سید جلال الدین انصر عمری

5 کل کتب
دکھائیں

  • 1 عورت اسلامی معاشرہ میں (جمعرات 04 اگست 2011ء)

    مشاہدات:18412

    ظہور اسلام سے قبل کتاب ہستی کے ہر صفحے پر عورت کا نام حقارت  اور ذلت سے لکھا گیا ہے ۔اقوام عالم اور ان کے ادیان نے عورت کی خاطر خواہ قدر ومنزلت نہ کی اور عورت کا وجود تمام عالم پر ایک مکروہ دھبہ تصور کیا جاتا تھا ہر جگہ صنف نازک مردوں کے ظلم وستم کا شکار رہیں۔انسانی تمدن کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی متمدن ترین اقوام نے بھی عورت کو ایک غیر مفید بلکہ مخل تمدن عنصر سمجھ کر میدان عمل سے ہٹا دیا تھا ۔یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو عزت واحترام دیا اور اس کے حقوق کی نگہداشت پر زور دیا۔زیر نظر کتاب میں قدیم وجدید مذاہب اور تہذیبوں میں عورت کی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسلام نے عورت کو کس قدر اعلی مرتبے پر فائز کیا ہے ۔اسلامی معاشرہ میں عورت کے حقیقی دائرہ کار،عورت کی تعلیم وتربیت اور مختلف اقتصادی ومعاشی امور کے حوالے سے عورت کے کردار کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔علاو ہ ازیں عورت سے متعلقہ اسلامی احکام کی وضاحت اور ان کی حکمتوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔اپنے موضوع پر یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔(ط۔ا)
     

  • 2 اسلام انسانی حقوق کا پاسبان (ہفتہ 31 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2785

    حقوق ِانسانی کے سلسلہ میں اسلام کا تصور بہت ہی واضح اور اس کا کردار بالکل نمایاں ہے ۔ اس نے فرد اور  جماعت اور مختلف سطح کے افراد اور طبقات کے حقوق کا تعین کیا اور عملاً یہ  حقوق فراہم کیے  ۔ جن افراد اور طبقات کے حقوق ضائع ہور ہے تھے  ان کی نصرت وحمایت میں کھڑا ہوا اور جو لوگ ان حقوق پر دست درازی کر رہے تھے ان پر سخت تنقید کی اور انہیں دنیا اورآخرت کی وعید سنائی ،معاشرہ کو ان کے  ساتھ بہتر سلوک کی تعلیم وترغیب دی۔ قرآن مجید انسانی حقوق کی ان کوششوں کی اساس ہے اور احادیث میں ان کی قولی وعملی تشریح موجود ہے ۔قرآن وحدیث کا اندازِ بحث ونظر مروجہ قانونی کتابوں کا سا نہیں ہے۔کسی حق کو جاننے کےلیے  پورے قرآن اور ذخیرۂ حدیث کودیکھنا چاہیے۔ فقہاء کرام او رماہر ین شریعت نے تفصیل سے اس پر غور کیا ہے اور حقوق کےتعین کی اپنے دور کےحالات وظروف کے لحاظ سے   کوشش کی ہے ۔ اسلامی قانون کے سمجھنےمیں اس سے بڑی مدد ملتی ہے ۔ زیر  نظر کتاب ’’اسلام انسانی حقوق کا پاسبان‘‘انڈیا کے ممتاز عالم دین  محترم  مولانا سید جلال الدین عمری ﷾ کی  تصنیف ہے ۔موصوف ایک جید عالم دین ،بہترین خطیب، اورممتاز مصنف کی حیثیت سےمعروف ہیں ۔ قرآن وسنت کا گہرا علم رکھتے ہیں ۔ موضوع کا تنوع،اسلوب کی انفرادیت، طرزِ استدلال کی ندرت اور زبان وبیان کی شگفتگی ان کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔موصوف  مختلف موضوعات پر دودرجن سےزائد کتب کےمصنف ہیں ۔کتاب ہذا میں مصنف نے  بڑے عالمانہ  انداز میں انسانی حقوق اور اس کےت...

  • 3 اسلام میں عورت کے حقوق (بدھ 18 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:5537

    اسلام نے عورت کو وہ بلند مقام دیا ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب نے نہیں دیا ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب اورقوانین کی تعلیمات کا مقابلہ اگر اسلام کے اس نئے منفرد وممتازکردار(Role)سے  کیا جائے، جو اسلام نے عورت کے وقار واعتبار کی بحالی، ا نسانی سماج میں اسے مناسب مقام دلانے، ظالم قوانین، غیر منصفانہ رسم و رواج اور مردوں کی خود پرستی، خود غرضی اور تکبر سے اسے نجات دلانے کے سلسلہ میں انجام دیا ہے، تو معترضین کی آنکھیں کھل جائیں گی، اور ایک پڑھے لکھےاورحقیقت پسند انسان کو اعتراف و احترام میں سر جھکا دینا پڑیگا۔اسلام میں مسلمان عورت کا مقام بلند اور مؤثر کردار ہے،اور اسے بےشمار  حقوق سے نوازا گیا ہے۔اسلام نے عورتوں کی تمدنی حالت پر نہایت مفید اور گہرا اثر ڈالا۔ ذلت کے بجائے عزت ورفعت سےسرفراز کیا اور کم و بیش ہر میدان میں ترقی سے ہم کنار کیا چنانچہ قرآن کا ”وراثت وحقوق نسواں“ یورپ کے ”قانون وراثت“اور ”حقوق نسواں“ کے مقابلہ میں بہت زیادہ مفید اور فطرت نسواں کے زیادہ قریب ہے۔ عورتوں کے بارے میں اسلام کے احکام نہایت واضح ہیں، اس نے عورتوں کو ہر اس چیز سے بچانے کی کوشش کی ہے جو عورتوں کو تکلیف پہنچائے اور ان پر دھبہ لگائے۔ اسلام میں پردہ کا دائرہ اتنا تنگ نہیں ہے جتنا بعض لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ وہ عین حیا اور غیرت ووقار کا تقاضہ ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اسلام میں عورت کے حقوق "ہندوستان کے معروف عالم دین سید جلال الدین عمری کی کاوش ہے جس میں انہوں نے حقوق نسواں کے حوالے سے مغرب کے اسلام پر کئے گئے اعتراضات کی حقیقت ...

  • 4 اسلام میں خدمت خلق کا تصور (جمعرات 02 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:2359

    انسان اپنی فطری ،طبعی، جسمانی اور روحانی ساخت کے لحاظ سے سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما،تعلیم وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی او رپیش آتی ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس لیے اس نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام احکام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے انبیاء کرام کے اہم فرائض میں اللہ کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی خدمت کی ذمہ داری عائد کی ۔اس ذمہ داری کو انہوں نے نہایت عمدہ طریقہ سے سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ میں رفاہی، اصلاحی اور عوامی بہبود کی ریاست کی قائم کی ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام میں خدمت خلق کا تصور ‘‘ انڈیا کےنامور اسلامی اسکالر محترم جناب سید جلال الدین عمری ﷾ کی تصنیف ہے ۔ا س کتا ب میں انہوں نے خدمت خلق کے تمام پہلوؤں پر قرآن وحدیث کی روشنی میں بحث کی ہے موصوف نے کوشش کی ہے کہ موضوع سے متعلق آیات واحادیث کابڑی حد تک احاطہ ہوجائے اور موقع ومحل کی مناسبت سےان کا صحیح مفہوم واضح ہوجائے ۔ اس ضمن میں خدمت خلق کے وہ پہلو بھی سامنے آجائیں جن کا موجودہ دور تقاضا کرتا ہے ۔( م۔ا)

  • 5 خطبات پاکستان (اتوار 12 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1395

    مولاناسید جلال الدین عمری ۱۹۳۵ء میں جنوبی ہند میں مسلمانوں کے ایک مرکز ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر ۱۹۵۴ء میں فضیلت کاکورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے پرائیوٹ سے پاس کیا۔عمر آباد سے فراغت کے بعد مولانا جماعتِ اسلامی ہند کے اُس وقت کے مرکز رام پور آگئے اور وہاں اس کے شعبۂ تصنیف وتالیف سے وابستہ ہوگئے۔ مولانا سید جلال الدین عمری برصغیر ہندو پاک کے ان چند ممتاز علماء میں سے ہیں جنھوں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی تفہیم وتشریح کے لیے قابل قدر لٹریچر وجود بخشا ہے۔ اسلام کی دعوت، اسلام کے نظام عقائد ومعاملات اور اسلامی معاشرت پر آپ کی کتابیں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ آپ ہندوستان کی تحریک اسلامی کے چوٹی کے رہ نماؤں میں سے ہیں۔ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوؤں پر آپ کی بیش قیمت تصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کا زبردست ثبوت ہیں۔  زیر تبصرہ کتا ب’’خطبات پاکستان ‘‘ جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری ﷾ کے پاکستان میں آمد پر ان کے مختلف اداروں ، جامعات ، میں پیش گئے کے خطبات ومحاضرات اور ان کے سفر کی روداد پر مشتمل ہے۔موصوف 2005ء اور 2012ء میں پاکستان تشریف لائے تو آپ نے اسلام آباد،کراچی ، لاہور میں مختلف اداروں میں خطابات کیے ، مختلف اداروں کے...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1425
  • اس ہفتے کے قارئین: 12696
  • اس ماہ کے قارئین: 33389
  • کل مشاہدات: 45344663

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں