اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1648

    مصنف : فضل حسین بہاری

    مشاہدات : 4601

    الحیات بعد الممات

    (ہفتہ 06 اپریل 2013ء) ناشر : المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل

    ہندوستان میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بعد تیرہویں صدی ہجری کے آخرمیں دو بزرگ ہستیاں ایسی ہوئی ہیں، جنھیں احیائے سنت اور طریقہ سلف کی خدمت میں بلند ترین مقام حاصل ہے۔ جن میں سے ایک نواب صدیق حسن خاں صاحب جبکہ دوسری شخصیت سید نذیر حسین محدث دہلوی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ثانی الذکر ہستی کے سوانح حیات پر مشتمل ہے۔ کتاب کو سات ابواب اور دو ضمیمہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں سید نذیر حسین دہلوی کے سن ولادت سے لے کر دہلی تک پہنچنے تک کا بیان ہےجس میں تقریباً تیئیس برس کے حالات زندگی آ گئے ہیں۔ باب دوم میں تحصیل علوم، شادی سے لے کر طالب علمی کے احباب تک کا تذکرہ ہے۔ تیسرے باب میں چھیالیس برس تک کے حالات زندگی رقم کیے گئے ہیں جس میں مسند درس پر متمکن ہونا، مطالعہ اور وسعت نظر، اہلیہ کی وفات، سفر حج اور مولانا سید شریف حسین صاحب کی وفات وغیرہ کا تذکرہ موجود ہے۔ چوتھا باب مجددیت، تصوف اور بیعت سے متعلق ہے۔ باب پنجم آپ کے اخلاق و عادات اور زندگی کے مختلف واقعات سے مزین ہے۔ چھٹے باب میں پابندی اوقات، شکل و شمائل، وفات اور تاریخ واقعات سے متعلق ہے۔ باب ہفتم اہل علم کے شعرا کے قصائد، معاصرین علما، معتبرین اور شیوخ کی آرا، برادران اور اولاد احفاد کے بیان میں ہے۔ (ع۔م)
     

  • 2 #2582

    مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

    مشاہدات : 1976

    مکاتیب سلمان

    (ہفتہ 15 نومبر 2014ء) ناشر : المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل

    خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد   خلفائے راشدین﷢ نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ خطوط شائع ہوچکے ہیں اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط چھپے اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ ’’مکاتیب سلمان ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔جوکہ معروف سیرت نگار کتاب ’’رحمۃ للعالمین کے مصنف علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری﷫ کے علمی اور تبلیغی 33 خطوط کا مجموعہ ہے جسے   المکتبۃ الاثریۃ ،سانگلہ ہل نے افادۂ عام کےلیے شائع کیا۔(م۔ا)

  • 3 #3018

    مصنف : فرید وجدی آفندی

    مشاہدات : 1865

    مسلمان عورت

    (منگل 24 مارچ 2015ء) ناشر : المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل

    دین اسلام نے  عورت کواتنا اونچا مقام و مرتبہ دیا ہے جواسے پہلے کسی قوم وملت نے نہیں دیاتھا۔ اسلام نے انسان کوجو‏عزت واحترام دیا ہے اس میں مرد و عوت دونوں برابر کےشریک ہیں ۔ اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔لیکن افسوس کہ مغرب حقوق نسواں اور آزادی  کے نام پر عورت کو بے پردہ کرنا چاہتا ہے اور مسلمان خواتین کی عفت وعصمت کو تاتار کرنا چاہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مسلمان عورت"دراصل علامہ فرید وجدی آفندی کی عربی کتاب "المراۃ المسلمۃ"کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ کرنے کی سعادت ہندوستان کی شخصیت ابو الکلام آزاد کے حصے میں آئی ہے۔یہ کتاب انہوں نے قاسم امین کی عورت کی آزادی پر مشتمل  دو کتابوں "تحریر المراۃ"اور "المراۃ الجدیدۃ" کے جواب میں لکھی ہے۔قاسم امین  کی ان دو کتابوں کے منظر عام پر آتے ہی مصری معاشرے میں ایک ہلچل سی مچ گئی  اور متعدد اہل علم نے ان کا رد لکھا ،لیکن ان میں ایک تو جامعیت نہ تھی اور دوسرے نمبر پر وہ دفاعی نوعیت کی تھیں۔یہ صورتحال دیکھ علامہ فرید وجدی تڑپ اٹھے  اور فلسفہ وحکمت کے دلائل کا انبار لگا دیا۔اور پرزور طریقے سے ثابت کیا کہ قصر اسلامی کی بنیادیں زندگی کی ٹھوس حقیقتوں پر قائم ہیں،ان میں کسی قسم کی ترمیم واصلاح کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔انہوں نہایت احسن انداز میں یہ ثابت کیا کہ عورت کا دائرہ عمل اور اصلی میدان گھر ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمان عورتوں کو پردہ کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

     

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1936
  • اس ہفتے کے قارئین 12579
  • اس ماہ کے قارئین 36119
  • کل قارئین49224844

موضوعاتی فہرست