مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

  • 1 اسلام میں روحانیت کا تصور (جمعرات 21 فروری 2019ء)

    مشاہدات:652

    ایک آیت قرآنی کے مطابق  روح اللہ تعالیٰ کا  امر ہے ۔قرآن پاک کی آیات میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ انسان ناقابل تذکرہ شئے تھا۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح ڈال دی ہے۔ یہ بولتا، سنتا، سمجھتا، محسوس کرتا انسان بن گیا۔روح کے لغوی معنی پھونک اور اصطلاحی معنی سکون ، راحت، لطافت کے بنتے ہیں۔یہ روح خدا کی قربت کی علامت ہے کیونکہ اسے خدا نے اپنی جانب براہ راست نسبت دی ہے  اور روحانیت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، اللہ پر پختہ یقین واعتماد اور اللہ کو حاضر وناظر جان کر اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے تحت مخلوقِ خدا سے معاملہ کرنا۔ روحانیت کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ انسان اسی دنیا کی زندگی میں مصروف رہے اور اللہ کو حاضرو ناظر جان کر ہر کسی کے حقوق کا خیال رکھے۔ ایک انسان پر سب سے بڑا حق اُس کی اپنی ذات کا ہے۔غرض یہ کہ ہر وہ انسان جو کسی طریقے سے مخلوقِ خدا کو آرام اور آسانیاں بہم پہنچاتا ہے، وہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور یہی خدمت انسان کو روحانی تسکین پہنچاتی ہے۔ اور روحانی تسکین کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ انسان پانچ وقت کی نماز پڑھے، اللہ کے بڑے بڑے احکام کو بجا لائے، کبیرہ گناہوں سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرے، اپنی صحت کا خیال رکھے، روزانہ خدمتِ خلق کا براہ راست کوئی کام کرے، اپنے سب رشتہ داروں اور ہمسایوں کا خیال رکھے، غریبوں کی مدد کرے، قانون کی پابندی کرے، خوش اخلاقی کا رویہ اپنائے اور اپنی معاش میں دیانت دار رہے۔ یہی اسلام کا تصور  روحانیت ہے اور ایسی زندگی گزارنے سے روحانی تسکین ملتی ہے زیر نظر کتاب ’’ اخلاق و آداب 

  • 2 نراشنس اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ 06 جون 2014ء)

    مشاہدات:1436

    نبی کریم ﷺسلسلہ نبوت کی سب سے آخری کڑی ہیں۔آپ کی نبوت اور بعثت کے تذکرے اور چرچے تو آپ کی آمد سے پہلے ہی پھیل چکے تھے۔تورات اور انجیل میں آپ کے آنے کی متعدد بشارتیں   موجود ہیں،اور سابقہ انبیاء کرام ﷤نے بھی اپنی اپنی امتوں کوآپ کی بعثت کی بشارتیں دیں۔خیر یہ بشارتیں تو مستند آسمانی کتب میں موجود تھیں۔اس کے علاوہ آپ کی بعثت کی خوشخبریاں بعض ایسی کتب اور ہندو جیسے قدیم مذاہب میں بھی پائی جاتی ہیں ،جن کی ہمارے ہاں کوئی استنادی حیثیت نہیں ہے،اور ان کے آسمانی یا غیر آسمانی مذاہب ہونے کے بارے کوئی قطعی روایت ثابت نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب" نراشنس اور آخری رسول ﷺ"پنڈت وید پرکاش اپادھیائے کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں ہندووں کی مذہبی کتابوں سے متعدد دلائل کے ساتھ نبی کریم ﷺکی بعثت اور آپ کی آمد کو ثابت کیا ہے اور اس بات کو بخوبی واضح کیا ہے کہ جس "نراشنس" کا تذکرہ ہندو وں کی مذہبی کتابوں میں ملتا ہے ،اس سے مراد نبی کریم ﷺہی ہیں۔اصل کتاب ہندی میں ہے اور اس کا اردو ترجمہ محترم وصی اقبال صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے تھوڑا پڑھے لکھے عام لوگوں کی راہنمائی کے لئے لکھی ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک انتہائی مفید ترین کتاب ہے،جسے زیادہ سےزیادہ ہندووں کو پڑھایا جانا چاہئے تاکہ وہ بھی دین حنیف کی آغوش میں آکر اپنی دنیا وآخرت دونوں جہانوں کو سنوار لیں۔اللہ تعالی اس کتاب کو ہدایت کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)

  • 3 اسلام انسانی حقوق کا پاسبان (ہفتہ 31 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2280

    حقوق ِانسانی کے سلسلہ میں اسلام کا تصور بہت ہی واضح اور اس کا کردار بالکل نمایاں ہے ۔ اس نے فرد اور  جماعت اور مختلف سطح کے افراد اور طبقات کے حقوق کا تعین کیا اور عملاً یہ  حقوق فراہم کیے  ۔ جن افراد اور طبقات کے حقوق ضائع ہور ہے تھے  ان کی نصرت وحمایت میں کھڑا ہوا اور جو لوگ ان حقوق پر دست درازی کر رہے تھے ان پر سخت تنقید کی اور انہیں دنیا اورآخرت کی وعید سنائی ،معاشرہ کو ان کے  ساتھ بہتر سلوک کی تعلیم وترغیب دی۔ قرآن مجید انسانی حقوق کی ان کوششوں کی اساس ہے اور احادیث میں ان کی قولی وعملی تشریح موجود ہے ۔قرآن وحدیث کا اندازِ بحث ونظر مروجہ قانونی کتابوں کا سا نہیں ہے۔کسی حق کو جاننے کےلیے  پورے قرآن اور ذخیرۂ حدیث کودیکھنا چاہیے۔ فقہاء کرام او رماہر ین شریعت نے تفصیل سے اس پر غور کیا ہے اور حقوق کےتعین کی اپنے دور کےحالات وظروف کے لحاظ سے   کوشش کی ہے ۔ اسلامی قانون کے سمجھنےمیں اس سے بڑی مدد ملتی ہے ۔ زیر  نظر کتاب ’’اسلام انسانی حقوق کا پاسبان‘‘انڈیا کے ممتاز عالم دین  محترم  مولانا سید جلال الدین عمری ﷾ کی  تصنیف ہے ۔موصوف ایک جید عالم دین ،بہترین خطیب، اورممتاز مصنف کی حیثیت سےمعروف ہیں ۔ قرآن وسنت کا گہرا علم رکھتے ہیں ۔ موضوع کا تنوع،اسلوب کی انفرادیت، طرزِ استدلال کی ندرت اور زبان وبیان کی شگفتگی ان کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔موصوف  مختلف موضوعات پر دودرجن سےزائد کتب کےمصنف ہیں ۔کتاب ہذا میں مصنف نے  بڑے عالمانہ  انداز میں انسانی حقوق اور اس کےت...

  • 4 قرآن کا فلسفہ اخلاق (پیر 04 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1596

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے“۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ قرآن کریم میں اخلاق کا ایک جامع تصور پیش کیا گیا ہے ۔ جو انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسانی زندگی کےتمام گوشوں میں کون سے کام ہیں جن سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور کون سے کام اس کے غضب کو بھڑکاتے ہیں ۔ انبیائے کرام کی بعثت اسی اخلاق کی نشو ونما اوراستحکام کے لیے ہوتی رہی ہے اور اسی کی تکمیل کے لیے خاتم النبین حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تھے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’قرآن کا فلسفہ اخلاق‘‘ مولانا سید احمد عروج قادری ﷫ کی تصنیف ہے ۔ مصنف موصوف نے اس میں انسان کے اخلاقی وجود سےبحث کرتے ہوئے یونانی فلاسفہ کی نارسائیوں کا تذکرہ کیا ہے ۔اس کے بعد قرآن کےفسلسفۂ اخلاق سے مفصل اور مدلل بحث کی ہے ۔ اورسورۃ النحل کی آیت 90 کی جامع تشریح کی ہے اور اس میں مذکور مکارمِ اخلاق اوررزائل اخلاق پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔مولانا عروج...

  • 5 مسلمانوں کی حقیقی تصویر ( غلط فہمیوں کا ازالہ ) (جمعہ 08 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1072

    عصر حاضر میں اسلام اور مسلمان بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں لیکن اس بحث میں عام طور پر اسلام اور مسلمانوں کی خوبیوں اور خصوصیات کو اجاگر کرنے کی بجائے ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو نمایاں کیاجاتا ہے خصوصا مسلمانوں کی خامیوں او رکمیوں کا ذکر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام اور اس کی تعلیمات یہی ہیں جن کے ماننے والے یہ مسلمان ہیں ۔یعنی مسلمان اس وقت دوہرے حالات کا شکار ہیں ایک طرف ان کو محتلف طریقوں سے نظر انداز کیا جاتا ہے دوسری طرف ان کے اعمال وکردار کی طرف انگلی بھی اٹھائی جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں ان پر دوہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے اعمال وکردار کو قرآن وحدیث کے سانچے میں ڈھالیں اور لوگوں کو حرف گیری کا موقع نہ دیں زیر تبصرہ کتاب ’’ مسلمانوں کی حقیقی تصویر چند غلط فہمیوں کا ازالہ ‘‘ انڈیا کے عالم دین مولانا محمد برجیس کریمی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے دونوں فریقوں کو مخاطب بنایا ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں اوران پہلوؤں کی بھی وضاحت کردی گئی ہے جن میں اصلاح مطلوب ہے ۔ دوسری طرف ان کے سلسلے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔(م۔ا)

  • 6 اسلام ایک نجات دہندہ تحریک (ہفتہ 25 جون 2016ء)

    مشاہدات:1104

    اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید اورنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہیں گے۔انسان کوآخرت کی نجات اسی اسلام کی پیروی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اور دنیا کے اندر وہ جن مشکلات ومصائب میں گھرا ہوا ہےاس سےاس کو نجات بھی صحیح معنوں میں اس پر عمل درآمد کے ذریعہ نصیب ہو سکتی ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب’’اسلام ایک نجات دہندہ تحریک ‘‘ مولانا سلطان احمد اصلاحی کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے معاصردنیا کے حالات کے پس منظر میں اسلام کا جامع تعارف کراتے ہوئے یہ بتایا کہ اسلام کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ پہلے انسان اورابتداء انسانیت سے خالق کائنات کا عطا کردہ ایک ہی مذہب اور ضابطۂ حیات ہے ۔ اور اسی کی مخلصانہ پیروی سے انسان دنیا وآخرت میں کامیابی کی ضمانت حاصل کرسکتا ہے۔فاضل مصنف نے عالمی سطح پر مسلمان معاشرے میں جو خامیاں ہیں ایمان داری کےساتھ ان کو سامنےلاتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اسلام کی نجات دہندہ تحریک اگر غیرمسلم انسانیت کے لیے رحمت کا پیغام ہے تو اس سے مسلمان معاشرے کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی بلکہ او ربڑھ جاتی ہےکہ اس روشنی میں وہ اپنی اصلاح کرے اور اس کے آئینے میں اپنے چہرے کو درست کرنےکی کوشش کرے ۔(م۔ا)

  • 7 اسلام کی امتیازی خصوصیات ( جرجیس کریمی ) (ہفتہ 25 جون 2016ء)

    مشاہدات:1583

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا ہے۔دینِ اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمتِ الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے زیر تبصرہ کتاب’’اسلام کی امتیازی خصوصیات ‘‘مولانامحمد جرجیس کریمی صاحب کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کی چند اہم اور نمایاں خصوصیات مطالعہ پیش کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں اسلام کی خصوصیات اور محاسن کی تلاش اور مطالعہ کا رجحان پیدا ہو اور اس پر ان کا اعتماد وایمان بحال ہو۔ تاکہ وہ اپنے دین کی حقانیت وصداقت اور ہمہ گیری کے بارے میں کسی شک وشبہ میں مبتلا نہ ہوں ۔(م۔ا)

  • 8 حقائق اسلام ( بعض اعتراضات کا جائزہ ) (جمعرات 30 جون 2016ء)

    مشاہدات:1524

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ عقائد، معاملات، عبادات، نکاح و طلاق، فوجداری قوانین، عدالتی احکام، خارجی اور داخلی تعلقات جیسے جملہ مسائل کا جواب اُصولاً یا تفصیلاًاس میں موجود ہے۔ ان مسائل کے بارے ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لئے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود انصاف پسند غیر مسلموں نے بھی اسلامی شریعت کے اس امتیاز کو تسلیم کیا ہے۔اسلام ہی نے انسانیت کی فلاح کے لئے رفاہِ عامہ اور خیرو بھلائی کے اُمورمیں کافر ومسلم کا فرق روا رکھے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی تعلیم دی۔اور اسلام نے بلا تفریق ہر انسان کے سر پرعزت و شرف کا تاج رکھا۔اور یہ اسلام کا ایسا واضح امتیاز ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب بھی اس سلسلہ میں اسلام کا سہیم اورہم پلہ نہیں ہے۔اسلام دین برحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ پوری دنیا پر پھیلے گا اگرچہ اس کے نہ ماننے والے جتنی مرضی سازشیں کرلیں۔ہر دور میں اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور اس کی تعلیمات سے لوگوں کو دور رکھنے کے لیے سازشیں ہوتی رہی ہیں۔اسلام کے محافظوں نے الحمد للہ ہر دو ر میں اسلام پر کیے اعتراضات کے   دلائل سے مزین جوابات دئیے ہیں ۔اور اس موضوع  پرباقاعدہ کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیرتبصرہ  ’’حقائق اسلام  (بعض اعتراضات  کا جائزہ )‘‘کتاب بھی اسی سلسلہ کی  ایک کڑی ہے ۔یہ کتا ب انڈیا  کے  نامور عالم دین اسلامی سکالر  جناب  ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی  کی   تصنیف ہے۔انہوں نے اس کتاب میں  چند ایسے اعتراضات  کا ان...

  • سیدنا حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابرااہیم حیات ، دعوت اور عالمی اثرات ‘‘جناب محمد رضی الاسلام ندوی کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے ملت ابراہیمی پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے ۔قرآنی...

  • 10 مولانا مسعود عالم ندوی حیات اور کارنامے (اتوار 03 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1127

    مولانا مسعود عالم  ندوی ﷫11 فروری 1910ء کو صوبہ بہار کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔آپ کاخاندان پورے علاقے میں زہد وتقویٰ اور دینداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔آپ کے خاندان کے اکثر بزرگوں کاشمار اپنے زمانے کےبڑے  جید علماء دین میں ہوتا  تھا۔آپ کےوالد گرامی  مولانا سید عبدالفتح صوبہ بہار کے چند بلند پایہ اور جید علماء میں ایک معروف  شخصیت تھے ۔ مولانا مسعود عالم نےابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی  کی زیر نگرانی میں حاصل کی  میٹر ک  کرنے  کےبعد مدرسہ غزنویہ میں  داخل ہوگے  جہاں آپ کی تمام توجہ دینی علوم وفنون کی جانب مرکوز ہوگئی ہے۔ اس مدرسے میں آپ نےبڑی محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کی ۔اسی زمانہ میں آپ کو عربی زبان و ادب سے لگاؤ پیدا ہوا۔دوران تعلیم ہی آپ  عربی رسائل وجرائد کی تلاش میں  رہنے لگے اور ان کو بڑے شوق سے پڑھتے  اوران کو سمجھنے کی کوشش کرتے ۔مولانا  مسعود عالم ندوی اپنے وقت میں  عربی  کےنامور ادیب تھے۔مولانا کی ادبی  خدمات کے اعتراف میں سعودی عرب میں ایک سڑک کانام ’’شارع مسعود عالم ندوی ‘‘ رکھا گیا  ہے ۔ موصوف وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مجلہ ’’الضیاء ‘‘کےذریعے  ندوۃ العلماء کو عالم عرب  کے گوشے گوشے میں  متعارف کرایا۔اور اولاً جماعت اسلامی کوبھی عربوں میں متعارف کروانے والے آپ  ہیں۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’مولانامسعودعالم  ندوی حیات اور کارنامے ‘‘ علی گڑھ یونیورس...

  • 11 اسلام کے عائلی قوانین (اتوار 22 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1679

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام نے تمام انسانوں کے فرائض بیان کرتے ہوئے ان کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں۔ گھر یا خاندان ہی قوم کا خشت اول ہے۔ خاندان ہی وہ گہوارا ہے جہاں قوم کے آنے والے کل کے معمار‘ پاسبان پرورش پاتے ہیں۔ گھر ہی وہ ابتدائی مدرسہ ہے جہاں اخلاق و کردار کی جو قدریں (خواہ) اچھی ہوں یا بری‘ بلند ہوں یا پست دل و دماغ پر نقش ہوجاتی ہیں اور ان کے نقوش کبھی مدھم نہیں پڑتے۔ اس لئے اسلام گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے مبہم نصیحتوں پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے واضح اور غیر مبہم قاعدوں اور ضابطوں کا یقین بھی کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام کے عائلی قوانین"مولانا سید احمد عروج قادری صاحب کی تصنیف ہے، جسے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے مرتب فرمایا ہے۔ اس کتاب میں مولف نے...

  • 12 حضرت ابراہیم علیہ السلام امام انسانیت (جمعہ 27 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1344

    سیدنا حضرت ابراہیم﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم﷤ کا تذکرہ موجود ہے۔ قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم﷤ کا اسم گرامی آیا ہے۔ اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی۔ جب حضرت ابراہیم﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کو ابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل و رسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم﷤ کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’حضرت ابراہیم ﷤ امام انسانیت‘‘ سہ ماہی علی گڑھ کے مدیر معاون جناب ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی﷾ مصنف ومرتب کتب کثیرہ کی کاوش ہے ۔ اس...

  • 13 اسلام کا نظام امن و جنگ (بدھ 01 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:970

    اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام امن وآشتی اور صلح وسلامتی کا مذہب ہے، اس نے انسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے، اور اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو اس کی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور انہیں اپنی نجی زندگی میں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی گئی ہے۔اسلام نے ظلم وتعدی سے منع کیا ہے، بلکہ ظلم کے جواب میں بھی دوسرے فریق کے بارے میں حد انساف سے متجاوز ہونے کو ناپسند کیا ہے اور انتقام کے لئے بھی مہذب اور عادلانہ اصول وقواعد مقرر کئے ہیں۔لیکن افسوس کہ دشمنان اسلام نے اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام کا نظام امن وجنگ ‘‘ شام کے معروف ڈاکٹر مصطفیٰ سباعی کی عربی تصنیف ’نظام السلم والحرب فی الاسلام‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف نےاس کتاب میں امن وجنگ کااسلامی نقظۂ نظر پیش کیا ہے اور قرآن وحدیث نیز تاریخی شواہد سے ثابت کیا ہے کہ اسلام امن کا داعی ہے ۔ (م۔ا)

  • 14 خطبات پاکستان (اتوار 12 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1119

    مولاناسید جلال الدین عمری ۱۹۳۵ء میں جنوبی ہند میں مسلمانوں کے ایک مرکز ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر ۱۹۵۴ء میں فضیلت کاکورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے پرائیوٹ سے پاس کیا۔عمر آباد سے فراغت کے بعد مولانا جماعتِ اسلامی ہند کے اُس وقت کے مرکز رام پور آگئے اور وہاں اس کے شعبۂ تصنیف وتالیف سے وابستہ ہوگئے۔ مولانا سید جلال الدین عمری برصغیر ہندو پاک کے ان چند ممتاز علماء میں سے ہیں جنھوں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی تفہیم وتشریح کے لیے قابل قدر لٹریچر وجود بخشا ہے۔ اسلام کی دعوت، اسلام کے نظام عقائد ومعاملات اور اسلامی معاشرت پر آپ کی کتابیں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ آپ ہندوستان کی تحریک اسلامی کے چوٹی کے رہ نماؤں میں سے ہیں۔ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوؤں پر آپ کی بیش قیمت تصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کا زبردست ثبوت ہیں۔  زیر تبصرہ کتا ب’’خطبات پاکستان ‘‘ جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری ﷾ کے پاکستان میں آمد پر ان کے مختلف اداروں ، جامعات ، میں پیش گئے کے خطبات ومحاضرات اور ان کے سفر کی روداد پر مشتمل ہے۔موصوف 2005ء اور 2012ء میں پاکستان تشریف لائے تو آپ نے اسلام آباد،کراچی ، لاہور میں مختلف اداروں میں خطابات کیے ، مختلف اداروں کے...

  • 15 قادیانی مسئلہ ( جدید ایڈیشن ) (جمعہ 31 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1838

    اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا۔ اور عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقیدہ کا حامل ہے۔ نبی آخر الزماں خاتم المرسلین حضرت محمدپر رسالت ونبوت کا سلسلہ ختم کردیاگیاہے ۔اب آپﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں اسی عقیدہ پر پوری امت مسلمہ کا اجماع ہوچکا ہے۔ آپ ﷺ کےبعد جوبھی نبوت کا دعوی کرےگا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگا او رجو کوئی بھی توحید ورسالت کے شعوری اقرار ویقین کےبعد کسی دوسرے کو اپنا نبی تسلیم کر ے گا وہ بھی ملت اسلامیہ سے خارج ہوگا اوراگر توبہ کیے بغیر مرجائے تو جہنم رسید ہوگا۔نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ ہو وہ نبی نہیں بن سکتا ۔قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔اسلامی تعلیمات کی رو سے سلسلہ نبوت او روحی ختم ہوچکاہے جوکوئی دعویٰ کرے گا کہ اس پر وحی کانزول ہوتاہے وہ دجال ،کذاب ،مفتری ہوگا۔ امت محمدیہ اسےہر گز مسلمان نہیں سمجھے گی یہ امت محمدیہ کا اپنا خود ساختہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کی زبان صادقہ کا فیصلہ ہے ۔ علمائے اسلام نے قادیانی فتنے کے خلاف ہرمیدان میں ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں او ردے رہے ہیں۔تحریری میدان میں بھی علماء کرام کی یادگار خدمات ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مسئلہ قادیانی ‘&lsqu...

  • 16 دعوت دین اہمیت اور آداب (اتوار 30 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1031

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ سے ہے۔ اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، دعوت الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی پروگرام ہے جو تعلیم وتعلم ،تربیت واصلاح کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دعوت دین اہمیت اورآداب ‘‘ مولاناسیداحمد عروج قادری﷫ کے دعوت دینیہ کے سلسلے میں مامہ نامہ زندگی ،رامپور میں شائع مقالات کی کتابی صورت ہے ۔ان مقالات میں انہ...

  • 17 اہل مذاہب کو قرآن کی دعوت (جمعہ 01 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:850

    قرآن مجید لا ریب کتاب ہے ، فرقان حمید اللہ رب العزت کی با برکت کتاب ہے۔یہ رمضان المبارک کے مہینے میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل فرمائی گئی۔پھر اسے تئیس سالوں کے عرصہ میں نبی ﷺپر اتارا گیا۔قرآن مجید ہماری زندگی کا سرمایہ اور ضابطہ ہے۔ یہ جس راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرے ہمیں اُسی راہ پر چلتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن مجید ہماری دونوں زندگیوں کی بہترین عکاس کتاب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہل مذاہب کو قرآن کی دعوت‘‘ ڈاکٹر محمد الاسلام ندزی کی ہے۔ جس میں اسلام کا تعارف کرتے ہوئے تمام مذاہب کو مخاطب کیا گیا ہے مگر خاص طور پر اس کتاب کا فوکس یہود و نصاریٰ پر ہے۔اس لیے قرآن کریم میں عموما انہی کو مخاطب کیا گیا ہے۔مزید اس کتاب میں آیات قرآنی کی تشریح میں قدیم و جدید کتب تفسیر سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔کہیں کہیں تائید میں بائبل کے حوالے بھی پیش کیے گئے ہیں۔چنانچہ راہ دعوت میں کام کرنے والے اگر دیگر اہل مذاب سے گفتگو کرتے ہوئے اس کتاب کو ملحوظ رکھیں تو امید ہے کہ ان کی گفتگو مؤثر اور نتیجہ خیز ہو گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کا فائدہ عام کرے اور اس کے اجر سے نوازے۔ آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

  • سماجی ناہمواری آج کی ترقی یافتہ دنیا کا  ایک بڑا اہم مسئلہ ہے ۔انسانی معاشرہ شدید انتشار اور بحران  کا شاہکار ہے ۔ اخلاقی قدریں پامال ہورہی ہیں اورباہمی تعلقات خود غرضی اور مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔ حتیٰ کہ خاندان کا ادارہ بھی اس لپیٹ میں آگیا ہے ۔افراد خاندان جن کے درمیان عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ قریبی تعلقات ہونے  ہیں اور انہیں ایک  دوسرے کےہم درد وغم گسار ہوناچاہیے وہ نہ صرف یہ کہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے بے پروا ہیں بلکہ ان پر ظلم ڈھانے اور ان کے حقوق غصب کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔جس کی وجہ سے  انسانی معاشرہ حیوانی سماج کا  منظر پیش کررہا ہے ۔یہی صورت عالمی سطح پر بھی ہے۔اس صورت حال میں اسلام انسانیت کے حقیقی ہم درد کی حیثیت سے سامنے آتا ہے ۔ وہ سماج کے تمام افراد کے حقوق بیان کرتا ہے اور ان کی ادائیگی پر زور دیتا ہے  خاص طور سے  وہ افراد خاندان کے درمیان الفت ومحبت کے جذبات  پر  پروان چڑھاتا ہے  اور اسے مستحکم رکھنے کی تدبیر بتاتا ہے ۔ اسلام کی بتائی ہوئی تدابیرپر عمل کر کے پہلے بھی ایک پاکیزہ اور مثالی معاشرہ وجود میں آچکا ہے اور موجودہ دور میں بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر سماجی اور خاندانی انتشار  واضطراب کودور کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’عصرِ حاضر کا سماجی انتشار اور اسلام کی رہنمائی‘‘  مولانا سلطان احمد اصلاحی کی  تصنیف ہے  انہوں نے اس کتاب میں موجود سماجی اور خاندانی انتشار  واضطراب پر شرح وبسط کے ساتھ  اظہار خیال کیا ہے۔ انسان...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1184
    • اس ہفتے کے قارئین: 4708
    • اس ماہ کے قارئین: 29612
    • کل مشاہدات: 42891637

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں