فکش ہاؤس مزنگ لاہور

5 کل کتب
دکھائیں

  • 1 انسانی تہذیب کا ارتقاء (جمعرات 25 اگست 2011ء)

    مشاہدات:16018

    تہذیب عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ تہذیب وہ معاشرتی ترتیب ہے جو ثقافتی تخلیق کو فروغ دیتی ہے ۔تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور فکر واحساس کی آئینہ دار ہوتی ہے۔چنانچہ زبان آلات واوزار ،پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے،رہن سہن،اخلاق وعادات،رسوم وروایات،علم وادب،حکمت وفلسفہ،عقاید،فنون لطیفہ،خاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر گردانے جاتے ہیں ۔زیر نظر کتاب معروف مفکر ول ڈیورانٹ کی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے جس میں اس نے انسانی تہذیب کے ارتقاء سے متعلق بحث کی ہے۔اس کتاب کا مقصد مغربی فکر سے قارئین کو روشناس کرانا ہے۔اسلامی نقطہ نظر جاننے کے لیے مولانا ابو الاعلی مودودی کی کتاب ’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول مبادی‘کا مطالعہ مفید رہے گا۔(ط۔ا)

  • 2 مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس (جمعہ 19 اگست 2011ء)

    مشاہدات:16038

    مارکزم کے مخالفین کی جانب سے اس کی تردید میں یہ دلیل بھی پیش کی گئی ہے کہ یہ غیر سائنسی تصور ہے جو سائنس سے مطابقت نہیں رکھتا۔زیر نظر کتاب میں اس کا جواب دیا گیا ہے اور سائنس کے تقریباً تمام شعبوں کے حوالے سے  مارکس ازم اور سائنسی سوشلزم کے نظریات کو درست ثابت کیا گیا ہے ۔یہ کتاب سائنس کے ساتھ سرمایہ داری کے دانشوروں کی زیادتی اور حملوں کا بھرپور سائنسی جواب فراہم کرتی ہے ۔اس میں تخلیق کائنات سے لے کر سماجی ارتقاء تک کے تمام عوامل اور محرکات کا مارکسی نقطہ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے ۔یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کیوں اور کیسے ذرائع پیداوار ،عمرانیات،سائنس اور انسانی ارتقاء کےراستے میں رکاوٹ بن چکا ہے اور کس انداز میں لاکھوں برس کی محنت ،کوشش اور تجربات سے  گزر کر اس منزل اور معیار تک پہنچنے والی انسانیت کو بدترین بربریت اور انتہائی خوفناک درندگی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔مصنفین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نکلنے اور روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کے لیے سوشلسٹ انقلاب ناگزیر ہو گیا ہے ۔(ط۔ا)
     

  • 3 بادشاہ (منگل 23 اگست 2011ء)

    مشاہدات:10707

    زیر نظر کتاب نکولو میکاولی کی کتاب دی پرنس کا اردو ترجمہ ہے ۔میکاولی اطالبہ کا مشہور مفکر تھا،جسے حکومت وسیاست میں عملا شریک ہونے کا موقع ملا اور اس نے اپنے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کتبا تحریر کی ۔میکاولی نے اس میں بتایا ہےکہ مملکت کیا ہے؟اس کی کتنی اقسام ہیں؟وہ  کس طرح حاصل کی جاتی ہے اور کس طرح برقرار رکھی جاسکتی  اور کیونکر ضائع ہوتی ہے ؟مصنف کے مطابق یہ کتاب اس نے پندرہ برس کے تجربات کی روشنی میں لکھی ہے اور جہاں بانی کے مطالعہ سے جو اصول اس کے سامنے آئے انہیں اس میں سمو دیا ہے۔عموماً میکاولی کو مکر وفریب ،دھوکہ دہی اور دھونس دھاندلی کی سیاست کا علمبردار سمجھا جاتا ہے جو حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر حربے کو جائز قرار دیتا ہے ۔زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے اس کے خیالات سے حقیقی واقفیت حاصل کسی جاسکتی ہے جس سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں یقینا ً مدد ملے گی۔(ط۔ا)

  • 4 قوت اقتدار ایک جدید معاشرتی تجزیہ (ہفتہ 08 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:21993

    برٹرنڈرسل نہ صرف یہ کہ ایک بہترین ماہر منطق کے طور پر جانا جاتا ہے بلکہ اس نے عالمانہ اور دانشورانہ مباحث یعنی تجزیاتی فلسفے کے عظیم مبلغ کی حیثیت سے بھی شہرت حاصل کی۔ زیر مطالعہ کتاب ’قوت اقتدار ایک جدید معاشرتی تجزیہ‘ بھی موصوف کی اقتدار کے موضوع پر ایک شاندار کتاب کا اردو قالب ہے۔ رسل کی تصنیف نہایت قیمتی اور مفید نظریات و تصورات پیش کرتی ہے جن کے ذریعے دانش اور علم کے متعلق فہم حاصل ہوتا ہے۔ جب ہم اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر ہمیں ذرائع ابلاغ و اطلاعات اور تشہیری مہم کے غلبے کے خطرات کا اندازہ ہوتا ہے، یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ فسطائیت، نازی ازم اور سٹالن ازم نے کس طرح ذرائع ابلاغ و اطلاعات کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی کی۔ علاوہ ازیں یہ کتاب جمہوری حکومتوں کے تشدد اور عدم تحمل و برداشت کے پھیلاؤ اور خطرے سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ کتاب کے مندرجات سے بعض اختلافات کے باوجود یہ ایک ایسی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے جس میں درج قیمتی اور دانشوارنہ معلومات ہمیں حقیقت حال سے بہرہ ور کرتی ہے۔(ع۔م)

  • 5 اورنگ زیب عالمگیر (پیر 03 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:3623

    اورنگزیب عالمگیر3 نومبر ،1618ء کو مالوہ کی سرحد پر پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ارجمند بانو بیگم تھیں۔ جو ممتاز محل کے نام سے مشہور تھیں۔ اورنگ زیب کی عمر دو سال کی تھی کہ شاہجہان نے اپنے باپ جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی۔ اورنگزیب عالم گیر پہلے بادشاہ ہیں جنھوں نے قرآن شریف حفظ کیا اور فارسی مضمون نویسی میں نام پیدا کیا۔ اس کے علاوہ گھڑ سواری ، تیراندازی ، اور فنون سپہ گری میں بھی کمال حاصل کیا۔ سترہ برس کی عمر میں 1636ء دکن کے صوبیدار مقرر ہوے۔ اس دوران میں اس نے کئی بغاوتوں کو فرو کیا۔ اور چند نئے علاقے فتح کیے۔ بلخ کے ازبکوں کی سرکوبی جس جوانمردی سے کی اس کی مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملے گی۔ان کا دورِ حکومت 1658ء تا 1707ء ہےاورنگزیب ابوالمظفر محی الدین کے لقب سے تخت پر بیٹھا اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسمیں ختم کیں اور فحاشی کا انسداد کیا اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ قوال ، نجومی ، شاعر موقوف کر دئیے گئے۔ شراب ، افیون اور بھنگ بند کردی ۔ درشن جھروکا کی رسم ختم کی اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔ سجدہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا موقوف ہوا۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہرقسم کے محصول ہٹا دیے۔ 1665ء میں آسام ، کوچ بہار اور چٹاگانگ فتح کیے اور پرتگیزی اور فرنگی بحری قزاقوں کا خاتمہ کیا۔ عالمگیر احمد نگر میں بیمار ہوا اور 3 مارچ، 1707ء کو نوے برس کی عمر میں فوت ہوا۔ وصیت کے مطابق اسے خلد آباد میں دفن کیا گیا۔ ۔ اورنگ زیب بڑا متقی ، پرہیز گار ،مدبر اور اعلیٰ درجے کا منتظم تھا۔ خزانے سے ذات...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1919
  • اس ہفتے کے قارئین: 8614
  • اس ماہ کے قارئین: 42635
  • کل قارئین : 47900924

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں