قرن اول میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات و معاہدات اور عصر حاضر ( مقالہ پی ایچ ڈی )(6990#)

محمد اسلم صدیقی
شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب
358
8950 (PKR)
14.5 MB

اسلام ایک عالمی  مذہب ہے اور مذاہبِ عالم  میں یہ واحد مذہب ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ تمام معاملات میں رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم  دیتاہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر کے حکمرانوں کے نام خط لکھے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ان حکمرانوں میں سے بعض عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔اسلام کے داعی اوّل  نبی کریم ﷺ کے دلرُبا کردار  کا نقشہ او ر آپ ﷺ کے صحابہ کرام ﷢ کاطرزعمل  اس بات کی روشن  دلیل ہے اسلامی معاشرے  میں غیر مذہب رعایا کوکیسا مقام حاصل تھا۔روز ِ اول سے ہی مبلغ اسلام رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اسلام کی ترقی اوربقا کےلیے  مختلف مذاہب کے ماننے والوں سےبرسرِپیکار ہونا پڑا ۔ مشرکین کے علاوہ جو طاقتیں اسلام کے راستے میں مزاحم ہوئیں ان میں یہودیت ونصرانیت پیش پیش تھیں۔گوکہ یہ دونوں  طاقتیں اہل ِ کتاب  تھیں لیکن عمومی طور  پر انہوں نے اسلام کی مخالفت اور کاروانِ حق کی ناؤ ڈبونے میں کوئی کسر نہ اٹھا  رکھی۔لیکن اس کے باوجو درسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب سے   جو تعلقات  قائم کیے  انہیں عہد حاضر میں   بطور نظیر  پیش کیا جاسکتاہے ۔آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے  ہوئے عملی  نمونہ پیش  کیا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نبی ﷺ نے اہل کتاب کودیگر غیر مسلموں پر فوقیت دی اورہر شعبے میں ان کے ساتھ محض اہل ِکتاب ہونے کی بنا پر دوستانہ اور ہمداردانہ رویہ اپنایا۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ ﷺ نے یہود نصاریٰ سے جو تعلقات  قائم کیے اسی نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے  خلفائے راشدین نے اہل ِ کتاب سے  مراسم قائم کیے ۔ مجموعی طور پر  رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ نے  یہود ونصاریٰ کی طرف  دوستی کاہاتھ ضرور بڑھایا اوران سے مختلف قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے  باہمی  معاہدات بھی کیے۔ مگر ان کی  اسلام دشمنی کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ ایک حد میں رہتے  ہوئے  احکام ِ الٰہیہ کی روشنی میں مختاط انداز اختیار کیا ۔ زیر نظرمقالہ بعنوان ’’ قرنِ اول میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات اور عصر حاضر ‘‘ محترم جناب محمداسلم صدیقی کا  ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ ہے  جسے انہوں نے  2002میں  شعبۂ علومِ اسلامیہ ،جامعہ پنجاب ،لاہور میں پیش کر کے پی  ایچ ڈی کی ڈگری  حاصل کی مقالہ   نگار نے اپنے اس تحقیقی مقالہ کو چھ ابواب میں  تقسیم   کیا ہے  اور اس تحقیقی مقالہ میں یہ ثابت کیا ہے کہ  اسلام ایک عالمی دین ہے اور نبی کریم ﷺ کی بعثت پورے عالم انسانیت کے لیے ہوئی ہے ۔ لہذا تمام مسلمانوں کوبھی اپنی سوچ عالمی بنا کر دنیا کے مسائل حل کرنے اور عالم انسانیت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو اپنانے کے لیے حکمت موعظہ حسنہ اور  مجادلہ احسن  سے کام لینا چاہیے ،مسلمانوں کو غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات کےلیے اسے مشعل راہ بنا کر اقوام عالم سے صحیح اسلامی روادری وسعت ظرفی اور احترام انسانیت سے بھر پور رویوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،نبی  اکرم ﷺ نے  مدنی دور میں  جو غیر مسلم اقوام سے مختلف معاہدے کیے  وہ آج عصر  حاضر میں بھی  مسلمانوں کےلیے مشعل راہ بن سکتے ہیں  نیز  خلفاء راشدین  نے  اقوام عالم سے تعلقات ومعاہدات کےلیے دور نبوی کو بنیاد بنایا تھا ان کا نمونہ بھی عالم اسلام کےلیے ایک اعلیٰ مثال او راقوام عالم کو اپنا شاندار ماضی دکھانے کےلیے ایک مثالی دور کی حیثیت رکھتا ہے ،اسلام کی تعلیمات ابدی ہیں دور نبوی اور خلفاء راشدین کے دور کی مثالیں ہمیں ہر دور کے غیر مسلموں سے احسن سلوک اور ان سے خاندانی ، سماجی اور معاشی تعلقات کی بنیادیں فراہم کرتی ہیں ۔(م ۔ا) 

عناوین

صفحہ نمبر

باب اول: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں غیر مسلم

1/58

فصل اول: غیر مسلموں کی مختلف اقسام

3

اسلام کے لغوی واصلاحی معنی

3

غیر مسلم

6

غیر مسلم جماعت کی تقسیم

10

اسلامی حکومت کی غیر مسلم اقلیتیں

11

تعلقات ومعاہدات کے حوالے سے دنیا کی تقسیم

14

فصل دوم: غیر مسلموں سے مسلمانوں کے تعلقات اور اسلامی تعلیمات

15

قرآن کی روشنی میں غیر مسلموں سے تعلقات

15

سنت نبوی کی روشنی میں غیر مسلموں سے تعلقات

23

غیر مسلوں سے تعلقات کی حدود اور حکمت

28

غیر مسلموں سے تعلقات کے بنیادی اصول

32

باب دوم: اسلام اور معاہدات

59/96

فصل اول: مسلمانوں کے باہمی معاہدات

61

معاہدات کا معنی ومفہوم

61

معاہدہ کے مترادفات

63

معاہدات کی اقسام

66

سماجی زندگی اور معاہدات

67

معاشی زندگی اور معاہدات

70

سیاسی زندگی اور معاہدات

74

فصل دوم: انسانی زندگی میں معاہدات کی اہمیت

76

معاہدات اور اسلامی زندگی

77

معاہدات کی اہمیت ازرؤئے قرآن

82

معاہدات کی اہمیت ازروئے حدیث

93/9

باب سوم: مکی دور میں مسلمانوں اور  غیر مسلموں کے تعلقات سفارتی مہمات

97/144

فصل اول: مکی دور کا پس منظر تاریخی معاشی سیاسی فکری مذہبی

97

عرب کا حدود اربعہ

99

عربی اقوام کے مختلف قبائل اور خاندان

100

فصل دوم: مکہ میں مسلمانوں کا پر امن رویہ

117

پر امن اعلانیہ دور دعوت

120

قبائل اور افراد کو حج کےموقعہ پر پر امن دعوت

128

فصل سوم: کفار کا طرز عمل اور مزاحمتی تدابیر

132

استخفاف

133

ترہیب وتشدد

136

ترغیب

138

کفار مکہ کی طرف سے سفارتی مہمات اور معاہدات کی پیش کش

140

باب چہارم: ریاست مدینہ میں غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات

145

فصل اول: مدینہ کےغیر مسلموں کا عمومی رویہ

147

یہود

147

نصاری

149

منافقین

154

فصل دوم: معاہدات

157

عقد مواخات

158

میثاق مدینہ

159

قبیلہ جہینہ سے معاہدہ

164

معاہدہ بنو ضمرہ

166

معاہدہ بواط

168

معاہدہ  بنی مدرج

169

معاہدہ بنو ضخار

169

معاہدہ اشجع

170

معاہدہ حدیبیہ

174

معاہدات بنو عریض وبنو غازیہ

186

معاہدہ فدک

187

سینٹ ایلہ ، مقنا، نجران

187

فصل سوم: غیر مسلموں کی عہد شکنی اور اس کے نتائج

190

عہد شکنی کی عمومی فضا

190

بنو قینقاع کی عہد شکنی

190

بنو نضیر کی عہد شکنی

193

بنو قریظہ کی عہد شکنی

195

یہود خیبر کی بد عہدی

199

قریش مکہ اور بنو بکر کی عہد شکنی

202

باب پنجم: عہد خلافت راشدہ اور قرن اول میں شامل اموی دور کے غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات

204/270

فصل اول: خلافت راشدہ میں غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات

206

پہلے خلیفہ راشدہ حضرت ابو بکر صدیقؓ

206

دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطابؓ

213

تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنیؓ

225

چوتھے خلیفہ راشد حضرت علیؓ

229

خلافت راشدہ میں معاہدات کی پابندی امن پسندی رواداری اور غیر مسلموں کا طرز عمل

231

فصل دوم: قرن اول کے اموی حکمران اور غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات

235

معاویہ بن ابی سفیان

236

یزید اول بن معاویہ

239

معاویہ ثانی بن یزید

242

عبد اللہ بن زبیر اور مروان بن حکم

243

عبد الملک بن مروان

245

ولید بن عبد الملک

251

سلیمان بن عبد الملک

263

عمر بن عبد العزیز

264

باب ششم: عصر حاضر میں غیر مسلموں سے تعلقات ومعاہدات اور اسلامی تعلیمات

271

فصل اول: قرآن وسنت کی روشنی میں عصر حاضر کے غیر مسلموں سے تعلقات

273

عائلی زندگی اور غیر مسلم تعلقات

274

غیر مسلم پڑوسیوں سے حسن سلوک

276

محارب قوم سے انسانی تعلقات

277

عصر حاضر کے غیر مسلموں سے معاشرتی تعلقات

278

غیر مسلموں سے کاروباری تعلقات

284

عالمی معاہدات کی شرعی حیثیت

286

فصل دوم: جدید عالمی نظام اور سا کے عالم اسلام پر اثرات

293

جدید عالمی نظام کا تعارف واپس منظر

293

مذہبی آزادی اور اسلامی اثر نفوذ کو روکنے کے اقدامات

304

پر امن بقائے باہمی پر مشتمل جدید عالمی نظام کی ضرورت

308

خلاصہ بحث

314

نتائج تحقیق

317

اشاریہ

320

مصادر ومراجع

328

فہرست آیات واحادیث

335

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1822
  • اس ہفتے کے قارئین: 8353
  • اس ماہ کے قارئین: 27646
  • کل قارئین : 47742880

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں