کل کتب 411

دکھائیں
کتب
  • 11 #2301

    مصنف : قاری محمد موسیٰ

    مشاہدات : 7924

    اتباع سنت کی اہمیت اور فضیلت

    (بدھ 06 اگست 2014ء) ناشر : بشیر سنز ریل بازار گوجرانوالہ

    دین اسلام  میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے  جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے  ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) جس نے  رسول  اللہﷺ کی اطاعت  کی اس  نے اللہ  کی اطاعت  کی ۔ اور  سورۂ محمد میں  اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33)اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ  اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے ) اپنے  اعمال ضائع نہ کرو۔اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے  میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے ۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میر ی امت کے  سب لوگ جنت میں جائیں گے  سوائے  اس  شخص کے جس نے انکار کیا  تو صحابہ  کرام﷢ نے عرض کیا  انکار کس نے کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے  میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس  نے انکار کیا ۔(صحیح بخاری :7280)گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔گویا اپنی پوری زندگی  میں خواہ انفرادی ہویا اجتماعی ،مسجد کے اندر ہویا مسجدکے باہر، بیوی بچوں کےساتھ ہو یا دوست احباب کے ساتھ  ،ہر وقت ،ہرجگہ سنت کی پیروی مطلوب ہے ۔محض عبادات کے چند مسائل  پرتوجہ دینا اور زندگی کے باقی معاملات میں سنت کی پیروی کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا۔زیر نظر کتاب ’’اتباع سنت کی اہمیت اورفضیلت‘‘ محترم  قاری محمد موسیٰ  کی  تصنیف ہے  ۔ جس میں انہوں نے  قرآنی آیا ت او ر احادیث کی روشنی میں سنت کی اہمیت کواجاگر کیا ہے ۔ اللہ تعالی  ان کی اس کاوش  کو قبول فرمائے ۔اور اہل اسلام کے لیے  اتباع رسولﷺکا ذریعہ بنائے (آمین )(م۔ا)

  • 12 #2023

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 6102

    اتباع کتاب وسنت اور فقہی مذاہب

    (ہفتہ 19 اپریل 2014ء) ناشر : یونیورسٹی بک شاپ اسلام آباد

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے ۔ زیر نطر کتاب فتاویٰ ابن تیمیہ کی جلد 19،20 کاترجمہ ہے جو کہ اتباع کتاب وسنت اور فقہی مذاہب کے اصول پرمبنی ان فتاوی جات کا مجموعہ ہے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے قرآن وسنت سے اعراض برتنے والوں اور مبتدعین کے رد میں تحریر فرمائے۔فتاوی ابن تیمیہ کی ان دو جلدوں کا ترجمہ مولانا حافظ عبدالغفور (بانی جامعہ علوم اثریہ ،جہلم اور ان کے صاحبزدگان علامہ محمد مدنی  ،حافظ عبد الحمید عامر﷾ او رجامعہ علوم اثریہ کے دیگر ذمہ داران کی کوششوں او رکاوشوں کی بدولت پایۂ تکمیل کوپہنچا ہے ۔اللہ تعالی مترجمین ،ناشرین او رتمام معاونین کی کوششوں کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

     

  • 13 #3814

    مصنف : ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 3890

    اثبات الدلیل علی توثیق مؤمل بن اسماعیل

    (جمعہ 11 دسمبر 2015ء) ناشر : اسلامک انفارمیشن سینٹر، ممبئ

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب" اثبات الدلیل علی توثیق مؤمل بن اسماعیل "انڈیا کے معروف عالم دین، محقق محترم ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں پچیس(25) محدثین سے توثیق ثابت کرتے ہوئے ان پر جرح کے اقوال کا جائزہ لیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • 14 #305

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 17180

    احادیث صحیح بخاری و مسلم میں پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ

    (جمعرات 09 جنوری 2014ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    يورپ کے مستشرقین کی نقالی میں ہمارے ہاں بھی بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوچکے ہیں جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش ہیں-کبھی تدوین حدیث کے عمل کو تیسری صدی ہجری کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے تو کبھی صحابہ کرا م کی احتیاطی تدابیر کو بنیاد بنا کر حدیث میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-اس سلسلے میں صحیح بخاری وصحیح مسلم پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا-اسی سلسلے کی ایک کڑی مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی کی کتاب ''مذہبی داستانیں'' ہے-جس میں صحیح بخاری ومسلم کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے محدثین کرام اور بعض صحابہ کرام بالخصوص حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین وغیرہ شامل ہیں، کے بارے میں اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا گیا - زیر نظر کتاب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے خالص علمی اور تحقیقی انداز میں تمام  اعتراضات کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی ان تمام روایات کا دفاع کیا ہے جن کو '' مذہبی داستانیں'' میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے-

  • 15 #1627

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 17913

    احادیث صحیح بخاری ومسلم کو مذہبی داستانیں بنانے کی ناکام کوشش

    (جمعہ 28 ستمبر 2012ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    صحیح بخاری و صحیح مسلم سے متعلق امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کے بعد یہ صحیح ترین کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے بارے علمائے امت کا یہ حکم بلاوجہ نہیں ہے احادیث کا اکثر و بیشتر ذخیرہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کے دور میں مشہور تھا اسی ذخیرہ سے انہوں نے صحیح احادیث پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا۔ ایک ایک حدیث اور ہر ایک کی سند کی خوب چھان پھٹک کی، خوب تحقیق و تدقیق کے بعد صحت کا یقین ہوا تو اپنی کتب میں درج کیا۔ اس کے بعد سیکڑوں محدثین کی نظریں ان پر مرتکز رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کتابوں کو امت مسلمہ سے تلقی بالقبول حاصل ہوا۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے درایت و عقل کے حوالے سے صحیح احادیث کے رد کرنے کا شاخسانہ کھڑا کیا تو کسی نے صحیح بخاری و مسلم پر بلا جواز عمل جراحی کا شوق پورا فرمایا۔ اس بہتی گنگا میں مولانا حبیب الرحمٰن کاندھلوی نے بھی ہاتھ دھونا اپنا فرض سمجھا انہوں نے ’مذہبی داستانیں‘ نام سے کتاب لکھی جس میں انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث پر شدید نکتہ چینی کی بلکہ انہوں نے صحیح بخاری کو نامکمل کتاب قرار دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ امت مسلمہ کا اسے حدیث کا صحیح ترین مجموعہ قرار دینا بھی محض ایک مذہبی داستان ہے۔ اس کےعلاوہ بہت صحابہ کرام کے حوالہ سے بھی اوٹ پٹانگ باتیں لکھیں۔ زیر مطالعہ کتاب موصوف کی اسی کتاب کے جواب میں وجود میں آئی ہے۔ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ ایک صاحب علم شخصیت اور حدیث و اصول حدیث کا خاص ذوق رکھتے ہیں انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ان احادیث کا بھرپور طریقے سے دفاع کیا ہے جن پر ’مذہبی داستانیں‘ میں تنقید کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مقدمہ الکتاب میں کاندھلوی صاحب کی کتاب کا ایک طائرانہ جائزہ بھی پیش کر دیا گیا ہے جس سے مصنف کاندھلوی صاحب کی ’قیمتی‘ نگارشات کے خدوخال نمایاں ہو جاتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 16 #3919

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 4956

    احادیث ضعیفہ کا مجموعہ ( البانی )

    (جمعرات 07 جنوری 2016ء) ناشر : ضیاء السنہ ادارۃ الترجمہ و التالیف، فیصل آباد

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة واثرها السي في الامة کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے ۔شیخ البانی نے سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ سنن اربعہ اور باقی کتب حدیث میں ان احادیث کو تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے او ر ان کی تحقیق کو تفضیل کے ساتھ پیش کیا اور انہیں جرح وتعدیل کے قواعد کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام اور ائمہ حضرات کے علاوہ عوام الناس کے لیے بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے ترجمہ کے فرائض معروف عالم دین مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نے انجام دئیے ہیں ۔ کتاب ہذا سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة واثرها السي في الامة کی پہلی جلد میں سے صرف سو ضعیف اور موضوع احادیث کی تحقیق کو سلیس اردو میں پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالی مصنف ومترجم کے درجات بلند فرمائے ، ان کی خدمتِ دین کےلیے جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

  • 17 #2357

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 5745

    احادیث ضعیفہ کا مجموعہ جلد اول

    dsa (اتوار 17 اگست 2014ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ، لاہور

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم  شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ  کے لیے  اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر  علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے  جنہوں نے  ساری زندگی شجرِ حدیث کی  آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے  تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ  پر عبور واستحضار رکھتے  تھے ۔آپ کی  شخصیت مشتاقان علم وعمل  کے لیے  نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی  علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی  محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ  دین کے لیے  ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات  میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ  البانی  نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ  پرکھ  کاشعور زندہ کیا۔شیخ  کی ساری زندگی  درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد  تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں  شیخ  البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے  ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث  ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث  ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب  سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة  واثرها السي في الامة  کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے  ۔شیخ البانی  نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ  سنن اربعہ اور باقی کتب  حدیث میں  ان احادیث کو  تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے  او ر ان کی تحقیق  کو  تفضیل کے ساتھ پیش کیا  اور  انہیں جرح وتعدیل  کے  قواعد  کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے  کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام  اور ائمہ  حضرات  کے  علاوہ عوام الناس کے لیے  بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے  ترجمہ کے فرائض معروف  عالم دین   مولانا  محمد صادق خلیل ﷫ نے  انجام دئیے ہیں  یہ کتاب  3 جلدوں  پر مشتمل ہے  جلداول میں 100 اور جلددوم میں 200 اور ثالث میں بھی  200 احادیث ہیں ۔مولانا صادق خلیل نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة کی  دو جلدوں کےترجمے کا کام مکمل  کرلیا تھا او رتیسری جلد کا ترجمہ جاری  تھا کہ مولانا  6؍فروری2004ء بروز جمعۃ المبارک  اس دارفانی  سے  کوچ کرگئے۔اللہ  تعالی مصنف ومترجم  کے درجات بلند فرمائے  ، ان کی خدمتِ دین کےلیے  جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

     

  • 18 #5065

    مصنف : ابو مسعود ندوی

    مشاہدات : 4962

    احادیث قدسیہ

    (اتوار 08 جنوری 2017ء) ناشر : منشورات، لاہور

    علم حدیث کی اصطلاح میں ’حدیث قدسی رسول اللہﷺ سے منسوب اس روایت کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ روایت کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہیں، یعنی اس کی سند اللہ تعالیٰ تک بیان کی جاتی ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کے لیے ”متکلّم“ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ملا علی قاری حدیث قدسی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث قدسی اسے کہتے ہیں جس کی روایت رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے فرمائی ہے کبھی حضرت جبریل کےواسطہ سے اور کبھی وحی الہام یا خواب کے ذریعہ سے اور آپﷺ نے اپنے الفاظ میں وہ مفہوم ادا فرمایا ہے۔ احادیث قدسیہ کو جمع کر کے الگ مؤلفات تیار کرنے کے لیے مختلف زمانوں میں مختلف عُلماء کرام نے حسب معمول بہت جان ریزی سے کام لیا ہے، اور مختلف کتابیں مرتب کی ہیں، اُن میں سے کچھ تو ایسی ہیں جن میں صرف روایات مذکور ہیں، اور کچھ ایسی ہیں جن میں روایات اپنے اصل مصادر کے حوالہ جات کے ساتھ مذکور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احادیث قدسی‘‘ علماء کی ایک کمیٹی کا احادیث کی مشہور ترین مجموعوں موطا امام اور صحاح ستہ سے قدسی روایات اخذ کے جمع کردہ ہے جسے دارالکتب العلمیہ، بیروت نے شائع کیا ہے اسلامک بک فاؤنڈیشن دہلی نے اس مجموعہ کو مولانا ابو مسعود ندوی کے ترجمہ کے ساتھ بمع عر بی متن شائع کیا۔ بعد ازاں منشورات، لاہور نے اس مجموعہ کا صرف اردو ترجمہ شائع کیا ہے لیکن اس میں احادیث کے حوالہ جات درج کردئیے ہیں تاکہ اہل علم کو عربی متن کی تلاش میں دقت نہ ہو۔ (م۔ا)

  • 19 #1131

    مصنف : مرزا عمران حیدر

    مشاہدات : 18727

    احادیث میں تعارض رفع کرنے کے اصول۔مقالہ ایم فل

    (جمعرات 16 فروری 2012ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    قرآن مقدس کے بعد احادیث نبویہ دین اسلام کا دوسرامعتبر ذریعہ ہے ۔دین اسلام  کے یہ دو اصل بڑے ماخذ ہیں ، اس اہمیت کے پیش نظر صحابہ کرام  ،تابعین و تبع تابعین اور علماء و محدثین جیسے قرآن حکیم کو سینوں میں محفوظ کیا ،اسی طرح ذخیرہ حدیث کوحفظ وتحریر اوردرس و تدریس کے ذریعہ محفوظ و مامون بنایا اور قبول حدیث کے ایسے حتمی اور معتبر اصول وضع  کیے کہ احادیث نبویہ میں اختراع اوروضع احادیث کا خاتمہ ہوگیا ۔پھر علما و محدثین نے فقہ و اجتہاد سے شرعی مسائل مستنبط کیے اور کتاب وسنت کے دلائل سے مسائل اخذ کرنے کے قواعد و ضوابط وضع کیے ،جن کی راہنمائی سے اصل مسئلہ تک رسائی ممکن ہوئی اور علمائے سلف کی ان کاوشوں سے تاویلات وتحریفات اور احادیث نبویہ میں تشکیکات پیدا کرنے والوں کےاہداف متاثر ہوئے اور ایسے فتنہ گروں کو ہر دور میں سخت پسپائی اورندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ان متجددین کا اصل ہدف احادیث میں شکوک و شبہات پیداکر کے دین کے اس  دوسرے بڑے ماخذ کو بے اثر کر کے اپنی من مانی تاویلات اور فکری کجی کو ایک باقاعدہ دین کی شکل دینا تھا ۔لیکن نہ یہ بازیگر اپنی اس مہم جوئی میں ماضی میں کامیاب ہوسکے اورنہ یہ حال  واستقبال میں کبھی سرخرو ہوں گے ،کیونکہ دین کی حفاظت کاذمہ خود اللہ مالک الملک نے اپنے ذمہ لیا ہے ۔لہذا ان فتنہ گروں کو سوائے ذلت و رسوائی اور ہزیمت وشکست  کے کچھ نہ ملے گا ۔منکرین احادیث نے احادیث رسول میں کئی طرح سے تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی،ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ احادیث اس حوالہ سے غیر معتبر ہیں کہ ان میں اختلاف پایا جات ہے اورایک ہی معنی کئی متضاد مفہوم کی احادیث پائی جاتی ہیں ۔اس اعتراض کا سبب ان کی علمی کم مائیگی ،جہالت اور حدیث دشمنی کا شاخسانہ ہے ۔ورنہ مفاہیم و مطالب میں اختلاف تو قرآنی آیات میں بھی موجو د ہے کہ فقط اختلاف مفاہیم کی وجہ سے کلام الہٰی کو غیر معتبر قرار دیا جاسکتاہے،اس عقلی موشگفی کو ماننے کے لیے اپنے یہ کرم فرما بھی تیار نہیں ۔پھر مختلف احادیث کو حل اور جمع کرنے کے باقاعدہ قواعد و ضوابط اور کتب موجود ہیں ،جن سے اس تعارض کا حل ممکن ہے ۔تعارض احادیث کو رفع کرنے کے بارے میں زیرنظر مقالہ ایک اچھی کاوش اور منکرین حدیث کے تعارض حدیث کے اعتراض کابہترین تریاق بھی۔(ف۔ر)
     

  • 20 #231

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 22398

    احادیث ہدایہ---فنی وتحقیقی حیثیت

    (ہفتہ 16 جنوری 2010ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    اس وقت پوری دنیا خصوصاً برصغیر پاک وہند میں فقہ حنفی کو خاصی پذیرائی حاصل ہے اور بلاتردد فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'الہدایۃ' کو کتاب وسنت کا نچوڑ قرار دیا جاتا ہے-  یہ دعوی کس حد تک درست ہے ؟ اور کیا 'ہدایۃ' فی الواقع قرآن کی طرح ہے؟  اس کا شافی اور تسلی بخش جواب ہمیں اس کتاب میں ملے گا-  جس میں ''الہدایۃ''  میں بیان کردہ من گھڑت روایات، اوہام الہدایۃ اور صاحب ہدایۃ کی تضاد بیانیاں جیسے متعدد موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے اس کی مکمل فنی وتحقیقی حیثیت آشکارا کی گئی ہے-  اصل میں اب سے  کچھ عرصہ قبل مولانا محمد یوسف جے پوری نے 'حقیقۃ الفقہ' کے نام سے کتاب لکھی جس میں احادیث ہدایۃ پر نقد وتبصرہ کیا گیا تھا جس پر ایک حنفی عالم نے ماہنامہ 'البینات' میں ایک لمبا چوڑا مضمون لکھ مارا جس کےجواب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے استحقاق حق اور ابطال باطل کا فرض ادا کرتے ہوئے تفصیلی مضامین قلمبند کیے – زیر مطالعہ کتاب کچھ حک واضافہ کے ساتھ انہی مضامین کی یکجا صورت ہے- کتاب کے مطالعے  سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ فقہی مسلک کتاب وسنت کی مکمل تفسیر نہیں بلکہ اس بحر بے کنار کا ایک قطرہ ہے-

     

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 41 42 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1764
  • اس ہفتے کے قارئین 7604
  • اس ماہ کے قارئین 59637
  • کل قارئین49523674

موضوعاتی فہرست