اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1098

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 3462

    کیا نبی رحمتﷺ مغموم بھی ہوجاتے تھے؟

    (جمعہ 07 فروری 2014ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    بعض لوگوں کا  عقیدہ کہ نبیﷺ عام  انسانوں کی  طرح  پریشان ومغموم نہیں ہوتے تھے جبکہ یہ  عقیدہ  صریحا اسلامی عقاید اور  سلف صالحین کے عقیدہ کے خلاف ہے  کیونکہ جتنے بھی انبیاء اور رسل اللہ تعالی نے معبوث فرمائے وہ سب کے سب نسل آدم علیہ  السلام میں سے  انسان اور بشر ہواکرتے تھے اور اللہ نے  بشر کوہی  اشرف المخلوقات قرار دیاہے  بشر کایہ خاصہ ہےکہ  وہ دنیا  میں غم،خوشی ،دکھ ،سکھ غرضیکہ دنیا میں ہر قسم کے اثرات سےمتاثر ہوتا ہے   چونکہ نبی رحمت حضرت محمد بن عبد اللہ  بشرتھے اللہ   تعالی  نے ان  کوافضل البشر اور خاتم الانبیاء بناکر دنیا میں مبعوث فرمایا  لہذا بتقاضائے بشریت ان کا غم اور خوشی کے اثرات سے متاثر ہونا ضروری ہے ۔ نیز یہ عقیدہ یا خیال رکھنا کہ وہ مغموم نہیں ہوسکتے تھے  دین میں غلو اور عقیدہ اسلام کے منافی ہے ۔محترم ڈاکٹر رانامخمد اسحاق   ( فاضل مدینہ  یونیورسٹی  جوکہ  متعدد  کتب  کے  مؤلف  ہیں )نے زیر نظر کتابچہ  میں قرآن  واحادیث کی  روشنی میں  متعدد قرآنی آیات و احادیث اور اقعات  پیش کر کے  ثابت کیا ہےکہ نبی ﷺ بھی عام انسانوں کی طرح مغموم ہوجایا کرتےتھے ۔(م۔ا)
     

  • 2 #1101

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 3856

    قبر اور عذاب قبر

    (ہفتہ 08 فروری 2014ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    عذاب  قبر دین اسلام کے    بنیادی  عقائد میں   سے  ایک  اہم   ترین عقیدہ   ہے۔ عقلی وعلمی گمراہیوں میں غرق ہونے  والے  اور بے دین افراد اگرچہ  عذاب قبر کا  انکار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہی  ہے  کہ اس کے  برحق ہونے پر کتاب  وسنت میں  دلائل کے انبار موجود  ہیں ۔تمام  اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے اور وہ اسے برحق مانتے  ہوئے  اس  پرایمان رکھتے ہیں ۔ عقیدہ  عذاب  قبر اس قدر اہم ہے کہ اس پر  امام  بیہقی ،امام ابن قیم ، اما م جلال الدین سیوطی ، اورامام ابن رجب ﷭  جیسے کبار محدثین اور آئمہ   کرام نے  باقاعدہ کتب  تالیف فرمائی  ہیں اور اسی طرح اردو زبان میں بھی کئی  جید علماء کرام  اور  اہل علم نے  اثبات عذاب قبر اور منکرین عذاب قبر کےرد میں کتب ومضامین لکھے  ہیں۔   زیر نظر کتابچہ بھی  اسی مسئلہ کے متعلق ہے جس میں کتاب وسنت کی روشنی دلائل وبراہین سے ثابت کیا گیا ہے کہ  عذاب قبر برحق ہے۔(م۔ا)
     

  • 3 #1906

    مصنف : امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ

    مشاہدات : 5113

    فقہ الاکبر

    (بدھ 19 فروری 2014ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    اما م ابو حنیفہ  صاحب مذہب معروف فقہی امام ہیں ،آپ اپنے  دور میں تقویٰ وپرہیزگاری اور دیانتداری میں بہت معروف تھے  ۔آپ خلافت عباسیہ میں متعدد عہدوں پر فائز رہے ۔امام موصوف کےزمانے میں  ابھی احادیث جمع نہیں ہوئی تھیں  لہذا امام  ابو حنیفہ اجتہاد بصیرت  سے   پیش آمدہ مسائل کا حل فرماتےتھے  .اس کتاب کی امام ابو حنیفہ کی طرف نسبت کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف آراء پائی جاتی ہیں،بعض اسے امام ابو حنیفہ کی ہی تالیف قرار دیتے ہیں تو بعض نے اس نسبت کو مشکوک قرار دیا ہے۔الغرض اس میں پچاس  فقہی مسائل کو انتہائی علمی طریقہ سے بیان کیا گیا ہے  ۔جو اہل علم کے لئے ایک گرانمایاں علمی تحفہ ہے۔( م۔ا)
     

  • 4 #2286

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 2840

    علوم حدیث رسول صلی ا للہ علیہ وسلم

    (پیر 11 اگست 2014ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    علم حدیث  کی قدر ومنزلت اور شرف وقار صرف اس لیے ہےکہ  یہ شریعت اسلامی  میں قرآن پاک کے بعد دوسرا بڑا  مصدر ہے ۔علم حدیث ارشادات واعمال رسول اللہ ﷺ کامظہر  اور نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی کا عملی عکس ہے جو ہر مسلمان کی شب وروز زندگی کے لیے بہترین نمونہ  ہے ۔جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے  اس زبان کے قواعد واصول  کو سمجھنا ضروری ہے  اسی طر حدیث نبویﷺ میں مہارت حاصل  کرنےکے لیے  اصول  حدیث میں دسترس  اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے  اس علم کی اہمیت  کے  پیش نظر  ائمہ محدثین اور اصول حدیث  کی  مہارت رکھنےوالوں  نے  اس موضوع پر  کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً  امام شافعی نے الرسالہ کے  نام سے  کتاب تحریرکی  پھر اس کی روشنی میں  دیگر اہل  علم نے کتب  مرتب کیں۔زیر نظر کتاب ’’علوم حدیث رسول ﷺ‘‘  ڈاکٹر ر انا محمد اسحاق ﷫(فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی علوم حدیث کےسلسلے میں  آسان فہم  تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں  نے حدیث وسنت کی  تعریف  اور ان کے فرق  کو واضح کر تے ہوئے  معروف اصطلاحات ِحدیث کو  بیان  کرنے  کے علاوہ  مکتوباتِ  نبوی  ،کاتبینِ  وحی ،کتابتِ حدیث کے ادواراور کتب ِاحادیث کےطبقات کوبھی بڑے احسن انداز میں  بیان کیا ہے  ۔ اللہ تعالی  فاضل مصنف کی  اس کاوش کو قبول  فرمائے اور اسے  طالبانِ علوم نبوت کےلیے  نفع بخش بنائے  (آمین) (م۔ا)
     

     

  • 5 #3201

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 2048

    مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

    (ہفتہ 30 مئی 2015ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی کریمﷺ کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔اس شہر میں بہت سے تاریخی نشانات ، اور بکثرت اسلامی آثار وعلامات پائے جاتے ہیں جن سے شہر کی عظمت ورفعت شان کا پتہ چلتا ہے۔اس کی فضیلت میں بہت سی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں ۔سیدنا عبد اللہ بن زید  نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا:سیدناابراہیم  نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا کی، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم  نے مکہ حرم  قرار دیا، میں مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں یہاں کے مُد میں  اس کے صاع میں (برکت ہو) جس طرح ابراہیم  نے مکہ کے لئے دعاکی۔سیدناجابر بن عبد اللہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: مدینہ لوہار کی بھٹی کے مثل ہے جو یہاں کے خبث وگندگی کو دور کرتا ہے اور اچھائی کو نکھارتا ہے،سیدناابو ہریرہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: بلا شبہ ایمان مدینہ میں  اسطرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں آجاتا ہے۔یہ اور اس معنی کی متعدد احادیث سے مدینہ منورہ کے فضائل ومناقب کا علم ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مدینۃ النبی ﷺ "محترم ڈاکٹر رانا محمد اسحاق ﷫اور ان کے فرزند ارجمند ڈاکٹر رانا خالد مدنی ﷾کی تصنیف وتحقیق ہے۔جس میں انہوں نے مدینہ منورہ سے متعلق جمیع معلومات کو ایک جگہ جمع فرما کر ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کر دیا ہے۔اور جابجا کلرڈ نقشے سجا کر اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔یہ کتاب مدینہ منورہ کی تاریخ کے حوالے سے ایک مستند اور باحوالہ ذخیرہ ہے ،جس میں مدینہ منورہ سے متعلق تقریبا ہر طرح کی معلومات موجود ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفین کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #3285

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 1546

    نماز تراویح (رانا اسحاق )

    (جمعہ 18 اکتوبر 2013ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    صحیح احادیث  کے مطابق  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر   کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام   کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں  او ر حضرت عمر   نے   بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔ زیر تبصرہ  کتابچہ’’ 20 نماز تراویح‘‘دراصل  17 فروری 1994ء  نوائےوقت میں ’’نماز تراویح کی اہمیت‘‘ کے عنوان  سےشائع ہونے والے ایک آرٹیکل کےجواب  تحریرکیا  گیا تھا ۔نوائے  وقت کےمضمون  نگار نے  موطا امام مالک کی  ایک  حدیث کو  خلط ملط   کر کے  نماز تراویح کی تعداد بتائی  جس پر  جناب ڈاکٹررانا  محمد اسحاق﷫ نےایڈیٹر نوائے وقت اور مضمون نگار کو آگاہ کیا  مگر کسی نے جواب نہ دیا تو  موصوف نے یہ مضمون  کتابچہ کی صورت میں شائع کردیا ۔ تاکہ مسنون تراویح کی آٹھ رکعات کے  واضح اور ٹھوس دلائل سے عوام الناس واقف ہوکر اس پر عمل پیرا ہوسکیں او ر ڈاکٹر  رانا محمد اسحاق  ﷫نے  ثابت  کیا کہ جس  حدیث سے بیس رکعات ہونے کا تذکرہ نوائے  وقت کےمضمون نگار نے کیا ہے اس میں تراویح کی تعداد آٹھ ہے نہ کہ بیس۔اللہ تعالیٰ  کتابچہ کے مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں تمام عبادات مسنون طریقۂ نبوی کےمطابق ادا کرنے کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)
     

  • 7 #3371

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 5251

    تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت

    (پیر 06 جولائی 2015ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    اردو میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا عربی نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی زبان میں ”التمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار ، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور شریعت اسلامیہ نے  ہر طرح کے تعویذات  کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے مسلمان ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو  جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں بیوی میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر نظر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمان اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں نظر بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری ،لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ ساری چیزیں زمانہ جاہلیت کی ہیں، جن سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے۔سلف صالحین، حضرات صحابہ وتابعین ، ائمہ و محدثین کرام اور دیگر اہل علم کی رائے کے مطابق یہی بات راجح اور صحیح بھی ہے کہ تعویذ خواہ قرآنی ہو یا غیر قرآنی اس کا لٹکانا حرام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت"محترم رانا ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  تعویذ گنڈے کی حقیقت،تعویذ گنڈے کے مفاسد ،مشروع طریقہ علاج اور مسنون اذکار وادعیہ جیسی مباحث کو بیان کیا ہے اور اس کے ساتھ شرعی دم کے مسائل کو بھی تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔آپ نے اس کے علاوہ بھی متعدد موضوعات پر کتب لکھی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 #3545

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 2782

    الجہاد (رانا اسحاق)

    (منگل 08 ستمبر 2015ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    جہاد دینِ اسلام کی چھوٹی ہے ۔جہاد اعلائے کلمۃ اللہ کا سب سے بڑا سبب او رمظلوموں ومقہوروں کو عد ل انصاف فراہم کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کےبعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنےوالے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔ جہادکی اہمیت وفضلیت کے حوالے سے کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں او رکئی اہل علم نے اس پر مستقبل عربی اردوزبان میں کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’الجہاد‘‘ڈاکٹر محمداسحاق رانا ﷫ کی کاوش ہے ۔جسے انہوں نے مدینہ کےقیام کےدوران تحریر کیا تھا اس کتابچہ میں قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کے فضائل بیان کیے ہیں ۔موصوف 1974ء تا 1980ء تک مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے ۔ آپ اس کے علاوہ بھی کئی چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ہیں۔ (م۔ا)

  • 9 #3579

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 1654

    حق بات

    (جمعہ 04 ستمبر 2015ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    نبی کریم ﷺ نے جس طرح حدیث کو حاصل کر کی ترغیب دی اور اس کےحاملین کے لیے دعا فرمائی اسی طرح حدیث وضع کرنے یا حدیث کے نام پر کوئی غلط بات آپﷺ کی طرف منسوب کرنے سے سختی سے منع فرمایا اور اایسےلوگوکو نارجہنم کی وعید سنائی ہے اور اسی طرح علماء اور محدثین نے بھی اس کے متعلق سخت موقف اختیار کیا ان کے نزدیک حدیث کووضع کرنے والا اسی سلوک کا مستحق جو سلوک مرتد اور مفسد کےساتھ کیا جاتاہے ۔وضع حدیث کی ابتدا ہجرت نبوی ﷺ کے چالیس سال بعد ہوئی حدیث وضع کرنے میں سرفہرست روافض تھے خوفِ خدا اور خوف آخرت سے بے نیازی نے اس معاملہ میں ان کو اتنا جری بنا دیا کہ وہ ہر چیز کو حدیث بنادیتے تھے ۔علمائے اسلام نے واضعین کے مقابلہ میں قابل قدر خدمات انجام د ی انہوں نے ایسے اصول وقواعد مرتب کیے او ر موضوع حدیث کی ایسی علامتیں بتائیں جس سے موضوع احادیث کےپہچاننے میں بڑی آسانی ہوتی ہےاو ر موضوع احادیث پر مشتمل کتب لکھیں تاکہ لوگ ایسی ا حادیث سےباخبر ہوجائیں جن کی کوئی اصل نہیں۔ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حق بات‘‘ ڈاکٹر محمد اسحاق رانا ﷫ کی کاوش ہے ۔ اس کتابچہ میں انہوں نے زبان زد عام حدیث’’ اطلبو العلم ولو کان بالصین‘‘ کی علمی تحقیق ملکی وغیر ملکی معروف علماء کے فتاویٰ کی روشنی میں مرتب کی ہے۔نیز اس میں اس حدیث کے علاوہ مزید 9 احادیث کی تحقیق کی بھی اس میں شامل ہے ۔ان دس جھوٹی تحقیق شدہ احادیث کے تقابل میں صحیح احادیث بھی پیش کردگئی ہیں تاکہ اتباع سنت محمد ﷺ کر کے جھوٹی احادیث کی وعید سے بچا جاسکے ۔اس کے علاوہ اس کتابچہ میں علوم حدیث کی بعض معروف اصطلاحات اور طبقات کے لحاظ سے راویوں کےنقشہ جات شامل اشاعت کردئیے گیے تاکہ قارئین ان کے مطالعہ سے صحیح اور جھوٹی حدیث کی حقیقت معلوم کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں ضعیف اور موضوع احادیث پر عمل کرنے کی بجائے احادیث ِصحیحہ پر ہی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 10 #3593

    مصنف : ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    مشاہدات : 2932

    نماز میں رفع الیدین کرنے کی شرعی حیثیت

    (جمعہ 11 ستمبر 2015ء) ناشر : ادارہ اشاعت اسلام علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’نماز میں رفع الیدین کرنے کی شرعی حیثیت ‘‘ ڈاکٹر محمد اسحاق رانا﷫ کا تصنیف شدہ ہے۔اس کتابچہ میں انہوں نےایسی 37 صحیح ترین احادیث جمع کردی ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کا نماز میں رفع الیدین کرنے کا پورا نقشہ ان کے ارشادات واعمال سے ثابت ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے اس سلسلہ میں جہلاء کے اعتراضات کے ٹھوس دلائل موجود ہیں جو معروف علمی طریقہ سے پیش کردیئے گئے تاکہ حقائق پوری دیانتداری سے واضح ہوسکیں۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت سےنوازے (آمین)(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 777
  • اس ہفتے کے قارئین 15631
  • اس ماہ کے قارئین 39171
  • کل قارئین49251577

موضوعاتی فہرست