علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

  • نام : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
  • ملک : علی گڑھ

کل کتب 4

دکھائیں
کتب
  • 1 #5053

    مصنف : پروفیسر ابو سفیان اصلاحی

    مشاہدات : 2298

    کتابیات قرآن

    (منگل 27 دسمبر 2016ء) ناشر : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
    #5053 Book صفحات: 244

    علم و تحقیق کے میدان میں کتابیاتی لٹریچر کی اہمیت، ضرورت اور افادیت اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ دورِ حاضر میں کتابیات اور اشاریہ سازی کے فن میں جو غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ علمی وتحقیقی کاموں کے لیے اس کی ناگزیر ضرورت و اہمیت کا احساس سب سے پہلے مسلمانوں ہی نے کیا اور اس میدان میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ کتابیات کا ایک بنیادی فائدہ تو یہ ہے کہ بہت سی علمی اور تحقیقی کاوشیں جو امتداد زمانہ کے باعث اہل علم کی نظروں سے اوجھل ہوچکی ہیں وہ دوبارہ نظر میں آجاتی ہیں اور اس طرح ان سے استفادہ کی راہ آسان ہوجاتی ہے۔ نیز بہت سے غیر معروف مصنفین کی علمی خدمات سے اہل علم ودانش کو متعارف ہونے کا موقع بھی ملتاہے اور ان تک رسائی کی سبیل پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے زیر بحث موضوع پر مطلوبہ معلومات تک رسائی اس حد تک آسان ہو گئی ہے کہ کسی بھی علمی و تحقیقی موضوع پر کام کرنے والا اسکالر آسانی سے یہ معلوم کرسکتا ہے کہ زیر بحث موضوع پر اب تک کس قدر کام ہوچکا ہے اور وہ کہاں دستیاب ہے۔ اس سے مواد کی تلاش و جستجو کا کام بہت کچھ آسان ہو جاتا ہے۔ زیر تب...

  • 2 #5237

    مصنف : پروفیسر ابو سفیان اصلاحی

    مشاہدات : 1600

    قرآنیات و ادبیات

    (پیر 27 مارچ 2017ء) ناشر : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
    #5237 Book صفحات: 466

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے ہیں ۔تاکہ خدمت قرآن کے  عظیم الشان شرف سے مشر ف ہوں۔لیکن قرآن مجید کے مطالعہ سے پہلے اس کے اصول ومبادی کو دیکھنا ضروری ہے تاکہ انسان صحیح معنوں میں استفادہ کر سکے۔قرآن مجید کتاب ہدایت ہونے کے ساتھ ساتھ ادبیات کا ایک بہترین مرقع بھی ہے۔اس کی معنویت اور ادبیت روز اول سے مثالی ہے۔ترقی کی تمام منازل طے کر لینے کے باوجود انسانیت اس کی ہم سری کرنے سے قاصر ہے۔ زیرتبصرہ کتاب  '' قرآنیات وادبیات '' ہندوستان کے معروف عالم دین محتر م پروفیسر ابو سفیان اصلاحی...

  • 3 #5522

    مصنف : پروفیسر ابو سفیان اصلاحی

    مشاہدات : 1583

    سیرت پاک ۔ مسائل و مباحث

    (منگل 16 مئی 2017ء) ناشر : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
    #5522 Book صفحات: 436

    سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔ اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "سیرت پاک۔مسائل ومباحث، باختصاص عربی ادبیات "انڈیا کے پروفیسر ابو سفیان اصلاحی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے عربی، اردو، نظم اور نثر م...

  • 4 #5785

    مصنف : ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

    مشاہدات : 3319

    ابن رشد اور ابن خلدون (مذہب، فلسفہ، سماجیات)

    (جمعرات 20 جولائی 2017ء) ناشر : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
    #5785 Book صفحات: 303

    فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے۔ فلسفہ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔فلسفہ علم و آگہی کا علم ہے، یہ ایک ہمہ گیر علم ہے جو وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیاء کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات خود اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔فلسفہ کو ان معنوں میں ’’ام العلوم‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کے تقریباً تمام علوم کا منبع و ماخذ ہے۔ ریاضی، علم طبیعیات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات، معاشرتی علوم سب اسی فلسفہ کے عطایا ہیں۔پانی کے اجزائے ترکیبی عناصر (آکسیجن، ہائیڈروجن) معلوم کرنا سائنس ہے اور یہ دریافت کرنا کہ کیا اس ترکیب اور نظام کے پیچھے کوئی دماغ مصروف عمل ہے ؟ فلسفہ ہے ۔ اقوام عالم کے عروج و زوال پر بحث کرنا تاریخ ہے اور وہ قوانین اخذ کرنا جو عروج و زوال کا باعث بنتے ہیں ۔ فلسفہ ہے ۔ فلسفی کا...

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1208
  • اس ہفتے کے قارئین 12395
  • اس ماہ کے قارئین 20939
  • کل قارئین54157890

موضوعاتی فہرست