ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

  • ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

    No Image
    اس میں بھلا کیا شک ہے کہ اس وقت امت مسلمہ پرزوال کا دور ہے۔ مسلمان ہر لحاظ سے ابتر کا شکار ہیں۔ ان کی سیاست میں انتشار، ان کی معاشرت میں بے راہ روی، ان کی معیشت میں تباہ حالی اسی طرح تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کا شدید فقدان ہے۔ گویہ یہ زوال ہمہ جہتی ہے۔ اور یہ شروع بھی گزشتہ کچھ دہائیوں سے ہواہے۔ امت کی اس زبوں حالی کو دیکھ کر اسے سدھارنے کےلیے کئی ایک جماعتیں اٹھیں، ان میں سے کچھ دعوتی تھیں اور کچھ عسکری۔ ایسے ان جماعتوں میں سے سب سے اہم ترین جماعت اخوان المسلمین ہے جس نے احیائے امت کےلیے تقریباً ہمہ جہت کام کیا۔ بنیادی طور پر اخوان کامحاذ سیاسی تھا۔ اور گزشتہ صدی میں جو جماعتیں امت کےلیے ایک نمونے کی حیثیت سے سامنے آئی ہیں ان میں سے بھی اخوان کا شمار ہوتا ہے۔ مختصر بات یہ ہےکہ اخوان کانظم ونسق اور اس کے کارکنان کی تربیت واصلاح ایک مثال تھے۔ زیرنظرکتاب میں اس عظیم تحریک کے نظام اصلاح وتربیت کو سمجھانے کی یا اسےآگے پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں مصنف نے اس تحریک کے دعوتی اور تربیتی پہلو کو زیادہ اجاگر کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

    No Image

    اسلام اپنے ماننے والوں سے مکمل سپردگی اور کامل اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔مسجد سے بازار تک، مدرسہ سے اسمبلی تک ہر جگہ شریعت کے احکام کی مخلصانہ پیروی اور اللہ کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا مطلوب ہے۔دین میں کسی کتر بیونت، کانٹ چھانٹ کی اجازت ہر گز نہیں ہے۔عبادات مشروعہ میں کامل انہماک، اخبات وانابت اور اخلاص وللہیت بدرجہ اولی ہر مومن پر واجب ہے۔اسلام، ایمان اور احسان کے ارتقائی مراحل طے کر کے ہی بندہ مومن خدا رسیدہ بنتا ہےاور اخروی انعامات کا مستحق قرار پاتا ہے۔بالکل اسی طرح   دین کی دعوت واقامت، تجدید واصلاح، معاشرہ میں اسلام کے احیا وغلبہ کی منصوبہ بندی،منکر کو روکنے کی جدوجہد، طاغوت کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف معرکہ آرائی بھی بندہ مومن کے فرائض میں شامل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" احیائے دین اور ہندوستانی علما، نظریاتی تفسیر اور عملی جد وجہد"علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر محترم ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے احیائے دین کے سلسلے میں نظریاتی تفسیر اور عملی میدان میں ہندوستانی علماء کی خدمات پر روشی ڈالی ہے۔(راسخ)

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

    No Image

    تہذیبیں گروہ انسانی کی شدید محنت اور جاں فشانی کا ثمرہ ہوتی ہیں۔ ہر گروہ کو اپنی تہذیب سے فطری وابستگی ہوتی ہے۔ جب تک اس کی تہذیب اسے تسکین دیتی ہے، وہ دیگر تہذیبوں سے بے نیاز رہتا ہے۔ جب کوئی بیرونی تہذیب اس پر دباؤ ڈالنے لگتی ہے تو معاشرہ اپنی تہذیب کی مدافعت کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، اور مخالف تہذیب کو اپنی تہذیب پر اثر انداز ہونے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ مدافعت اکثر حربی ٹکراؤ کی صورت اختیار کر جاتی ہے،اور اگر حربی مدافعت کی قوت باقی نہیں رہ جاتی تو غالب معاشرے کے خلاف سرد جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ تاآنکہ دونوں میں سے کسی ایک کو قطعی برتری حاصل نہ ہو جائے۔ بصورت دیگر کوئی نئی تہذیب وجود میں آتی ہے جس میں متحارب معاشرے ضم ہوجاتے ہیں۔ مستشرقین بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "یہودی مغرب اور مسلمان" محترم ڈاکٹرعبید اللہ فہد فلاحی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مغربی یہودیوں کی اسلام کے خلاف کی جانے والی اقتصادی، عسکری اور فکری سازشوں کو طشت ازبام کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

    No Image

    فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے۔ فلسفہ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔فلسفہ علم و آگہی کا علم ہے، یہ ایک ہمہ گیر علم ہے جو وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیاء کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات خود اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔فلسفہ کو ان معنوں میں ’’ام العلوم‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کے تقریباً تمام علوم کا منبع و ماخذ ہے۔ ریاضی، علم طبیعیات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات، معاشرتی علوم سب اسی فلسفہ کے عطایا ہیں۔پانی کے اجزائے ترکیبی عناصر (آکسیجن، ہائیڈروجن) معلوم کرنا سائنس ہے اور یہ دریافت کرنا کہ کیا اس ترکیب اور نظام کے پیچھے کوئی دماغ مصروف عمل ہے ؟ فلسفہ ہے ۔ اقوام عالم کے عروج و زوال پر بحث کرنا تاریخ ہے اور وہ قوانین اخذ کرنا جو عروج و زوال کا باعث بنتے ہیں ۔ فلسفہ ہے ۔ فلسفی کائناتی مسائل کی حقیقت تلاش کرتا اور اقدار و معانی کا مطالعہ کرتا ہے ۔ افلاطون کہتا ہے کہ فلسفہ تلاش حقیقت کا نام ہے ۔ رواقیہ کے ہاں علم ، نیکی ، فضیلت اور ایسی دانش حاصل کرنے کا نام فلسفہ ہے جو خدائی مشیت سے ہم آہنگ کر دے ۔ زیر تبصرہ کتاب "ابن رشد ﷫اور ابن خلدون﷫، مذہب، فلسفہ اور سماجیات" محترم ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے امام ابن رشد اور امام ابن خلدون کے مذہب، فلسفے اور سماجیات کو جمع کر دیا ہے۔ (راسخ)

    مزید مطالعہ۔۔۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39780603

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں