ڈاکٹر اسرار احمد

11 کل کتب
دکھائیں

  • 1 منہج انقلاب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (اتوار 18 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:28495

    محترم ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ایک عظیم داعی قرآن تھے جن کی شبانہ روز  محنت سے نہ صرف وطن عزیز بلکہ بے شمار دیگر ممالک میں بھی قرآن کریم کی دعوت پھیلی اور لوگ مطالعہ قرآن کی جانب راغب ہوئے محترم ڈاکٹر صاحب قرآن حکیم کی تجدید ایمان کا وسیلہ قرار دیتے تھے اور ایمان وعمل کی تجدید سے قیام خلافت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کےلیے سرگرم عمل تھے اس سلسلہ میں انہوں نے انقلاب بپا کرنے کا ایک مفصل پروگرام بھی تشکیل دے رکھا تھا جو ان کے بقول قرآن مجید اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ تھازیر نظر کتاب ''منہج انقلاب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم''بھی اسی موضوع پرہے ا س میں محترم ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے سیرت النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اولاً مراحل انقلاب کی تعیین فرمائی او راو ربعدازاں رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو مراحل انقلاب کی توضیح وتفصیل کے پہلو سے بیان  کیا ہے کتاب مذکور میں مندرجہ جزئی تفصیلات سے تو بلاشبہ کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ ان کا ثبوت کتب سیرت میں موجود ہے تاہم محترم ڈاکٹر صاحب مرحوم کے استدلال اوراستنباط و استنتاج پربحث ونظر کی گنجائش موجود ہے خصوصاً یہ نکتہ تجزیہ ومناقشہ کا طالب ہے کہ کیا سیرت سے تشریعی امور پراشتہاد ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ اس لیے کہ ارباب اصول کے ہاں اخذواستدلال کے اسالیب میں حدیث وسنت کا تذکرہ توملتا ہے تاہم سیرت کا لفظ یااصطلاح مستعمل نہیں کتب سیرت میں دراصل نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال وآثار کو موضوع بحث بنایا جاتاہے ان سے استنباطِ امور شرعیہ مقصود نہیں ہوتا شرعی مع...

  • 2 سانحۂ کربلا (پیر 13 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:17948

    ہمارے ہاں شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ضمن میں بہت سے مغالطے اور اور غلط فہمیاں زبان زدعام و خاص ہیں۔ شیعہ حضرات اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے سانحہ کربلا کی آڑ میں صحابہ کرام پر اپنی تحریر و تقریر کا زور آزماتے ہیں۔ زیر مطالعہ مختصر سے رسالہ میں ڈاکٹر اسراراحمد صاحب نے سانحہ کربلا کے سیاق و سباق کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی مکمل تفصیلات سے آگاہی فراہم کی ہے۔ اور اس حوالے سے بیان کیا جانے والے تمام رطب و یابس کی قلعی کھولی ہے۔ اس کتابچے کا پس منظر یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ’ہجری سال نو مبارک‘ کے حوالے اہم باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر ’سانحہ کربلاکا تاریخی پس منظر‘ کے عنوان سے خطاب کیااس کے بعدواقعات کربلا کے ضمن میں حضرت محمد باقر سے مروی ایک روایت کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا تھا۔ یہ کتابچہ در اصل ان تینوں کی یکجا صورت ہے۔

  • 3 شہید مظلوم (جمعہ 26 نومبر 2010ء)

    مشاہدات:19972

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر لوگوں میں سے ہیں جن کے طرز عمل، اور اقوال و افعال کی لوگ اقتداء کرتے ہیں آپ کی سیرت، ایمان، صحیح اسلامی جذبہ اور دین اسلام کے فہم سلیم کے قوی مصادر میں سے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں اسی شخصیت کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ آج ایک مخصوص طبقہ کی جانب سے ایک ایسی شخصیت پر دشنام طرازی کا بازار گرم کیا جاتا ہے  جس نے وحدت اسلامیہ کی بقا کے پیش نظر کلمہ گو فسادیوں کے خلاف تلوار نہ اٹھائی۔اپنی پوری زندگی پیکر صدق و وفا اور امام عزم و استقامت بنے رہے۔ آپ نے اپنے اوپر اچھالے جانے والے تمام اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔ یہ کتاب فی زمانہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ذوالنورین کی عظمت کو ثابت کرتی ہے اور قارئین کے سامنے یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ ایمان و علم، اخلاق و آثار کے ساتھ انتہائی عظیم انسان تھے۔ آپ کی عظمت اسلام کے فہم و تطبیق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی اتباع کا نتیجہ تھی۔
     

  • 4 راہ نجات سورۃ العصر کی روشنی میں (جمعہ 10 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2718

    سورۃ العصر قرآن  حکیم کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہے ۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نےزمانے کی قسم کھا کر کہا ہے کہ بالعموم انسان خسارے میں ہے سوائے  اس آدمی کے جس کے اندر وہ چار صفات پائی جائیں جن کا ذکر آیت نمبر 3 میں آیا ہے ۔خوش قسمتی سےاس میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ تقریبا سب کےسب اردو میں عام طور پر مستعمل ہیں  اور ایک عام اردو دان بھی ان سے  بہت حدتک مانوس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ  کاسرسری مفہوم تقریبا ہر شخص  فوراً جان لیتا ہے اوراس میں کسی قسم کی دقت محسوس نہیں کرتا۔اپنے مضامین کے   اعتبار سے  قرآن مجید کی  ایک  عظیم الشان سورت ہے  امام شافعی﷫ نے اس کےبارے  میں فرمایا کہ ’’ اگر  لوگ تنہا اسی ایک سورۃ پر غور کریں تو یہ ان کے لیے  کافی ہوجائے ‘‘ یہ سورۃ کل تین آیات پر مشتمل ہے  او راس کی دوسری  آیت عددی اعتبار ہی  سے نہیں بلکہ مفہوم کے  لحاظ سے بھی مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ اس میں یہ درد ناک حقیقت بطور کلیہ بیان ہوئی  ہے کہ ’’انسان بالعموم اور بحیثیت مجموعی خسارے میں ہے ۔ پہلی آیت میں  اس حقیقتِ کبریٰ کے دلائل وشواہد کوصرف ایک  قَسم میں سمو کر پیش کردیاگیا ہے ۔ جبکہ تیسری آیت اس کلیے سے ایک استثناء کو بیان کررہی ہے۔اس سورۃ کے  دو حصے  ہیں  ایک دعویٰ اور اس کی دلیل پر مشتمل ہونےکی بناپر انتہائی گہری  علمی اہمیت کا حامل ہے  جبکہ دوسرا جز  عملی اعتبار سے انتہائی اہم&nbs...

  • 5 جہاد بالقرآن اور اس کے پانچ محاذ (منگل 15 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1918

    دین اسلام ایک سراپا رحمت، عفو درگزری، تحمل اور بردباری کا مذہب ہے۔ جہاں دین اسلام نے ملکی سرحدوں کے دفاع کے احکام و مسائل سے آگاہ کیا ہے وہاں اسلام کی نظریاتی حدود کی حفاظت لازم قرار دی ہے۔ اسلامی نظریاتی حدود سے مراد اصلاح انسانیت ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک مغالطہ ذہنوں میں بٹھا دیا گیا ہے جو کہ جہاد اور قتال کو مترداف معنی مراد لیا جا رہا ہے ارشاد ربانی ہے"وجاھد ھم بہ جھاداً کبیرا"(الفرقان:52)۔ اس آیت مبارکہ میں فعل امر کے ساتھ آپﷺ کو یہ تاکید کی جا رہی ہے اس کتاب(قرآن مجید) کے ساتھ آپ جہاد کیجیے جبکہ قتال نام ہے دین اسلام کے دشمنوں سے محاذ آرائی کرنا، میدان مقتل میں فاتح و مغلوب ہونا۔ آپ ﷺ نےاپنے دور مکی میں تزکیہ نفس کیا اور لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کرتے رہے اسی کتاب اللہ کے ساتھ مشرکین مکہ سے جہاد کرتے رہے۔ زیر نظر کتاب"جہاد با لقراٰن اور اس کے پانچ محاذ" مولانا ڈاکٹر اسرار احمد کے فکر انگیز درس کو شیخ جمیل الرحمٰن نے نہایت محنت کے ساتھ احاطہ تحریر میں لاتے ہوئے کتابی شکل میں ڈھالا ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ڈاکٹر صاحبؒ اپنے درس"جہاد بالقراٰن" کے موضوع کے تحت بے پناہ علمی نکات سے عوام الناس اور علماء کو آشنا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحبؒ کو غریق رحمت فرمائے اور شیخ جمیل الرحمٰن کو بھی اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 6 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (بدھ 18 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2843

    امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہم...

  • 7 رسول کامل صلی اللہ علیہ وسلم (پیر 28 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1235

    سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔ اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے، جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔ اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں، بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر، ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "رسول کاملﷺ "تنظیم اسلامی پاکستان کے بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ کو بیان فرمایا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان 12 تقاریر پر مشتمل ہے جو محترم ڈاکٹر صاحب نے پاکستان ٹیلی ویژن پر یکم تا 12 ربیع الاول 1401ھ ارشاد فرمائے، جنہیں احباب کے اصرار پر تحریری شکل میں شائع کر دیا گیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 8 اسلام کا معاشی نظام ( ڈاکٹر اسرار احمد ) (منگل 03 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2034

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام کا معاشی نظام اور اسلامی ریاست کا نظام محاصل‘‘ تنظم اسلامی پاکستان کے بانی جناب ڈاکٹر اسراراحمد کی اسلام کے معاشی نظام پر کی گئی زرعی یونیورسٹی ،فیصل آبا،اور محکمہ محنت پنجاب کے زیر اہتمام مل مالک اور م...

  • 9 اسلام، ایمان اور احسان حدیث جبریلؑ کی روشنی میں (جمعرات 28 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1700

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔چنانچہ صحیحین ،سنن اربعہ،اصول خمسہ،اور صحاح ستہ وغیرہ اصطلاحات علماء کے ہاں معروف اور متداول چلی آ رہی ہیں۔ بعض نے کسی انداز سے تو بعض نے کسی اور انداز سے حدیث نبوی ﷺ کی خدمت کی۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام، ایمان اور احسان، حدیث جبریل کی روشنی میں" پاکستان کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے حدیث جبریل کی روشنی میں اسلام، ایمان اور احسان کی تشریح فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 خطبات خلافت (جمعرات 05 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1013

    نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد اس اسلامی مرکزیت کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کے جانشین مقرر کرنے کا جو طریقہ اختیار کیاگیا اسے خلافت کہتے ہیں۔ پہلے چار خلفاء سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر فاروق ، سید عثمان غنی ،سیدنا علی المرتضیٰ کو عہد خلافت راشدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ ان نائبین رسول نے قرآن و سنت کے مطابق حکومت کی اور مسلمانوں کی مذہبی رہنمائی بھی احسن طریقےسے کی۔اور ہر طرح سے یہ خلفاء اللہ تعالیٰ کے بعد اہل اسلام کے سامنے جوابدہ تھے۔ اور ان کا چناؤ مورثی نہیں تھا بلکہ وصیت اکابر صحابہ کی مشاورت سے ان کا انتخاب کیا جاتا رہا۔خلیفہ کی صفات اور شرائط ،خلیفہ کے فرائض منصبی ،خلیفہ کے حقو ق ،خلیفہ کے اختیارات وغیرہ کا بیان کتب حدیث وسیر میں موجود ہے ۔ حتی کہ اس موضو ع پر باقاعدہ اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات خلافت‘‘ پاکستا ن میں نظام ِخلافت کے قیام کے لیے ’’ تحریک خلافت پاکستان ‘‘ کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے خلافت کے موضوع پر چار خطبات کا مجموعہ ہے ۔موصوف نے ستمبر 1999ء میں اس مذکورہ تحریک کا آغاز کیا ۔ڈاکٹر اسرار کےیہ خطبات خلافت کی اصل حقیقت اور اس کا تاریخی پس منظر اور عہد حاضر میں اس کے دستوری وقانونی اور معاشی ومعاشرتی ڈھانچے اور اس کے قیام کے لیے سیرت نبویﷺ سے ماخوذ طریق کار کی تشریح پر مشتمل ہیں ۔(م۔ا)


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1546
  • اس ہفتے کے قارئین: 12191
  • اس ماہ کے قارئین: 39885
  • کل قارئین : 45996874

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں