اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #5198

    مصنف : ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

    مشاہدات : 3369

    سرمایہ دارانہ نظام ایک تعارف

    (منگل 07 مارچ 2017ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہرشخص فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "سرمایہ دارانہ نظام، ایک تعارف"محترم ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کا تعارف کروایا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 2 #6374

    مصنف : محمد صدر الورٰی مصباحی

    مشاہدات : 3793

    اصول جرح و تعدیل

    (بدھ 02 مئی 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ گویا کہ راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث کے عام حالات پر گفتگو کی جاتی ہے اور علم جرح وتعدیل میں رواۃ ِحدیث کی عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے کےلیے لازم ملزوم ہیں جرح سے مراد روایانِ حدیث کے وہ عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان کی عدالت ساقط ہوجاتی ہے او ر او ران کی روایت کردہ حدیث رد کر جاتی ہے اور تعدیل سےمراد روائ حدیث کے عادل ہونے کے بارے میں بتلانا اور حکم لگانا کہ وہ عادل یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث اوراصولِ حدیث کے ماہرین نے کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ کتب زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ اصول جرح وتعدیل ‘‘ مولانا محمد صدر الورٰی مصباحی ﷾(استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور) کی تصنیف ہے۔جرح وتعدیل کے کےموضو ع اردو زبان میں ایک اہم کتاب ہے اور طالبانِ علوم نبوت کے لیےگراں قد ر تحفہ ہے فاضل مصنف نے اس کتا ب میں اسناد ،طبقات رجال ، قواعد جرح وتعدیل ،ائمہ جرح وتعدیل،کتب جرح وتعدیل کے بارے فن اصول حدیث ،جرح وتعدیل، اسماء الرجال، کے بنیادی جدید وقدیم مصادر ومراجع سےمواد تفصیلاً جمع کردیا ہے جوکہ فن حدیث پر محققانہ اور نادر علمی دستاویز ہے۔اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کےسلسلے میں ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(رفیق الرحمن)

  • 3 #6386

    مصنف : شیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی

    مشاہدات : 1997

    مشنری سکولز میں مسلم طلبہ کا انجام ( اردو ترجمہ مع عربی متن )

    (منگل 08 مئی 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    علم انسانوں کی وہ خوبی ہے جس کی بنیاد پر وہ دیگر مخلوقات سے ممتاز ہیں۔ علم ہی کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فضیلت حاصل ہوئی۔یہی وجہ ہے کہ اللہ عزوجل نے علم وجہل کے مابین واضح فرق بیان کر دیا ہے کہ علم والے اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے۔علم کے مراکز ہر زمانے میں بدلتے رہے ہیں۔ حالات زمانہ اور انسانی حوائج نے علم کے جدید طریقے اور نئے سرچشموں کی ایجاد میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی ہے۔ موجودہ دور میں سائنس‘ ٹکنالوجی  نے ترقی کی ہے اور انگریزی تعلیم ہر شعبۂ زندگی میں حاوی ہوتی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں انگلش کی تعلیم دین ومذہب کی تبلیغ کے لیے بھی ناگزیر ہوتی جا رہی ہے اور انگلش میڈیم اسکولوں کی پذیرائی ہر معاشرے میں رہی ہے اور بلا تفرق مذہب وملت لوگ اپنے بچوں کو انگلش اسکولوں میں داخل کر رہے ہیں اور مشزی اسکول سب سے آگے ہیں اور یہ زمینی سچائی ہے کہ عیسائی اپنے مذہب کی ترویج واشاعت اور دین اسلام کی بیخ کنی میں ہر ممکن حربے استعمال کرتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی عنوان پر ہے کہ جس میں اس بات کی اہمیت کو بیان کیا ہے کہ ہمیں خود کو بہتر اور معیار تعلیم بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مشزی اداروں میں اپنے بچوں کی نازیبا تربیت سے بچ سکیں اور معاشرے کی مثالی تشکیل کر سکیں۔اور اس کتاب میں عیسائیوں کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ وہ کن مقاصد کی بنا پر ادارے یا اسکول کھولتے اور مسلمان بچوں اور بچیوں کی ذہن سازی کیسے کرتے۔ اصلاً کتاب عربی زبان میں ہے جس کا اردو میں لفظی ترجمے کی بجائے محاروۃً ترجمہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مشنری سکولز میں مسلم طلبہ کاانجام ‘‘ شیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی کی عربی زبان میں تصنیف کردہ ہے‘ جس کا اردو ترجمہ محمد فیض اللہ برکاتی مصباحی نے کیا ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 4 #6393

    مصنف : محمد دین جوہر

    مشاہدات : 3163

    الحاد ایک تعارف

    (ہفتہ 12 مئی 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    دنیا کے ہر مذہب میں خدا کے تعارف‘ اس کے اقرار‘ اس سے انسان کے تعلق اور اس تعلق کے حامل انسان کی خصوصیات کو مرکزیت حاصل ہے۔ مختصراً‘ مذہب خدا کا تعارف اور بندگی کا سانچہ ہے۔ جدید عہد مذہب پر فکری یورش اور اس سے عملی روگردانی کا دور ہے۔ لیکن اگر مذہب سے حاصل ہونے والے تعارفِ خدا اور تصور خدا سے انکار بھی کر دیا جائے تو فکری اور فلسفیانہ علوم میں’خدا‘ ایک عقلی مسئلے کے طور پر بھی موجود رہتا ہے۔ خدا کے مذہبی تصور اور اس سے تعلق کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے جدیدیت نے اپنی ابتدائی تشکیل میں ایک مجہول الٰہ کا تصور دیا تھا جس کی حیثیت ایک فکشن سے زیادہ نہیں تھی۔الحاد سے عام طور پر خدا کا انکار مراد لیا جاتا ہے اور دہریت اس کی فکری تشکیلات اور تفصیلات پر مبنی ایک علمی مبحث اور تحریک ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں الحاد کا تعارف‘ پس منظر‘ اسباب کو بیان کیا گیا ہے اور کتاب کے تین حصے کیے جا سکتے ہے۔پہلے حصے کو محمد دین جوہر نے تالیف کیا ہے ‘ جس میں ہم عصر الحاد پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔دوسرے  حصے کو محمد مبشر نذیر نے ترتیب دیا ہے جس میں مسلم اور مغربی معاشروں پر الحاد جدید کے اثرات کو تفصلاً بیان کیا گیا ہے اور اس حصے میں سات ابواب ہیں۔ اور تیسرے حصے کو حافظ محمد شارق نے مرتب کیا ہے جس میں الحاد اور جدید ذہن کے سوالات کو بیان کیا گیا ہے اور تیسرے حصے میں مزید مصنف نے چار حصے مرتب کیے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ الحاد ایک تعارف ‘‘ محمد دین جوہر‘ محمد مبشر نذیر اور حافظ محمد شارق کی تصنیف کردہ ہے۔آپ سب  تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفین وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 5 #6394

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2753

    اسلام یا جمہوریت

    (ہفتہ 12 مئی 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    اس وقت عالم اسلام کی جو مجموعی صورت حال ہے کسی بھی صاحب فکر ونظر سے مخفی نہیں‘ ایک زبردست کشمکش ہے جو اسلامیت اور مغربیت‘ اسلامی معاشرت اور مغربی تہذیب کے درمیان چل رہی ہے۔ امریکی استعمار اور سرمایہ داری کا تسلط اسلامی ممالک پر روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جس پر امریکی استعمار کی بھر پور توجہ مرکوز ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ 2001ء کے بعد پاکستان کی آزاد حیثیت ختم ہو چکی ہے اور پاکستان امریکی کالونی میں تبدیل ہو چکا ہے‘ مگر 2008ء کے انتخابات کے دوران اور بعد میں امریکا نے براہِ راست پاکستانی اداروں میں جس طرح دھمکی‘ دھونس‘ مراعات اور پر کشش پیکج پیش کر کےپاکستانی سیاست کو اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش کی ہے وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ امریکا ایک طرف جہاں پاکستانی معاشرے کو تیزی کے ساتھ مکمل طور پر سیکولرائز کرنے کی طرف گامزن ہے وہیں اس کی خصوصی توجہ استعمار کے خلاف کسی بھی سطح پر مزاحمتی کردار ادا کرنے والی تحفظ وغلبۂ دین کی تحریکات بھی ہیں اور امریکا کے اس میں بہت سارے مقاصد چھپے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی سلسلے کی ایک صدائے باز گشت ہے۔ یہ کتاب در اصل اہل فکر ونظر کے مرتب کردہ لیکچرز کا مجموعہ ہے اور اس کتاب میں ان سب کو مقالات کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔یہ کتاب انقلابی مجاہدین کے لیے علمی ہتھیار ہے جس سے لیس ہو کر دور جدید کے لبرل دنش وروں اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر امریکی استعمار کی چاکری کرنے والے مفکروں کے پھیلائے ہوئے بے سروپا پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام یا جمہوریت ‘‘ مشترکہ مصنفین  کی تصنیف کردہ ہے۔ یہ لوگ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفین وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 6 #6398

    مصنف : عمران شاہد بھنڈر

    مشاہدات : 1510

    لبرل ازم پوسٹ ماڈرن ازم مارکسزم

    (پیر 14 مئی 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    سماجی تبدیلی کے لیے برپا کی گئی جدوجہد سے حکمرانوں اور محکوموں ‘ ظالموں اور مظلموں اور جابروں اور مجبوروں کے درمیان اعلیٰ وادنی اقدار کی بنا پر قائم کی گئی تفریق وامتیاز کا تصور کمزور ہونے لگتا ہے۔ لوگوں کے ذہن میں یہ بات راسخ ہونے لگتی ہے کہ اقدر کی بنیاد پر حکمران اور محکوم طبقات کے مابین قائم کی گئی فوقیتی ترتیب فطری نوعیت کی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی ازلی وابدی اصول پر مشتمل ہوتی ہے جیسا کہ حکمران طبقات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ بلکہ اقدار کی فوقیتی ترتیب کا تصور ریاستی پروپیگنڈا مشیزی کی پیداوار ہوتا ہے۔ حکمرانوں کی طاقت اور آئیڈیالوجی کا مظہر ہوتا ہے۔ جہاں استحصال‘ ظلم وجبر اور تشدد ہووہاں استحصال زدگان کا اُٹھ کھڑے ہونا فطری عمل ہے۔ا ور آج بہت سے ازم وجود میں آگئے ہیں اور ہمارا عہد دہشت گردی‘ جنگوں اور سرمایہ داری کے زوال کا دور ہے۔اس لیے زیرِ تبصرہ کتاب میں ان تمام موضوعات کو سمیٹا گیا ہے۔ مضامین پیچیدہ اور فلسفیانہ مباحث کو قدرے آسان پیرائے میں پیش کیا گیا ہے اور مصنف نے لبرل ازم یا نیولبرل ازم  کی حقیقت کو آشکارہ کیا ہے اور ان کی کھوکھلی بنیادوں کو واضح کیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ لبرل ازم پوسٹ ماڈرن ازم مارکسزم ‘‘ عمران شاہد بھنڈر  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 7 #6404

    مصنف : پروفیسر غازی عبد الرحمن قاسمی

    مشاہدات : 1420

    مسئلہ حجاب اسلامی تعلیمات اور یورپی نقطہ نظر

    (جمعرات 17 مئی 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے جو کامل واکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس دین کو آخر میں بھیجا اس کی بنیاد اگرچہ’ابدی عقائد وحقائق‘ پر مبنی ہے مگر وہ زندگی سے متعلقہ تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ اسلام فرد اور معاشرہ دونوں کے لیے ایسی تعلیمات اور احکامات پیش کرتا ہے جن پر عمل کرنے کے نتیجے میں ایک صالح فرد اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ کتاب وسنت میں مردوعورت کے تعلقات کی فطری حدود بیان کر دی گئی ہیں اور ان تعلقات کی شرعی حیثیت بھی واضح کر دی گئی ہے۔ اسلام کی کچھ تعلیمات تو ایسی ہیں جو کہ مردوعورت دونوں کے لیے لازمی اور مشترک ہیں جیسے لباس کے مسائل کا تعلق ہر دو صنفوں سے ہے۔ مگر عائلی اور معاشرتی زندگی کی کچھ تعلیمات ایسی ہیں جن کا تعلق صرف خواتین سے ہے۔ ایسے مخصوص نسوانی مسائل میں اہم ترین مسئلہ’ حجاب‘ سے تعلق رکھتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں حجاب سے متعلقہ احکامات واشکالات کو بیان کیاگیا ہے اور اشکالات کا جواب مدلل انداز میں دیا گیا ہے اور اس بارے میں مؤقفات کو درج کر کے راحج کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کتاب میں پانچ ابواب مرتب کیے گئے ہیں۔ باب اول ’حجاب اور اسلامی تعلیمات‘ کے حوالے سے جس میں مزید تین فصول ہیں جو باب کے موضوع کا گھراؤ کرنے میں معاون ہیں۔ باب دوم ’ حجاب کا دائرہ کار‘ کے حوالے سے جس میں تین فصول ہیں۔ باب سوم قائلین وجوب حجاب کے دلائل کا تجزیہ کے حوالے سے ہیں اور باب چہارم قائلین عدم وجوب حجاب کے دلائل پر ہے اور باب پنجم حجاب اور یورپی نقطہ نظر کےحوالے سےہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مسئلہ حجاب اسلامی تعلیمات اور یورپی نقطہ نظر ‘‘پروفیسر غازی عبد الرحمن قاسمی کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 8 #6459

    مصنف : ڈاکٹر شاہد فریاد

    مشاہدات : 1805

    سیکولرازم ایک تعارف

    (جمعہ 12 اکتوبر 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    سیکولرزم (Secularism)انگلش زبان کا لفظ ہے۔   جس کامطلب’لادینیت‘‘ یا ’’دُنیویت‘‘ ہے  اور یہ ایک ایسی اجتماعی تحریک ہے جو لوگوں کے سامنے آخرت کے بجائے اکیلی دنیا کو ہی ایک ہدف و مقصد کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سیکولرازم محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک سوچ، فکر، نظریہ اور نظام کا نام ہے۔ مغربی مفکروں، دانشوروں، ادیبوں، فلسفیوں اور ماہرینِ عمرانیات کے مابین سیکولرازم کے مباحث میں مختلف النوع افکار و خیالات پائے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیکولرازم کا کوئی ایک رنگ نہیں، یا اس کا کوئی ایک ہی ایڈیشن نہیں۔ یہ کبھی یکسر مذہب کا انکار کرتا ہے اور کبھی جزوی اقرار۔انفرادی سطح پر مذہب کو قبول کرنا اور اجتماعی (معاشی، سیاسی اور ریاستی) سطح پر اسے رد کردینا سیکولرازم کا جدید اسلوب ہے۔  دراصل ’سیکولرازم‘ مغرب کا تجربہ ہے جسے مغربی معاشروں نے صدیوں کی کشمکش کے بعد اختیار کیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’سیکولرازم‘‘ جناب ڈاکٹر شاہد فریاد  صاحب  کی تصنیف ہے ۔اس کتاب  میں  فاضل مصنف نے انسانیت کو ’سیکولرازم‘ کا اصل چہرہ دکھایا  ہے ،اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ اس نظریے کو وجود میں لانے کے اغراض و مقاصد کیا تھے؟ اور اس کے دنیا پر کیا اثرات رونما ہوئے؟ مصنف  نےاس کتاب  چارابواب میں تقسیم کیا ہے ۔باب اول میں سیکولرازم کی تعریف اور اس کے معنیٰ و مفہوم کی وسعت جیسے موضوعات زیربحث آئے ہیں۔باب دوم میں سیکولرازم کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے کہ کس طرح مذہبی معاشرے میں تبدیلی آئی اور اہلِ مغرب کے نظریات بدلے، عقلیت پسندی اور تجربیت پسندی نے مغربی معاشرے کو سیکولر نظام کا حصہ بنایا۔باب سوم میں سیکولرازم کی فکری اور نظریاتی بنیادیں زیربحث آئی ہیں۔ اس باب میں اُن مفکرین، دانشوروں، فلاسفہ اور ان تحریکوں کا تعارف کروایا گیا ہے جنہوں نے مذہب سے متعلق شک و ریب پیدا کیا اور آخر یورپ و مغرب کے روایتی و مذہبی معاشرے میں سیکولرازم کا غلبہ ہوا۔باب چہارم میں اسلام اور سیکولرازم کا تقابل اور موازنہ کیا گیا ہے۔(م۔ا) 

  • 9 #6475

    مصنف : ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

    مشاہدات : 1476

    غیر مسلم خودکش حملہ آور تاریخ تجزیہ

    (ہفتہ 10 مارچ 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    افراد اور اقوام کی زندگی میں جو انقلابات اور تغیرات واقع ہوتے ہیں، ان سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر وتشکیل اور اپنی قسمت کے بناؤ بگاڑ پر قادر نہیں ہے۔ہر فرد اور ہر قوم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت سے آگے کی جانب قدم نہ  بڑھا سکے تو کم از کم پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور نہ ہو۔اگر ترقی  اور اصلاح کی منازل طے نہ کر سکے تو اپنے آپ کو پستی اور ذلت سے محفوظ رکھے۔لیکن اس قسم کی کوششیں بارہا ناکام ہو جاتی ہیں۔افراد پر خوشحالی  اور آسودگی کے بعد اکثر اوقات تنگی اور افلاس کا دور آ جاتا ہے۔قومیں عروج وترقی کے بعد محکومی اور ذلت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔لیکن جب کسی گروہ یا خاندان پر خوشحالی اور قوت واقتدار کا ایک طویل دور گزر جاتا ہے تو اس کے افراد اس دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی اور ان کی حکومت کبھی ختم نہ ہوگی۔اور اگر کبھی شکست کا دور آ جائے تو اسے ایسے اسباب سے نتھی کر دیتے ہیں  جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص تاریخ کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے سب سے پہلے ایک ضخیم مقدمہ قائم کیا ہے‘ اس کے بعد غیر مسلم اور باطنی خود کش حملہ آوروں کی تاریخ بیان کی ہے‘ پھر تاریخ انسانی کا پہلا خود کش حملہ اور بائبل کا عنوان دیا ہے او ر اس کا خلاصہ ونتائج بیان کیے ہیں۔خود کشی کی ابتدائی صورتیں اور مختلف تاریخی واقعات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ غیرمسلم خود کش حملہ آور تا ریخ تجزیہ ‘‘ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 10 #6900

    مصنف : بدیع الزماں سید نورسی ترکی

    مشاہدات : 1156

    مکتوبات بدیع الزمان سعید نورسی

    (ہفتہ 09 مارچ 2019ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان﷤ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان﷤ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط دعوتی  خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین﷢ نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر﷫ اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے۔ زیر  نظر کتاب ’’ مکتوبات بدیع الزمان سعید نورسی‘‘ ترکی کی مشہور شخصیت علامہ بدیع الزمان سعید نورسی   کے33 علمی  مکاتیب کامجموعہ ہے  یہ  خطوط علامہ سعید نورسی کے کلیا ت ورسائل نور  سے  اخذ کے مرتب کیے گئے ہیں ان   خطوط میں متفرق موضوعات  زیر بحث آئے ہیں ۔ان میں اکثر   ایسے مکاتیب ہیں جو علامہ سعید نورسی نے   مختلف سوالات کے جواب میں لکھے ۔علامہ نورسی صوفیانہ افکار کے حامل تھے اس لیے ان خطوط میں بھی  صوفیت  موجود  ہے ۔(م۔ا )

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1794
  • اس ہفتے کے قارئین 12437
  • اس ماہ کے قارئین 35977
  • کل قارئین49223127

موضوعاتی فہرست