اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #513

    مصنف : ڈاکٹر سفرالحوالی

    مشاہدات : 22548

    روز غضب –زوال اسرائیل پر انبیاء کی بشارتیں توراتی صحیفوں کی اپنی شہادت

    (جمعہ 10 ستمبر 2010ء) ناشر : مطبوعات ایقاظ

    اسرائیل ،امت مسلمہ کے لیے انتہائی خطرناک دشمن کی حیثیت رکھتاہے ۔دنیابھرکے صیہونی اسے اپنامرکزسمجھتےہیں۔انتہاپسندصیہونیوں میں یہودی بھی ہیں اورعیسائی بھی جوبائبل کی نصوص کی بنیادپراسرائیل کوپوری دنیاپرغالب دیکھناچاہتے ہیں ۔لیکن خوداہل کتاب کے مخالف اورحقائق وواقعات واضح طورپراس امرکی نشاندہی کررہے ہیں کہ اسرائیل اب روبہ زوال ہے ۔یہ صورت حال امت مسلمہ کے لیے بہت ہی امیدافزاہے ۔زیرنظرکتاب میں اسی پہلوکواجاگرکیاہے۔اس کے ساتھ ساتھ دشمن کامورال نیچالانے کی بےحدمعقول اورحقیقی وجوہات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے ۔یہاں تک کہ دشمن کے اپنے ہی دینی مصادرسے اس پرشواہدلے کرآتی ہے ۔علاوہ ازیں امت اسلام کےکچھ تاریخی خصائص اوراس کاانبیاء کاوراث ہوناہے ۔بےحدعلمی وتاریخی شواہدسے سامنے لایاگیاہے ۔اس باب میں اہل کتاب کے تناقضات اوران کےبلندبانگ دعووں کابے حقیقت ہوناجووہ اپنی اقوام کوامت خاتم الرسل کےخلاف اس معرکے میں جوش دلانے کے لیے کررہے  ہیں،ان کے سب مزاعم کابے بنیادہونامدلل طورپرواضح کیاگیاہے ،یہاں تک کہ مغرب کے ایک منصف مزاج اہل کتاب کے لیے ان حقائق سے آنکھیں بندرکھنابے حدمشکل ہوجاتاہے۔زیرنظرکتاب میں صیہونیت کے عیسائی عنصرپربھی خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے ۔کتاب کااصل موضوع نصرانی صیہونیوں کی کھڑی کی  ہوئی وہ فکری عمارت گراناہے جواس وقت کے اسلام دشمن ،یہودوہنوددوست مغرب کے ذہنی پس منظرمیں بآہنگ بول رہی ہے

  • 2 #900

    مصنف : حامد کمال الدین

    مشاہدات : 12363

    امیریکن ایمپائر

    (جمعہ 22 جولائی 2011ء) ناشر : مطبوعات ایقاظ

    امریکہ کو اس وقت دنیا کی سپر پاور گردانا جاتا ہے اور اسی زعم میں وہ پوری دنیا پر اپنا فیوورلڈ آرڈر قائم کر کے تمام ملکوں پہ اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی سیاست ومعیشت پر یہودی وصیہونی لابی چھائی ہوئی ہے جو اسلام کو نیست ونابود کرنا چاہتی ہے ۔اسی کے زیر اثر امریکہ نے 11/9کو بہانہ بناکر افغانستان پر حملہ کیا اور کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کا اعلان کر کے عراق پر آتش وھن کی بارش برسادی ۔اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے اپنے کروسیڈ یعنی صلیبی جنگ سے تعبیر کیا۔لیکن ان دونوں ملکوں میں جنگ چھٍیڑنے سے امریکہ انتہائی مشکل میں پھنس گیا اور جہادی تحریکوں کی بھرپور مزاحمت نے اس کے پاؤں اکھاڑ دیئے۔اس کی معیشت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے نتیجتاً وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہو گیا۔اب تو اس نے افغانستان میں طالبان سے باقاعدہ مذاکرات اور وہاں سے مرحلہ وار انخلا کا بھی اعلان کر دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ زوال کی طرف گامزن ہے۔معروف مفکر اور قلمکار جناب حامد کمال الدین نے اپنی زیر نظر کتاب میں اسی نکتے کو موضوع بحث بنایا ہے اور اس حوالے سے بڑے ہی فکر انگیز نکات اٹھائے ہیں۔کتاب کا مطالعہ ’امریکن ایمپائر‘کے اصل چہرہ کی نقاب کشائی میں ممدومعاون ثابت ہو گا۔(ط۔ا)
     

  • 3 #1274

    مصنف : حامد کمال الدین

    مشاہدات : 17913

    اپنی جمہوریت !یہ دنیا نہ آخرت

    (جمعرات 22 جولائی 2010ء) ناشر : مطبوعات ایقاظ

    ہرمسلمان کی خواہش ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کانفاذ ہو لیکن اس کے لیے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے اس میں اختلاف ہے ایک بڑاطبقہ موجودہ جمہوری نظام کے ذریعے نفاذ اسلام کی کوششوں میں مصروف ہے اگرچہ 60 سال سے اس سے خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تاہم اسلامی انقلاب اور حکومت الہیہ کے نعروں کی حامل جماعتیں آج بھی اسی میدان میں زو رلگا رہی ہیں اس کےبرعکس ایک حلقے کی رائےہے کہ جمہوریت کے ذریعے اسلام نہیں آسکتا زیرنظر کتابچے میں اسی کی ترجمانی کی گئی ہے مروجہ جمہوریت کےحق میں جودلائل دیئے جاتے ہیں ان کابھي اس میں جائزہ لیا گیا ہے نیز بعض جلیل القدر اہل علم مثلاًمحمد قطب اور علامہ البانی وغیرہ کی رائے بھی شامل ہے

     

  • 4 #2446

    مصنف : محمد قطب

    مشاہدات : 2546

    دعوت کا منہج کیا ہو

    (ہفتہ 20 ستمبر 2014ء) ناشر : مطبوعات ایقاظ

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین  اسلام عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادات یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔:’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان ضرور ضرور خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔‘‘دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس کی دعوت اور پیغام  کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔زیر تبصرہ کتاب"دعوت کا منہج کیا ہو؟"اخوان المسلمین کے بانی راہنما سید قطب ﷫کے برادر خورد محمد قطب﷫  کی گرانقدر تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے ایک منفر د انداز میں دعوت دین کا منہج بیان کیا ہے،اور مسلمانوں کو اس کی ترغیب دی ہے۔مولف کا اپنا موقف اور طریقہ کار ہے ،جس سے ادارے کا  متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اس کتاب کا اردو ترجمہ محترم حامد کمال الدین صاحب ﷾نے کیا ہے۔جو خود بھی اخوان  سے کچھ کچھ متاثر نظر آتے ہیں۔بہر حال یہ کتاب اہل علم خدمت میں اس مقصد سے پیش کرر ہے ہیں کہ وہ مولف کے اس منہج کا جائزہ لیں اور اس پر اپنی آراء سے آگاہ  کرتے ہوئے صحیح منہج کی وضاحت کر دیں۔اللہ تعالی ان کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 5 #3591

    مصنف : حامد کمال الدین

    مشاہدات : 1794

    مسجد اقصی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا مسئلہ

    (جمعرات 10 ستمبر 2015ء) ناشر : مطبوعات ایقاظ

    مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ نےیہ مسئلہ پیدا کر کے گویا اسلام کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں اسرائیل کے قیام کےبعد یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے دخل کر کے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید ، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ مسجد اقصیٰ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا مسئلہ ‘‘ میں مسجد اقصیٰ کےمقدمہ کوہی پیش کیا گیا ہے۔ مسجد اقصیٰ کا یہ مقدمہ آج کےساس گلوبل ولیج کےہر مسلمان کامقدمہ ہے بلکہ دنیا کے ہر انصاف پسند کامقدمہ ہے۔اقصیٰ کے حق میں عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کو اپنی صد بلند کرکے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کےقبلۂ اول کو آزاد اور دنیا بھر کےمظلوم مسلمانوں کی مددفرمائے (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1089
  • اس ہفتے کے قارئین 15943
  • اس ماہ کے قارئین 39483
  • کل قارئین49253157

موضوعاتی فہرست