اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #6990

    مصنف : محمد اسلم صدیقی

    مشاہدات : 1422

    قرن اول میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات و معاہدات اور عصر حاضر ( مقالہ پی ایچ ڈی )

    (جمعرات 20 جون 2019ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    اسلام ایک عالمی  مذہب ہے اور مذاہبِ عالم  میں یہ واحد مذہب ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ تمام معاملات میں رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم  دیتاہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر کے حکمرانوں کے نام خط لکھے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ان حکمرانوں میں سے بعض عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔اسلام کے داعی اوّل  نبی کریم ﷺ کے دلرُبا کردار  کا نقشہ او ر آپ ﷺ کے صحابہ کرام ﷢ کاطرزعمل  اس بات کی روشن  دلیل ہے اسلامی معاشرے  میں غیر مذہب رعایا کوکیسا مقام حاصل تھا۔روز ِ اول سے ہی مبلغ اسلام رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اسلام کی ترقی اوربقا کےلیے  مختلف مذاہب کے ماننے والوں سےبرسرِپیکار ہونا پڑا ۔ مشرکین کے علاوہ جو طاقتیں اسلام کے راستے میں مزاحم ہوئیں ان میں یہودیت ونصرانیت پیش پیش تھیں۔گوکہ یہ دونوں  طاقتیں اہل ِ کتاب  تھیں لیکن عمومی طور  پر انہوں نے اسلام کی مخالفت اور کاروانِ حق کی ناؤ ڈبونے میں کوئی کسر نہ اٹھا  رکھی۔لیکن اس کے باوجو درسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب سے   جو تعلقات  قائم کیے  انہیں عہد حاضر میں   بطور نظیر  پیش کیا جاسکتاہے ۔آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے  ہوئے عملی  نمونہ پیش  کیا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نبی ﷺ نے اہل کتاب کودیگر غیر مسلموں پر فوقیت دی اورہر شعبے میں ان کے ساتھ محض اہل ِکتاب ہونے کی بنا پر دوستانہ اور ہمداردانہ رویہ اپنایا۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ ﷺ نے یہود نصاریٰ سے جو تعلقات  قائم کیے اسی نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے  خلفائے راشدین نے اہل ِ کتاب سے  مراسم قائم کیے ۔ مجموعی طور پر  رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ نے  یہود ونصاریٰ کی طرف  دوستی کاہاتھ ضرور بڑھایا اوران سے مختلف قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے  باہمی  معاہدات بھی کیے۔ مگر ان کی  اسلام دشمنی کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ ایک حد میں رہتے  ہوئے  احکام ِ الٰہیہ کی روشنی میں مختاط انداز اختیار کیا ۔ زیر نظرمقالہ بعنوان ’’ قرنِ اول میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات اور عصر حاضر ‘‘ محترم جناب محمداسلم صدیقی کا  ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ ہے  جسے انہوں نے  2002میں  شعبۂ علومِ اسلامیہ ،جامعہ پنجاب ،لاہور میں پیش کر کے پی  ایچ ڈی کی ڈگری  حاصل کی مقالہ   نگار نے اپنے اس تحقیقی مقالہ کو چھ ابواب میں  تقسیم   کیا ہے  اور اس تحقیقی مقالہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ  اسلام ایک عالمی دین ہے اور نبی کریم ﷺ کی بعثت پورے عالم انسانیت کے لیے ہوئی ہے ۔ لہذا تمام مسلمانوں کوبھی اپنی سوچ عالمی بنا کر دنیا کے مسائل حل کرنے اور عالم انسانیت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو اپنانے کے لیے حکمت موعظہ حسنہ اور  مجادلہ احسن  سے کام لینا چاہیے ،مسلمانوں کو غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات کےلیے اسے مشعل راہ بنا کر اقوام عالم سے صحیح اسلامی روادری وسعت ظرفی اور احترام انسانیت سے بھر پور رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،نبی  اکرم ﷺ نے  مدنی دور میں  جو غیر مسلم اقوام سے مختلف معاہدے کیے  وہ آج عصر  حاضر میں بھی  مسلمانوں کےلیے مشعل راہ بن سکتے ہیں  نیز  خلفاء راشدین  نے  اقوام عالم سے تعلقات ومعاہدات کےلیے دور نبوی کو بنیاد بنایا تھا ان کا نمونہ بھی عالم اسلام کےلیے ایک اعلیٰ مثال او راقوام عالم کو اپنا شاندار ماضی دکھانے کےلیے ایک مثالی دور کی حیثیت رکھتا ہے ،اسلام کی تعلیمات ابدی ہیں دور نبوی اور خلفاء راشدین کے دور کی مثالیں ہمیں ہر دور کے غیر مسلموں سے احسن سلوک اور ان سے خاندانی ، سماجی اور معاشی تعلقات کی بنیادیں فراہم کرتی ہیں ۔(م ۔ا) 

  • 2 #1129

    مصنف : حافظ طاہر اسلام عسکری

    مشاہدات : 15743

    تبدیلی حالات سے شرعی احکام کی تبدیلی کے تصورات ۔مقالہ ایم فل

    (پیر 11 جون 2012ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    فی زمانہ نفاذ شریعت کی کوششوں کے ذیل میں یہ سوال سنجیدگی سے سامنے آ رہا ہے کہ جن مسائل سے متعلق قرآن و حدیث میں واضح نصوص موجود ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان پر عمل میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں تو کیا ان کو بعینہ تسلیم کر لیا جائے یا حالات کے مطابق ان میں ترمیم و اضافہ ممکن ہے؟ اس وقت آپ کے سامنے حافظ طاہر اسلام عسکری صاحب کامل محنت اور جانفشانی کے ساتھ لکھا جانے والا ایم۔فل کا مقالہ ہے۔ جو کہ بنیادی طور پر اسی سوال کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیاہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے تین طبقات کا تذکرہ کیاہے۔ پہلا طبقہ وہ ہے جو قرآن و حدیث کے منصوص احکام کو غیر متبدل مانتے ہیں۔ دوسری طبقہ جدت پسندوں کا ہے جن کے مطابق سیاست، معیشت اور معاشرت سے متعلقہ اسلامی حدود وضوابط کو عصری تقاضوں کے پیش نظر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں تیسرا طبقہ ان علما کا ہے جو عقائد و عبادات میں تو کسی تبدیلی کے قائل نہیں ہیں لیکن حالات کے تحت معاملات سے متعلقہ احکام میں تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔ محترم حافظ صاحب نے اس قسم کے تمام خیالات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اجتہاد کا درست تصور اور اس کا دائرہ کار واضح کیا ہے۔ علاوہ ازیں نصوص شریعت کی تبدیلی کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں اسلامی اصول تحقیق کی روشنی میں ان کاتحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ حافظ صاحب نے تبدیلی حالات سے متعلق عرب علما کے نقطہ نظر کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 3 #1131

    مصنف : مرزا عمران حیدر

    مشاہدات : 18684

    احادیث میں تعارض رفع کرنے کے اصول۔مقالہ ایم فل

    (جمعرات 16 فروری 2012ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    قرآن مقدس کے بعد احادیث نبویہ دین اسلام کا دوسرامعتبر ذریعہ ہے ۔دین اسلام  کے یہ دو اصل بڑے ماخذ ہیں ، اس اہمیت کے پیش نظر صحابہ کرام  ،تابعین و تبع تابعین اور علماء و محدثین جیسے قرآن حکیم کو سینوں میں محفوظ کیا ،اسی طرح ذخیرہ حدیث کوحفظ وتحریر اوردرس و تدریس کے ذریعہ محفوظ و مامون بنایا اور قبول حدیث کے ایسے حتمی اور معتبر اصول وضع  کیے کہ احادیث نبویہ میں اختراع اوروضع احادیث کا خاتمہ ہوگیا ۔پھر علما و محدثین نے فقہ و اجتہاد سے شرعی مسائل مستنبط کیے اور کتاب وسنت کے دلائل سے مسائل اخذ کرنے کے قواعد و ضوابط وضع کیے ،جن کی راہنمائی سے اصل مسئلہ تک رسائی ممکن ہوئی اور علمائے سلف کی ان کاوشوں سے تاویلات وتحریفات اور احادیث نبویہ میں تشکیکات پیدا کرنے والوں کےاہداف متاثر ہوئے اور ایسے فتنہ گروں کو ہر دور میں سخت پسپائی اورندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ان متجددین کا اصل ہدف احادیث میں شکوک و شبہات پیداکر کے دین کے اس  دوسرے بڑے ماخذ کو بے اثر کر کے اپنی من مانی تاویلات اور فکری کجی کو ایک باقاعدہ دین کی شکل دینا تھا ۔لیکن نہ یہ بازیگر اپنی اس مہم جوئی میں ماضی میں کامیاب ہوسکے اورنہ یہ حال  واستقبال میں کبھی سرخرو ہوں گے ،کیونکہ دین کی حفاظت کاذمہ خود اللہ مالک الملک نے اپنے ذمہ لیا ہے ۔لہذا ان فتنہ گروں کو سوائے ذلت و رسوائی اور ہزیمت وشکست  کے کچھ نہ ملے گا ۔منکرین احادیث نے احادیث رسول میں کئی طرح سے تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی،ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ احادیث اس حوالہ سے غیر معتبر ہیں کہ ان میں اختلاف پایا جات ہے اورایک ہی معنی کئی متضاد مفہوم کی احادیث پائی جاتی ہیں ۔اس اعتراض کا سبب ان کی علمی کم مائیگی ،جہالت اور حدیث دشمنی کا شاخسانہ ہے ۔ورنہ مفاہیم و مطالب میں اختلاف تو قرآنی آیات میں بھی موجو د ہے کہ فقط اختلاف مفاہیم کی وجہ سے کلام الہٰی کو غیر معتبر قرار دیا جاسکتاہے،اس عقلی موشگفی کو ماننے کے لیے اپنے یہ کرم فرما بھی تیار نہیں ۔پھر مختلف احادیث کو حل اور جمع کرنے کے باقاعدہ قواعد و ضوابط اور کتب موجود ہیں ،جن سے اس تعارض کا حل ممکن ہے ۔تعارض احادیث کو رفع کرنے کے بارے میں زیرنظر مقالہ ایک اچھی کاوش اور منکرین حدیث کے تعارض حدیث کے اعتراض کابہترین تریاق بھی۔(ف۔ر)
     

  • 4 #1941

    مصنف : عاصم نعیم

    مشاہدات : 4659

    تیسیرالقرآن از مولانا عبد الرحمٰن کیلانی کا تعارف

    (جمعہ 14 مارچ 2014ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    مولانا عبد الرحمن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے ۔کتب  کے  علاوہ ان  کے  بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات   ملک کے   معروف   علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان  الحدیث ، سہ ماہی  منہاج لاہور وغیرہ )  میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔مولانا کیلانی نےفوج کی  سرکاری  ملازمت سے استعفی کے بعد کتابت کو بطورِ پیشہ اختیار کیا۔ آپ عربی ،اردو کے بڑے  عمدہ کاتب تھے۔١٩٤٧ء سے ١٩٦٥ء تک اردو کتابت کی اور اس وقت کے سب سے بہتر ادارے ، فیروز سنز سے منسلک رہے ۔١٩٦٥ء میں قرآن مجید کی کتابت شروع کی اور تاج کمپنی کے لئے کام کرتے رہے ۔تقریباپچاس  قرآن  کریم  کی  انہوں  نے  کتابت کی ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ١٩٧٢ء میں حج کرنے گئے تو مکی سورتوں کی کتابت باب بلال(مسجد حرام ) میں بیٹھ کر اور مدنی سورتوں کی کتابت مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چبوترہ پر بیٹھ کر کی ۔یہ  وہی  قرآن  کریم ہے  جو  پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے  ان  کے مانوس رسم الخط میں سعودی حکومت نے حمائل سائز میں چھاپا اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں  چھپتا او رفری تقسیم ہوتا ہے یعنی  پاکستان اور سعودی عرب میں  مروجہ  رسم قرآنی میں  سب سے زیادہ چھپنے والے قرآن کی کتابت  کی سعادت بھی  آپ کو  حاصل ہے ۔ تفسیر’ تیسیر  القرآن ‘میں قرآن مجید کی اسی بابرکت کتابت کو ہی بطور متنِ قرآن شائع کیا گیا ہے کتابت کے سلسلہ میں موصوف نے   خاندان کے بہت سے لوگوں کو کتابت سکھا  کر باعزت رورگار  پر  لگایا۔١٩٨٠ء کے بعد جب انہیں فکر معاش سے قدرے آزادی نصیب ہوئی تو تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ ہوئے ۔اس میدان میں بھی ماشاء اللہ علماء ومصنفین حضرات کی صف میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہوئے  تقریبا 15  کتب تصنیف کرنے کے  علاوہ  ’سبل السلام شرح بلوغ المرام ‘ اور  امام شاطبی کی  کتاب ’الموافقات ‘کا ترجمہ بھی کیا۔ دو دفعہ قومی سیرت کانفرنس میں مقالہ پیش کر کے  صدارتی ایوارڈ حاصل کیا۔آخری عمر میں تفسیر تیسیر القرآن لکھ رہے تھے  اور انکی خواہش تھی کہ ا سکوخود طبع کروائیں مگر عمر نے وفانہ کی١٨دسمبر١٩٩٥ء کو باجماعت نمازِ عشاء ادا کرتے ہوئے حالتِ سجدہ میں اپنے  خالق حقیقی جا ملے ۔ان کا ایک  اورعلمی ودینی  کارنامہ ’’مدرسہ تدریس القرآن والحدیث للبنات‘‘ لاہو ر ہے  اس  ادارے سےسیکڑوں کی تعداد میں  لڑکیاں دینی علوم سے آراستہ ہوچکی  ہیں ۔مولانا کیلانی  کا ادارہ محدث ،لاہور کے ساتھ ایک  خاص تعلق تھا موصوف مدیر اعلیٰ محدث ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی کےسسر جبکہ ڈاکٹر حافظ حسن مدنی وڈاکٹر حافظ  انس نضر  کے  نانا  تھے ۔مولانا کیلانی  کا  تفصیلی تعارف اور ان کی حیات وخدمات کے لیے ماہنامہ محدث جنوری،جولائی1996ء اور ماہنامہ مطلع الفجردسمبر 1997 کا    ملاحظہ فرمائیں۔زیر نظر  مضمون  ’’ تیسیرالقرآن از  مولانا عبد الرحمن کیلانی  تفسیر بالماثور کا ایک عمدہ نمونہ ‘‘  محتر م   عاصم  نعیم  (لیکچر ر ،شعبہ علوم اسلامیہ ،جامعہ پنجاب  )کی  کاوش ہے  جس میں  انہوں  نے  مولانا کیلانی کا    مختصر  تعارف  پیش  کرنے کے بعد   تفسیر تیسیر  القرآن  کا تعارف اور اس تفسیر کے امتیازات  ومنہج کو   بیان کیا ہے ۔ یہ تفسیر ٤ جلدوں میں ہے اس تفسیر نے   چند ہی سالوں میں دوسری متداول تفاسیر میں اپنی امتیازی حیثیت کو تسلیم کروالیا ہے ۔یہ تفسیر علمائے  سلف کے  تفسیری انداز پر تصنیف کی  گئی اور گزشتہ تفاسیر ماثور ورائے کی جامع تفسیر ہے  اس میں مصنف نے  تفسیر قرآن بالقرآن،صحاح ستہ کی  احادیث ،اقوال صحابہ  وتابعین کو بنیاد بنایا ہے ۔اختلافی  اور فروعی مسائل میں نقلی  عقلی دلائل سے دو ٹوک او رواضح موقف اختیار کیا ہے  اور اس میں منکرین حدیث  کے  استدلالات کی خوب تردید او ر جدید مغرب زدہ طبقات کےاعتراضات پر بھی پوری توجہ مرکوز کی  گئی ہے۔سود،لین دین،تجارت کی غیرشرعی اقسام،تعددِازواج،لونڈیوں اور غلاموں کے مسائل کو خاص طور پر مرکز بحث بنایا گیا ہےاور اسی طرح  بعض آیات کریمہ کاجدید سائنسی تحقیقات کے ساتھ تقابل کیا گیا ہے ۔ اس تفسیر کی اضافی خوبی یہ ہے کہ حاشیہ میں ذیلی سرخیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  مرحوم  کے  درجات  بلند فرمائے  اور ا ن  کی مرقد پر   اپنی  رحمتوں کا نزول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • 5 #2454

    مصنف : ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

    مشاہدات : 3562

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدالتی فیصلے ( مقالہ )

    (بدھ 24 ستمبر 2014ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام ﷢کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   اہم  کتاب امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘ ہے  ۔ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے جامعہ ازہر ،مصر میں اس  کتاب کی تحقیق پر پی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ادارہ معارف اسلامی ،لاہور نے اسکا  اردو ترجمہ کرواکر شائع کیا۔اورپندرہ سال قبل حافظ  عبد الرحمن مدنی ﷾ نےمجلس التحقیق الاسلامی،لاہور  کے تحت الموسوعۃ القضائیۃ (اسلامی عدالتوں کے فیصلوں پر مبنی انسائیکلو پیڈیا)  کے سلسلے میں  کام کا آغازکیاجوکہ ابھی جاری ہے ۔اور  چند سال  قبل  شیخ ڈاکٹرارکی  نور محمد  نے  صحابہ کرام ﷢ کے  کتب ِحدیث وفقہ اورکتب سیر وتاریخ  میں  منتشر  اور  بکھرے  ہوئے فیصلہ جات کو   ’’اقضیۃ الخلفاء الراشدین ‘‘کے  نام سے جمع کرکے  جامعہ اسلامیہ ،مدینہ منور ہ  سے پی ایچ ڈی کی ڈگری  حاصل  کی ۔ اشاعت کتب کے عالمی ادارے دارالسلام نے نےاسے  دو جلدوں میں شائع کیا ۔زیر نظرمقالہ ’’نبی کریم  ﷺ عدالتی فیصلے ‘‘ڈاکٹر حافظ حسن  مدنی ﷾(مدیر  ماہنامہ محدث،لاہور)  کا در اصل وہ  تحقیقی مقالہ ہے جسے  انہوں نے   پنجاب یونیورسٹی میں  پی ایچ ڈی  کے لیے پیش کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری  حاصل کی ۔موصوف نے اس مقالہ میں  986 فیصلوں کو مستند ذرائع سےجمع کر کے  جدید قانونی ترتیب کے مطابق  اس  طر ح پیش کیا  کہ  موصوف  کے  اس  کا  م کو اس موضوع  پر کئے گئے  تمام تحقیقی کاموں میں   انفرادی اور امتیازی حیثیت حاصل ہے۔اوراس مقالہ میں ایک اہم پہلو  یہ ہے کہ  موصوف  نے  اپنے  مقالہ کو  یونیورسٹی میں  پیش کرتے وقت  فیصلوں کی  کمپیوٹرائزیشن   کی  اور ایک  ایسا   سوفٹ  وئیر  تیار کیا   جو  نہ صرف سی ڈی  بلکہ انٹرنیٹ پر بھی  آن لائن کام کرسکتا ہے۔اس سافٹ وئیر میں  موضوع  کے اعتبار سے  نمبر کے  لحاظ سے یا کسی بھی لفظ کے ذریعے  مطلوبہ  مقام تک رسائی  ہوسکتی ہے اور کسی بھی فیصلے کوتلاش کرکے  اس کو پرنٹ کیا  جاسکتا ہے۔ مقالہ نگار  ڈاکٹر حافظ حسن  مدنی ﷾ محتر  م  جناب  ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ (مدیر اعلی ماہنامہ محدث ، بانی و مدیر  جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور )کے صاحبزادے  ہیں۔ موصوف   ڈاکٹر  حسن مدنی  صاحب تکمیل حفظ کے بعد  درس نظامی کے لیے  جامعہ لاہور میں داخل  ہوئے۔درس نظامی کے ساتھ  ساتھ عصری تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ 1992ء میں جامعہ لاہورالاسلامیہ  سے  فراغت  کے بعد   جامعہ تدریس  اور مجلس التحقیق الاسلامی اور ماہنامہ  محدث سے منسلق ہوگے ۔کئی  سال مجلس التحقیق اسلامی  کے ناظم کی حیثیت سے  اپنے  فرائض انجام دیتے رہے اس  دوران انہوں نے   تقریبا ایک درجن کتب  شائع کیں۔جن کو اہل علم او ر  عوام الناس میں  قبولِ عام حاصل  ہوا ۔اس  کے ساتھ ساتھ  آپ  طلباء جامعہ  کے لیے  قائم  کے گے ’’لاہورانسٹی ٹیوٹ فار کمپیوٹر سائنسز‘‘کے  پرنسپل  بھی رہے۔اس کے علاوہ آپ نے  جامعہ سے   فراغت کے بعد   ماہنامہ محدث میں   معاون مدیرِ محدث   کے   طور  پر کام کا آغاز کیا  اور فروری 2001 سے  بطور مدیر  محدث  خدمات سرانجام دے رے ہیں ۔اور تقربیا  8سال سے  جامعہ لاہور الاسلامیہ(رحمانیہ) کے  مدیر التعلیم اور اس  کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں علوم اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کی دینی  وتحقیقی صحافی خدمات کے  اعتراف میں انہیں کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے 'دار السلام انٹرنیشنل' کے زیر اہتمام قائم ہونے والی اہل علم وقلم کی تنظیم 'اہل حدیث رائٹرز فورم' کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ آپ  نے  اپنی ادارت میں ماہنامہ محدث کے خاص نمبرز( فتنہ انکار حدیث نمبر،اصلاحی نظریات پر اشاعت خاص ، تصویر نمبر، امامت  زن نمبر،اشاعت  خاص مسئلہ توہین رسالت ،تہذیب وثقافت پر خصوصی اشاعت ،تحریک  نسواں پر اشاعت خاص،اشاعت خاص بر المیہ سوات وغیرہ  )  کے  علاوہ  پر ویزیت  اور غامدیت  کے رد   میں  قیمتی مضامین شائع کیے  اور کئی کرنٹ موضوعات  پر    آپ نے  بڑے ہی  اہم   اداریے  اور مضامین تحریر کیے   بالخصوص  مشرف  دور  میں   حدودآرڈیننس  اور حقوق نسواں بل پر آپ  کی  تحریری  کاوشیں انتہائی لائق تحسین ہیں۔اور آپ دینی  مدارس کی تعلیم  وترقی  کے حوالے سے  بڑے فکر مند  ہیں اس حوالے   آپ کئی مقالات لکھ چکے  ہیں۔  ماہنامہ محدث کے معروف کالم نگار  محترم عطاء اللہ صدیقی﷫ سے    قیمتی مضمون لکھوا کر شائع کرنا بھی آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔اور موصوف کئی   قومی وبین الاقوامی کانفرنسز میں  مختلف موضوعات پر تحقیقی  مقالات بھی  پیش کرچکے  ہیں ۔اللہ تعالیٰ موصو ف   کےعلم وعمل ان کی دینی وتعلیمی  اور صحافتی خدمات میں اضافہ فرمائے ۔ اور محدث کی 45 سالہ   علمی وتحقیقی  روایت  کو تسلسل  کے ساتھ باقی رکھنے کی توفیق  عنائت فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 6 #5553

    مصنف : قاری محمد یونس ایم اے

    مشاہدات : 954

    مالدیپ کی خضارۃ اورادب پر اسلام کے اثرات (پی ایچ ڈی مقالہ)

    (جمعرات 08 جون 2017ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    ایک اسلامی ملک ہے اور ہمیشہ نامور سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ جمہوریہ مالدیپ ،چھوٹے بڑے تیرہ سو جزائر پر مشتمل بحرہند کے اندر ایک اسلامی ریاست ہے۔سمندر کے اندرپانچ سو دس (510)میل لمبا شمال سے جنوب اور اسی (80)میل چوڑا مشرق سے مغرب اس ملک کا کل رقبہ ہے۔ مالی یہاں کا دارالحکومت ہے جو سری لنکا سے جنوب مغرب میں چارسو (400)میل کے فاصلے پر بنتاہے۔ دار الحکومت ہونے باعث حکومت کے مرکزی دفاتر،اعلی عدالتیں اور تعلیم کے بہترین ادارے یہاں موجود ہیں۔ مالدیپ کے ان جزائر میں چھوٹے بڑے پہاڑی سلسلے بھی چلتے ہیں لیکن پھر بھی یہ جزائر سمندر کے برابر یا معمولی سے بلند ہیں اورکوئی جزیرہ بھی سطح سمندر سے چھ فٹ سے زیادہ اونچا نہیں ہے۔مون سون ہوائیں یہاں پر بارش کا سبب بنتی ہیں اور بارش کی سالانہ اوسط چوراسی(84) انچ تک ہی ہے جبکہ سالانہ اوسط درجہ حرارت 24سے 30ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے، گویا یہ ایک معتدل آب و ہوا کا بہترین قدرتی خطہ ہے۔ بعض جزائر ریتلے ساحلوں پر مشتمل ہیں اور ان میں پام کے درخت اور صحرائی جھاڑیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہاں مچھلی بکثرت کھائی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مالدیپ کی حضارۃ اور ادب پر اسلام کے اثرات "محترم قاری محمد یونس صاحب کی کاوش ہے، جو انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر تیار کی۔ صاحب مقالہ چونکہ ایک عرصہ تک دینی خدمات کے سلسلے میں مالدیپ میں مقیم رہے، لہذا انہوں نے اسی موضوع کا انتخاب کیا۔ ( راسخ)

  • 7 #5902

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت

    مشاہدات : 1072

    ارمغان علامہ علاؤ الدین صدیقی

    (پیر 04 دسمبر 2017ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام علامہ علاؤ الدین صدیقی صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص علامہ علاؤ الدین صدیقی کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان علامہ علاؤ الدین صدیقی ‘‘پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 8 #5903

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت

    مشاہدات : 1279

    ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار

    (پیر 04 دسمبر 2017ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام پروفیسر حافظ احمد یار صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص پروفیسر حافظ احمد یار کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان پروفیسر حافظ احمد یار ‘‘پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾ اور پروفیسر ڈاکٹر محمد سعد صدیقی﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ دونوں کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 9 #5904

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمود اختر

    مشاہدات : 1062

    ارمغان پروفیسر ملک محمد اسلم

    (اتوار 03 دسمبر 2017ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    بلاشبہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔ رب ذوالجلال نے اسے دوسری مخلوقات پر یہ فوقیت علم کی بنا پر عطا کی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا اور زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ اُس کے خاص بندے اسی قلم کے اور کائنات کے مشاہدے کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ کرتے اور اسے آگے بڑھاتے ہیں۔ اللہ کے ایسے ہی خاص بندوں میں سے ایک نام پروفیسر ملک محمد اسلم صاحب کا ہے جنہوں نے علم کے سمندر میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا اور اسی علم کے بحرِ بے کراں بن کر اس کے دامن کو وسیع اور تشنگانِ علم کو سیراب کیا۔ اپنے اسلاف اور خصوصاً اہل علم اسلاف کو یادرکھنا‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص ملک محمد اسلم کے حالات پر مشتمل ہے اس میں ان کے مقالات کو   جدید تحقیق کے اصولوں کی روشنی میں جانچا  گیا ہے اور حتی الامکان یہ بات بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ یہ  مقالات اس سے قبل کہیں طبع نہ ہوئے ہوں اس طرح اس ارمغان میں شامل ہونے والے مضامین اپنی حیثیت میں تحقیقی مقالات ہیں اور ارمغان کے اس نمبر کا بنیادی مقصد ’’برصغیر میں خدمات حدیث‘‘ ہے۔اور یہ کتاب نہایت محنت اور خلوص سے لکھی گئی ہے۔ اسلوب نہایت عمدہ اور شاندار اپنایا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ ارمغان پروفیسر ملک محمد اسلم ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر﷾ اور پروفیسر ڈاکٹر جمیلہ شوکت﷾  کی مرتب کردہ ہے اور ان کی  عظیم کاوش ہے ۔ اس کتاب کے علاوہ آپ دونوں کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 10 #6546

    مصنف : حافظ محمد اکرام ( محدث لائبریری )

    مشاہدات : 2225

    مباحث توحید جواہر القرآن اور تبیان الفرقان کا تقابلی مطالعہ ( مقالہ ایم فل )

    (بدھ 29 اگست 2018ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    اخروی  نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی  ہے  جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے  مشرکوں کے لیے  وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے  چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا  ایک مسلمان کے لیے ضروری  ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت  نوح ﷤ نے ساڑھے نوسوسال کلمۂ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ  توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م ﷢ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں  علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے  دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ  سلسلہ جاری  وساری ہے۔زیر تبصرہ تحقیقی مقالہ بعنوان’’ مباحث توحید جواہر القرآن اور تبیان  الفرقان کا تقابلی مطالعہ ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ مقالہ   حافظ محمد اکرام  صاحب کا    وہ تحقیقی   مقالہ  ہے جسے  انہوں  نے شعبہ علوم  اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی میں اسی  سال (  2017ء) میں  پیش کر کے  ایم  فل کی ڈگری  حاصل کی۔مقالہ نگار نے یہ تحقیقی مقالہ پروفیسر ڈاکٹر محمد حمادلکھوی ﷾ کی نگرانی میں مکمل کیا  ہے ۔یہ  تحقیقی مقالہ  مقدمہ اور تین ابواب پر مشتمل ہے۔ان تین   ابواب کے  عنوانات  حسب ذیل ہیں ۔ باب اول: زیر مطالعہ کتب وتفاسیر ومصنفین کا تعارف ۔ باب دوم : قرآنی دلائل توحید اورمنتخب تفاسیر۔باب سوم: تردید شرک اور قرآنی دلائل۔مقالہ نگار نے  یہ مقالہ مکمل  تحقیق او رمحنت سے تیار کیا ہے ۔مقالہ نگار نے اپنے اس  تحقیقی مقالہ میں  مقاصد تحقیق کو کما حقہ استعمال کرتے ہوئے تصور توحید  سے کامل  اگاہی  کو واضح کیا ہے ۔ توحید کے فوائد اور شرک کے نقصانات ،اقسام توحید کو بیان کیا ہے ۔نیز دونوں تفاسیر کے منہج واسلوب  کابھی جائزہ لیا ہے ۔مقالہ نگار نے درس نظامی  کی تعلیم جامعہ لاہور  الاسلامیہ ،لاہور  سے حاصل  کر  کے سند فراغت حاصل کی۔درس نظامی کی تعلیم  کے ددران  پنجاب یونیورسٹی سے  بی  اے  اور ماسٹر کیا۔ جامعہ سے فراغت کے بعد  اسلامک ریسرچ کونسل ،لاہور سے منسلک ہو گئے  اسی دوران  پنجاب یونیورسٹی سے ایم فل کی  تعلیم مکمل کی  اللہ  تعالیٰ انہیں  ڈاکٹر بھی بنادے  اور ان کی اس  تحقیقی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1601
  • اس ہفتے کے قارئین 13298
  • اس ماہ کے قارئین 51692
  • کل قارئین49416777

موضوعاتی فہرست