شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

11 کل کتب
دکھائیں

  • اسلام ایک عالمی  مذہب ہے اور مذاہبِ عالم  میں یہ واحد مذہب ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ تمام معاملات میں رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم  دیتاہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر کے حکمرانوں کے نام خط لکھے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ان حکمرانوں میں سے بعض عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔اسلام کے داعی اوّل  نبی کریم ﷺ کے دلرُبا کردار  کا نقشہ او ر آپ ﷺ کے صحابہ کرام ﷢ کاطرزعمل  اس بات کی روشن  دلیل ہے اسلامی معاشرے  میں غیر مذہب رعایا کوکیسا مقام حاصل تھا۔روز ِ اول سے ہی مبلغ اسلام رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اسلام کی ترقی اوربقا کےلیے  مختلف مذاہب کے ماننے والوں سےبرسرِپیکار ہونا پڑا ۔ مشرکین کے علاوہ جو طاقتیں اسلام کے راستے میں مزاحم ہوئیں ان میں یہودیت ونصرانیت پیش پیش تھیں۔گوکہ یہ دونوں  طاقتیں اہل ِ کتاب  تھیں لیکن عمومی طور  پر انہوں نے اسلام کی مخالفت اور کاروانِ حق کی ناؤ ڈبونے میں کوئی کسر نہ اٹھا  رکھی۔لیکن اس کے باوجو درسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب سے   جو تعلقات  قائم کیے  انہیں عہد حاضر میں   بطور نظیر  پیش کیا جاسکتاہے ۔آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے  ہوئے عملی  نمونہ پیش  کیا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نبی ﷺ نے اہل کتاب کودیگر غیر مسلموں پر فوقیت دی اورہر شعبے میں ان کے ساتھ محض اہل ِکتاب ہونے کی بنا پر دوستانہ اور ہمداردانہ رویہ اپنایا۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ ﷺ نے یہود نصاریٰ سے جو ت...

  • فی زمانہ نفاذ شریعت کی کوششوں کے ذیل میں یہ سوال سنجیدگی سے سامنے آ رہا ہے کہ جن مسائل سے متعلق قرآن و حدیث میں واضح نصوص موجود ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان پر عمل میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں تو کیا ان کو بعینہ تسلیم کر لیا جائے یا حالات کے مطابق ان میں ترمیم و اضافہ ممکن ہے؟ اس وقت آپ کے سامنے حافظ طاہر اسلام عسکری صاحب کامل محنت اور جانفشانی کے ساتھ لکھا جانے والا ایم۔فل کا مقالہ ہے۔ جو کہ بنیادی طور پر اسی سوال کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیاہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے تین طبقات کا تذکرہ کیاہے۔ پہلا طبقہ وہ ہے جو قرآن و حدیث کے منصوص احکام کو غیر متبدل مانتے ہیں۔ دوسری طبقہ جدت پسندوں کا ہے جن کے مطابق سیاست، معیشت اور معاشرت سے متعلقہ اسلامی حدود وضوابط کو عصری تقاضوں کے پیش نظر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں تیسرا طبقہ ان علما کا ہے جو عقائد و عبادات میں تو کسی تبدیلی کے قائل نہیں ہیں لیکن حالات کے تحت معاملات سے متعلقہ احکام میں تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔ محترم حافظ صاحب نے اس قسم کے تمام خیالات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اجتہاد کا درست تصور اور اس کا دائرہ کار واضح کیا ہے۔ علاوہ ازیں نصوص شریعت کی تبدیلی کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں اسلامی اصول تحقیق کی روشنی میں ان کاتحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ حافظ صاحب نے تبدیلی حالات سے متعلق عرب علما کے نقطہ نظر کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 3 احادیث میں تعارض رفع کرنے کے اصول۔مقالہ ایم فل (جمعرات 16 فروری 2012ء)

    مشاہدات:17096

    قرآن مقدس کے بعد احادیث نبویہ دین اسلام کا دوسرامعتبر ذریعہ ہے ۔دین اسلام  کے یہ دو اصل بڑے ماخذ ہیں ، اس اہمیت کے پیش نظر صحابہ کرام  ،تابعین و تبع تابعین اور علماء و محدثین جیسے قرآن حکیم کو سینوں میں محفوظ کیا ،اسی طرح ذخیرہ حدیث کوحفظ وتحریر اوردرس و تدریس کے ذریعہ محفوظ و مامون بنایا اور قبول حدیث کے ایسے حتمی اور معتبر اصول وضع  کیے کہ احادیث نبویہ میں اختراع اوروضع احادیث کا خاتمہ ہوگیا ۔پھر علما و محدثین نے فقہ و اجتہاد سے شرعی مسائل مستنبط کیے اور کتاب وسنت کے دلائل سے مسائل اخذ کرنے کے قواعد و ضوابط وضع کیے ،جن کی راہنمائی سے اصل مسئلہ تک رسائی ممکن ہوئی اور علمائے سلف کی ان کاوشوں سے تاویلات وتحریفات اور احادیث نبویہ میں تشکیکات پیدا کرنے والوں کےاہداف متاثر ہوئے اور ایسے فتنہ گروں کو ہر دور میں سخت پسپائی اورندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ان متجددین کا اصل ہدف احادیث میں شکوک و شبہات پیداکر کے دین کے اس  دوسرے بڑے ماخذ کو بے اثر کر کے اپنی من مانی تاویلات اور فکری کجی کو ایک باقاعدہ دین کی شکل دینا تھا ۔لیکن نہ یہ بازیگر اپنی اس مہم جوئی میں ماضی میں کامیاب ہوسکے اورنہ یہ حال  واستقبال میں کبھی سرخرو ہوں گے ،کیونکہ دین کی حفاظت کاذمہ خود اللہ مالک الملک نے اپنے ذمہ لیا ہے ۔لہذا ان فتنہ گروں کو سوائے ذلت و رسوائی اور ہزیمت وشکست  کے کچھ نہ ملے گا ۔منکرین احادیث نے احادیث رسول میں کئی طرح سے تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی،ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ احادیث اس حوالہ سے غیر معتبر ہیں کہ ان میں اختلاف پایا جات ہے اورایک ہی معنی کئی متضاد مفہوم کی اح...

  • مولانا عبد الرحمن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے ۔کتب  کے  علاوہ ان  کے  بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات   ملک کے   معروف   علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان  الحدیث ، سہ ماہی  منہاج لاہور وغیرہ )  میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔مولانا کیلانی نےفوج کی  سرکاری  ملازمت سے استعفی کے بعد کتابت کو بطورِ پیشہ اختیار کیا۔ آپ عربی ،اردو کے بڑے  عمدہ کاتب تھے۔١٩٤٧ء سے ١٩٦٥ء تک اردو کتابت کی اور اس وقت کے سب سے بہتر ادارے ، فیروز سنز سے منسلک رہے ۔١٩٦٥ء میں قرآن مجید کی کتابت شروع کی اور تاج کمپنی کے لئے کام کرتے رہے ۔تقریباپچاس  قرآن  کریم  کی  انہوں  نے  کتابت کی ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ١٩٧٢ء میں حج کرنے گئے تو مکی سورتوں کی کتابت باب بلال(مسجد حرام ) میں بیٹھ کر اور مدنی سورتوں کی کتابت مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چبوترہ پر بیٹھ کر کی ۔یہ  وہی  قرآن  کریم ہے  جو  پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے  ان  کے مانوس رسم الخط میں سعودی حکومت نے حمائل سائز میں چھاپا اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں  چھپتا او رفری تقسیم ہوتا ہے یعنی  پاکستان اور سعودی عرب میں  مروجہ  رسم قرآنی میں  سب سے زیادہ چھپنے والے قرآن کی کتابت&n...

  • کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہر...

  • ایک اسلامی ملک ہے اور ہمیشہ نامور سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ جمہوریہ مالدیپ ،چھوٹے بڑے تیرہ سو جزائر پر مشتمل بحرہند کے اندر ایک اسلامی ریاست ہے۔سمندر کے اندرپانچ سو دس (510)میل لمبا شمال سے جنوب اور اسی (80)میل چوڑا مشرق سے مغرب اس ملک کا کل رقبہ ہے۔ مالی یہاں کا دارالحکومت ہے جو سری لنکا سے جنوب مغرب میں چارسو (400)میل کے فاصلے پر بنتاہے۔ دار الحکومت ہونے باعث حکومت کے مرکزی دفاتر،اعلی عدالتیں اور تعلیم کے بہترین ادارے یہاں موجود ہیں۔ مالدیپ کے ان جزائر میں چھوٹے بڑے پہاڑی سلسلے بھی چلتے ہیں لیکن پھر بھی یہ جزائر سمندر کے برابر یا معمولی سے بلند ہیں اورکوئی جزیرہ بھی سطح سمندر سے چھ فٹ سے زیادہ اونچا نہیں ہے۔مون سون ہوائیں یہاں پر بارش کا سبب بنتی ہیں اور بارش کی سالانہ اوسط چوراسی(84) انچ تک ہی ہے جبکہ سالانہ اوسط درجہ حرارت 24سے 30ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے، گویا یہ ایک معتدل آب و ہوا کا بہترین قدرتی خطہ ہے۔ بعض جزائر ریتلے ساحلوں پر مشتمل ہیں اور ان میں پام کے درخت اور صحرائی جھاڑیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہاں مچھلی بکثرت کھائی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مالدیپ کی حضارۃ اور ادب پر اسلام کے اثرات "محترم قاری محمد یونس صاحب کی کاوش ہے، جو انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر تیار کی۔ صاحب مقالہ چونکہ ایک عرصہ تک دینی خدمات کے سلسلے میں مالدیپ میں مقیم رہے، لہذا انہوں نے اسی موضوع کا انتخاب کیا۔ ( راسخ)

  • 7 ارمغان علامہ علاؤ الدین صدیقی (پیر 04 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:792

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام علامہ علاؤ الدین صدیقی صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص علامہ علاؤ الدین صدیقی کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان علامہ علاؤ الدین صدیقی ‘‘پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو...

  • 8 ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار (پیر 04 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:923

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام پروفیسر حافظ احمد یار صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص پروفیسر حافظ احمد یار کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار ‘‘پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾ اور پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ دونوں کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ت...

  • 9 ارمغان پروفیسر ملک محمد اسلم (اتوار 03 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:797

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام پروفیسر ملک محمد اسلم صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص ملک محمد اسلم کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان پروفیسر ملک محمد اسلم ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر﷾ اور پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ دونوں کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ...

  • اخروی  نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی  ہے  جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے  مشرکوں کے لیے  وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے  چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا  ایک مسلمان کے لیے ضروری  ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت  نوح ﷤ نے ساڑھے نوسوسال کلمۂ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ  توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں  علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے  دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ  سلسلہ جاری  وساری ہے۔زیر تبصرہ تحقیقی مقالہ بعنوان’’ مباحث توحید جواہر القرآن اور تبیان  الفرقان کا تقابلی مطالعہ ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ مقالہ &nb...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1617
  • اس ہفتے کے قارئین: 5004
  • اس ماہ کے قارئین: 25697
  • کل مشاہدات: 45240187

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں