اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

ابو محمد خرم شہزاد

  • نام : ابو محمد خرم شہزاد

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1706

    مصنف : ابو محمد خرم شہزاد

    مشاہدات : 6347

    الصحیفۃ فی الاحادیث الضعیفۃ

    (الصحیفۃ فی الاحادیث الضعیفۃ) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    علوم اسلامیہ میں سےعلم حدیث کی قدرومنزلت اورعزت وشرف کسی بھی اہل علم سے پنہااورمخفی نہیں ہے۔روایات کی صحت وضعف کی پہچان ایک کھٹن مرحلہ ہےجس میں آدمی کو کمال بصیرت کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی محدیثن کرام اجمعین پراپنی رحمت اور فضل کی انتہاکردےجنہوں نےدوردراز کےسفرکی صعوبتوں کو طےکیااوربڑی محنت اورجانفشانی سےاس کےاصول وضوابط مقرر فرمائےاورعلل وشذوذ کی گھتیوں کو سلجھایااورجمع مرویات کے رواۃ کی  حالات زندگی مرتب کی ان کی تاریخ ولادت ووفات  ، علمی رحلات ،اساتذہ ومشائخ اورتلامذہ کاتعین اورثقاہت وضعف،عدالت وضبط وغیرہ جیسے کئی امور منضبط کیےتاکہ طالب حدیث کیلے کسی قسم کی تشنگی باقی نہ رہے۔ان ائیمہ کےاصول وضوابط میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہےکہ جب ایک کمزور روایت کو تعدد طرق حاصل ہوجائےاورضعف شدید نہ ہوتووہ درجہ ءاحتجاج تک پہنچ جاتی ہے۔علامہ البانی نے اسی قاعدےکےتحت اپنےسلسلہء صحیحہ میں کچھ روایات جمع کی تھیں۔جب کہ یہ قاعدہ محدثین کے ہاں  مختلف ہے۔متقدمین کی بجائے متاخرین نےاسے زیادہ اہمیت دی ہے۔زیرنظرکتاب میں کچھ ایسی ہی ضعیف روایات کو  جمع کیاگیاہے۔اللہ مولف کی کاوش کو ان کی کامیابی کاذریعہ بنائے۔(ع۔ح)
     

  • 2 #2634

    مصنف : ابو محمد خرم شہزاد

    مشاہدات : 4233

    الصحیفۃ من کلام ائمۃ الجرح و التعدیل علی ابی حنیفۃ

    (الصحیفۃ من کلام ائمۃ الجرح و التعدیل علی ابی حنیفۃ) ناشر : نا معلوم

    امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی ﷫ بغیر کسی اختلاف کے  معروف ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں، تمام اہل علم کا آپکی جلالتِ قدر، اور امامت پر اتفاق ہے۔ علی بن عاصم کہتے ہیں: ’’ اگر ابو حنیفہ کے علم کا انکے زمانے کے لوگوں کے علم سےوزن کیا جائے تو ان پر بھاری ہو جائے گا ‘‘  آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نسلاً عجمی تھے۔ آپ کی پیدائش کوفہ میں 80ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، لٰہذا تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلٰی علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔اس مقام ومرتبے کے باوجود محدثین کرام نے بیان حق کے لئے آپ پر جرح اور تعدیل بھی کی ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’  الصحیفۃ من کلام ائمۃ الجرح والتعدیل  علی ابی حنیفۃ ‘‘  محترم ابو محمد خرم شہزاد کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے محدثین کرام کی طرف سے  امام ابو حنیفہ  پر کی گئی جرح اور تعدیل کو حوالوں کے ساتھ نقل کردیا ہے۔اور تمام مصادر سے اصل عبارتوں کو بھی ترجمہ کے ساتھ ساتھ نقل کر دیا ہے۔تاکہ اہل علم کے لئے اس استفادہ کرنا آسان ہو جائے(راسخ)

     

  • 3 #6167

    مصنف : ابو محمد خرم شہزاد

    مشاہدات : 1461

    کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے ؟

    (کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے ؟) ناشر : مکتبہ التحقیق و التخریج

    قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لیے رہا ہے، جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ... ﴿٣٤﴾...الحج ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے؛ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اہم وعظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنتِ ابراہیمی کہا جاتا ہے اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی؛ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی۔ اس قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی جان ومال ووقت ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کیا خصّی جانور کی قربانی سنت ہے؟‘‘ خرم شہزاد کی ہے۔ اس کتاب میں غیر خصی جانور کی قربانی کو احادیث مبارکہ کی روشنی میں فضیلت والی قربانی گردانا ہے مزید اس بارے میں صحابہ کرام اور دیگر محدثین کے اقوال کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلفِ کتاب کو اجرِ عظیم سے نوازےاور اس دینی لٹریچر کو اخروی توشۂ نجات میں شامل فرمائے اور اس کتاب کے مقاصد کو قبولیت سے نوازے۔ آمین۔(رفیق الرحمن)

  • 4 #6763

    مصنف : ابو محمد خرم شہزاد

    مشاہدات : 3529

    اصول حدیث و اصول تخریج

    (اصول حدیث و اصول تخریج) ناشر : مکتبہ التحقیق و التخریج

    علم حدیث سے مراد ایسے معلوم قاعدوں اور ضابطوں کا علم ہے جن کے ذریعے سے کسی بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے کہ آیا راوی یا اس کی حدیث قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم اصولِ حدیث ایک ضروری علم ہے ۔جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی حدیث کے اصول وضوابط اور تخریج کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے اختصار مگر جامعیت کے ساتھ مواد پیش کیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ‘سلیس‘ شائستہ وشتہ عمدہ‘ شگفتہ  اور عام فہم ہے۔اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مثالیں بھی دی گئی ہیں تاکہ بات سمجھ میں آئے اور اسماء الرجال کے عظیم فن کی مبادیات‘ سند اور متن کے صحت وسقم کے معیارات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب سے ہر عام وخاص یکساں افادہ کر سکتا ہے۔ یہ کتاب’’ اصول حدیث واصول تخریج ‘‘ابو محمد خرم شہزاد کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 5 #8032

    مصنف : ابو محمد خرم شہزاد

    مشاہدات : 689

    نماز وتر کا مسنون طریقہ

    (نماز وتر کا مسنون طریقہ) ناشر : صبح روشن پبلشرز لاہور

    وتر کےمعنیٰ طاق کےہیں۔ احادیث نبویہ کی روشنی میں امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں نمازِ وتر کی خاص پابندی کرنی چاہیے؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ سفروحضر میں ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام فرماتے تھے، نیز نبیِ اکرم ﷺ نے نماز ِوتر پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے حتی کہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص وقت پر وتر نہ پڑھ سکے تو وہ بعد میں اس کی قضا کرے۔ آپ  ﷺ نے امت مسلمہ کو وتر کی ادائیگی کاحکم متعدد مرتبہ دیا ہے۔ نمازِ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح ہونے تک رہتا ہے۔رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد پڑھ کر نماز ِوتر کی ادائیگی افضل ہے، نبی اکرم ﷺکا مستقل معمول بھی یہی تھا۔ البتہ وہ حضرات جورات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد اور نمازِ وتر کا اہتمام نہیں کرسکتے ہیں تو وہ سونے سے قبل ہی وتر ادا کرلیں ۔آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعات کےساتھ نماز وتر کی ادائیگی  ثابت ہے۔کتب احادیث وفقہ میں  نماز کے ضمن میں  صلاۃوتر کےاحکام ومسائل موجود ہیں ۔ نماز  کے موضوع پر الگ سے لکھی گئی  کتب میں بھی نماز وتر کے  احکام موجود ہیں۔ زیرنظر کتاب’’نمازِوتر کامسنون طریقہ‘‘   ابومحمد خرم شہزاد کی تصنیف ہے۔موصو ف نے اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ   نماز وتر میں دعائے قنوت کے لیےرکوع کے بعد ہاتھ اٹھانا اور تین وتر ایک سلام سے پڑھنا سنت رسول ﷺ نہیں ۔بلکہ وتر پڑھنے کا صحیح سنت طریقہ یہ  ہے کہ دورکعت پڑھ کر سلام پھیر دیاجائے اور ا یک رکعت علیحدہ پڑھی جائے ۔(م۔ا)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1779
  • اس ہفتے کے قارئین 7764
  • اس ماہ کے قارئین 46158
  • کل قارئین49337975

موضوعاتی فہرست