اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

ابن عبدالشکور

  • نام : ابن عبدالشکور

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #6330

    مصنف : ابن عبدالشکور

    مشاہدات : 1331

    محافظ امت حضرت عثمان

    (محافظ امت حضرت عثمان) ناشر : حرا پبلی کیشنز لاہور

    سر آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ آج بڑی شدت سے اس بات کی ضرورت ہے کہ عہد ماضی کے ان نامور سپوتوں اور رجال عظیم کی پاکیزہ سیرتوں اور ان کے اُجلے اُجلے کردار کو منظر عام پر لایا جائے اور سیرت وکردار کی تعمیر میں ان کی زندگیوں کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی حوالے سے ہے جس میں حضرت عثمانؓ کی سیرت اور ان کے کردار کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ کی باکمال جماعت ان قدسی صفات انسانوں پر مشتمل تھی جن کے دلوں کی سر زمین خدا خوفی‘ خدا ترسی‘ جود وسخا‘ عدل ومساوات صدق وصفا اور دیانت داری سے مرصع ومزین تھی۔ صحابہ میں سے ایک بے مثال‘ حق کی تلاش میں مسلسل سر گرداں اور دنیا وآخرت کی سرفرازیوں سے نوازے جانے والے، حیاء کے پیکر حضرت عثمانؓ بھی ہیں۔اس کتاب کے لکھے جانے سے قبل حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کی سیرت پر بہت سی عربی اور اردو کتب اور عربی کتب کا اردو ترجمہ منظر عام پر آ چکا ہے لیکن حضرت عثمانؓ کی سیرت پر کوئی بھی مربوط یا مبسوط کتاب نہیں لکھی گئی اس لیے یہ کتاب حضرت عثمانؓ کی سیرت کو اُجاگر کرتی ہے۔ اس میں ان کے نام ونسب اور تاریخ پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام حالات کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب سلاست اور روانی کی عجب شان رکھتی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ محافظ امت حضرت عثمان ‘‘ ابن عبد الشکور کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 2 #6369

    مصنف : ابن عبدالشکور

    مشاہدات : 2548

    رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول دشمن رسول

    (رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول دشمن رسول) ناشر : حرا پبلی کیشنز لاہور

    عبداللہ بن ابی کا مکمل نام اپنی ماں کی نسبت سے، عبداللہ بن ابی بن سلول، بتایا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آمد سے قبل اہل مدینہ میں اسکی حیثیت اثر اور مرتبہ سب سے ممتاز تھا اور ہجرت سے کچھ روز قبل اہل مدینہ کے تمام قبائل نے اسے متفقہ طور پر اپنا سردار مقرر کرلیا تھا اور اسکی باقاعدہ رسم تاج پوشی کے لئے دن اور بھی تیہ کر لی گئی تھی۔ عبداللہ بن ابی نے بظاہر اسلام قبول کرلیا اور ظاہری اعتبار سے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام احکامات کی پاپندی شروع کردی لیکن اندر ہی اندر وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض اور عناد کی عاد میں جل رہا تھا۔ وہ جب تک زندہ رہا اس نے اسلام کی جڑ کاٹنے کے لئے یہودیوں اور مشرکین مکہ سے رابطے استوار رکھے اور غزوہ بدر اور احد میں نہ خود حصہ نہیں لیا بلکہ اندر ہی اندر صحابہ کو بھی جہاد پہ جانے سے روکتا رہا۔ یہی منافق شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی عائشہ بنت ابی بکر پر تہمت لگانے میں بھی پیش پیش رہا۔اسلامی تاریخ اور بطور خاص مسلمانوں میں تفرقات پیدا ہونے کے ابتدائی ماحول اور محرکات کے سلسلے میں عبداللہ بن ابی کا نام اولین شخصیات میں لیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام میں اس کو رئیس المنافقین کہا گيا۔ اس کی وفات پر عمر فاروق نے اس کا واضح طور پر اظہار بھی کیا تھا کہ یہ شخص منافق تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسکی نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔ لیکن اس کے باوجود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسکے مسلمان بیٹے کی دلجوئی کے لئے کمال رحم اور عفو در گزر سے کام لیتے ہوئے اس کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے گئے اور کفنانے کے لیے اپنا کرتا عنایت فرمایا، مگر عین وقت پر اللہ تعالٰی نے بذریعہ وحی نماز جنازہ پڑھنے سے روک دیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابیّ بن سلول دشمنِ رسول‘‘ ابن عبد الشکور کی کاوش ہے۔ جس میں نفاق کا معنیٰ ومفہوم بیان کرتے ہوئے منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابیّ کی تمام سازشوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمٰن)

  • 3 #6765

    مصنف : ابن عبدالشکور

    مشاہدات : 3680

    آئینہ سیرت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ

    (آئینہ سیرت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ناشر : مکتبہ خلیل غزنی سٹریٹ لاہور

    خادم  رسول ﷺ  سیدنا انس بن مالک ﷜ قبیلہ نجار سے تھےجو انصار مدینہ کا معزز ترین خاندان تھا،ان کنیت ابو حمزہ تھی سیدنا  انس ﷜ کی والدہ ماجدہ کا نام ام سلیم سہلہ بنت لمحان انصاریہ ہے جوکہ رشتہ میں وہ آنحضرتﷺ کی خالہ تھیں۔ سیدنا انس  ﷜ہجرت نبویﷺ سے دس سال پیشتر یثرب میں پیدا ہوئے 8،9 سال کی عمر تھی کہ ان کی والدہ   نے اسلام قبول کرلیا، ان کے والد بیوی سے ناراض ہوکر شام چلے گئے اور وہیں انتقال کیا،ماں نے دوسرا نکاح ابو طلحہ انصاری سے کرلیا جن کا شمار قبیلۂ خزرج کے امیر اشخاص میں تھا اوراپنے ساتھ انس کو ابو طلحہ کے گھر لے گئیں، انس نے انہی کے گھر میں پرورش پائی۔ہجرت کے کچھ عرصے بعد ان کی والدہ نے انہیں بطور خادم نبی  کریم  کے سپرد کردیا۔ اس وقت ان کی عمر دس برس کی تھی۔ سیدنا  انس ﷜ زندگی بھر نبی کریم ﷺ  کے خادم رہے۔آپﷺ کی وفات تک اپنے فرض کو نہایت خوبی سے انجام دیا ،سفر وحضر اورخلوت وجلوت کی ان کے لیے کوئی تخصیص نہ تھی۔نزول حجاب سے پہلے وہ آنحضرتﷺ کے گھر میں آزادی کے ساتھ آتے جاتے تھے۔وہ کم وبیش دس برس حامل نبوتﷺ کی خدمت کرتے رہے اورہمیشہ اس شرف پر ان کو ناز رہا۔ سیدنا انس﷜  تقریباً تمام غزوات  میں شریک ہوئے۔غزوہ بدر میں کم سن ہونے کے باوجود شریک تھے۔ غزوہ خیبر میں انس،ابوطلحہ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے اورآنحضرت ﷺ سے اس قدر قریب تھے کہ ان کا قدم آنحضرتﷺ کے قدم سے مس کررہا تھا،8ھ میں مکہ اور طائف میں معرکوں کا بازار گرم ہوا اور 10ھ میں آنحضرتﷺنے حجۃ الوداع یعنی آخری حج کیا، ان سب واقعات میں انس نے شرکت کی ۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق﷜ نے سیدنا  انس ﷜کو بحرین میں صدقات کا افسر بنا کر بھیجا۔  خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا عمرفاروق ﷜نے اپنے عہد خلافت میں انہیں تعلیم فقہ کے لیے ایک جماعت کے ساتھ بصرہ روانہ کیا، اس جماعت میں تقریباً دس اشخاص تھے،سیدنا  انس ﷜ نے مستقل بصرہ میں سکونت اختیار کی اورزندگی کا بقیہ حصہ یہیں بسر کیا۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہنے کی وجہ سے آپ سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں زیادہ تر انہیں سے احادیث روایت کی ہیں۔ سید نا انس ﷜ سے  2286 احادیث منقول ہیں  جو مختلف کتب احادیث میں موجود ہیں ۔سیدنا انس بن مالک ﷜ نے سو برس سے زیادہ عمر پائی، بصرہ کے قریب ہی ایک مقام پر93ھ میں آپ کا انتقال ہوا، بصرہ میں آخری صحابی کی وفات آپ کی ہوئی۔عربی زبان میں  توصحابہ کرام ﷢ کے حالات واقعات  کے متعلق کئی کتب  موجود  جن ابن حجر عسقلانی ﷫  کی  کتاب ’’ الاصابہ فی تمیز الصحابہ ‘‘ قابل ذکر ہے ۔ اور اسی طرح  اردو زبا اسی نوعیت کی  کتاب  سیر الصحابہ بھی ۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان  افروز  تذکرے سوانح حیا ت کے  حوالے  سے  ائمہ محدثین او راہل علم   نے   کئی  کتب تصنیف کی  ہیں عربی زبان  میں  الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ  قابل ذکر ہیں  ۔اور اسی طرح اردو زبان میں  کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ اردو کتب میں  سے ایک کتاب ’’سیر الصحابۃ‘‘ ہے یہ کتاب 15 حصوں میں  نو مجلدات پر مشتمل۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ آئینہ سیرت  حضرت انس بن مالک ﷜‘‘ ابن عبد الشکور  کی کاوش ہے ۔مصنف نےا س کتاب میں  سیدنا انس بن مالک کی سیرت  ،ان کے عزیر واقاب  کا ذکر کرنے کے علاوہ   سیرت النبی ﷺ  کو اس میں شامل کیا ہے  اور نبی کریم ﷺ کے کئی صحابہ کرام ﷜ کا  بھی اس میں  تذکرہ موجود ہے اور حضرت انس بن مالک سے مروی رویات کو  موضوعات وعناوین  کے  تحت  اس کتاب میں درج کردیا ہے۔  (م۔ا) 

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1631
  • اس ہفتے کے قارئین 7616
  • اس ماہ کے قارئین 46010
  • کل قارئین49332543

موضوعاتی فہرست