علماء کی تنخواہیں سب سے کم کیوں ہیں ؟(7026#)

سید خالد جامعی
کتاب محل لاہور
160
4000 (PKR)
5 MB

علم اللہ تعالی کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی فضیلت اور اہمیت ہر دور میں تسلیم کی گئی ہے۔ یہ ان انعامات الٰہیہ میں سے ہے جن کی بنا پر انسان دیگر مخلوقات سے افضل ہےاس علم  سےمراد علم الہی ہے ۔ علم ہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو عطا فرما کر اس کے ذریعے فرشتوں پر ان کی برتری ثابت فرمائی۔ رسول اللہﷺپر جو پہلی وحی نازل فرمائی گئی اُس میں اُن کی تعلیم سے ابتدا کی گئی اور پہلی ہی وحی میں بطورِ احسان انسان کو دیئے گئے علم کا تذکرہ فرمایا گیا۔ دینِ اسلام میں حصولِ علم کی بہت تاکید کی گئی ہے اور علم و اہلِ علم کی متعدد فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور مسلمانوں کو علم کے حصول پر ابھارا گیا ہے۔ اور جس طرح علم کی اہمیت و فضیلت مسلّمہ ہے، اُسی طرح اِس نعمتِ عظیم کے حامل افراد کی فضیلت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ رسول اللہﷺ کی اس امت میں تو بالخصوص اہلِ علم بہت اعلی مقام کے حامل ہیں حتیٰ کہ انہیں انبیائے کرام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ اور  امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء نے انجام دیا ہے او رہر دور میں  اللہ تعالیٰ نے ایسے  علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے  امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی  ڈوپتی  ہوئی  کشتی  کو پار لگانے کی کوشش کی ہے ، اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے  جنہوں نے  حالات کو سمجھا  اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے  لیے  اور ان کو صحیح رخ  پر لانے  کے لیے  انہوں نے  ہر طرح کی قربانیاں دی  جو اسلامی تاریخ کا سنہرا باب ہے ۔اسلامی معاشرہ میں علمائے کرام کاکرداربڑی اہمیت رکھتا ہے ۔لیکن  عصر حاضر میں  علم اورعلماء کو ان کا مقام نہیں دیا گیا جدید ریاست علم دین کو علم نہیں سمجھتی اور نہ ہی عالم کو عالم سمجھتی۔ زیر نظر کتاب ’’ علماء کی تنخواہیں سب سے کم کیوں ہیں ؟ ‘‘ کی  خالد جامعی کی تصنیف ہے ۔ خالد جامعی کہتے ہیں کہ ہم نے ذاتی طور پر چند سال پہلے معلومات کی تو یہ بات ہمارے علم میں آئی کہ ایک بہت بڑے مدرسے کے محترم شیخ الحدیث کی تنخواہ صرف پندرہ ہزار روپے ماہانہ تھی، حالانکہ وہ محترم عالم عربی، فارسی، اردو، پنجابی، پشتو اور ترکی زبان بھی جانتے تھے، وہ انگریزی سے بھی بہت اچھی طرح واقف تھے۔ سرکاری اداروں کے ایک ناخواندہ، ناتراش چپراسی کی تنخواہ اور مراعات ان محترم شیخ الحدیث سے کئی گنا زیادہ ہیں، اس کے ساتھ بے شمار مراعات، سہولیات الگ ہیں، مثلاً علاج معالجہ کی مفت سہولت، رہائش گاہ، مختلف الاؤنسز، ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور بچوں کی ملازمت وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بنیادی سوال یہی ہے کہ علما کے معاوضے کیوں اتنے کم ہیں؟ علما اتنے کم معاوضوں کے باوجود شب و روز دین کی خدمت میں مصروف ہیں، وہ کبھی ان قلیل معاوضوں پر کوئی احتجاج یا حرف شکایت تک زبان پر نہیں لاتے، آخر کیوں؟ توکل، صبر و شکر کی اصطلاحات کا عملی نمونہ کیا عہد حاضر میں ان قلیل المشاہیرہ علما کے سوا کوئی اور ہوسکتا ہے؟ لوگ درویش، صوفی، اہل اﷲ کا پوچھتے ہیں کہ عصر حاضر میں اﷲ والے نہیں ملتے، وہ جا کر ان علما کو دیکھ لیں،  اکثر علما آپ کو اسی حال میں ملیں گے۔ یہی علما جو شب و روز دین کی نشر و اشاعت میں مصروف ہیں۔ یہ اللہ کے کام میں ایسے مشغول ہیں کہ معاش کمانے کے لیے فرصت نہیں۔ یہ خود دار ہیں سوالی نہیں۔ نیز خالد جامعی صاحب اس کتاب میں بتایا ہےکہ ہماری ریاست کا کردار اس وقت نہ تو ایک اسلامی ریاست والا ہے، نہ ہی لبرل ہے، یہ تو عوام ہیں جو ریاست کے مقابلے میں اپنی ذمے داری کسی حد تک پوری کرتے ہیں اور اپنے جید علما کو نہ صرف احترام دیتے ہیں بلکہ ہمہ وقت خدمت کے لیے تیار بھی رہتے ہیں۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

ہمارے علماء کی تنخواہیں دنیا میں سب سے کم کیوں ہیں؟

9

اللہ والے ، صابر وشاکر کون لوگ ہیں؟ لوگ علماء کو دیکھیں

9

علماء کی ضروریات کا خیال رکھنا ضروریات دین میں شامل ہے

11

کانٹ کے بعد دین نہیں عقلیت وتجربیت علم سمجھے جاتے ہیں

12

کسی علم کی عزت تب ملتی ہے جب وہ سائنس کے ساتھ جڑ جائے

13

اسلام کے ساتھ بدلتے ہوئے علوم عقلیہ کا جوڑ کیا درست ہے؟

13

علماء کے لیے کفار کے اجتہادات قبول کرنا صحیح رویہ ہے

13

طبیعیات ، علوم عقلیہ، مقصد نہیں آخرت کے حصول کا ذریعہ ہیں

16

مغربی فلسفے کی یونانی کے سامنے کوئی حیثیت نہیں

17

ایک دن کی صفائی کے لیے ایک کھرب پچھتر ارب لیٹر میٹھا بانی کا درکار ہے

17

اس دنیا کو تباہی سے صرف انبیاء کی سنتیں بچا سکتی ہیں

19

پانی کے بحران کا اصل سبب جدید لائف اسٹائل ہے

23

اسلاما ئزیشن آف نالج کی تحریک

26

کسی علم کی عظمت کا پیمانہ سائنس کے معیار پر ثابت ہونا ہے

27

پاکستانی ریاست اور علماء کے تعلق کی نوعیت

29

جدید ریاست مذہبی علوم کی سر پرستی نہیں کرتی

29

دینی مدارس عوام کی دین سے محبت کے باعث چل ر ہے ہیں

30

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مولوی سے فجر کی اذان نہ دی ہو

31

موذ ن کا انتقال ہوگیا لہذا اذان نہ ہو سکی

31

مولوی اس زمین پہ تزکیہ نفس کی زندہ علام ہے

31

بنیادی سوال یہ ہے کہ علماء کے معاوضےکم کیوں ہیں؟

32

علماء دینی مدارس اور پاکستانی ریاست کے تعلق کی نوعیت

33

منشور انسانی حقوق میں مذہب بدلنے کی آزادی ہے

34

ہر مذہبی عقیدہ لبرل ازم کے عقیدہ آزادی کے تابع اور ہم آہنگ ہو

37

یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس کا تاریخ فیصلہ

39

آزادی کے عقیدے کے دشمن کو گولی مار دو

42

مغرب سیکولر تعلیم اور آزادی کیوں مسلط کرتا ہے

42

مارکیٹ ، بازار دولت، سرمایہ : متضاد اصطلاحات

44

جدید مغربی علمیت میں گناہ نہیں صرف ہوتا ہے

64

احتجاج سے پہلے منشور انسانی حقوق کا انکار ضروری ہے

64

روشن خیال انسان وہ ہے جو عالم اور وحی کا انکار کردے

65

اللہ نے ہر شخص کو کوئی بھی مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہے

66

اللہ کے اسکیم آزادی کے تحت مشرکین کا قتال لازم ہے

66

فلسطین وعرب میں کسی مشرک کافر کو زندہ نہ چھوڑا جائے

66

قیامت تک جزیرہ عرب میں مشرک کافر نہیں رہ سکتا

67

جو رسول پر ایمان نہ لائے اسے قتل کردو یہ آزادی کی اسکیم ہے

67

زمانہ رسالت کے بعد مسلمان مرتد ہو سکتے ہیں

69

متجددین اور غامدی کے افکار کو مبرہن کرنے کا طریقہ

69

غامدی صاحب کے انکار حدیث کا گنجلک طریقہ

70

ہر انسان کے لیے قرآن کے الفاظ قطعی الدلالۃ ہیں

72

خاندانی امور میں اسلامی عدالت خود دخل اندازی نہیں کر سکتی

73

اسلام میں حکومت کا عائلی امور سے کوئی تعلق نہیں

73

ریاست اقدار روایات اخلاقیات کی نہیں فرد کی آزادی کا تحفظ کرتی ہے

74

عدالت اور آئین مذہبی اقدار روایات کے قتل کو نہیں روکتے

75

ریاست اور عدالت مذہبی اقدار روایات اکا تحفظ کیوں نہیں کرتی؟

75

جدید ریاست آزادی کے نام پر فرد کی پوری زندگی کو کالونائیز کر دیتی ہے

77

1995ء میں چلاس میں ایک عورت بارہ بچے جنم دیتی تھی

78

نشوز کی سزا کا عدالتی کاروائی ریاست سے کوئی تعلق نہیں

80

اسلام میں عائلی امور عدالت نہیں روایتی اجتماعتییں حل کرتی ہے

81

انسانی زندگی کے معاملات میں بھی ریاست کا عمل دخل نہیں ہے

82

استعماری قوتوں نے شرعی قوانین سب سے پہلے کیوں ختم کیے؟

82

علماء پاکستانی ریاست سے اتنی محبت کیوں رکھتے ہیں؟

84

تمام لبرل ملحد سیکولر پاکستان کے مخالف ہیں

84

ریاست پاکستان اور اسلام کے تعلق کی نوعیت

85

مدرسہ چھوڑتے ہی علماء کے معاوضے کیوں بڑھ جاتے ہیں

86

اسلامی خلافت میں علماء اور امارت اسلامی کا تعلق

86

عالم وہ ہے جو پانچ مابعد الطبیعیاتی سوالات کا علم رکھتا تھا

87

مغرب میں سائنس دانوں کی بھی کوئی عزت نہیں

88

امریکہ میں سائنس دانوں کو کیسے ذلیل کیا جاتا ہے

93

جدید ریاست کا اصل مذہب سرمایہ کی پرستش ہے

94

روایتی معاشروں میں پیداوار پہلے ضرورت کے لیے ہوتی تھی

95

معیار زندگی میں مسلسل مستقبل اضافہ جدید عقیدہ ہے

96

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 583
  • اس ہفتے کے قارئین: 11489
  • اس ماہ کے قارئین: 36017
  • کل قارئین : 47156538

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں