مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

18 کل کتب
دکھائیں

  • 1 اسلام میں روحانیت کا تصور (جمعرات 21 فروری 2019ء)

    مشاہدات:1435

    ایک آیت قرآنی کے مطابق  روح اللہ تعالیٰ کا  امر ہے ۔قرآن پاک کی آیات میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ انسان ناقابل تذکرہ شئے تھا۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح ڈال دی ہے۔ یہ بولتا، سنتا، سمجھتا، محسوس کرتا انسان بن گیا۔روح کے لغوی معنی پھونک اور اصطلاحی معنی سکون ، راحت، لطافت کے بنتے ہیں۔یہ روح خدا کی قربت کی علامت ہے کیونکہ اسے خدا نے اپنی جانب براہ راست نسبت دی ہے  اور روحانیت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، اللہ پر پختہ یقین واعتماد اور اللہ کو حاضر وناظر جان کر اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے تحت مخلوقِ خدا سے معاملہ کرنا۔ روحانیت کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ انسان اسی دنیا کی زندگی میں مصروف رہے اور اللہ کو حاضرو ناظر جان کر ہر کسی کے حقوق کا خیال رکھے۔ ایک انسان پر سب سے بڑا حق اُس کی اپنی ذات کا ہے۔غرض یہ کہ ہر وہ انسان جو کسی طریقے سے مخلوقِ خدا کو آرام اور آسانیاں بہم پہنچاتا ہے، وہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور یہی خدمت انسان کو روحانی تسکین پہنچاتی ہے۔ اور روحانی تسکین کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ انسان پانچ وقت کی نماز پڑھے، اللہ کے بڑے بڑے احکام کو بجا لائے، کبیرہ گناہوں سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرے، اپنی صحت کا خیال رکھے، روزانہ خدمتِ خلق کا براہ راست کوئی کام کرے، اپنے سب رشتہ داروں اور ہمسایوں کا خیال رکھے، غریبوں کی مدد کرے، قانون کی پابندی کرے، خوش اخلاقی کا رویہ اپنائے اور اپنی معاش میں دیانت دار رہے۔ یہی اسلام کا تصور  روحانیت ہے اور ایسی زندگی گزارنے سے روحانی تسکین ملتی ہے زیر نظر کتاب ’’ اخلاق و آداب 

  • 2 نراشنس اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ 06 جون 2014ء)

    مشاہدات:2044

    نبی کریم ﷺسلسلہ نبوت کی سب سے آخری کڑی ہیں۔آپ کی نبوت اور بعثت کے تذکرے اور چرچے تو آپ کی آمد سے پہلے ہی پھیل چکے تھے۔تورات اور انجیل میں آپ کے آنے کی متعدد بشارتیں   موجود ہیں،اور سابقہ انبیاء کرام ﷤نے بھی اپنی اپنی امتوں کوآپ کی بعثت کی بشارتیں دیں۔خیر یہ بشارتیں تو مستند آسمانی کتب میں موجود تھیں۔اس کے علاوہ آپ کی بعثت کی خوشخبریاں بعض ایسی کتب اور ہندو جیسے قدیم مذاہب میں بھی پائی جاتی ہیں ،جن کی ہمارے ہاں کوئی استنادی حیثیت نہیں ہے،اور ان کے آسمانی یا غیر آسمانی مذاہب ہونے کے بارے کوئی قطعی روایت ثابت نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب" نراشنس اور آخری رسول ﷺ"پنڈت وید پرکاش اپادھیائے کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں ہندووں کی مذہبی کتابوں سے متعدد دلائل کے ساتھ نبی کریم ﷺکی بعثت اور آپ کی آمد کو ثابت کیا ہے اور اس بات کو بخوبی واضح کیا ہے کہ جس "نراشنس" کا تذکرہ ہندو وں کی مذہبی کتابوں میں ملتا ہے ،اس سے مراد نبی کریم ﷺہی ہیں۔اصل کتاب ہندی میں ہے اور اس کا اردو ترجمہ محترم وصی اقبال صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے تھوڑا پڑھے لکھے عام لوگوں کی راہنمائی کے لئے لکھی ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک انتہائی مفید ترین کتاب ہے،جسے زیادہ سےزیادہ ہندووں کو پڑھایا جانا چاہئے تاکہ وہ بھی دین حنیف کی آغوش میں آکر اپنی دنیا وآخرت دونوں جہانوں کو سنوار لیں۔اللہ تعالی اس کتاب کو ہدایت کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)

  • 3 اسلام انسانی حقوق کا پاسبان (ہفتہ 31 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:3387

    حقوق ِانسانی کے سلسلہ میں اسلام کا تصور بہت ہی واضح اور اس کا کردار بالکل نمایاں ہے ۔ اس نے فرد اور  جماعت اور مختلف سطح کے افراد اور طبقات کے حقوق کا تعین کیا اور عملاً یہ  حقوق فراہم کیے  ۔ جن افراد اور طبقات کے حقوق ضائع ہور ہے تھے  ان کی نصرت وحمایت میں کھڑا ہوا اور جو لوگ ان حقوق پر دست درازی کر رہے تھے ان پر سخت تنقید کی اور انہیں دنیا اورآخرت کی وعید سنائی ،معاشرہ کو ان کے  ساتھ بہتر سلوک کی تعلیم وترغیب دی۔ قرآن مجید انسانی حقوق کی ان کوششوں کی اساس ہے اور احادیث میں ان کی قولی وعملی تشریح موجود ہے ۔قرآن وحدیث کا اندازِ بحث ونظر مروجہ قانونی کتابوں کا سا نہیں ہے۔کسی حق کو جاننے کےلیے  پورے قرآن اور ذخیرۂ حدیث کودیکھنا چاہیے۔ فقہاء کرام او رماہر ین شریعت نے تفصیل سے اس پر غور کیا ہے اور حقوق کےتعین کی اپنے دور کےحالات وظروف کے لحاظ سے   کوشش کی ہے ۔ اسلامی قانون کے سمجھنےمیں اس سے بڑی مدد ملتی ہے ۔ زیر  نظر کتاب ’’اسلام انسانی حقوق کا پاسبان‘‘انڈیا کے ممتاز عالم دین  محترم  مولانا سید جلال الدین عمری ﷾ کی  تصنیف ہے ۔موصوف ایک جید عالم دین ،بہترین خطیب، اورممتاز مصنف کی حیثیت سےمعروف ہیں ۔ قرآن وسنت کا گہرا علم رکھتے ہیں ۔ موضوع کا تنوع،اسلوب کی انفرادیت، طرزِ استدلال کی ندرت اور زبان وبیان کی شگفتگی ان کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔موصوف  مختلف موضوعات پر دودرجن سےزائد کتب کےمصنف ہیں ۔کتاب ہذا میں مصنف نے  بڑے عالمانہ  انداز میں انسانی حقوق اور اس کےت...

  • 4 قرآن کا فلسفہ اخلاق (پیر 04 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2538

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے“۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ قرآن کریم میں اخلاق کا ایک جامع تصور پیش کیا گیا ہے ۔ جو انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسانی زندگی کےتمام گوشوں میں کون سے کام ہیں جن سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور کون سے کام اس کے غضب کو بھڑکاتے ہیں ۔ انبیائے کرام کی بعثت اسی اخلاق کی نشو ونما اوراستحکام کے لیے ہوتی رہی ہے اور اسی کی تکمیل کے لیے خاتم النبین حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تھے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’قرآن کا فلسفہ اخلاق‘‘ مولانا سید احمد عروج قادری ﷫ کی تصنیف ہے ۔ مصنف موصوف نے اس میں انسان کے اخلاقی وجود سےبحث کرتے ہوئے یونانی فلاسفہ کی نارسائیوں کا تذکرہ کیا ہے ۔اس کے بعد قرآن کےفسلسفۂ اخلاق سے مفصل اور مدلل بحث کی ہے ۔ اورسورۃ النحل کی آیت 90 کی جامع تشریح کی ہے اور اس میں مذکور مکارمِ اخلاق اوررزائل اخلاق پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔مولانا عروج...

  • 5 مسلمانوں کی حقیقی تصویر ( غلط فہمیوں کا ازالہ ) (جمعہ 08 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1613

    عصر حاضر میں اسلام اور مسلمان بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں لیکن اس بحث میں عام طور پر اسلام اور مسلمانوں کی خوبیوں اور خصوصیات کو اجاگر کرنے کی بجائے ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو نمایاں کیاجاتا ہے خصوصا مسلمانوں کی خامیوں او رکمیوں کا ذکر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام اور اس کی تعلیمات یہی ہیں جن کے ماننے والے یہ مسلمان ہیں ۔یعنی مسلمان اس وقت دوہرے حالات کا شکار ہیں ایک طرف ان کو محتلف طریقوں سے نظر انداز کیا جاتا ہے دوسری طرف ان کے اعمال وکردار کی طرف انگلی بھی اٹھائی جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں ان پر دوہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے اعمال وکردار کو قرآن وحدیث کے سانچے میں ڈھالیں اور لوگوں کو حرف گیری کا موقع نہ دیں زیر تبصرہ کتاب ’’ مسلمانوں کی حقیقی تصویر چند غلط فہمیوں کا ازالہ ‘‘ انڈیا کے عالم دین مولانا محمد برجیس کریمی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے دونوں فریقوں کو مخاطب بنایا ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں اوران پہلوؤں کی بھی وضاحت کردی گئی ہے جن میں اصلاح مطلوب ہے ۔ دوسری طرف ان کے سلسلے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔(م۔ا)

  • 6 اسلام ایک نجات دہندہ تحریک (ہفتہ 25 جون 2016ء)

    مشاہدات:1604

    اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید اورنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہیں گے۔انسان کوآخرت کی نجات اسی اسلام کی پیروی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اور دنیا کے اندر وہ جن مشکلات ومصائب میں گھرا ہوا ہےاس سےاس کو نجات بھی صحیح معنوں میں اس پر عمل درآمد کے ذریعہ نصیب ہو سکتی ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب’’اسلام ایک نجات دہندہ تحریک ‘‘ مولانا سلطان احمد اصلاحی کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے معاصردنیا کے حالات کے پس منظر میں اسلام کا جامع تعارف کراتے ہوئے یہ بتایا کہ اسلام کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ پہلے انسان اورابتداء انسانیت سے خالق کائنات کا عطا کردہ ایک ہی مذہب اور ضابطۂ حیات ہے ۔ اور اسی کی مخلصانہ پیروی سے انسان دنیا وآخرت میں کامیابی کی ضمانت حاصل کرسکتا ہے۔فاضل مصنف نے عالمی سطح پر مسلمان معاشرے میں جو خامیاں ہیں ایمان داری کےساتھ ان کو سامنےلاتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اسلام کی نجات دہندہ تحریک اگر غیرمسلم انسانیت کے لیے رحمت کا پیغام ہے تو اس سے مسلمان معاشرے کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی بلکہ او ربڑھ جاتی ہےکہ اس روشنی میں وہ اپنی اصلاح کرے اور اس کے آئینے میں اپنے چہرے کو درست کرنےکی کوشش کرے ۔(م۔ا)

  • 7 اسلام کی امتیازی خصوصیات ( جرجیس کریمی ) (ہفتہ 25 جون 2016ء)

    مشاہدات:2561

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا ہے۔دینِ اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمتِ الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے زیر تبصرہ کتاب’’اسلام کی امتیازی خصوصیات ‘‘مولانامحمد جرجیس کریمی صاحب کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کی چند اہم اور نمایاں خصوصیات مطالعہ پیش کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں اسلام کی خصوصیات اور محاسن کی تلاش اور مطالعہ کا رجحان پیدا ہو اور اس پر ان کا اعتماد وایمان بحال ہو۔ تاکہ وہ اپنے دین کی حقانیت وصداقت اور ہمہ گیری کے بارے میں کسی شک وشبہ میں مبتلا نہ ہوں ۔(م۔ا)

  • 8 حقائق اسلام ( بعض اعتراضات کا جائزہ ) (جمعرات 30 جون 2016ء)

    مشاہدات:2313

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ عقائد، معاملات، عبادات، نکاح و طلاق، فوجداری قوانین، عدالتی احکام، خارجی اور داخلی تعلقات جیسے جملہ مسائل کا جواب اُصولاً یا تفصیلاًاس میں موجود ہے۔ ان مسائل کے بارے ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لئے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود انصاف پسند غیر مسلموں نے بھی اسلامی شریعت کے اس امتیاز کو تسلیم کیا ہے۔اسلام ہی نے انسانیت کی فلاح کے لئے رفاہِ عامہ اور خیرو بھلائی کے اُمورمیں کافر ومسلم کا فرق روا رکھے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی تعلیم دی۔اور اسلام نے بلا تفریق ہر انسان کے سر پرعزت و شرف کا تاج رکھا۔اور یہ اسلام کا ایسا واضح امتیاز ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب بھی اس سلسلہ میں اسلام کا سہیم اورہم پلہ نہیں ہے۔اسلام دین برحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ پوری دنیا پر پھیلے گا اگرچہ اس کے نہ ماننے والے جتنی مرضی سازشیں کرلیں۔ہر دور میں اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور اس کی تعلیمات سے لوگوں کو دور رکھنے کے لیے سازشیں ہوتی رہی ہیں۔اسلام کے محافظوں نے الحمد للہ ہر دو ر میں اسلام پر کیے اعتراضات کے   دلائل سے مزین جوابات دئیے ہیں ۔اور اس موضوع  پرباقاعدہ کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیرتبصرہ  ’’حقائق اسلام  (بعض اعتراضات  کا جائزہ )‘‘کتاب بھی اسی سلسلہ کی  ایک کڑی ہے ۔یہ کتا ب انڈیا  کے  نامور عالم دین اسلامی سکالر  جناب  ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی  کی   تصنیف ہے۔انہوں نے اس کتاب میں  چند ایسے اعتراضات  کا ان...

  • سیدنا حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابرااہیم حیات ، دعوت اور عالمی اثرات ‘‘جناب محمد رضی الاسلام ندوی کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے ملت ابراہیمی پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے ۔قرآنی...

  • 10 مولانا مسعود عالم ندوی حیات اور کارنامے (اتوار 03 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1680

    مولانا مسعود عالم  ندوی ﷫11 فروری 1910ء کو صوبہ بہار کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔آپ کاخاندان پورے علاقے میں زہد وتقویٰ اور دینداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔آپ کے خاندان کے اکثر بزرگوں کاشمار اپنے زمانے کےبڑے  جید علماء دین میں ہوتا  تھا۔آپ کےوالد گرامی  مولانا سید عبدالفتح صوبہ بہار کے چند بلند پایہ اور جید علماء میں ایک معروف  شخصیت تھے ۔ مولانا مسعود عالم نےابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی  کی زیر نگرانی میں حاصل کی  میٹر ک  کرنے  کےبعد مدرسہ غزنویہ میں  داخل ہوگے  جہاں آپ کی تمام توجہ دینی علوم وفنون کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ اس مدرسے میں آپ نےبڑی محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کی ۔اسی زمانہ میں آپ کو عربی زبان و ادب سے لگاؤ پیدا ہوا۔دوران تعلیم ہی آپ  عربی رسائل وجرائد کی تلاش میں  رہنے لگے اور ان کو بڑے شوق سے پڑھتے  اوران کو سمجھنے کی کوشش کرتے ۔مولانا  مسعود عالم ندوی اپنے وقت میں  عربی  کےنامور ادیب تھے۔مولانا کی ادبی  خدمات کے اعتراف میں سعودی عرب میں ایک سڑک کانام ’’شارع مسعود عالم ندوی ‘‘ رکھا گیا  ہے ۔ موصوف وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مجلہ ’’الضیاء ‘‘کےذریعے  ندوۃ العلماء کو عالم عرب  کے گوشے گوشے میں  متعارف کرایا۔اور اولاً جماعت اسلامی کوبھی عربوں میں متعارف کروانے والے آپ  ہیں۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’مولانامسعودعالم  ندوی حیات اور کارنامے ‘‘ علی گڑھ یونیورس...


  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1949
    • اس ہفتے کے قارئین: 6334
    • اس ماہ کے قارئین: 20305
    • کل قارئین : 48368089

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں