کل کتب 413

دکھائیں
کتب
  • 71 #270

    مصنف : عبد الوکیل ناصر

    مشاہدات : 19371

    اصولِ اصلاحی اور اصولِ غامدی کا تحقیقی جائزہ

    (بدھ 01 جنوری 2014ء) ناشر : ادارہ اشاعت قرآن وحدیث،پاکستان

    جناب امین احسن اصلاحی صاحب اور ان کے تلمیذ رشید غامدی صاحب نے انکار حدیث کا اپنے انداز سے علمی اور عقلی اسلوب اپنایا ہے۔ جو "روشن خیال" مسلمانوں میں مغربیت پسندانہ ذہن سے موافقت رکھنے کی وجہ سے خوب پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ ان حضرات نے امت مسلمہ کے کئی اجماعی مسائل سے روگردانی کی ہے جس کی قلعی کئی اہل علم حضرات نے کھولی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں حدیث و سنت کے درمیان فرق کے دعوٰی کی حقیقت کو علمی اصول و مصادر سے واضح کیا ہے۔ خالص علمی و اصولی ابحاث پر  مشتمل منکرین حدیث کی موشگافیوں کو آشکارہ کرتی شاندار تصنیف ہے۔

     

  • 72 #1515

    مصنف : ولی الدین الخطیب التبریزی

    مشاہدات : 26706

    اضواء المصابیح فی تحقیق مشکوۃ المصابیح

    (جمعہ 03 اگست 2012ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    مشکوٰۃ المصابیح مسائل میں احادیث کاوہ بہترین مجموعہ ہے کہ جس میں محمد بن عبداللہ التبریزی نے بہترین ترتیب کے ساتھ مسند کتب حدیث سےسينكڑوں روایات کومتعلقہ مسائل کےتحت نقل کردیا ہے۔مشکوٰۃ کی تخریج و تحقیق اگرچہ علامہ ناصر الدین البانی کر چکے ہیں۔ او راب حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ جو کہ فن اسماء الرجال میں منجھی ہوئی شخصیت ہیں ۔زیر نظر کتاب انہی کی تخریج و تحقیق او رفوائد پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے مشکوٰۃ میں درج ہر حدیث کا فن جرح و تعدیل کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ان پر  صحت و ضعف کا حکم لگایا ہے۔ احادیث کی استنادی حالت کو جانچنے کے لیےنہایت عمدہ تحریر ہے۔(ک۔ط)
     

  • 73 #7049

    مصنف : رفعت سالار فیضی

    مشاہدات : 655

    اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت اور تقلید کی حقیقت

    (ہفتہ 07 ستمبر 2019ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    اللہ رب العزت کا بے حد احسان ہے کہ ہم اسلام کے ماننے والے ہیں‘ دین اسلام ایسا آفاقی وعالمگیر دین ہے جس میں قیامت تک کے لیے زندگی کے ہر شبعہ میں کامل ومکمل ترین رشد وہدایت ہے۔ اس کی ہر تعلیم میں سادگی اور افادیت کے ہر پہلو پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ اس دین کے آنے کے بعد دنیا کی تمام شریعتیں اور ادیان منسوخ کر دیے گئے ‘ لہذٰا اس دین کے علاوہ کسی دوسرے دین اور نبیﷺ کے علاوہ کسی کی پیروی کرنا دنیا وآخرت میں خسران اور نقصان کا باعث اور سبب ہے۔ نبیﷺ نے عملی نمونۂ کے حوالے سے بھی ایک عظیم مثال قائم کی اور ہر شعبے میں رہنمائی کامل فرمائی‘ اور ہر دور میں  نبیﷺ کی حیات مبارکہ اور اطاعت رسولﷺ پر لکھا گیا جن میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس کتا ب میں نبیﷺ کی کامل اطاعت کرنے کا درس دیا گیا ہے اور جو لوگ  غلط راہوں پر گامزن ہے ان کی رہنمائی کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کی زبان اور اسلوب نہایت عمدہ اپنایا گیا ہے۔ اصل مصادر سے حوالوں کا اہتمام کیا گیا ہے اور عہد صحابہ وتابعین وتبع تابعین سے تقلید کو بیان کیا گیا ہے کہ تب تقلید تھی یا اطاعت رسولﷺ کو اولین ترجیح دی جاتی تھی؟ اسی طرح اس میں اطاعت رسولﷺ سے انحراف کے نقصانات کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح تقلید کی ابتداء اور ارتقاء کو بھی بیان کیا گیا ہے اور ائمہ اربعہ کے مؤقف کو بھی بیان کیا گیا ہے اور راجح قول بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ’’ اطاعت رسولﷺ کی شرعی حیثییت ‘‘ شیخ رفعت سالار فیضی﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 74 #3787

    مصنف : رشید اللہ یعقوب

    مشاہدات : 2214

    اطیعو اللہ و اطیعو الرسول

    (بدھ 02 دسمبر 2015ء) ناشر : رحمۃ للعالمین ریسرچ سنٹر کراچی

    ہم پر صدیوں سے ایرانی زبان فارسی کی حکمرانی رہی ہے۔ہمارا ذریعہ تعلیم اور ذہن وفکر کی پرورش کا انحصار اسی زبان پر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہر لفظ  خواہ وہ علم ہو یا غیر علم،  اس کا ترجمہ فارسی زبان میں کرنے عادی بن چکے ہیں۔متعدد اہل علم لفظ جلالہ "اللہ " کا فارسی ترجمہ" خدا "کرتے ہیں،حالانکہ اسم جلالہ"اللہ" ہی ذات باری تعالی کا اسم علم غیر مشتق ہے۔اللہ تعالی کی  بے مثال شان،بے مثال ذات اور بے مثال لغوی ممیزات کا تقاضا ہے کہ اسے "اللہ " ہی لکھا ،پڑھا اوربولا جائے ۔اس کے علاوہ کوئی اسم بھی  اس کا ہم پلہ،ہم معنی،ہم مفہوم اور ہم تصور  نہیں ہو سکتا ہے۔لیکن اس کے مقابل ایک لفظ رائج ہو گیا ہے جسے "خدا"کہتے ہیں۔لغت میں جب اس کی حیثیت پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "خدا" دو لفظوں سے مرکب ہے(خود+آ) یعنی خود ظہور کرنے والا (غیاث اللغات)اس کے علاوہ بھی یہ لفظ متعدد مفاہیم پر دلالت کرتا ہےمثلا:مالک،شوہر،ملاح،خدا جیساوغیرہ وغیرہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "خدا" میں لاثانیت،یا بے مثال ہونے کی کوئی صفت موجود نہیں ہے۔اسے ہر شخص پر چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول"محترم مولانا رشید اللہ یعقوب صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے  لفظ اللہ کی جگہ لفظ خدا کے استعمال کو غلط قرار دیا ہے اور لفظ اللہ کے استعمال کو سنت موکدہ ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 75 #4546

    مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

    مشاہدات : 2177

    اعجاز حدیث

    (اتوار 26 جون 2016ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی حدیث کاانکار کردے تو قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ اسلام سے نکلنے لگی ۔ لیکن الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر تبصرہ کتاب’’اعجاز حدیث ‘‘ پاکستان کے معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی ﷫ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے دلائل سےثابت کیا ہے کہ قرآن مجید کے احکام اور مسلمان کی زندگی کے تمام دین ودنیا کے کام صرف حدیث ہی کی روشنی میں انجام پاتےہیں۔ مومن پیدائش سے لے کر تادم واپسیں حدیث ہی کی آغوش میں ہے او رکسی کو اس کی ضرورت ،حجیت اورخاتمیت سے انکار نہیں ہے ۔(م۔ا)

  • 76 #1625

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 19647

    اعلاء السنن فی المیزان

    (ہفتہ 29 ستمبر 2012ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    کچھ عرصہ قبل  حنفی علما کو محسوس ہوا کہ محدثین نے اپنی کتب میں جو احادیث جمع کی ہیں ان میں ہمارے مذہب کے دلائل بہت شاذ ہیں اور ان  کی کتابوں میں ان کے فقہی رجحانات کا بہت اثر ہے۔ لہذا حنفی علما نے ایسی کتابیں لکھنے کا بیڑہ اٹھایا جن میں حنفی مذہب کے دلائل پر مشتمل احادیث جمع ہوں اس پر سب سے پہلے علامہ نیموی نے ’آثار السنن‘ کے نام سے کتاب لکھی اس کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی نے مولانا احمد حسن سنبھلی کے ساتھ مل کر حنفی مذہب کی مؤید احادیث اور شرح و بسط سے ان پر روایتاً و درایتاً بحث کرنے کی کوشش کی۔ یہ کام کتاب الحج پر پہنچا اور اس کی ایک جلد شائع ہوئی تو  مولانا تھانوی نے اس کا جائزہ لینے کے بعد احمد حسن سنبھلی کو آڑے ہاتھوں لیا کہ انہوں نے اپنی طرف سے بہت کچھ بدل ڈالا تھا حتیٰ کہ مولانا تھانوی کی بہت سی تصحیحات کو بھی بدل دیا اور بقول ان کے کتاب کا اصل منہج ہی باقی نہ رہا۔ اس کے بعد مولانا عثمانی نے ا س کام کا بیڑا اٹھایا اور اس کو از سر نو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس کا نام ’اعلاء السنن‘ رکھا گیا جو کراچی سے سولہ جلدوں میں شائع ہوا۔ زیر مطالعہ کتاب میں اسی کتاب ’اعلاء السنن‘ کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مولانا ارشاد الحق اثری معروف عالم دین اور تبحر علمی میں بے نظیر ہیں۔ آپ نے اس کتاب میں ’اعلاء السنن‘ کی فقہی مباحث سے تعرض نہیں کیا بلکہ ان قواعد اور اصولوں کو ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے جن کو مولانا عثمانی نے حدیث کی تصحیح و تضعیف میں اختیار کیا ہے۔ احناف کو آئینہ دکھانے والی یہ ایک نہایت سنجیدہ اور علمی کاوش ہے جس میں اہل علم کے لیے بہت سا سامان موجود ہے۔(ع۔م)
     

  • 77 #2494

    مصنف : محمد مظہر شیرازی

    مشاہدات : 3505

    الاحادیث المختارۃ من الصحیحین

    (پیر 13 اکتوبر 2014ء) ناشر : مرکزی جمعیت اہل حدیث، سیالکوٹ

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے کہ جس کے لیے ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ   اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے ۔احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں جن میں ایک 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی ﷫ نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل رااہنمائی موجود ہے۔ زیر نظر کتاب ’’الاحادیث المختارہ من الصحیحین‘‘ محترم محمد مظفر شیرازی ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے دینی جامعات ومدارس کے ابتدائی طلباء کےلیے   صحیح بخاری وصحیح مسلم سے 100 احادیث کا انتخاب کرکے   یکجا کردیا ہے اور ہر حدیث کے اوپر اس سے واضح طور پر سمجھ آنے والا مسئلہ بطور عنوان کے بیان کردیا ہے تاکہ جھوٹی عمر کے طلبہ کوسمجھنے میں آسانی رہے ۔اللہ تعالیٰ شیرازی صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • 78 #6829

    مصنف : یحییٰ بن شرف النووی

    مشاہدات : 1557

    الاحادیث النبویہ ( اربعین نووی )

    (پیر 24 دسمبر 2018ء) ناشر : فرید بک ڈپو، نئی دہلی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی ﷺ سے  ہوا صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حًسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی  اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع  ہوچکی ہیں ۔ زیر  نظر کتاب ’’ الاحادیث النبویہ ‘‘ امام نووی ﷫ کےمرتب کردہ مجموعہ حدیث ’’ اربعین نووی‘‘ کا دوسرا نام ہے ۔معروف مترجم  وسوانح نگار  جناب  ابو ضیاء محمود احمد غضنفر﷫نے اربعین نووی  کا ترجمہ ،فوائد  کا کام کیا ہے اور اس کی ابواب  بندی بھی کی ہے اور اس  کا نام  ’’ الاحادیث النبویۃ ‘‘ رکھا ہے ۔اللہ تعالیٰ  امام نوری﷫ اور مترجم ﷫ کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔(م۔ا) 

  • 79 #3546

    مصنف : محمد بن اسماعیل بخاری

    مشاہدات : 6084

    الادب المفرد

    (بدھ 09 ستمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔ اسلامی آاداب واطوار کے موضوع پر امام بخاری نے ایک مستقل کتاب مرتب فرمائی ہے۔ جو ’’الادب المفرد‘‘ کے نام سےمعروف ومشہور ہے۔ اس میں تفصیل کے ساتھ ان احادیث کو پیش فرمایا ہے جن سے ایک اسلامی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کے شب وروز کیسے گزرتے ہیں وہ اپنے قریبی اعزہ وقارب کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے دوست واحباب اور پاس پڑوس کے تعلق سے اس کا کیا برتاؤ ہوتا ہے ۔ ذاتی اعتبار سےاسے کس مضبوط کردار اور اخلاق کا حامل ہوتا چاہیے۔ان جیسے بیسیوں موضوعات پر امام بخاری نے اس کتاب میں احادیث جمع فرمائی ہیں ۔ اس کتاب میں ابواب کی کل تعداد 644 اور مرفوع وموقوف روایات کی تعداد1322 ہے ۔اس کتاب پر محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی﷫ نے علمی وتحقیقی کام کر کے اس کی افادیت دوچند فرمادی ہے ۔اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر بعض اہل علم نے اس کی شروح وحواشی کا کام بھی کیا ہے۔اور اسی طرح اس کےمتعدد ترجمے بھی کیے گئےہیں ۔ سب سے پہلے نواب صدیق حسن خاں قنوجی ﷫ نے’’ توفیق الباری ‘‘ اور مولانا عبدالغفار المہدانوی ﷫نے’’سلیقہ‘‘ اور مولانا عبد القدوس ہاشمی ﷫ نے’’ کتاب زندگی ‘‘ کےنام سے اس کا ترجمہ کیا ۔ زیرتبصرہ ترجمہ ادب المفرد کا چوتھا محترم مولانا ارشد کمال﷾نے کیا ہے۔ مولاناموصوف ایک منجھے ہوئے صاحب علم نوجوان ہیں جن کے قلم سے کئی مفید کتابیں عالم ِ وجود میں آئی ہیں او راللہ تعالیٰ نے انہیں شرفِ قبولیت سے نوازا ہے ۔مولانا ارشد کمال ﷾ نے ’’الادب المفرد‘‘ کا ترجمہ ہی نہیں اس کی احادیث کی مختصر تخریج بھی کی ہے اور شیخ البانی ﷫ نے احادیث پر جو حکم لگایا ہے اسے بھی ترجمہ کا حصہ بنایا ہے۔ یوں ترجمہ کی افادیت سہ چند ہوگئی ہے۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالستار الحماد﷾کی نظرثانی سے اس ترجمہ کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔مکتبہ اسلامیہ کےمدیر جناب مولانا محمد سرور عاصم﷾ نے اسے طباعت کے اعلیٰ معیار پر شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم ، اورناشر کی خدمت حدیث کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)

  • الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ ( مقالہ پی ایچ ڈی )

    (بدھ 10 اکتوبر 2018ء) ناشر : دار القرآن و السنہ مردان

    بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث در حقیقت کتاب اللہ  کی شارح اور مفسر ہے  اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ  کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں  کتاب اللہ  کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی  سائل کو اس کے سوال کا فی البدیہہ جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے  شعراء اور بلغاء بھی  باوجود قدرت  کے اس  سے متاثر ہوئے  بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی  زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی  نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے  نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ  صحابہ کرام ﷢ ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے  ۔یہی  وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور  سرور وحزن کے  تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی  محفوظ  ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی  میں اس کی نظیر  نہیں ملتی اور نہ  ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ  ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان ﷜ کی شہادت  کے ساتھ  ہی دور ِ فتنہ  شروع ہوگیا  جس کی  طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے  ہیں۔ پھر یہ  فتن کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے  بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول  ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں  ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے  گو پہلی صدی ہجری کےاختتام پر ہی  بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع  کردی تھی۔اور پھر اس   کے  بعد  وضع  حدیث کے اس فتنہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے   کو ہی کافی  نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے  علل حدیث، جرح وتعدیل،  اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر  کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب  کیں­۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث  کو الگ جمع کیا   او ررواۃ حدیث کےلیے  معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی  تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں  ماضی قریب میں  شیخ البانی کی  کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ الأسرار المرفوعة في الاخبار الموضوعة‘‘ معروف  حنفی عالم  نور الدین علی بن  سلطان  المروف ملاعلی  القاری﷫ کی موضوع  احادیث  پر مشتمل كتاب کا اردو ترجمہ   ہے۔ جناب ڈاکٹر سراج الاسلام حنیف نے  ا س کا ترجمہ کرنے کے ساتھ  اس پر تحقیق  وتعلیق کاکام بھی کیا ہے  اور مقدمۃ التحقیق کے  عنوان  سے تقریباسو صفحات پر مشتمل  علمی مقدمہ  تحریرکیا ہے جس میں  حدیث  موضوع  کے متعلق مفید معلومات کے علاوہ  اسی کتاب کا ’’موضوعات کبیر‘‘ کے  نام  سے مکتبہ نعمانیہ ،لاہور  سے  مطبوعہ ترجمہ میں  مترجم   کے ترجمہ کی اغلاط  کی طرف توجہ بھی دلائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مترجم کی   اس کاوش کو قبول فرمائے ۔(م۔ا) 

< 1 2 ... 5 6 7 8 9 10 11 ... 41 42 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2198
  • اس ہفتے کے قارئین 14848
  • اس ماہ کے قارئین 38388
  • کل قارئین49249493

موضوعاتی فہرست