احسن الابحاث بجواب عمدۃ الاثاث(162#)

حکیم محمد صفدر عثمانی
ادارہ تحقیقات عثمانیہ،گوجرنوالہ
80
1600 (PKR)
2 MB

ہمارے ہاں اختلافی مسائل میں سے ایک انتہائی اہم متنازعہ مسئلہ طلاق ثلاثہ کا ہے جس میں ہر دو گروہ اپنے اپنے دلائل کے مطابق الگ الگ آراء رکھتے ہیں اس سلسلے میں دیوبند کے معروف عالم سرفراز صفدر صاحب نے ''عمدۃ الاثاب'' نامی رسالہ تحریر کیا جس میں ایک مجلس کی تین طلاق کے تین واقع ہو جانے کو بدلائل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے – زیر نظر کتاب میں ابوالانعام صفدر عثمانی صاحب  نے ، جو کہ پہلے سرفراز صاحب ہی کے ہمنوا تھے، موصوف کی طرف سے پیش کیے جانے والے تمام دلائل کا علمی وتحقیقی انداز میں جواب پیش کیا ہے- مصنف نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طلاق ثلاثہ سے متعلق فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے اس سلسلے میں احادیث پروارد کیے جانے والے اعتراضات کا کافی وشافی جواب پیش کر کےکتاب وسنت کے اصل مؤقف کی جانب راہنمائی کی ہے۔

 

 

عناوین

 

صفحہ نمبر

حرف آغاز

 

12

جہالت , حماقت , نادانی , بدعت حرام اور گناہ ہے

 

12

ظلم کی انتہاء

 

12

تضاد بیانی

 

13

کیا آیت ( الطلاق مرتان ) اور حدیث رکانہ غیر متعلق ہیں ؟

 

15

کیا حافظ صلاح الدین یوسف کی عبارات مغالطہ آمیزہے ؟

 

15

تین طلاقوں کو ایک کہنے والے حنفی علماء

 

15

جن ملکوں میں تین طلاقوں کے ایک ہونے کا قانون نافذ ہے

 

16

حنفی مذہب کی بنیاد آئمہ کے اقوال

 

17

ایک اور تضاد بیانی

 

17

باب اول

 

19

مقلد کی پہلی دلیل

 

19

حرف  فاء کی بحث

 

19

مولانا سرفراز صاحب کی قانون شکنی

 

21

تیسر ی تضاد بیانی

 

23

مولانا عبد الحئی حنفی کافتوی

 

24

مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کے فتوی کی حقیقت

 

25

اذا جاء الاحتمال (قانون ) کی بحث

 

26

کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ شرعی تھا؟

 

27

مولانا فضل الرحمن بن مفتی محمود حنفی کا اعلان حق

 

28

مقلد کی دلیل نمبر 2

 

28

مبہم اور مفصل کی روایت کی بحث

 

29

مقلد کی دلیل نمبر 3

 

30

مقلد کی دلیل نمبر 4

 

31

مقلد کی دلیل نمبر 5

 

32

گھر کی شہادت

 

34

مقلد کی دلیل نمبر 6

 

35

مقلد کی دلیل نمبر 7

 

38

طلاق , مسخرہ سے بھی ہو جاتی ہے

 

38

کیا طلاق میں نیت کا اعتبارہے ؟

 

40

مقلد کی دلیل نمبر 8

 

41

مقلد کی دلیل نمبر 9

 

42

مقلد کی دلیل نمبر 10,11,12

 

43

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زیادہ طلاقیں دینے والے کو کوڑے مارتے

 

43

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تین طلاق کو تین نافذ کرنا بطور سزاتھا

 

45

مقلد کی دلیل نمبر 13,14,15

 

46

ابن عباس  رضی اللہ عنہ کا فتوی کیا تھا

 

46

اعتبار راوی کی روایت کا ہے نہ کہ فتوی کا ؟

 

47

غیر مدخولہ کی بحث

 

47

مقلد کی دلیل نمبر 16 تا 20

 

47

دلیل نمبر 17 کا خلاصہ

 

47

دلیل نمبر 18 کا خلاصہ

 

48

دلیل نمبر 19 کا خلاصہ

 

48

دلیل نمبر 20 کا خلاصہ

 

48

احادیث پر اعتراضات کا علمی و تحقیقی جائزہ

 

51

دلیل نمبر 1 پر اعتراضات کا جائزہ

 

51

کیا حدیث ابن عباس معتارض ہے ؟

 

52

روایت طاؤس کی حقیقت

 

53

عہد نبوی کا مسئلہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے

 

55

کیا اکٹھی تین طلاقوں کو ایک کہنا منسوخ ہو چکا ہے؟

 

55

بخاری مسلم کی تمام روایات صحیح ہیں ؟

 

56

کیا حدیث ابن عباس شاذ , مضطرب  اور منکر ہے ؟

 

57

لوگو ں کا اکٹھی تین طلاقیں دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں تھا

 

58

متعتہ النساء کی مثال کا جواب

 

59

اجماع کا دعوی

 

60

کیا اکٹھی تین طلاقوں کو ایک کہنا ابلیسی فکر ہے ؟

 

63

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام ابن قیم کو کوڑے کیوں مارے گئے ؟

 

64

کیا اکٹھی تین طلاقوں کو ایک کہنا یہود و نصار ی اور شیعہ کا مذہب ہے ؟

 

64

کیا جمہو ر دلیل ہیں ؟

 

65

کیا محمد بن اسحاق راوی کذاب ہے ؟

 

66

پھر وہی مغالطہ

 

72

امام ابن قیم  رحمہ اللہ سے سوال

 

73

علامہ شبلی نعمانی کی شہادت

 

75

کیا یہ مسئلہ آٹھ سو سال بعد امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہا اللہ نے ایجاد کیا ؟

 

76

مغالطہ

 

77

ایک اور مغالطہ

 

78

ادلہ اربعہ کی مخالفت

 

79

تین طلاقوں کی کہانی احناف کی زبانی

 

80

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1497
  • اس ہفتے کے قارئین: 12768
  • اس ماہ کے قارئین: 33461
  • کل مشاہدات: 45347088

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں