اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

حافظ اسعد اعظمی

  • نام : حافظ اسعد اعظمی

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #2176

    مصنف : حافظ اسعد اعظمی

    مشاہدات : 2765

    تاریخ و تعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی

    (تاریخ و تعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی


    دینی مدارس  کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام  ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی  مدارس دینِ اسلام  کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ  قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے  دینِ اسلام کا تعلق تعلیم  وتعلم اور درس وتدریس سے  رہا ہے  ۔نبی  کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو  وحی  نازل  ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم  کے گھر میں دار ارقم  کے  نام سے  ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح  وشام کے اوقات میں  صحابہ  کرام ﷢وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے  یہ اسلام کی سب سے  پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست  کاقیام عمل میں آیا  تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی  جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے  ۔اس کے  ایک جانب آپ نے  ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ  مقامی وبیرونی  صحابہ کرام﷢ کو قرآن مجید اور دین  کی تعلیم دیتے  تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی  مدرسہ تھا جو تاریخ  میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف  ہے ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ  کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ  پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں  ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ  ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث  سے بھری پڑی ہے  کہ  غلبۂ اسلام  ،ترویج  دین  اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے  میں  جن کی خدمات نے  نمایاں کردار  ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی  اسلام کی  ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس  دینیہ اور مَسندوں کی خدمات  روزِ  روشن کی طرح  عیاں ہیں  کہ جہاں سے وہ شخصیا ت  پیدا ہوئیں  جنہوں نے  معاشرے کی  قیادت کرتے  ہوئے  اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام  الناس کے لیے  منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ زیرنظر کتاب ’’ تاریخ وتعارف مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ  ،دہلی ‘‘  دہلی  کی  اس  عظیم الشان  معیا ری درس گاہ  کے تعارف  پر مشتمل  ہے  کہ  جس  سے  پاک وہند کے  بے  شمار جید علماء نے فیض پایا ۔مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ  کو  شیخ عبد الرحمن اور شیخ عطاء الرحمن نے  1921ء میں  قائم کیا  کہ جس کی  صرف ستائیس سالہ مختصر مدت کارکردگی میں مدارس کے اندر کوئی دوسر ی  مثال  نہیں  ۔مولانا محمد ابراہیم  میر سیالکوٹی  او ر مولانا احمدللہ  پرتاب گڑھی وغیرہ اس مدرسہ کے اولین اساتذہ اور  محدث العصر حافظ عبداللہ روپڑی  اس کے اولین ممتحن اورمدیر تعلیم مقررہوئے  او ر اس مدرسہ کے آخری وجودقیام ِپاکستان تک اس منصب پر فائز رہے ۔ مدرسے  کے مہتم تعلیمی معاملات میں  موصوف پر ہی اعتماد کرتے او ران کی بات اور  فیصلے کو حرف آخر میں  سمجھتے تھے (لیکن  ناجانے کیوں  صاحب کتاب نے  حافظ عبد اللہ روپڑی ا ور ان کےخاندان  کی مدرسہ کے  لیے  تعلیمی  خدمات کو  بطور خاص اہتمام سے  بیان  کیوں نہیں کیا ) 1947ء تک یہ  مدرسہ قائم رہا ۔ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد پیش آنے والے  حوادث وفسادات  کی  وجہ سے یہ مدرسہ بند ہوگیا  ۔ شیخ  عطاء الرحمن کے  صاحبزادے  شیخ عبدالوہاب اور ان کاخاندان ہجرت کر کے  کراچی منتقل ہوگیا۔کتاب  کے مرتب شیخ اسعد اعظمی  ﷾ نے  اس کتاب  میں  مدرسہ کی تعمیر،اس کے قواعد وضوابط، نصاب ِتعلیم، نظام امتحان،  اساتذہ ، فاضلین  اور مدرسہ کے  متعلق علماء کے تاثرات اور بانیانِ  مدرسہ کے حالات  واقعات  کو تفصیل سے  بیان کیا ہےجوکہ قابل مطالعہ ہیں ۔ مدرسہ  کے بانی شیخ  حاجی عبد الرحمن  انتہائی سخی  اور فیاض انسان  تھے  روزانہ  شام کو مدرسہ آتے ..  طلباء کے لیے  سیر وتفریح  او ر ہرجمعہ کو  مدرسہ کے اساتذہ کی دعوت کا خاص اہتمام کرتے  لیکن مدرسہ کے  نظم و نسق کے معاملہ بڑے سخت اور اصولوں کے پابند تھے ۔مدرسہ کے  نظم  وضبط  کی خلاف ورزی اور کتاہی کرنے  والے طلباء سے  ناراض ہوتے  ۔مدرسہ کے قیام کےایک سال بعد ہی وفات پاگئے ۔ان کے بعد  شیخ عطاء الرحمن   نے مدرسہ کا انتظام سنبھالہ ۔یہ اگرچہ  بذات خود عالمِ دین نہ تھے مگر انہیں علم اور علماء سے گہرا قلبی تعلق تھا ۔ ہر  روز ڈیڑھ میل کا سفر طے کر کے  نمازِ فجر  سے  قبل  مدرسہ میں آتے  طلباء کو  نماز  کے لیے  خود  اٹھاتے  جماعت سے پیچھے  رہنے والوں کوسزا دیتے ۔مدرسہ  میں  طلباء کےلیے  تیار ہونے والے کھانے کی  خود نگرانی کرتے ۔ کبھی  کبھی  اچانک کھانا  منگوا کر کھانے کا معیار چیک کرتے ۔ دار الحدیث  رحمانیہ  میں  تعلیم  وتربیت ،دعوت  وتبلیغ کے علاوہ  نشر واشاعت کا بھی انتظام  تھاجس کے تحت  دینی کتب  کی اشاعت  کے علاوہ  ایک ماہوار علمی رسالہ ’’محدث ‘‘بھی شائع ہوتا  تھا جس کا آغاز مئی 1933 میں ہوا۔ مدرسہ کا تعلیمی معیار بھی بہت بلند تھاجس میں بنیادی کردار  و ہ سالانہ امتحان تھا جوکہ روپڑی خاندان کے سالارِ اول  حافظ عبداللہ محدث روپڑی  اور  مولانا محمدحسین روپڑی  (والد گرامی  حافظ عبدالرحمن مدنی﷾ مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) لیا کرتے  اور امتحان  کی نگرانی  خطیبِ ملت حافظ اسماعیل روپڑی  اور مناظر اسلام عبد القادر روپڑی  کیا کرتے۔اس لیے  مدرسہ دار الحدیث  رحمانیہ  کاخاص علمی  تعلق اس امرتسری روپڑی خاندان سےتھا۔ اسی مناسبت سے  حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ نے اپنے  رفقاء(شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی ﷾،مولاناعبدالسلام کیلانی) کی مشاورت سے  لاہور میں  مدرسہ رحمانیہ کے نام سے  دینی  درس گاہ  قائم کی جو اب  بین  الاقوامی  طور پر جامعہ لاہور الاسلامیہ  کے نام سے معروف ہے۔  اور 1970  میں  مجلس التحقیق  الاسلامی ،لاہور کی  طرف سے  ماہوار علمی رسالہ  ’’محدث ‘‘جاری کیا  جس کو علمی  وفکری حلقوں میں  بہت قبول عام  حاصل  ہوا۔  یہ رسالہ اب  بھی جاری وساری  ہے  ۔ دار الحدیث  رحمانیہ ،دہلی  کے بانیان  ومنتظمین  کی  مدرسہ کے  طلبا ،اساتذہ، علماء  سے شفقت  ومحبت اور امور  مدرسہ سے  وابستگی  اور دلچسپی آج کے  مدارس  کے منتظمین  اور مہتمم حضرات کےلیے  قابلِ اتباع  نمونہ  ہے ۔ اللہ دین اسلام  کے لیے  کام کرنے  والے  تمام  مدارس دینیہ  اورعلماء کی حفاظت فرمائے (آمین)( م۔ا )

     

     

  • 2 #4652

    مصنف : حافظ اسعد اعظمی

    مشاہدات : 2705

    تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں

    (تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    تعزیہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مادہ عین، زاء اور ی سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں مصیبت میں صبر کرنا ، دلاسہ دینا ،تسلی دینا ، پرسہ دینا کے ہیں۔ انہیں الفاظ سے سے تعزیت اور تعزیہ وجود میں آئے۔ اہل تشیع کے ہاں تعزیہ ایک ایسی شبیہ ہے جوکہ سیدنا حسین کے روضہ کی طرز پر تعمیر کی جاتی ہے۔ یہ تعزیے مختلف شکلوں مختلف اشیاء سونے،چاندی،لکڑی،بانس اور سٹیل سے تیار کئے جاتے ہیں، جوکہ شیعوں کی طرف سے محرم کے مہینے میں ایک جلوس کے ہمراہ برآمد کئے جاتے ہیں۔ برصغیر میں تعزیے کا بانی بادشاہ امیر تیمور تھا۔ تیمور کے باپ، دادا اسلام قبول کر چکے تھے۔ مگر تیمور کا تعلق تلوار اور ملکوں کی فتوحات تک ہی تھا۔ تعزیہ کا تعلق عہد تیمور سے ہے۔ یعنی تعزیہ کی شروعات عہد تیموری سے ہوئی اور رفتہ رفتہ اس کی شکل میں مختلف تبدیلیوں رائج ہوتی چلی گئیں۔ عجیب بات یہ کہ ان بدعات و رسومات کو دین کی خدمت سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے جبکہ اسلام نے ان تمام شرکیہ افعال اور بدعات و خرافات سے واضح طور سے منع کیا ہے اور ایسے موقع پر صبر سے کام لینے کی تعلیم دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں" جامعہ سلفیہ بنارس انڈیا کے استاد مولانا حافظ اسعد اعظمی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بریلوی، اہل حدیث اور حقیقت پسند شیعی علماء کے فتاوی کی روشنی میں تعزیے کی غلطی کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 3 #7020

    مصنف : حافظ اسعد اعظمی

    مشاہدات : 1390

    بچوں کی تربیت سے متعلق چالیس احادیث

    (بچوں کی تربیت سے متعلق چالیس احادیث) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے  ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں  کوئی شک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ زیر نظر کتابچہ’’ بچوں کی تربیت سے متعلق چالیس احادیث ‘‘ شیخ اسعد اعظمی (استاذ جامعہ سلفیہ ،بنارس) کی کاوش ہے  انہوں نےاس کتابچہ میں  احادیث مبارکہ کے ذخیرے سے ایسی چالیس احایث بحوالہ   جمع کر کے ان کی  مختصر اور عام فہم تشریح پیش کی ہے  جن میں بچوں کی تعلیم وتربیت  سے متعلق آپﷺ کےارشادات ، معمولات اور ہدایات موجود ہیں  والدین اور سرپرست حضرات اپنے زیر تربیت افراد کی  رہنمائی اور کردار سازی   کے لیے اس مجموعے سے مستفیدہوسکتے ہیں ۔ نیز مدارس  وجامعات کے طلبہ و طالبات اپنی تقریریوں کی تیاری کےلیے اس سے مدد لے سکتے ہیں  اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) ( م۔ا )

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1792
  • اس ہفتے کے قارئین 11477
  • اس ماہ کے قارئین 49871
  • کل قارئین49398333

موضوعاتی فہرست