پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر

6 کل کتب
دکھائیں

  • 1 التحدیث فی علوم الحدیث (منگل 11 نومبر 2008ء)

    مشاہدات:19771

    یہ کتاب اصول حدیث کے موضوع پر لکھی گئی ہے اور اس میں حدیث کی فضیلت و اہمیت کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت و منصب و نبوت کے فرائض اور مخالفت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وعید اور منکرین حدیث کے اعتراضات و جوابات اور ان کے گروہ ، علم اصول حدیث اور اس کا ارتقاء، تقسیم حدیث باعتبار ناقلین، قبول و رد کے اعتبار سے حدیث کی تقسیم، تدلیس کے بارے میں بالتفصیل ذکر، مسند الیہ کےلحاظ سے احادیث کی اقسام، مشترک مابین مقبول و مردو، شرائط قبولیت راوی، باعتبار روایت حدیث کی تقسیم، اخذ حدیث کے طریقے اور جرح و تعدیل جیسے اہم مباحث شامل ہیں۔

  • 2 علوم الحدیث فنی فکری اور تاریخی جائزہ (منگل 15 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:20104

    پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر ان نابغہ روز گار ہستیوں میں سے ایک ہیں جو تشریعی اور عصری دونوں علوم میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ آپ نے گلاسکو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری امتیازی حیثیت میں حاصل کی۔ اور بہاولپور یونیوسٹی میں حدیث کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ مسند سیرت کے ڈائریکٹر ہیں۔  ’علوم الحدیث فنی، فکری اور تاریخی مطالعہ‘ اسی مرد مجاہد کے شب و روز کی محنت کا نتیجہ ہے۔ جس کا لفظ لفظ تحقیق و جستجو سے بھرپور ہے۔ ایک شارع کی حیثیت سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض منصبی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی احکامات اور اس کی جملہ جزئیات کی تشریح و توضیح کریں۔ اور  یہ تمام تر تفصیلات صرف اور صرف احادیث میں ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان نسل در نسل احادیث نبوی کی حزم و احتیاط کے ساتھ حفاظت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ حدیث کی حفاظت کا سب سے پہلے سہرا ان علمائے اصول حدیث کے سر ہے جنہوں نے حدیث کی حفاظت کے لیے بیسیوں علوم متعارف کروائے۔ زیر مطالعہ کتاب میں انہی علوم پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔   ایک استاذ حدیث ہونے کے ناطے مصنف موصوف کا احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خاص ربط و تعلق ہے اس لیے انہوں علوم الحدیث  سے متعلق تمام فنی و فکری مباحث کو قلمبندکرنے میں کسی قسم کی دقیقہ فروگزاشت سے کام نہیں لیا۔ اردو میں  اس موضوع پر اس سے پہلے بھی بہت کام ہو چکا ہے لیکن یہ کتاب اس حوالے سے انفرادی حیثیت کی حامل ہے کہ اس میں علوم الحدیث کے ہر موضوع کا مکمل احاطہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر موصوف نے حدی...

  • 3 بہائیت اور اس کے معتقدات (بدھ 25 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:16579

    انیسویں صدی میں جب کفار نے مسلم ممالک پر اپنا تسلط قائم کیا تو مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنے کے لیے مختلف قسم کی سازشیں کیں ا ن میں سے ایک یہ تھی کہ اسلام میں نئے انبیا کا ظہور دعویٰ کیا جائے اور ان جھوٹے انبیا کے ذریعے سے نئے عقائد کا پرچار کیا جائے جن میں جہاد نام کی کوئی چیز باقی نہ ہو۔ ان نظریات کے حامی برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی تھے اور ایران میں علی محمد باب اور پھر اس کی روحانی اولاد میں حسین علی مازندرانی بہاء اللہ اور اس کا بیٹا عباس عبدالبہاء آفندی پیدا ہوئے۔ ان فتنوں کےخلاف علمائے اسلام نے بہت خدمات انجام دیں اور شدو مد کے ساتھ ان کا رد پیش کیا۔ پیش نظر کتاب بھی اسی سلسلہ میں ترتیب دی گئی ہے جس میں بہائیت کے بانی بہاء اللہ کے عقائد  و نظریات پر اس کی کتابوں سے بحث کی گئی ہے اور اسلام کے نظریہ ختم نبوت اور جہاد پر مفصل کلام کیا گیا ہے اس  کے علاوہ اسلامی نظام زندگی کا خلاصہ بھی کتاب  میں شامل کیا گیاہے۔ (ع۔م)
     

  • 4 مقالات قرآن کانفرنس جلد اول (جمعرات 19 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:6592

    قرآن کریم ، اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے رسول اللہ ﷺ کے ذریعے کیا گیا آخری خطاب ہے ۔ قرآن بظاہر ایک کتاب ہے ، لیکن یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ہر ایک دل میں جلوہ فگن ہے ۔ قرآن کریم کی ہر آیت یکتا و  بے مثل ہے ، ترتیب اور شفتگی الفاظ ، بیان کی خصوصیات ، سورتوں کا غیر معمولی آغاز و اختتام ، آیات کی وانی ، بے مثل افکار رسانی اور الفاظ کا ایک حسین امتزاج کا نظارہ اور کیف آور اور وجد آفریں ہے ۔ قرآن کریم کے الفاظ و آیات اس  قدر جامع اور وسیع المعنی ہیں کہ کسی بھی زبان  میں ان کا ترجمہ کا حق ادا نہیں ہو سکتا ۔ الفاظ  و آیات  کی مفصل  تو کی جاسکتی ہے لیکن ان کے معانی و مفہوم کا ہمہ جہت اور مکمل احاطہ کرنا ناممکن ہے ۔ زیر نظر کتاب درحقیقت مقالات کا مجموعہ ہے جو بہاولپور یونیورسٹی میں ایک کانفرس کے ذریعے پیش کیے گئے تھے ۔ اس کا مقصد قرآن مجید کے ان ترجم کا جائزہ لینا تھا جو برصغیر میں مختلف ادوار میں کئے گئے  ہیں ۔ برصغیر میں  زبان اردو  کے اندر ترجمۃ القرآن کی روایت شاہ رفیع الدین سے شروع ہوئی جو ابھی تک بڑی تندہی سے جاری و ساری ہے ۔ اس کانفرس میں یہ کوشش کی گئی کہ اردو کے نمایاں تراجم سامنے لائے جائیں تاکہ اس رویت کو ایک معیار کی شکل دی جاسکے۔(ع۔ح)
     

  • 5 مقالات سیرت نبوی ﷺ جلد اول (ہفتہ 21 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:6921

    اس میں بھلا کیا شک ہے کہ آپﷺ کی ذات گرامی  او رسیرت مطہرہ ہر مسلمان کے لیے اور زندگی کے ہر شعبہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ انفرادی ، اجتماعی اور گھریلو زندگی تک کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں آپ ﷺ کی حیات طیبہ سے رہنمائی نہ لی جا سکے۔اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ آپ کے طرز و اطوار میں انتہائی زیادہ اعتدال اور تواز ن ہے۔آپ جو شریعت لے کر آئے تھے وہ ملکی قوانین سے لے کر خلوت نشینی تک کے احکام اپنے اندر رکھتی ہے ۔ اور آپ نے بہترین طریقے  کے ساتھ انہیں اپنی زندگی میں لاگو کر کے اپنی امت کو عملی نمونہ پیش فرمایا ہے ۔ لہذا جہاں  اللہ کی شریعت سے رہنمائی لینی ضروری ہے وہاں آپ کی حیات طیبہ کو بھی سامنے رکھنا لازم ہے تاکہ اس حکم کی تعمیلی صورت سامنے آجائے ۔ مسلمانوں کے اندر یہی شعور بیدار کرنے کے لیے پاکستان کی مشہور و معروف یونیورسٹی بہاولپور نے سیرت کےحوالے سے دوعالمی کانفرنسیں منعقد کی تھیں ۔ زیر نظرکتاب اس کانفرس میں پیش کیے گئے مختلف مقالات کامجموعہ ہے ۔جو کہ اہل علم کے لیے بیش  قیمت رہنمائی کاذریعہ بن گئی ہے۔ (ع۔ح)
     

  • 6 تفسیر قرآن کا مفہوم آداب اور تقاضے (جمعہ 17 جون 2016ء)

    مشاہدات:2185

    تفسیر کا معنیٰ بیان کرنا یا کھولنا یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے مگر اس کوسمجھنے کےلیے مختلف علوم کی ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے اور علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔اور اصول تفسیر سے مراد وہ علوم ہیں جن کے ذریعے قرآن کی تشریح کی جاتی ہے۔ قرآن کلام الٰہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھاتےدیتے تھے ۔اس لیے قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی جو تفسیر بیان کی اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں آیا او رکچھ حصہ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی اس لیے تفسیر کے نام سے سوائے تفسیر ابی بن کعب اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور ہر صدی میں متعدد کتب تفسیر کی کئی لکھی گئیں ۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے ۔زیر تبصرہ کتاب" تفس...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1052
  • اس ہفتے کے قارئین: 7112
  • اس ماہ کے قارئین: 13396
  • کل مشاہدات: 44733608

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں