دکھائیں کتب
  • 41 اسوہ صحابہ کاملؓ (جمعرات 09 جون 2016ء)

    مشاہدات:2362

    صحابہ  نام  ہے  ان نفوس  قدسیہ  کا جنہوں  نے   محبوب  ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا  اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو  اپنے   ایمان  وعمل میں پوری طرح سمونے کی  کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت  میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام   کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام  کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام   کے ایمان  ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر  پسند آیا کہ اسے   بعد میں آنے والے  ہر ایمان  لانے والے  کے لیے کسوٹی قرار  دے  دیا۔یو  ں تو حیطہ اسلام  میں آنے   کے بع...

  • 42 اسوۂ حسین (اتوار 03 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2947

    سیدنا حسین ﷜ کی شہادت کا واقعہ جو شریعت محمدیہ کی بے شمار بصیرتیں اپنے اندر پنہاں رکھتا تھا، افسوس کہ وہ بھی افراط وتفریط کی دست درازیوں سے محفوظ نہ رہ سکا۔ماتمی مجالس کی چیخ وپکار اور ماتمیوں کی سینہ کوبی کے شور میں اس کی صدائے عبرت انگیز گم ہو گئی۔آہ !اشکبار آنکھوں کے آنسوؤں کے سیلاب میں اس کا سارا سامان عبرت وبصیرت بہہ گیا ۔افسوس اس کی ساری عظمت وبزرگی تعزیوں کے ساتھ ہی زمین میں دفن کر دی گئی۔آہ! دوست اور دشمن دونوں نے اس کے ساتھ بے انصافی کی۔دشمن نے اس واقعہ شہادت پر خوشیاں منائیں اور اس کی عظمت کو اپنے جور واستبداد کے زور سے متانے کی کوشش کی۔لیکن دوست نے بھی اس کے حقیقی شرف سے غفلت برتی اور مختلف بدعات اور شرکیہ رسوم کے تاریک پروں مین اس کو چھپا دیا۔پس آئیے !دنیا کی مجالس ماتم میں ایک نئے حلقہ ماتم کا اضافہ کریں، اور واقعہ شہادت کو اسرار شریعت کا سرچشمہ بنائیں۔اور ایک ایسی مجلس منعقد کریں جو سینہ کوبی اور ماتمی بین کی چیخ وپکار کی بجائے صبر واستقامت، عزیمت وبرداشت، ایثار وقربانی، جان نثاری وفدائیت، اور شہادت وفنا فی سبیل الحریت کا درس دے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسوہ حسین﷜"جماعت اہل پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا سید محمد داود غزنوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے سیدنا حسین﷜ کی شہادت کو ایک منفرد انداز میں نمونے کے طور پر بیان کیا ہے اور ہمیں اس نمونے کی پیروی کرنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 43 اصحاب بدر (اتوار 21 جون 2015ء)

    مشاہدات:3231

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم  ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ  کرام   میں سے بعض صحابہ کرام   ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد  میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری  کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ زیر تبصرہ کتاب "اصحاب بدر" ہندوستان  کے نامور صاحب قلم اورمورخ  محترم قاضی محمد سلیمان منصور پوری﷫کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مختلف پہلوؤں سے جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کے نام اور مختصر حالات زندگی کو بیا ن کیا ہے۔قاضی صاحب ایک معروف مصنف اور مورخ  ہیں ۔ان کے قلم سے اب تک متعدد تحریریں شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔اور سیرت نبوی ﷺ پر ان کی کتاب "رحمۃ للعالمین "ہر صاحب علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام  سے محبت...

  • 44 اصحاب بدر (اتوار 21 جون 2015ء)

    مشاہدات:3231

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم  ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ  کرام   میں سے بعض صحابہ کرام   ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد  میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری  کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ زیر تبصرہ کتاب "اصحاب بدر" ہندوستان  کے نامور صاحب قلم اورمورخ  محترم قاضی محمد سلیمان منصور پوری﷫کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مختلف پہلوؤں سے جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کے نام اور مختصر حالات زندگی کو بیا ن کیا ہے۔قاضی صاحب ایک معروف مصنف اور مورخ  ہیں ۔ان کے قلم سے اب تک متعدد تحریریں شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔اور سیرت نبوی ﷺ پر ان کی کتاب "رحمۃ للعالمین "ہر صاحب علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام  سے محبت...

  • 45 اصحاب بدر ( تخریج شدہ ایڈیشن ) (جمعرات 25 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2869

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسرا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ کرام میں سے بعض صحابہ کرام ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت...

  • 46 اصحاب بدر ( تخریج شدہ ایڈیشن ) (جمعرات 25 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2869

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسرا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ کرام میں سے بعض صحابہ کرام ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت...

  • 47 اصحاب بدر (قاضی سلیمان) (اتوار 03 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1128

    غزوہ بدر 17 رمضان 2 ہجری بروز جمعہ ہوا۔ اس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ سامان جنگ تھا جبکہ مسلمان تین سو تیرہ (313) تھے اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، آٹھ تلواریں اور ستر اونٹ تھے۔جبکہ صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔ صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ کرام میں سے بعض صحابہ کرام ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ صحابہ کرام کےایمان افروز تذکرے اورسوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم نے کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اصحاب بدر" ہندوستان ک...

  • 48 اصول سیرت نگاری تعارف، مآخذ ومصادر (بدھ 01 مئی 2013ء)

    مشاہدات:7021

    حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اور چراغ راہ ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ، واضح اور عام فہم ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی کا گزر نہیں ہے۔ ان تعلیمات و ہدایات کا مکمل نمونہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی تھی فلہٰذا جب تک آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے نہ ہو اس وقت تک نہ ہم اسلام کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور پر اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ باعث سعادت ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرت کے تقریباً ہر پہلو پر علمی کام ہو چکا ہے۔ سیرت النبیﷺ پر تقریباً ہر زندہ  زبان میں تحقیقی مواد میسر ہے۔ زیر نظر کتاب میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے سیرت نگاری کے اصول اور ان کے تعارف پر مشتمل ہے۔ سوا چار سو صفحات کے قریب اس کتاب میں سیرت نگاری کا ارتقائی جائزہ اور چند معروف سیرت نگاروں کا تعارف کروانے کے بعد سیرت نگاری کے پچیس اصول بیان کیے گئے ہیں۔ ان اصولوں کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین ثانی نے ان کو مرتب کرنے میں بہت زیادہ عرق ریزی سے کام لیا ہے اور صرف صفحات بھرنے سے کام نہیں لیا بلکہ ہر اصول میں ان کی محنت دکھائی دیتی ہے۔  ان پچیس اصولوں میں سب سے پہلا اصول قرآن مجید، دوسرا اصول تفسیر قرآن، تیسرا اصول علم حدیث، چوتھا اصول شمائل نبویﷺ، پانچواں اصول علم مغازی و سرایا، معاہدات و مکاتیب اسی طرح دیگر اصولوں میں علم قصص الانبیا، علم رجال حدیث نبوی، علم تاریخ، علم جغفرافیہ، علم الانساب، علم اصول حدیث، علم ناسخ و منسوخ، کتب مذاہب مقدسہ وغیرہ ہیں۔ اپنے موضوع پر یہ ایک بہترین کتاب ہے جس کا مطالعہ سیرت پر کام کرنے وال...

  • 49 افضلیت شیخین (جمعہ 10 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2281

    صحابہ کرام﷢ اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام ﷢تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام ﷢کے بارے میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔لیکن بعض لوگوں نے ضعیف روایات کا سہارا لے کر بعض کبار صحابہ کرام ﷢پر اعتراضات وارد کئے ہیں ،جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "افضلیت شیخین "ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی﷫کی فارسی تصنیف "وسیلۃ النجات"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردوترجمے کی سعادت مولانا محمد سلیمان صاحب انصاری کی حاصل کی ہے۔مولف ﷫نے اس کتاب میں شیخین سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق﷢ پر کئے گئے غیر حقیقی اور بے جا اعتراضات کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور ان پر وارد طعن کو دور کیا ہے اور ان کی فضیلت کو بیان کیا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے ایک دوست،جو شیعہ مذہب میں کافی دسترس رکھتے تھے،ان کے مطالبے پر انہیں لکھ کر دی۔اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام ﷢سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1472
  • اس ہفتے کے قارئین: 3531
  • اس ماہ کے قارئین: 45393
  • کل قارئین : 46584721

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں