محمد محفوظ اعوان

1 کل کتب
دکھائیں

  • فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔ چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نے بھی صحابہ کواس علم کے طرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا۔ صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا زید بن ثابت ﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے۔ صحابہ کے بعد زمانےکی ضروریات نے دیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غورو فکر کر کے تفصیلی و جزئی قواعد مستخرج کیے۔ اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الاعوان الناجیۃ فی شرح الفرائض السراجیۃ‘‘ مولانا ابو میمون محمدمحفوظ اعوان کی تصنیف ہے ۔مصنف نے موصوف نے اس کتاب میں مدارس دینیہ کے نصاب میں وراثت کے موضوع پر شامل معروف کتاب ’’سراجی ‘‘ کی تسہیل وتشریح اور تمام مسائل کو مثالوں سے عملی طور پر حل کرکے اردودان علم وراثت...


2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 سلسلہ احادیث صحیحہ (اپ ڈیٹ)جلد 1 (منگل 17 جون 2014ء)

    مشاہدات:4721

    خدمت حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی  کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی  نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔زیر نظر کتاب سلسلة احاديث الصحيحة شیخ کی عظیم الشان تصانیف میں سے ہے جس میں شیخ نے عوام الناس کے فائدے کےلیے مختلف ابواب ،فصول،مسائل اور فوائد سےمتعلقہ صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے ۔شیخ نے اس کتاب میں تبویب بندی اور کسی خاص ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا بلکہ تخریج وتحقیق کے اصول وقواعد کے مطابق جیسے جیسے احادیثِ صحیحہ میس...

  • 2 المنتقی (منگل 10 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1572

    جو لوگ اس رزمگاہِ خیر وشر میں’پہلی غلطی‘‘ کا اعادہ نہیں کریں گے۔ اب شجرہ ممنوعہ کو نہیں چکھیں گے‘ بالکل اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس کی ہدایت پر شب وروز بسر کریں گے۔ تو اللہ بزرگ وبرتر انہیں بہشت بریں عطا کرے گا۔ اور جو لوگ اس دار مکافات میں من مانیاں کریں گے۔ احکام الٰہی سے بے اعتنائی برتیں گے۔ منع کیے ہوئے پھلوں کو قوت لایموت بنائیں گے۔ معصیت کی زندگی گزارنے والے یہ لوگ محروم الارث ہو کر رہ جائیں گے۔یعنی جنت میں واپس جانے کے لیے آسمانی ہدایت کی پیروی کرنا‘ اسی پر چلنا اور جو آسمانی ہدایت اور احکام الٰہی کی پابندی نہ کریں گے وہ بہشت سے محروم کر دیے جائیں گے۔ جنت میں لے جانے والے اعمال واسباب کو کتب احادیث میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں حدیث کی اہمیت‘حجیت اور قرآن کی مانند اس کا لابدی ہونا ثابت کیا گیاہے اوراس کتاب میں احادیث پر اعراب بھی لگایا گیا ہے۔ سلیس اردو ترجمہ کیا گیا ہے اور اردو دان طبقے کی آسانی کے لیے مفہومی ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس میں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کی روشنی میں احادیث کی تشریح وتوضیح پیش کی گئی ہے اور مختلف فیہ مسائل میں زیادہ تر صرف راجح قول پیش کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے اور فقہی مباحث بھی موجود ہے۔ علامہ البانی اور شیخ شعیب الارناؤط جیسے محققین کے اجمالی حکم کو ذکر کیا گیا ہے۔ ۔ اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے حوالے دینے میں جس حدیث کو امام بخاری ومسلم یا کسی ایک نے بھی ذکر کیا ہے تو ان ہی کا حوالہ دیا گیا ہے‘ اور جو صحیحین میں ن...


1 کل کتب
دکھائیں

  • امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ امام صاحب نے 77 سال کی عمر میں 12 ربیع الاول 214ھ کوانتقال فرمایا۔ اس پر سارا شہر امنڈ آیا۔ کسی کے جنازے میں خلقت کا ایسا ہجوم دیکھنے میں کبھی نہیں آیا تھا۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازہ کے مطابق تیرا لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1313
  • اس ہفتے کے قارئین: 3394
  • اس ماہ کے قارئین: 27922
  • کل قارئین : 47061913

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں