ام الکتاب میں اللہ کا تعارف(4161#)

محمد ابو الخیر اسدی
مجلس نشر السنۃ، ملتان
256
8960 (PKR)

ہم مختلف لوگوں سے سنتے ہيں جو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان کی اپنی عقل وسمجھ کے مطابق کرتے ہيں، اور بعض مسلمان انہی نظريات اور افکار سے متاثر ہو جاتے ہيں۔ اللہ تعالی کے تعارف کو سمجھنے اور اس کے متعلق علم حاصل کرنے کا سب سے بہترين ذريعہ خود اللہ رب العالمين، قران مجيد اور رسول اللہﷺ کا اللہ تعالیٰ کے متعلق تعارف کروانا ہے، جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم کے مطابق سمجھنا چاہيے۔ اللہ تعالیٰ جو اس کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے قرآن کو نازل فرمايا تاکہ ہم اپنی زندگی کو بامعنیٰ بنائيں اور آخرت ميں کامياب ہوں، اگر ہم قران مجيد پر کھلے دل اور دماغ سے غور کريں گے تو ہميں اللہ تعالیٰ کا حقيقی تعارف حاصل ہو سکے گا جس کے ذريعہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کو سمجھ سکیں گے اور اس کی خالص بندگی کرنے ميں ہميں مدد ملےگی جيسے کے اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ لفظ ’’ اللہ ‘‘يہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جو صرف اللہ ہی کے ليے خاص ہے کوئی اور ذات اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ لفظ "اللہ" کا معنی يہ ہے کہ "وہ اوصاف کاملہ اور صفات جامعہ کى مالک ذات جو ساری مخلوق کی عبادت کى اکىلى حقدار اور مستحق ہے"۔ اللہ تعالی کا يہ نام قرآن کريم میں سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے تمام افعال میں یکتا اور اکیلا ہے اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور مدبر ہےاور ساری کائنات کا نظام وہی چلا رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب(پالنے والا) ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ناموں اور صفات میں اکیلا ،منفرد اور جداہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ (الأعراف: 180) اللہ تعالیٰ کاصحیح تعارف حاصل کرنے کابہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید، احادیث صحیحہ اور آسمان وزمین موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ام الکتاب میں اللہ کا تعارف‘‘علامہ ابو الخیر اسدی﷫ کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کاتعارف پیش کیا ہے۔ کیونکہ اس سورت میں معرفت الٰہیہ، رسالت، آخرت کواجمال کے طورپر بیان کیاگیا ہے۔ باقی سارے قرآن میں ان تینوں اصولوں کی تفصیل کے ساتھ تشریح کی گئی ہے۔ (م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

مقدمۃ الکتاب

4

قرآن میں توحید کے سادہ اور علمی انداز کا طریقہ

9

حق کی وضاحت کے بعد اہل حق کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا

11

الحمد للہ رب العالمین میں معرفت الٰہیہ کی تشریح

13

قرآن میں توحید اور شرک کا مفہوم

23

عقائد کی حقیقت اور اہمیت

53

دور جدید میں قرآنی دعوت

56

قرآن میں ساری کائنات کو توحید کی دعوت دینے کا فطری اسلوب

64

خدا کی ہستی کے آفاقی دلائل

80

توحید کا قرآنی تصور

88

توحید کے قرآنی براہین

96

معرفت الٰہیہ کے قرآنی دلائل

106

توحید باری تعالیٰ

110

قوانین فطرت میں تغیر کا امکان

118

اصول تعلیل کی موت

137

وجود باری تعالیٰ اور عقلیات

146

قوانین فطرت اور خدا کی مجبوری

153

پرویزی مسلک میں خدا کا تصور

122

قوانین فطرت اور معجزات

170

سائنس کے جدید تصورات میں دہریت کا خاتمہ

175

خدا کی عظمت اور سائنس کا عجز

181

رب العالمین کی تشریح

183

ساری کائنات کو کس نے تھام کے رکھا ہے

190

تخلیق انسان کی نفسی دلیل

193

نظام کائنات میں رزق کا انتظام

196

نظام کائنسات میں شہد کی مکھی کس طرح کام کرتی ہے

199

اللہ سے اتنی دوری کیوں؟ٍ

205

خدا کا بگڑا ہوا تصور

210

مادہ و دہریت پر خدا کی عظمت کا غلبہ

244

وحدت وجود کے نظریے میں توحید کی تعبیر

234

عالم اسباب

246

اس مصنف کی دیگر تصانیف

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 766
  • اس ہفتے کے قارئین: 6935
  • اس ماہ کے قارئین: 46503
  • کل قارئین : 47264238

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں