رکوع میں آ کر ملنے والے کی رکعت ؟ جانبین کے دلائل کا جائزہ(45#)

ابو عدنان محمد منیر قمر
توحید پبلیکیشنز، بنگلور
13
260 (PKR)
1 MB

نماز کے ارکان کی ادائیگی اگر سنت کے مطابق ہو گی تو نماز قابل قبول ہو گی –نماز کےمسائل میں جس طرح سے فقہاء کے درمیان اختلاف  پایا جاتا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کتنا محتاط پہلو ہے کہ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اس میں کوئی کوتاہی باقی نہ رہ جائے-اسی طرح نماز کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص رکوع میں آکر ملتا ہے تو کیا اس کی رکعت شمار کی جائے گی یا اس کو وہ رکعت دوبارہ پڑھنی ہو گی؟زير نظر كتابچہ میں ابوعدنان محمد منیر قمر نے تجزیہ پیش کیا ہے کہ رکوع میں آکر ملنے والے کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے رکعت ہونے یا نہ ہونے والے دونوں مؤقف کے دلائل کا حقیقی موازنہ پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ ایسے شخص کو وہ رکعت دوبارہ ادا کرنا ہوگی کیونکہ جمہور سلف صالحین کا یہی مؤقف ہے-
 

     

عناوین

 

صفحہ نمبر

پیش لفظ

::

1

مدرک رکوع کی رکعت

::

2

مانعین رکعت اور ان کےدلائل

::

3

مشکوۃ کی شرح المرعاۃ

::

4

جزء القراءۃ

::

4

شرح زرقانی

::

6

نیل الاوطار

::

6

کتاب القراءۃ

::

7

المحلي

::

7

امام شوکانی کارجوع

::

7

علامه مقبلي

::

8

علامہ نواب صدیق حسن خاں

::

8

شیخ الکل علامہ محدث سید نذیر حسین دہلوی

::

8

علامہ شمس الحق عظیم آبادی

::

9

علامہ عبدالرحمن مبارکپوری

::

9

دیگر کبار علماء

::

9

قائلین رکعت کے دلائل

::

9

پہلی دلیل

::

10

درسری دلیل

::

11

تیسری دلیل

::

12

چوتھی دلیل

::

13

ممانعت کس بات کی

::

14

لاتعد کا ضبط اور اعراب

::

16

وہ رکعت ہوئی یا نہیں

::

17

الغرض

::

18

حواله جات

 

19

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1906
  • اس ہفتے کے قارئین: 7383
  • اس ماہ کے قارئین: 35632
  • کل قارئین : 46498058

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں