#6622

مصنف : یاسر فاروق

مشاہدات : 3283

علل اسناد و متون کے اختلاف فقہاء پر اثرات ( مقالہ ایم فل )

  • صفحات: 248
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 6200 (PKR)
(اتوار 01 اپریل 2018ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

سنت سے استدلال واستنباط میں کئی عوارض اور عوامل ایسے پیش آئے جن سے مختلف مذاہبِ فقہیہ کو وجود ملا۔مثال کے طور پر ایک امام یا فقیہ کے ہاں دورانِ استدلال سامنے آنے والی حدیث میں کوئی مخفی سبب ہوتا ہےجو کسی دوسرے کے سامنے نہیں ہوتا۔لہٰذااستدلال میں اختلاف آجاتا ہے۔اسی طرح بسااوقات کسی فقیہ کے سامنے کسی خاص مسئلہ میں حدیث صحیح ہوتی ہے جبکہ اس کے بالمقابل دوسرے کے پاس ضعیف،جس سےاستدلال میں تنوّع آجاتا ہے۔یہ سب مصنوعی عوامل و اسباب ہیں جن پر فقہی مذاہب کی بنیاد پڑی۔ان کا تذکرہ اور ان جیسے دیگر عوامل کا استقصاء کرتے ہوئے علماء نے مستقل تصانیف لکھیں۔اسی طرح کے اسباب جن کی بنا پر فقہاء کے مذاہب مختلف ہوئے ہیں اور ان کے اسالیبِ اجتہاد میں تنوّع پیدا ہوا ہے وہ احادیث میں موجود ’علل‘ہیں اور یہ جن احادیث میں پائی جاتی ہیں ان کو ’معلّل‘کہا جاتا ہے۔لغوی اعتبار سے ’معلّل‘، أعلّ کا اسم مفعول ہے۔ حدیث کے ماہرین کی نزدیک لفظ معلل کا استعمال غیر مشہور معنی میں ہے اور وہ ہے کمزور اور مسترد کیا ہوا۔ اصطلاحی مفہوم میں یہ اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں کسی پوشیدہ خامی کی وجہ سے اس کا صحیح ہونا مشکوک ہو گیا ہو اگرچہ بظاہر وہ حدیث صحیح لگ رہی ہو۔ اگر کسی حدیث کے راوی پر ‘وہمی‘ ہونے کا الزام ہو تو اس کی حدیث معلل ہو جاتی ہے۔جبکہ ’’علل‘ ‘ جس کی مفرد علت ہے، ایسی پوشیدہ خامی کو کہتے ہیں جس کے نتیجے میں حدیث کے صحیح ہونے پر اعتراض کیا جا سکے۔ حدیث کے ماہرین کے نزدیک ‘علت‘ کی دو لازمی خصوصیات ہیں: ایک تو اس کا پوشیدہ ہونا اور دوسرے اس کے نتیجے میں حدیث کی صحت کا مشکوک ہو جانا۔اگر ان دونوں میں سے ایک بھی شرط نہ پائی جائے تو حدیث کے ماہرین کی اصطلاح میں اسے علت نہ کہا جائے گا۔ مثلاً اگر حدیث میں کوئی خامی ہے لیکن وہ ظاہر ہے، پوشیدہ نہیں ہے یا خامی تو پوشیدہ ہے لیکن اس سے حدیث کی صحت مشکوک نہیں ہوتی تو اس صورت میں اس خامی کو علت نہیں کہا جائے گا۔ علل حدیث کو جاننے کا علم، علوم حدیث میں مشکل ترین ہے اور اس کا درجہ دیگر علوم سے بلند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علم کے ذریعے احادیث میں پوشیدہ خامیوں کو تلاش کیا جاتا ہے جو کہ سوائے علوم حدیث کے ماہرین کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اس علم کے ماہرین کے لئے اعلی درجے کا حافظہ، معلومات اور دقت نظر درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس میدان میں سوائے چند قلیل ماہرین جیسے ابن مدینی، احمد، بخاری،ابن ابی حاتم اور دارقطنی رحمھم اللہ کے علاوہ کسی نے قدم نہیں رکھا۔ ’’علل‘‘کی پہچان ایک بہت ہی دقیق اور خالص علمی وتحقیقی نوعیت کا کام ہے۔جس کی معرفت نہایت راسخ العلم اور اسماءرجال سے گہری واقفیت کے حامل علماء ومحدثین ہی رکھتے ہیں۔اس لیےکہ روایات میں موجود مخفی اسباب کا علم اس وقت تک نہیں ہوسکتاجب تک کہ حدیث کے متون اور اسناد نیز روات کے احوال وآثار پر کامل دسترس اور عبور نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس علم میں کبار اورمشاہیر کے علاوہ کسی نے قلم نہیں اٹھایا۔ان کی کتب اس علم میں انتہائی جامعیت اور معنویت ومانعیت کی حامل ہیں۔تاہم ان سے استفادہ ہرکس وناکس کے بس میں نہیں۔لہٰذا ان سے استفادہ کی غرض جو کہ بعد ازاں عوامّ کے لیے بھی مفید ہو اس موضوع کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کردینے والاامر ہے۔زیرِ نظر مقالہ ایم فل علومِ اسلامیہ کی سند کے حصول کے لیے پیش کیا گیا ہے ،جس میں محقق نے نہایت ہی جانفشانی اور عرق ریزی سے علم عللِ احادیث کو موضوع بناکرفقہ اسلامی پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا ہے۔اس مقالے کا عنوان ’’عللِ اسنادومتون کے اختلافِ فقہاء پر اثرات‘‘ہے،جودرج ذیل اعتبارات سے اہمیت کاحامل ہے: موضوع ھٰذا فقہ ِاسلامی میں فقہاء کے اسالیبِ اجتہادکی ’’علم علل الحدیث‘‘کی روشنی میں تفہیم کا ذریعہ ہے،’’علم علل الحدیث‘‘کااختصاصی مطالعہ اس تحقیق میں حاصل ہوتا ہے،حدیث وفقہ میں فقہاء ومحدثین کےاجتہادی ومستنبط احکامات ومسائل کی بنیادیں واضح ہوتی ہیں،ان اصول وقوانین کا ادراک ہوتا ہے جن پر چلتے ہوئے محدثین نے عللِ احادیث پر اطلاع پائی اور فقہاء نے ان کی رعایت رکھتے ہوئے اپنے اپنے استدلالات پیش کیے۔اورسب سے اہم بات یہ ہے کہ امت کے لیے فقہاء کے ان علل کی بنیاد پراختلافات جو کہ اجتہادی ہیں،ان میں وسعت کا پہلو سامنے آتا ہے۔مسائل واحکام کے استنباط میں فقہاء نے جب اختلاف کیا تو درحقیقت یہ ترجیح وعدمِ ترجیح کی صورتیں ہیں،جن میں بہرحال گنجائش موجود ہے کہ دلائل کی بنیاد پر کوئی بھی موقف راجح قرار دیا جاسکتا ہے۔ حافظ محمد اکرام

مضامین

صفحہ نمبر

انتساب

 

اظہارِ تشکر

 

مقدمہ

I-VII

فہرستِ مضامین

VIII-XVII

باب اول علتِ حدیث،معنیٰ ومفہوم –اصول ومبادیات

1

فصل اول علت ِحدیث،معنی ومفہوم اور علمِ عللِ حدیث  کی اہمیت

2

علت کا لغوی واصطلاحی معنیٰ

3

’’علت ‘‘لغوی معنیٰ

3

اول ؛تکرار

3

دوم؛العائق

3

سوم؛المرض

4

علت والی حدیث کا نام

4

علت کااصطلاحی معنیٰ

6

خلاصہ

9

معلّل کی امثلہ

10

انقطاع کی مثال

10

اختلافِ سماع کی مثال

10

علم عِلَل ِحدیث کی اہمیت

12

(۱)حددرجہ دقیق اور مخفی علم

12

(۲)گہری بصیرت کا متقاضی

13

(۳)حدیث نبوی کا خادم علم

14

(۴)ثقات کے اوہام کی توضیح

15

(۵)مجرد روایت پر تفوّق

15

(۶)ہرحدیث میں منفرد ضابطہ

16

تنبیہ

16

فصل دوم علت ِحدیث،اسباب واقسام

17

علت کے اسباب

18

(۱)ضعفِ بشری

18

(۲)ضبط کا خفیف ہونا

20

(ا (  تغیّر حفظ جو خاص شہر یا راوی میں ہو

20

(ب)بصارت کی کمزوری

21

(ج) کم عمری

21

(د) کبرسنّی اور بڑھاپا

22

(ھ)عبادت ،تجارت یاعہدۂ قضاء میں مشغولیت

22

(۳)اختلاط

24

 (۴)تصحیف اور تحریف

25

(۵)انتقالِ نظر

26

(۶)تلقین قبول کرنا 

26

(۷)حد سے زیادہ ورع اور روایت سے بچنا 

27

(۸)روایت بالمعنیٰ یااختصار 

28

(۹)اسنادومتون کا باہم مشابہ ومقارب ہونا 

29

(۱۰)قصرِصحبت

30

(۱۱)جمعِ شیوخ 

31

(۱۲)تفرّدراوی 

32

(۱۳)تدلیس 

32

اقسامِ علت

34

(۱)سند کی وہ علت جو مطلقاً باعثِ قدح نہیں 

34

(۲)سند کی وہ علت جو محض سند میں قادح ہو

34

(۳)سندومتن میں قادح علت 

35

(۴)متن کی وہ علت جو سند ومتن دونوں میں قادح نہ ہو 

35

(۵)متن کی وہ علت جو محض متن میں ہی قدح کاباعث ہو 

35

مختلف فیہ صورت

36

فصل سوم:علت حدیث ،کشف ورفع کے ذرائع او ر وسائل

37

کشفِ علت کے ذرائع

38

علت کی پہچان 

38

(۱)مرکزی روات تک رسائی 

38

(۲)روات کےاحوال کی معرفت

39

اول :   روات کی وفیات وموالید کی معرفت

39

دوم :روات کے اسماء ،کنیتیں ،پیشے ،شہروں کے نام،قبائل کے نام اور تخلصات کی معرفت

39

سوم :معرفتِ شیوخ وتلامذہ

40

چہارم:  روات کے درجات،مراتب اور ان کے ضبط کی معرفت

40

پنجم :ثقات میں سے معروف بالتدلیس کی حقیقت اور ان کی تدلیس کی نوعیت کا علم

40

ششم :روات کے اعتقادی میلانات ورجحانات اور ان کے مذہبی احوال کا علم ہونا

41

ہفتم :روات میں سے سابق اور لاحق کی معرفت

41

ہشتم :روات کے اوطان کی معرفت

42

(۳)ایک باب کی روایات کا استقصاء

42

(۴)مدارسِ حدیثیہ سے  تعارف 

43

(۵)غیرثابت اسانید کو جاننا 

44

(۶)راوی کے خاندانی احوال کی معرفت 

44

(۷)موضوعات و اباطیل کی معرفت 

45

(۸)اہلِ علم کی تصانیف پراستحضار 

45

(۹)غیر ثابت مسائل کا علم 

46

رفعِ علت کے وسائل

47

(۱)علتِ ظاہرہ کے رفع کا منہج 

48

(۲)علتِ  خفیہ کی نوعیت اور رفع  

49

باب دوم:عللِ اسناد با عتبار روات   میں طعن کےاختلافِ فقہاء پر  اثرات

51

تمہید/ اہمیت اسناد

52

’’سند‘‘یا ’’اسناد‘‘ کی تعریف

52

سند کی اصطلاحی تعریف

53

سند کی اہمیت

54

فصلِ اول:راوی کی عدالت میں علتِ طعن کے اختلافِ فقہاء پر اثرات

57

راوی کی عدالت میں علتِ طعن  کے اختلافِ فقہاء پر اثرات

58

عدالت کو لازم امور

58

راوی کے کذّاب یا متّہم با لکذب ہونے کے اختلافِ فقہاء پر اثرات

60

کذب

60

مو ضوع روایت کاحکم

60

کذاب کا حکم

61

مو ضوع روایت کی پہچان

62

کذب یا اتہام کے اختلاف فقہاء پر اثر  کی مثال

63

راوی کے بدعتی ہونےکے اختلافِ فقہاء پراثر ات

66

بدعت کی تعریف

66

قسم اول 

68

قسم ثانی

68

مبتدع کی روایت کے اختلاف فقہاء پر اثر کی مثال

69

راوی کی جہالت  کے اختلافِ فقہاء پر اثرات

70

 جہا لت کی تعر یف 

70

 جہا لت کے اسباب

70

(۱)راوی کا کثیر الاوصاف ہونا

71

(۲)راوی کا قلیل الروایت ہو نا 

71

(۳)راوی کے نا م کی صراحت نہ ہونا 

71

مجہو ل کی انواع

72

(۱)مجہول العین

72

(۲)مجہول الحال 

72

(۳)مبہم

73

مجہول راوی کی حدیث کےاختلافِ فقہاء پر اثر  کی مثال

74

صحابی کا مبہم ہونا اور اس کے اختلافِ فقہاء پراثرات

76

صحابی کا مبہم ہونا-  مثال اوراس کےاختلاف پر اثرات

78

اس مصنف کی دیگر تصانیف

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2273
  • اس ہفتے کے قارئین 16417
  • اس ماہ کے قارئین 12007
  • کل قارئین57999494

موضوعاتی فہرست