اور انسانی کوشش میں غلطی کے احتمال کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔لہذا مترجم کتاب ڈاکٹر حافظ شہباز حسن صاحب نے بعض مواقع پر علامہ البانی ﷫ کے نکتہ نظر کے برعکس دوسرے علماء کا موقف حاشیہ میں پیش کردیا ہے تاکہ قارئین میں کسی قسم کی غلط فہمی یا بے چینی پیدا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ مرتبین، مترجم وناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مسلمانوں کو بدعات وخرافات سے محفوظ فرمائے۔آمین( م۔ا)

  • 6 #3106

    مصنف : محفوظ الرحمن فیضی

    مشاہدات : 3084

    تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہئیت و کیفیت

    (جمعرات 09 اپریل 2015ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ زیر نظر کتاب" تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہیئت وکیفیت " انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین مولانا محفوظ الرحمن فیضی شیخ الجامعہ جامعہ اسلامیہ فیض آبادکی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہیئت وکیفیت کو بیان کیا ہے ،تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین۔(راسخ)

  • 7 #3111

    مصنف : سعید بن علی بن وہف القحطانی

    مشاہدات : 3605

    سنت کی روشنی اور بدعت کی تاریکیاں

    (منگل 14 اپریل 2015ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    قرآن کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے۔قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثیت ہے  ۔سنت وہ ہدایت ہےجس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ،علم واعتقاد اور قول وعمل کےساتھ گامزن تھے اور یہی وہ سنت ہے جس کی اتباع واجب ہےاور اس پر چلنے والے قابل تعریف اوراس کی مخالف کرنےوالے قابل مذمت ہیں ۔کیونکہ اتباعِ سنت جزو ایمان ہے  ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعتِ رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اور ایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث نبویہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔ اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ)  میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری  فرماکر  دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی  بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان  کی فرضیت کے بارے میں ابہام پیدا کرکے کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے  سنت کی شرعی  حیثیت کو مجروح کر کے  دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے۔لیکن الحمد للہ  ہر دور میں محدثین  اور  علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی  اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔ سنت کےمقابلے   بدعت کورواج دینا صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ بدعت سے مراد ہر وہ کام جسے ثواب یا برکت کاباعث یا نیکی سمجھ کر کیا جائے   لیکن شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔ یعنی نہ تویہ کام خود رسول اللہﷺ نے کیا ہواور نہ ہی کسی کو کرنےکا حکم دیا ،نہ ہی اسے کرنے کی کسی کواجازت دی ہو۔ بدعات وخرافات کرنے والے کل قیامت کو حوض کوثر سے محروم کردیئےجائیں گے ۔ جس کی وضاحت فرمان ِنبوی میں موجو د ہے۔ اہل سنت زندہ زندہ دل،روشن ضمیر ہوتے ہیں اور ظاہروباطن میں اللہ کے حکم کےپابند اور رسول اللہ ﷺکےتابع دار ہوتے ہیں۔ اور اہل بدعت مردہ اور تاریک دل ہوتے ہیں ،ان پر مکمل طور پر تاریکی چھائی ہوتی ہے ان کے دل سیاہ اوران کے سارے احوال اندھیروں میں ڈوبے ہوتے ہیں۔لہذا جن کےساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرماتا ہے انہیں ان تاریکیوں سے نکال کر سنت کی روشنی کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’سنت کی روشنی اور بدعت کی تاریکیاں قرآن وحدیث کی روشنی میں ‘‘دنیائے عرب کے ایک فاضل مؤلف ومحقق جناب ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی کی کتاب ’’نور السنۃ وظلمات البدعۃ فی ضوء الکتاب والسنۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ فاضل مؤلف نے بڑی عمدگی اور نہایت مدلل طریقہ پر سنت کی اہمیت اوراہل سنت کے مقام ومرتبہ، ان کے اسمائے گرامی اور ان کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ اسی طرح بدعت اوراہل بدعت کی حقیقت،قبولیت عمل کی شرائط ،بدعت کی مذمت، اس کے اسباب، انواع اوران کے احکام نیز معاشرے میں پھیلی ہوئی متعدد بدعات کی نشاندہی فرمائی ہے اور بدعتی کی توبہ کا حکم اور بدعات کےبرے اثرات ونقصانات کا کا تفصیلی جائزہ لیاہے۔ عربی سے اردو رواں وسلیس ترجمہ کا کام محترم جناب شیخ سہیل احمد فضل الرحمن مدنی ﷾ نے انجام دیا ہے اللہ تعالیٰ مصنف، مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے معاشرے میں رواج پاجانےوالے بدعات وخرافات کے خاتمے اورسنت کو عام کرنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • 8 #3124

    مصنف : ابن حجر العسقلانی

    مشاہدات : 3459

    کیا خضر علیہ السلام ابھی زندہ ہیں؟

    (ہفتہ 18 اپریل 2015ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    سیدنا خضر ﷤ کے نبی یا ولی ہونے اور ان کے اب تک زندہ رہنے نیز بعض لوگوں کے خضر ﷤سے ملاقات کرنے اور خضر ﷤ کے ان کی رہنمائی کرنے کا مسئلہ عرصہ دراز سے موضوع بحث بنا ہوا ہے،اور لوگوں کے درمیان سیدنا خضر کے حوالے سے بے شمار بے تکی،غیر مستند اور جھوٹی کہانیاں زیر گردش ہیں۔ اس سلسلے میں عربی زبان میں اگرچہ کچھ کتابیں موجود ہیں ،لیکن اردو زبان کا دامن اب تک اس سے خالی تھا،اور اس امر کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ اس نازک موضوع پر اردو میں بھی کچھ لکھا جائےتاکہ لوگوں کے عقائد کی اصلاح کی جاسکے۔مقام مسرت ہے کہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو انڈیا کے ایک عالم دین محترم جناب مولانا عبد اللطیف اثری ﷾نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور صحیح بخاری کے شارح علامہ حافظ ابن حجر ﷫کی کتاب"الزھر النضر فی حال الخضر "کا اردو ترجمہ کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے اس ترجمہ کا اردو نام " کیا خضر﷤ ابھی زندہ ہیں؟"رکھا ہے۔جس پر تحقیق ،تخریج اور تحشیہ کاکام شیخ صلاح الدین مقبول احمد (کویت) نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں حدیث میں خضر کا قصہ،خضر کے بارے میں خلاصہ بحث،خضر سے کون مراد ہیں؟خضر فرشتہ ہیں یا ولی یا نبی ،نبوت ورسالت پر ولایت کی برتری کی تردید،شارح العقیدہ الطحاویہ کی ایک نفیس بات،قرآن وحدیث سے نبوت خضر پر دلائل،استمرار حیات کا سبب اس کے قائلین کی نظر میں،استمرار حیات خضر کے قائلین کی آراءوغیرہ جیسی مباحث بیان کی ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف،مترجم اور تمام معاونین کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 9 #3136

    مصنف : قاضی اطہر مبارکپوری

    مشاہدات : 3239

    ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت

    (جمعہ 24 اپریل 2015ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ صلى الله عليه وسلم کو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت"مورخ اسلام مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری کی تصنیف ہے، جسے محمد صادق مبارک پوری استاذ جامعہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ یو پی نے مرتب کیا ہے۔اس میں انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت کے حوالے سے تفصیلات نقل کی ہیں۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 10 #3154

    مصنف : عبد المعید مدنی

    مشاہدات : 3057

    تصوف دین یا بے دینی

    (منگل 05 مئی 2015ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    تصوف ایک انسانی روحانی تجربہ ہے اسے دین وشریعت کا نام نہیں مل سکتا ہے اور ہر صوفی کاتجربہ دوسرے صوفی سےجدا ہوتا ہے اوراس تجربے میں جس قدر تعمق آتاجاتا ہے گمراہی اسی قدر بڑھتی جاتی ہے اس تجربے کےلیے انسان کو ہر قدم پر شریعت سے دو ر ہٹنا پڑتا ہے اور تجربے میں جس قد ر تعمق ہوگا اس کے بقدر انسان شریعت سےدور ہٹے گا۔ اور یہ تجربہ کسی حدودوقید کا پابند نہیں ہے ۔اس لیے اس میں ارتقاء آتا گیا اورگمراہیاں بڑھتی گئیں اوراس آزادئ فکر پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا اگر تصوف کسی پابندی کوبرا داشت کرلے توتصوف تصوف نہ رہ جائے گا تصوف کا مسلک ہی آزادی اور اباحیت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب جناب عبد المعیدمدنی ﷾ کے تصوف کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے مقالہ کی کتابی صورت ہے۔ اس میں انہوں نے تصوف کی شرعیت، عملیت، فعالیت اور مضرت پر بات کی ہے اور یہ نتیجہ ظاہر کیا ہے کہ تصوف ہر اعتبار سے دین سے خارج شئی ہے او رگمراہی کا منبع، دنیا میں کوئی نظریہ تصوف سے زیادہ گمراہ کن اور فاسد نہیں ہے او ردین کی قرآن وسنت سے ثابت شدہ باتوں پر تصوف کا عنوان لگانا بہت بڑی جسارت ہےجو معافی کے لائق نہیں ہے۔ (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1242
  • اس ہفتے کے قارئین 13892
  • اس ماہ کے قارئین 37432
  • کل قارئین49229933

موضوعاتی فہرست