اسلامک انفارمیشن سینٹر، ممبئ

9 کل کتب
دکھائیں

  • 1 ماہ ربیع الاول اور عید میلاد (منگل 14 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:5093

    مسلمانوں کی اصل کامیابی قرآن مجیداور  احادیث نبویہ پر عمل کرنے میں ہے۔  مسلمانوں کوعملی زندگی میں  قرآن وحدیث ہی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اور دین میں نئی نئی بدعات گھڑ کر اسے دین بنا لینے سے احتراز کرنا چاہئے۔دین میں گھڑی گئی متعدد بدعات میں سے ایک  بدعت بارہ ربیع الاول کو عید  میلاد النبی ﷺ منانےکی ہے۔  بہت سارے  مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول  کو عید  میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے  ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے  ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے  محفلیں منعقدکی جاتی  ہیں  اور بعض ملکوں میں سرکاری طور   پر چھٹی کی جاتی  ہے۔ لیکن اگر  قرآن  وحدیث اور قرون اولی کی  تاریخ  کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے  تو  ہمیں پتہ چلتا ہےکہ  قرآن وحدیث  میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔نہ  نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ  ہی اسکی  ترغیب دی۔  قرونِ اولیٰ یعنی  صحابہ کرام ﷺ ،تابعین، اورتبع تابعین﷭ کا زمانہ جسے نبی کریم ﷺ نے بہترین زمانہ قرار دیا  ان کے  ہاں  بھی اس  عید کا کوئی تصور نہ  تھا۔ معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید  کا کو ئی تصور  تھا اور نہ وہ اسے  مناتے  تھے  او ر نہ ہی  وہ اپنے شاگردوں کو اس  کی تلقین کرتےتھے  ۔ نبی  کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز  نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا...

  • 2 چار دن قربانی کی مشروعیت (پیر 28 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:7128

    عیدالاضحیٰ کے ایام میں اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بہیمۃ الانعام میں سے کوئی جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اور سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔ قربانی کرنے کے دنوں  کی تعداد کے حوالے سے فقہاء  کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک تین اور بعض  کے نزدیک چار دن ہیں۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی  کرنے کے کل ایّام  چار ہیں۔ یوم النحر(عیدالاضحیٰ کا دن، دس تاریخ) اور ایام تشریق( یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہواں دن) جس کا ثبوت قرآن اور صحیح احادیث سے ملتا ہے۔ زیر نظر رسالہ ’’ چار دن قربانی کی مشروعیت ‘‘ مولانا کفایت اللہ السنابلی حفظہ اللہ کی تالیف ہے، جس میں  شیخ  حفظہ اللہ نے چار دن قربانی کرنے  کی مشروعیت  کو قرآن و حدیث سے دلائل دیتے ہوئے ثابت کیا ہے ۔اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کے دلائل کا بھی تحقیقی جائزہ لیا ہے جو صرف تین دن قربانی کے قائل ہیں۔ رسالہ کل تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں چار دن قربانی  کرنے کی مشروعیت پر قرآن وصحیح احادیث سے دلائل بیان کیے گئے  ہیں۔ اور ساتھ اس بات کا بھی  تذکرہ کیا گیا ہے کہ چار دن قربانی والا قول کئی ایک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب ہے۔ نیز قیاس  صحیح  اور دلالت لغت سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔ دوسرے باب  میں  چار دن قربانی سے متعلق اقوال تابعین وآئمہ محدثین کو پیش کیا گیا ہے۔ اور تیسرے  با...

  • 3 حادثہ کربلا اور سبائی سازش (منگل 12 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:7522

    دور حاضرمیں حادثہ کربلا  کے  موضوع پر کچھ  لکھنا یابولنا بڑا  نازک او ر مشکل  کام ہے، کیوں کہ اس  بارے  بہت افراط وتفریط پایا جاتا   ہے ۔سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب ہے۔  اس  سانحۂ کے بعد ایک گروہ یزید بن معاویہ کو لگاتار برا بھلاکہنے پر مصر ہے۔جبکہ دوسری جانب یزید کے جنتی ہونے کےبارے میں نبی ﷺ کی اس  بشارت کا تذکرہ کیا جاتاہے، جس میں  شہر قیصرکی طرف  سب سے پہلے حملہ آور لشکر کےمغفور لہم ہونے  کی  خوشخبری دی گئی ہے۔  ائمہ اسلا ف  میں  سےامام ابن تیمیہ،حافظ ابن حجر ،علامہ قسطلانی ، ابن کثیر﷭ وغیرہ نے  یزید ین معاویہ کو  اس پہلے لشکر کا سالار قرار دیا ہے،  جس نے تاریخ اسلامی میں سب سے  پہلے  قسطنطنیہ پر حملہ کیا ہے تھا۔زیر تبصرہ کتاب   مؤلف  کا وہ خطاب ہے،  جوانہوں نے  جامع مسجد اہل حدیث ممبئ میں ارشاد فرمایا تھا۔جسے احباب کے اصرار پر کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں  مصنف نے  تاریخی لحاظ سے اس موضوع پر بحث کی ہے ، اور مختلف  اہل علم کی تحریروں او رمستند تاریخی روایات سے  یہ ثابت کیا ہے کہ  قسطنطنیہ پر پہلا حملہ  یزید ہی نےکیا تھا، او رحادثہ کربلا سے  قبل امت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں کی گئیں،  اور متعددعظیم شخصیات شہید ہوئیں۔ ان کے پیچھے جس گروہ کا  ہاتھ تھا، وہی  گروہ میدان  کربلا میں بھی  اہل  حق  کا دشمن تھا۔ جس نے کربلا کے ...

  • 4 مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں (ہفتہ 30 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2915

    صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد آٹھ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں ‘‘انڈیا   جید عالم دین مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہو ں رکعات تراویح کے سلسلے میں وارد   احادیث کی مکمل تحقیق پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ تعداد رکعات تراویج بشمول وتر کل گیارہ رکعات ہیں اور صحابہ کرام ﷢کا عمل بھی اسی پر تھا نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر ﷜ نے   بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔(م۔ا)

  • 5 اثبات الدلیل علی توثیق مؤمل بن اسماعیل (جمعہ 11 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:3217

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب" اثبات الدلیل علی توثیق مؤمل بن اسماع...

  • 6 ازالۃ الکرب عن توثیق سماک بن حرب (جمعہ 11 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:2531

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب"ازالۃ الکرب عن توثیق سماک بن حرب"...

  • 7 آفتاب ہدائیت رد ِّرفض وبدعت (جمعہ 05 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2600

    شیعہ مذہب میں کئی فرقے ہیں انہیں رافضی بھی کہا جاتا ہے یہ اپنے آپ کو محبّان علی اور محبّان اہلیت کہتے ہیں شیعہ دین , یہودیوں کا ایجاد کردہ پروردہ ہے شیعہ نے اسلام اور اہل اسلام سے انتقام لینے کی غرض سے اس دین کو ایجادکیا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر اپنے افکار کی ترویج کر سکیں ۔شیعہ کے تمام فرقے خلفائے راشدین یعنی حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کو نا ماننے پر متّفق ہیں ۔یہی نہیں بلکہ حضرات شیخین حضرت ابو بکر و عمر و عثمان و معاویہ کو کھلے عام گالیاں دیتے ہیں اس کے علاوہ ان کی مستند کتب میں بھی کئی کفریہ کلمات موجود ہیں ۔شیعہ عقائدکو جاننے کے لیے عربی اردو زبان میں بڑی مستند کتب موجودہیں۔اردو زبان میں امام العصر شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ کی کتاب الشیعہ والسنہ ، اصلاح شیعہ ا ز ڈاکٹر موسیٰ موسوی ،اور عقائد شیعہ اثناعشریہ سوالاً جواباً از عبدالرحمٰن الشثری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’آفتاب ہدایت‘‘ مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر ﷫ کی تصنیف ہے اس میں مصنف موصوف نے شیعہ مذہب کےقصص اختراعیہ کا براہین قاطعہ سے رد کیا ہے اور شیعہ سنی اختلافی مسائل کو آپ نے ایسی حسن ترتیب دے کر پیش کیا کہ اس تصنیف کےبعد مناظرین یہ کتاب پڑھ کر رفض کی بیخ کنی میں آسانی محسوس کرتے تھے ۔بے شمار لوگ اس کتاب کوپڑھ کر جادۂ حق پر آئے ۔یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے تمام اردو تصانیف میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔اس کتاب میں ان الزامات ومطاعن کا عقلی ونقلی دلائل وشواہد سے تسلی بخش جواب دیاگیا ہے۔ جو دشمنانِ...

  • نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی، اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔ اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریمﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا: تم ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ نماز کے اختلافی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں ہے۔ زیر نظر کتاب "انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر" انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں سینے پر ہاتھ باندھنے کو ثابت کیا ہے، تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریمﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔ کتاب کے شروع میں معروف عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب﷾ کا علمى مقدمہ بھی موجود ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ا...

  • 9 شفاء العینین فی احیاء لیلۃ العیدین (بدھ 31 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:555

    عید الفطر کا بنیادی مقصد اور فلسفہ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ رب العزت کے خصوصی احسانات ،انعامات او رنوازشات، کاشکرادا کرنا اور دربار الٰہی میں بصد عجز وانکسار اپنی کم ہستی ، کم مائیگی او رکوتاہ عملی کا اعتراف کر کے اس ذات عظیم وبرتر سے معافی اور عفو ودرگزر کی دہا والتجاء کرنا ہے۔ اور عیدالاضحیٰ امام الموحدین، جد الانبیاء سیدناابراہیم﷤ کی قربانی ، ایثار، اخلاص اور وفا کی یاد تازہ کر کے سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کےلیے جانورذبح کر کے اللہ ارحم الراحمین کی بارگاہ سے بے پناہ اجروثواب اور نیکیاں حاصل کرنے کا دن ہے ۔کتب احادیث وفقہ میں کتاب الاضاحی کے نام   سے ائمہ محدثین فقہاء نے باقاعدہ ابواب بندی قائم کی ہے ۔ اور کئی اہل علم نے قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے سلسلے میں کتابیں تالیف کی ہیں۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’شفاء العينين فى إحياء ليلة العيدين‘‘ حافظ اکبر علی اختر علی سلفی صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں عیدین کے شب خصوصی عبادت سے متعلق جملہ روایات کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے۔مزید اس کتاب میں عبادات اوراعمال کوادا کرنے کے مسنون طریقوں کی وضاحت کی ہے اور غیر مسنون اور غیر ضروری کاموں کی نشاندہی بھی کردی ہے۔ تاکہ قارئین عبادات کو سنت نبوی کے مطابق انجام دے سکیں جوکہ قبولیت اعمال کی بنیادی اور اولین شرط ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1664
  • اس ہفتے کے قارئین: 9063
  • اس ماہ کے قارئین: 37312
  • کل قارئین : 46512416

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں