اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #2232

    مصنف : ائمہ حرمین

    مشاہدات : 4190

    خطبات حرمین حصہ اول

    (جمعرات 03 جولائی 2014ء) ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں ۔اور خطبات کے ذریعے  عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں ۔ علمائے  کرام  کے  مجموعہ خطبات  کےحوالے سے  کئی  مجموعات  شائع ہوچکے  ہیں۔ان میں  سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز ، خطاب  سلفیہ ،خطبات آزاد ، خطبا ت  بہاولپور ی خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب ،وغیرہ ، قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے  12 ضخیم مجلدات پر مشتمل  ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر  نظر کتاب  خطبات حرمین ‘‘  دو جلدوں پر مشتمل  خطباء حرمین شریفین کے خطبات کامجموعہ ہے۔جلد اول حرم مکی کے تین شیوخ اور جلد ثانی حرم مدنی کے  پانچ  شیوخ کے  خطبات پر مشتمل ہے جلد اول کے شروع میں حرم مکی  او رجلدثانی  کے شروع  میں حرم مدنی  کے  جن ائمہ  خطبائے کرام کے خطبات ان میں شامل ہیں  ان کا مختصر تعارف بھی  پیش کردیا  گیا ہے ان دونوں جلدوں میں  صرف  سال 1422ھ کے خطبات ہیں۔ خطبات میں  مذکورہ احادیث وآثار کی  تحقیق وتخریج کا کام  محترم حافظ شاہد محمود ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی  )  نے انجام دیا ہے ۔اللہ تعالی’’خطبات حرمین‘‘ کو  خطباء واعظین اورعوام  الناس کے لیے  باعث استفادہ بنائے  (آمین) ( م ۔ا)

     

  • 2 #2232.01

    مصنف : ائمہ حرمین

    مشاہدات : 3483

    خطبات حرمین حصہ دوم

    (جمعہ 04 جولائی 2014ء) ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں ۔اور خطبات کے ذریعے  عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں ۔ علمائے  کرام  کے  مجموعہ خطبات  کےحوالے سے  کئی  مجموعات  شائع ہوچکے  ہیں۔ان میں  سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز ، خطاب  سلفیہ ،خطبات آزاد ، خطبا ت  بہاولپور ی خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب ،وغیرہ ، قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے  12 ضخیم مجلدات پر مشتمل  ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر  نظر کتاب  خطبات حرمین ‘‘  دو جلدوں پر مشتمل  خطباء حرمین شریفین کے خطبات کامجموعہ ہے۔جلد اول حرم مکی کے تین شیوخ اور جلد ثانی حرم مدنی کے  پانچ  شیوخ کے  خطبات پر مشتمل ہے جلد اول کے شروع میں حرم مکی  او رجلدثانی  کے شروع  میں حرم مدنی  کے  جن ائمہ  خطبائے کرام کے خطبات ان میں شامل ہیں  ان کا مختصر تعارف بھی  پیش کردیا  گیا ہے ان دونوں جلدوں میں  صرف  سال 1422ھ کے خطبات ہیں۔ خطبات میں  مذکورہ احادیث وآثار کی  تحقیق وتخریج کا کام  محترم حافظ شاہد محمود ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی  )  نے انجام دیا ہے ۔اللہ تعالی’’خطبات حرمین‘‘ کو  خطباء واعظین اورعوام  الناس کے لیے  باعث استفادہ بنائے  (آمین) ( م ۔ا)

     

  • 3 #3222

    مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

    مشاہدات : 2494

    سوئے حرم حج وعمرہ اور قربانی کے احکام و مسائل

    (منگل 09 جون 2015ء) ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ

    حج اسلام کے ارکانِ خمسہ میں اسے ایک رکن  ہے ۔ بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔اور جس طرح نماز ،روزہ ، زکوٰۃ ،اسلام کے ارکان اور فرائض ہیں اسی طرح حج  دین کا بہت  بڑا رکن اور فیع الشان فریضہ ہے نماز  اور روزہ صرف بدنی عبادت ہے ۔ زکوٰۃ صرف مالی عبادت ہے  ۔ لیکن حج اپنے  اندر بدنی اور مالی دونوں قسم کی عبادتیں سموئے  ہوئے ۔ یعنی حا جی گھر سے چل کر مکہ مکرمہ ،عرفات اورمدینہ منورہ سے  ہو کر لوٹتا اور ساتھ ہی مال بھی خرچ کرتا ہے تو گویا دونوں قسم کی بدنی اور مالی عبادتوں کا شرف حاصل کرتا ہے ۔حج کرنے  سے پہلے  حج  کے طریقۂکار  سےمکمل آگاہی  ضرور ی ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری  ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سوئے حرم   حج وعمر ہ اور قربانی کے احکام ومسائل‘‘ محترم جناب مولانا محمد منیر  قمر﷾ کے  تقریبا  ربع  صدی قبل  ریڈیو متحدہ عرب امارات ام القیوین سے  شمال اسٹوڈیوز کی اردو  سروس میں نشر ہونے والے  سلسلہ وار پروگرام ’’ سوئے حرم‘‘ کی  کتابی شکل ہے  جس میں  مناسب ترمیم اورمفید اضافے بھی کیے گئے ہیں۔ اس کتاب  میں حج وعمرہ اور قربانی کے جملہ  احکام ومسائل کا  کتاب وسنت کی روشنی میں  احاطہ کیا گیا ہے ۔  حافظ عبد الرؤف ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) کی  کتاب  میں  وارد تمام احادیث وآثار کی علمی  وتفصیلی تخریج   نے  کتاب کی افادیت کودوبالا کردیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ کتاب کے مؤلف ،مخرِّج ومعلّق کی  اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور اسے   عوام الناس کے   مفید ونافع بنائے (آمین) (م۔ا)
     

  • 4 #3927

    مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

    مشاہدات : 1584

    مراۃ الزکوۃ

    (پیر 11 جنوری 2016ء) ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکانِ خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مرآۃ الزکاۃ ‘‘ بھی اسی سلسلہ ایک کڑی ہے ۔جو کہ معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی ﷫ کی زکوۃ کےموضوع پر آسان فہم جامع کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے زکاۃ او رصدقات کےجملہ مسائل قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں اور زکاۃ کےبارے میں منکرین حدیث کے باطل افکارو نظریات کا رد کیا ہے ۔یہ کتاب دراصل ہفت روزہ ’’ ایشیاء ‘‘ لاہور جلد 8 شمارہ 21 میں مولانا جعفر پھلواری کی طرف سے ایک مضمون ’’ کیا انکم ٹیکس زکوٰۃ ہے‘‘ کےشائع ہونےپر مولانا سیالکوٹی نے تحریر کی ۔جعفر پھلواری نے اپنے اس مضمون میں واضح کیا کہ حکومت جو انکم ٹیکس وصول کرتی ہے اسےزکوٰۃ مان لینے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔موجود ہ انکم ٹیکس زکوٰۃ ہی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ جولوگ انکم ٹیکس حکومت کوادا کرتےہیں وہ قرآن کےفریضہ زکوٰۃ سےعہدہ برا ہوجاتے ہیں انہیں علیحدہ زکاۃ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تو مولانا محمد صادق ﷫ نے پھلواری صاحب کے انکارحدیث پر مبنی باطل نظریات کا خوب جواب دیا اور ثابت کیا ہے انکم ٹیکس کی ادائیگی سے زکاۃ کافریضہ ادا نہیں ہوتا اور پھلواری صاحب بھی برصغیر کے منکر حدیث غلام احمد پرویز کی صف میں شامل ہیں اور ان ہی افکار ونظریات کے حامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ مولانا کی تمام تبلیغی وتصنیفی خدمات کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 5 #6929

    مصنف : محمد منیر قمر

    مشاہدات : 1079

    بدعات رجب و شعبان

    (ہفتہ 13 اپریل 2019ء) ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ لیکن عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی   خلقت  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سن بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے ۔انہی بدعات   میں  سےماہ رجب  اور ماہ شعبان کی بدعات ہیں ۔ رجب اسلامی سال کا  ساتواں قمری  مہینہ  ہے اور حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے   نبیﷺ نے  فرمایا ’سال بارہ مہینوں کاہے  جن میں سے چار حرمت والے  ہیں   لفظ رجب ترجیب سےماخوذ ہے کہ جس کے  معنی تعظیم کے ہیں ،اس مہینے کی تعظیم اور حرمت کی وجہ  سے اس  کا  نام ’’رجب ‘‘ رکھا گیا کیوں عرب اس مہینے میں  لڑائی سے  مکمل  اجتناب کرتے تھے ۔اس مہینےمیں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ  خاص نہیں کیا گیا جن بعض اعمال کوفضیلت کےساتھ کے بڑھا چڑہا کر بیان کیاجاتا ہے  وہ محض فرضی قصے اور ضعیف و موضوع روایات پر مبنی داستانیں ہیں لہذا جواعمال کتاب وسنت سےثابت ہیں ان پر عمل کرنا چائیے  مسلمان اس ماہِ رجب میں کئی  قسم کے کام کرتے ہیں مثلا صلاۃ الرغائب، نفلی روزں کا  اہتمام ، ثواب کی نیت سے اس ماہ  زکوۃ دینا ،22 رجب کو کونڈوں کی رسم  اداکرنا 27 رجب کو  شب معراج کی وجہ سے  خصوصی  عبادت کرنا، مساجد پر چراغاں کرنا جلسے  وجلوس کااہتمام کرنا،آتش بازی اور اس جیسی دیگر خرافات پر عمل  کرنایہ سب  کام بدعات کے دائرے میں  آتے ہیں ۔ اسلامی کیلنڈر کا آٹھواں مہینہ شعبان کا مہینہ ہے اس مہینے کو رجب اور رمضان کے مابین ہونے کی وجہ سے شعبان کہا جاتا ہے ۔حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضوراکرم ﷺکوشعبان کا مہینہ بہت پسند تھا اورآپ ﷺشعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور شعبان کے مہینے میں اپنے گناہوں کو آنسوؤں سے دھونے کا اہتمام کرنا چاہئے جس سے دل پاک ہوجاتا ہے ۔شعبان کے روزے نفلی عبادت ہے۔  ماہ شعبان  میں شب برات  کے  سلسلے میں   کئی بدعات ہمارے معاشرہ میں رواج پاچکی ہیں  ہیں  جس  کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’بدعات رجب وشعبان ‘‘مولانا محمدمنیر قمر﷾ (مترجم  ومصنف کتب کثیرہ کے   آٹھ ریڈیائی تقاریرکا مجموعہ ہےجو متحدہ عرب امارات  ام القیوین کی اردو سروس سے  انہوں نے بدعات رجب وشعبان کے نام سے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیے ۔ بعد ازاں  ان  تقاریر کو مولانا  کی صاحبزادی نبیلہ  قمر نے  اپنے والد گرامی کے خطابات کو   تحریر کی شکل میں  منتقل کیا ۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عامۃ الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1296
  • اس ہفتے کے قارئین 14935
  • اس ماہ کے قارئین 53329
  • کل قارئین49437905

موضوعاتی فہرست